ARW & Partners LLP

ARW & Partners LLP ARW & Partners is a prominent Law Firm located in Islamabad. It offers a wide range of legal services to clients from varied backgrounds.
(1)

The firm, with its committed legal team, has established a strong reputation and delivers high client satisfaction. “ARW & Partners, headquartered in Islamabad, is a leading law firm recognized for delivering exceptional legal services across a broad spectrum of practice areas. The firm serves a diverse clientele, ranging from individuals and small businesses to large corporations, ensuring tailor

-made solutions that address each client’s unique legal needs. At the heart of ARW & Partners is a team of highly qualified and dedicated legal professionals who combine deep legal knowledge with practical experience. Their expertise spans corporate law, banking and finance, civil and criminal litigation, regulatory compliance, and dispute resolution. The firm prides itself on its unwavering commitment to excellence, integrity, and professionalism. By maintaining close client relationships and providing strategic, results-oriented advice, ARW & Partners has earned a strong reputation for trustworthiness and high client satisfaction. Whether handling complex legal matters or providing routine counsel, the firm consistently strives to deliver effective, timely, and cost-efficient solutions that safeguard client interests.”

محترم جناب ابرار خان ایڈووکیٹ اور جناب جمال خٹک ایڈووکیٹ کا ARW & Partners آمد۔معزز مہمانانِ گرامی نئے کارپوریٹ سیٹ اپ پ...
01/05/2026

محترم جناب ابرار خان ایڈووکیٹ اور جناب جمال خٹک ایڈووکیٹ کا ARW & Partners آمد۔

معزز مہمانانِ گرامی نئے کارپوریٹ سیٹ اپ پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ادارے کے لیے دلی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو رہے۔

سابقہ ایسوسی ایٹس ARW & Partners جناب فواد خان بنگش صاحب، جناب آصف ایوب صاحب اور جناب چوہدری وسیم ایڈووکیٹ صاحب کی جناب ...
01/05/2026

سابقہ ایسوسی ایٹس ARW & Partners جناب فواد خان بنگش صاحب، جناب آصف ایوب صاحب اور جناب چوہدری وسیم ایڈووکیٹ صاحب کی جناب عبدالرحیم وزیر ایڈووکیٹ سے ملاقات اور تفصیلی نشست۔

۔ARW & Partners کو اپنے قابلِ فخر ایسوسی ایٹس پر بجا طور پر فخر حاصل ہے، جو اسلام آباد، راولپنڈی کے جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں سائلین کو نہایت پیشہ ورانہ اور مؤثر قانونی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

سابقہ اسسٹنٹ کمشنر محمد علی خان  کا ARW & Partners آمد۔معزز مہمانانِ نے جناب عبد الرحیم وزیر ایڈووکیٹ کو نئے کارپوریٹ آف...
01/05/2026

سابقہ اسسٹنٹ کمشنر محمد علی خان کا ARW & Partners آمد۔

معزز مہمانانِ نے جناب عبد الرحیم وزیر ایڈووکیٹ کو نئے کارپوریٹ آفس کے قیام پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں، کامیابیوں اور مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے دعاگو رہے۔

“افغان سیٹیزن کارڈ (ACC) آپ کی اصل شناخت کو تبدیل نہیں کرتا”رپورٹڈ ججمنٹ 2026 - PLD 18کے مطابق، محض ACC کارڈ کا حصول کسی...
01/05/2026

“افغان سیٹیزن کارڈ (ACC) آپ کی اصل شناخت کو تبدیل نہیں کرتا”

رپورٹڈ ججمنٹ 2026 - PLD 18کے مطابق، محض ACC کارڈ کا حصول کسی شخص کی شہریت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اگر کوئی فرد حقیقتاً پاکستانی شہری ہے، تو کسی بھی وجہ سے ACC کارڈ بنوانے کے باوجود، مستند اور قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر اسے بدستور پاکستانی شہری ہی تسلیم کیا جائے گا۔

قانون کی نظر میں اصل حیثیت کاغذی لیبل سے نہیں بلکہ حقیقی شناخت اور ثبوت سے متعین ہوتی ہے

31 سال نوکری… ایک غلطی پر برطرفی؟ سپریم کورٹ نے بڑا ریلیف دے دیا!سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے ...
01/05/2026

31 سال نوکری… ایک غلطی پر برطرفی؟ سپریم کورٹ نے بڑا ریلیف دے دیا!

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہر محکمانہ غلطی پر ملازم کو نوکری سے نکالنا ضروری نہیں۔ اگر کسی سرکاری افسر پر کرپشن، مالی بدعنوانی یا سنگین جرم ثابت نہ ہو بلکہ معاملہ صرف انتظامی بے ضابطگی یا نااہلی کا ہو، تو سزا بھی اسی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے۔

مذکورہ کیس میں ایک سرکاری افسر کو ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا، حالانکہ اس کے خلاف نہ کوئی کرپشن ثابت ہوئی اور نہ ہی مالی نقصان کا الزام سامنے آیا۔ مزید یہ کہ افسر کی 31 سالہ سروس بے داغ تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ برطرفی کی سزا بہت سخت اور غیر متناسب تھی، اس لیے اسے کم کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ:
سزا ہمیشہ الزام کی نوعیت اور شدت کے مطابق ہونی چاہیے
محکمے کو سزا دینے کا اختیار ضرور ہے، مگر اس کا استعمال متوازن اور معقول انداز میں ہونا چاہیے
عدالتیں اور سروس ٹربیونلز یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دی گئی سزا مناسب ہے یا نہیں

سپریم کورٹ نے یہ نکتہ بھی اہم قرار دیا کہ مبینہ خلاف ورزی کے باوجود محکمہ ایک سال تک خاموش رہا، جس سے کیس پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے اور اس سے منصفانہ احتساب کے اصول کو مزید مضبوطی ملے گی

29/04/2026
ہوشیار باش! جائیداد کے جھوٹے انتقال اور "گفٹ" کے دعوے کرنے والوں کے لیے عدالت کا بڑا جھٹکا!کیس کی تفصیل:یہ معاملہ ضلع جھ...
28/04/2026

ہوشیار باش! جائیداد کے جھوٹے انتقال اور "گفٹ" کے دعوے کرنے والوں کے لیے عدالت کا بڑا جھٹکا!
کیس کی تفصیل:
یہ معاملہ ضلع جھنگ کی 49 کنال اور 6 مرلہ زمین کا ہے، جہاں مسماۃ نور فاطمہ نامی خاتون کی جائیداد پر کچھ افراد نے ریونیو عملے کے ساتھ مل کر ایک جعلی "انتقالِ ہبہ" (گفٹ) درج کروا لیا تھا۔ خاتون کا موقف تھا کہ انہوں نے نہ تو کبھی زمین کسی کو تحفے میں دی اور نہ ہی وہ کبھی کسی سرکاری دفتر پیش ہوئیں۔ نچلی عدالتوں سے کیس ہارنے کے بعد جب یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچا تو جسٹس چوہدری سلطان محمود نے واضح کر دیا کہ جائیداد کا تحفہ صرف کاغذوں پر نہیں ہوتا، بلکہ اسے ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا لازمی ہے کہ کس وقت، کس جگہ اور کن گواہوں کے سامنے زمین کا قبضہ دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ مخالف فریق نہ تو گواہ پیش کر سکا اور نہ ہی وقت پر اپیل دائر کی، اس لیے ان کا دعویٰ جھوٹا ہے اور خاتون کی زمین انہیں واپس ملے گی۔ یہ فیصلہ یاد دہانی ہے کہ کسی کی زمین ہڑپنا اب اتنا آسان نہیں رہا!

The founder and managing partner of ARW & Partners Mr. Abdur Rahim Wazir has successfully qualified as a Certified Media...
26/04/2026

The founder and managing partner of ARW & Partners Mr. Abdur Rahim Wazir has successfully qualified as a Certified Mediator after completing 40-hour, 5 days accredited training program, conducted by the trainers of the Society of Mediators (London) in collaboration with the International Dispute Resolution Institute IDI. Mr. Mohsin Akhtar Kiyani, senior Puisne Judge of the Islamabad High Court graced the occasion of certificate distribution after the end of the training.

23/04/2026

لاہور ہائی کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کی روشنی میں انسانی ڈی این اے DNA کا سائنسی و قانونی تجزیہ

فوجداری اپیل نمبر 22958/2022
محمد مجاہد بنام ریاست
تاریخ فیصلہ: 04.03.2026
ڈی این اے (DNA) انسانی شناخت کا ایک نہایت مضبوط اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے، جو انسانی جسم کے تقریباً ہر خلیے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کی مخصوص دوہری ساخت جینیاتی معلومات کو اس انداز سے محفوظ رکھتی ہے کہ گرمی، خشکی اور وقت کے اثرات کے باوجود بھی یہ بڑی حد تک برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانزک ماہرین خون، منی، تھوک، جلد کے خلیات اور بالوں کی جڑوں جیسے معمولی حیاتیاتی مواد سے بھی طویل عرصے بعد DNA حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، ہر انسان کا DNA (سوائے ہم شکل جڑواں بچوں کے) منفرد ہوتا ہے، جس کے باعث یہ عام شواہد جیسے خون کے گروپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔

DNA کی افادیت اس کے مخصوص حصوں، یعنی Short Tandem Repeats (STRs)، کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں DNA کے مختصر سلسلے بار بار دہرائے جاتے ہیں، اور ہر فرد میں ان کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ فرانزک ماہرین ان مختلف حصوں کا تجزیہ کر کے ایک منفرد DNA پروفائل تیار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ خصوصیات موروثی ہوتی ہیں، اس لیے مختلف loci کو یکجا کر کے ایک ایسا جینیاتی نقشہ تشکیل دیا جاتا ہے جو ہر فرد کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ یہی تکنیک خاص طور پر جنسی جرائم میں نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے، جہاں معمولی سا حیاتیاتی ثبوت بھی ملزم کی شناخت یا بے گناہی ثابت کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

DNA شواہد کی قانونی اہمیت اس کے مستند سائنسی طریقہ کار پر مبنی ہے۔ جب کسی مقام سے نمونہ حاصل کیا جاتا ہے تو Polymerase Chain Reaction (PCR) کے ذریعے اس کی قلیل مقدار کو بڑھا کر قابلِ تجزیہ بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں، electrophoresis جیسے طریقوں سے DNA کے اجزاء کو الگ کر کے ایک واضح پروفائل تیار کیا جاتا ہے، جسے ملزم کے نمونے سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ عمل معروضی، قابلِ تصدیق اور بار بار دہرایا جا سکتا ہے، اس لیے عدالتیں اسے ایک غیر جانبدار اور مضبوط شہادت کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔

ریپ اور دیگر سنگین جرائم میں عدالتیں عوامی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں۔ ایسے مقدمات میں DNA ٹیسٹ نہ صرف اصل مجرم تک رسائی کو ممکن بناتا ہے بلکہ بے گناہ افراد کو غلط سزا سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس سائنسی شہادت کی غیر جانبداری اور درستگی اسے انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بناتی ہے، جس کے باعث عدالتی نظام میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

DNA شواہد کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فرانزک لیبارٹریاں جدید سائنسی معیار پر عمل کریں اور مستند اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں۔ مناسب chain of custody، نمونوں کی درست حفاظت، اور آلودگی سے بچاؤ جیسے عوامل نتائج کی ساکھ کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح عدالت میں پیش کیا جانے والا DNA ثبوت مزید قابلِ اعتماد ہو جاتا ہے۔

DNA نمونوں کا منظم ذخیرہ تحقیقات کو نہایت تیز اور مؤثر بنا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں ملزم نامعلوم ہو یا معاملہ تاخیر سے رپورٹ ہو۔ تاہم، پاکستان میں تاحال کوئی مکمل اور مرکزی DNA ڈیٹا بیس موجود نہیں ہے۔ مختلف ادارے اپنی سطح پر ریکارڈ رکھتے ہیں، مگر ان میں باہمی ربط کا فقدان ہے۔ یہ صورتحال ایک جامع قانون سازی اور مربوط نظام کی ضرورت کو واضح کرتی ہے، تاکہ جدید DNA ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

مرنے کے بعد بھی قرض ختم نہیں ہوتا — عدالت نے ورثاء کو ذمہ دار ٹھہرا دیا!اس کیس میں ایک شخص نے 46 لاکھ روپے قرض لیا، جس ک...
23/04/2026

مرنے کے بعد بھی قرض ختم نہیں ہوتا — عدالت نے ورثاء کو ذمہ دار ٹھہرا دیا!

اس کیس میں ایک شخص نے 46 لاکھ روپے قرض لیا، جس کے بدلے اس نے چیک اور کاغذات (پرونوٹ وغیرہ) دیے۔ کچھ رقم واپس ہو گئی، مگر باقی چیک باؤنس ہو گئے۔ بعد میں اس شخص کا انتقال ہو گیا تو قرض دینے والے نے اس کے ورثاء سے بقایا رقم مانگی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

عدالت میں جب معاملہ گیا تو ورثاء نے کہا کہ نہ تو ان کے والد نے قرض لیا تھا اور نہ ہی وہ خود ان چیک کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چیک صرف امانت کے طور پر دیے گئے تھے۔

ٹرائل کورٹ نے تمام ثبوت دیکھنے کے بعد فیصلہ دیا کہ قرض واقعی لیا گیا تھا اور چیک بھی اسی کے بدلے جاری ہوئے تھے، اس لیے ورثاء کو ادائیگی کرنا ہوگی (لیکن صرف اتنی حد تک جتنا انہیں جائیداد میں ملا ہو)۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں کی گئی۔

ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا کہ:

ورثاء اپنے مرحوم کے قرض سے مکمل طور پر بری نہیں ہو سکتے اگر انہوں نے جائیداد وراثت میں لی ہے تو اسی حد تک قرض ادا کرنا ہوگا
صرف یہ کہہ دینا کہ ہم نے چیک سائن نہیں کیے، کافی نہیں

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مقدمہ مکمل ٹرائل کے بعد فیصلہ ہو جائے تو بعد میں صرف تکنیکی اعتراضات (جیسے طریقہ کار) زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

آخر میں عدالت نے اپیل خارج کر دی اور پہلے والا فیصلہ برقرار رکھا۔

التوا کلچر کے خلاف سپریم کورٹ کا دوٹوک مؤقفچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس C.P.L.A. 245/2026 (عباس علی شاہ بنام میشا زیب خا...
21/04/2026

التوا کلچر کے خلاف سپریم کورٹ کا دوٹوک مؤقف

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس C.P.L.A. 245/2026 (عباس علی شاہ بنام میشا زیب خان و دیگر) میں واضح کر دیا کہ التوا صرف باقاعدہ درخواست اور معقول جواز پر ہی دی جا سکتی ہے، بصورتِ دیگر اخراجات عائد ہوں گے۔ عدالت نے زور دیا کہ غیر ضروری التوا عدالتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہے اور فوری انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 10-A کے بھی منافی ہے۔
مزید برآں، جنوری تا مارچ 2026 کے دوران 653 التوا درخواستوں کا دائر ہونا خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ التوا کا رجحان اب بھی خاصا زیادہ ہے، جو عدالتی نظام پر بوجھ ڈالنے کے ساتھ انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے—لہٰذا اس غیر ضروری کلچر کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

Address

House. No. 410, (Corner) Col. Sher Khan Road F-11/3
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARW & Partners LLP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ARW & Partners LLP:

Share