22/08/2026
میوٹیشن میں نام درج ہونا ملکیت کی ضمانت نہیں! سپریم کورٹ نے زمین کے جھگڑے میں اہم اصول واضح کر دیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے Civil Appeal No. 19-P of 2015 میں زمین کی ملکیت اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق ایک اہم اصول واضح کیا کہ صرف میوٹیشن (Mutation) درج ہونے سے کسی شخص کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ جس لین دین کی بنیاد پر میوٹیشن درج ہوئی ہو، اس اصل لین دین کو بھی قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔
📌 مقدمہ کیا تھا؟
مقدمہ زرعی زمین کی ملکیت اور 25 جولائی 1932ء کی مبینہ فروخت سے متعلق تھا۔ اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ زمین ان کے پیش روؤں کو فروخت ہو چکی تھی اور اسی فروخت کی بنیاد پر Mutation No. 63 بھی درج ہوئی تھ
دوسری جانب جواب دہندگان کا مؤقف تھا کہ زمین ان کے پیش رو کی ملکیت تھی اور بعد کے ریونیو ریکارڈ اور دیگر معاملات بھی اسی ملکیت کی تائید کرتے ہیں۔
⚖️ سپریم کورٹ نے کیا دیکھا؟
عدالت نے صرف میوٹیشن دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ جانچا کہ کیا واقعی 1932ء میں زمین فروخت ہوئی تھی؟
عدالت کے سامنے کئی اہم خامیاں سامنے آئیں:
مبینہ Sale Deed میں قیمت 90 روپے تھی، جبکہ Mutation میں 100 روپے درج تھے۔
Sale Deed میں متعلقہ Khasra Numbers موجود نہیں تھے۔
دستاویز پر موجود تصدیقی گواہوں میں سے کسی ایک کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
یہ بھی ثابت نہیں کیا گیا کہ وہ گواہ دستیاب نہیں تھے۔
Mutation میں فروخت کنندہ کی جانب سے فروخت کا واضح اقرار بھی موجود نہیں تھا۔
Pert Sarkar پیش نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے منفی قرینہ لیا۔
ریونیو ریکارڈ میں مخالف فریق کے پیش رو مسلسل مالک کے طور پر درج رہے۔
بعد کے ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ متنازعہ زمین کو 1991ء میں بینک کے پاس رہن رکھا گیا اور 1995ء میں رہن واپس ہوئی۔
🔑 سب سے اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:
میوٹیشن نہ ملکیت پیدا کرتی ہے اور نہ ختم کرتی ہے۔
یعنی ریونیو ریکارڈ میں کسی شخص کا نام درج ہونا خود بخود اسے زمین کا مالک نہیں بنا دیتا۔ ملکیت کا دعویٰ اس بنیادی لین دین، مثلاً فروخت، ہبہ یا وراثت، کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر میوٹیشن درج ہوئی۔
اسی طرح صرف یہ کہ کوئی دستاویز بہت پرانی ہے، اس سے اس میں درج پورا لین دین خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا۔ اسے دستیاب قانونی طریقے سے ثابت کرنا ضروری ہے۔
📚 دستاویز ثابت کرنے کا اہم نکتہ
چونکہ مبینہ Sale Deed پر تصدیقی گواہ موجود تھے، عدالت نے اس کی قانونی proof کو بھی اہم سمجھا۔ Evidence Act, 1872 کی Section 68 اور Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے Article 79 کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے محض دستاویز پیش کر دینا کافی نہیں تھا۔
🏛️ حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان 1932ء کی مبینہ فروخت اور اس کے نتیجے میں ملکیت کی منتقلی کو قابلِ اعتماد ثبوت سے ثابت نہیں کر سکے۔
چنانچہ Civil Appeal No. 19-P of 2015 خارج کر دی گئی اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
⚖️ ایک لائن میں قانونی اصول
“ریونیو ریکارڈ میں نام ہونا ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں؛ اصل ملکیتی لین دین کو قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔”
&PARTNERSLLP