ARW & Partners LLP

ARW & Partners LLP ARW & Partners is a prominent Law Firm located in Islamabad. It offers a wide range of legal services to clients from varied backgrounds.
(1)

The firm, with its committed legal team, has established a strong reputation and delivers high client satisfaction. “ARW & Partners, headquartered in Islamabad, is a leading law firm recognized for delivering exceptional legal services across a broad spectrum of practice areas. The firm serves a diverse clientele, ranging from individuals and small businesses to large corporations, ensuring tailor

-made solutions that address each client’s unique legal needs. At the heart of ARW & Partners is a team of highly qualified and dedicated legal professionals who combine deep legal knowledge with practical experience. Their expertise spans corporate law, banking and finance, civil and criminal litigation, regulatory compliance, and dispute resolution. The firm prides itself on its unwavering commitment to excellence, integrity, and professionalism. By maintaining close client relationships and providing strategic, results-oriented advice, ARW & Partners has earned a strong reputation for trustworthiness and high client satisfaction. Whether handling complex legal matters or providing routine counsel, the firm consistently strives to deliver effective, timely, and cost-efficient solutions that safeguard client interests.”

میوٹیشن میں نام درج ہونا ملکیت کی ضمانت نہیں! سپریم کورٹ نے زمین کے جھگڑے میں اہم اصول واضح کر دیاسپریم کورٹ آف پاکستان ...
22/08/2026

میوٹیشن میں نام درج ہونا ملکیت کی ضمانت نہیں! سپریم کورٹ نے زمین کے جھگڑے میں اہم اصول واضح کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے Civil Appeal No. 19-P of 2015 میں زمین کی ملکیت اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق ایک اہم اصول واضح کیا کہ صرف میوٹیشن (Mutation) درج ہونے سے کسی شخص کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ جس لین دین کی بنیاد پر میوٹیشن درج ہوئی ہو، اس اصل لین دین کو بھی قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔

📌 مقدمہ کیا تھا؟

مقدمہ زرعی زمین کی ملکیت اور 25 جولائی 1932ء کی مبینہ فروخت سے متعلق تھا۔ اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ زمین ان کے پیش روؤں کو فروخت ہو چکی تھی اور اسی فروخت کی بنیاد پر Mutation No. 63 بھی درج ہوئی تھ
دوسری جانب جواب دہندگان کا مؤقف تھا کہ زمین ان کے پیش رو کی ملکیت تھی اور بعد کے ریونیو ریکارڈ اور دیگر معاملات بھی اسی ملکیت کی تائید کرتے ہیں۔

⚖️ سپریم کورٹ نے کیا دیکھا؟

عدالت نے صرف میوٹیشن دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ جانچا کہ کیا واقعی 1932ء میں زمین فروخت ہوئی تھی؟

عدالت کے سامنے کئی اہم خامیاں سامنے آئیں:

مبینہ Sale Deed میں قیمت 90 روپے تھی، جبکہ Mutation میں 100 روپے درج تھے۔
Sale Deed میں متعلقہ Khasra Numbers موجود نہیں تھے۔
دستاویز پر موجود تصدیقی گواہوں میں سے کسی ایک کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
یہ بھی ثابت نہیں کیا گیا کہ وہ گواہ دستیاب نہیں تھے۔
Mutation میں فروخت کنندہ کی جانب سے فروخت کا واضح اقرار بھی موجود نہیں تھا۔
Pert Sarkar پیش نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے منفی قرینہ لیا۔
ریونیو ریکارڈ میں مخالف فریق کے پیش رو مسلسل مالک کے طور پر درج رہے۔
بعد کے ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ متنازعہ زمین کو 1991ء میں بینک کے پاس رہن رکھا گیا اور 1995ء میں رہن واپس ہوئی۔

🔑 سب سے اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

میوٹیشن نہ ملکیت پیدا کرتی ہے اور نہ ختم کرتی ہے۔
یعنی ریونیو ریکارڈ میں کسی شخص کا نام درج ہونا خود بخود اسے زمین کا مالک نہیں بنا دیتا۔ ملکیت کا دعویٰ اس بنیادی لین دین، مثلاً فروخت، ہبہ یا وراثت، کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر میوٹیشن درج ہوئی۔
اسی طرح صرف یہ کہ کوئی دستاویز بہت پرانی ہے، اس سے اس میں درج پورا لین دین خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا۔ اسے دستیاب قانونی طریقے سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

📚 دستاویز ثابت کرنے کا اہم نکتہ

چونکہ مبینہ Sale Deed پر تصدیقی گواہ موجود تھے، عدالت نے اس کی قانونی proof کو بھی اہم سمجھا۔ Evidence Act, 1872 کی Section 68 اور Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے Article 79 کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے محض دستاویز پیش کر دینا کافی نہیں تھا۔

🏛️ حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان 1932ء کی مبینہ فروخت اور اس کے نتیجے میں ملکیت کی منتقلی کو قابلِ اعتماد ثبوت سے ثابت نہیں کر سکے۔
چنانچہ Civil Appeal No. 19-P of 2015 خارج کر دی گئی اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

⚖️ ایک لائن میں قانونی اصول

“ریونیو ریکارڈ میں نام ہونا ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں؛ اصل ملکیتی لین دین کو قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔”

&PARTNERSLLP

Summer internship 2026 Closing ceremony !!
22/08/2026

Summer internship 2026 Closing ceremony !!

Closing Ceremony 2026 !! Celebrating Learning, Growth & the Journey Ahead ARW & Partners LLP proudly concluded its 10-Day Summer Internship Programme 2026 for the talented law students of TMUC Islamabad with a memorable Closing Ceremony. The programme was designed to bridge the gap between classroom...

Closing Ceremony 2026 !!Celebrating Learning, Growth & the Journey Ahead |ARW & Partners LLP proudly concluded its 10-Da...
22/08/2026

Closing Ceremony 2026 !!
Celebrating Learning, Growth & the Journey Ahead |

ARW & Partners LLP proudly concluded its 10-Day Summer Internship Programme 2026 for the talented law students of TMUC Islamabad with a memorable Closing Ceremony.

The programme was designed to bridge the gap between classroom learning and practical legal practice, providing interns with meaningful exposure to legal ethics, advocacy, criminal law, court proceedings, legal research and professional skills.

The Closing Ceremony featured certificate distribution among the interns in recognition of their commitment, participation and successful completion of the programme.

The ceremony also included concluding remarks by Mr. Abdur Rahim Wazir, Managing Partner, ARW & Partners LLP, and Mr. Zalan Khattak Managing partner ZKC & Co, who reflected on the interns’ learning journey and encouraged them to continue developing as ethical, confident and competent future lawyers.

Special thanks to the ARW team—particularly Kainat Javaid, Wajahat Munawar Marwat, Maavia Khan and Raees Nangyal, along with the entire team, for their untiring efforts, meticulous coordination and hard work at every stage in organising and managing this wonderful event. Your dedication truly made the programme a success. 👏

ARW proud of its interns and wish them every success as they continue their journey From Classroom to Courtroom.

The journey continues!

مقدمہ ختم ہوا تو ہرجانہ ملے گا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم اصول واضح کر دیایہ فیصلہ PLD 2026 Islamabad 155 خاص طور پر M...
21/08/2026

مقدمہ ختم ہوا تو ہرجانہ ملے گا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم اصول واضح کر دیا

یہ فیصلہ PLD 2026 Islamabad 155 خاص طور پر Malicious Prosecution، Damages اور سرکاری افسران کے اختیارات کے استعمال کے حوالے سے اہم ہے۔

⚖️ آسان الفاظ میں قانونی اصول

1. صرف مقدمہ ختم ہونا ہرجانے کے لیے کافی نہیں
اگر کسی شخص کے خلاف مقدمہ ختم ہوجائے تو اس سے خود بخود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ مدعی کو بدنیتی، reasonable/probable cause کی عدم موجودگی اور حقیقی نقصان ثابت کرنا ہوگا۔

2. مالی نقصان ثبوت سے ثابت کرنا ضروری ہے
اگر کاروباری یا مالی نقصان کا دعویٰ کیا جائے تو صرف بیان کافی نہیں۔ بینک ریکارڈ، ٹیکس ریٹرنز، کاروباری حسابات، رسیدیں یا دیگر قابلِ اعتماد دستاویزات سے نقصان ثابت کرنا ہوگا۔

3. Malicious Prosecution کی بنیادی شرائط
عام طور پر مدعی کو دکھانا ہوتا ہے کہ:

اس کے خلاف کارروائی شروع ہوئی؛
کارروائی اس کے حق میں ختم ہوئی؛
کارروائی کے لیے مناسب/معقول بنیاد موجود نہیں تھی؛
کارروائی بدنیتی سے کی گئی؛ اور
اس کے نتیجے میں قابلِ ثابت نقصان ہوا۔

4. Civil proceedings بھی بدنیتی پر مبنی ہوسکتی ہیں
Malicious proceedings کا اصول صرف فوجداری مقدمات تک محدود نہیں۔ بعض حالات میں بدنیتی سے شروع کی گئی سول کارروائی بھی ہرجانے کے دعوے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

5. بدنیتی کارروائی کے دوران بھی پیدا ہوسکتی ہے
اگر کسی افسر کو کارروائی کے دوران معلوم ہوجائے کہ متعلقہ شخص بے قصور ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بلاجواز کارروائی جاری رکھے، تو یہ بعد کی بدنیتی کا اہم ثبوت بن سکتا ہے۔

6. سرکاری افسران کے لیے اہم اصول
Public functionaries کو اپنے اختیارات good faith، دیانت داری اور قانون کے مطابق استعمال کرنے چاہئیں۔ اختیارات کا بدنیتی پر مبنی استعمال فرد کے حقوق کے ساتھ ساتھ اچھی حکمرانی اور ادارہ جاتی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔

📌 ایک لائن میں فیصلہ

“مقدمہ ختم ہوجانا ہرجانے کا خودکار حق نہیں دیتا؛ بدنیتی، معقول وجہ کی عدم موجودگی اور حقیقی نقصان کو قابلِ اعتماد ثبوت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔”

یہ اصول خاص طور پر ان معاملات میں اہم ہے جہاں کسی شخص یا کمپنی کے خلاف سرکاری ادارے یا public functionary کی جانب سے کارروائی کی گئی ہو۔

#ہرجانہ #بدنیتی

حسین جمال و دیگر بنام فیڈریشن آف پاکستان رٹ پیٹیشن نمبر: 1585 اور 1587/2026، 5338/2025اسلام آباد ہائی کورٹ
20/08/2026

حسین جمال و دیگر بنام فیڈریشن آف پاکستان

رٹ پیٹیشن نمبر: 1585 اور 1587/2026، 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ

🔴 سزائے موت کے مقدمے میں شک کی ایک لکیر بھی کافی ہے—سپریم کورٹ نے ناقابلِ اعتماد گواہی پر سزا برقرار رکھنے سے انکار کر د...
20/08/2026

🔴 سزائے موت کے مقدمے میں شک کی ایک لکیر بھی کافی ہے—سپریم کورٹ نے ناقابلِ اعتماد گواہی پر سزا برقرار رکھنے سے انکار کر دیا

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — Capital Punishment، متضاد گواہی اور Benefit of Doubt

سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ایک اہم مقدمے میں واضح کیا کہ جرم کتنا ہی سنگین اور دل دہلا دینے والا کیوں نہ ہو، سزا صرف قابلِ اعتماد اور ٹھوس شہادت کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے متعدد اہم خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ جب استغاثہ کی اپنی شہادت میں بنیادی تضادات ہوں، ملزم کا نام FIR میں موجود نہ ہو، بعد میں نیا کردار شامل کیا جائے، شریک ملزمان اسی شہادت پر بری ہو جائیں اور کوئی مضبوط آزادانہ تائید موجود نہ ہو تو reasonable doubt پیدا ہوتا ہے، اور اس کا فائدہ ملزم کو دینا ضروری ہے۔

⚖️ FIR اور بعد کی گواہی میں بڑا فرق

عدالت نے دیکھا کہ FIR میں بعض افراد کو مقتولین کو بھٹے کی آگ میں پھینکنے کا مخصوص کردار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہی نجی گواہوں نے ان میں سے کئی افراد کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کے نزدیک یہ معمولی تضاد نہیں تھا بلکہ FIR کی بنیادی کہانی کو متاثر کرنے والا اہم تضاد تھا۔

اسی طرح ایک ملزم کا نام FIR میں شامل نہیں تھا، حالانکہ گواہوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے موقع پر ہی اس کا نام بتایا تھا۔ بعد میں اسے مقدمے میں شامل کیا گیا، لیکن اس تاخیر کی کوئی تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آئی۔

🔎 بعد میں نیا کردار دینا بھی اہم ہے

ایک دوسرے ملزم کا نام FIR میں تو موجود تھا، لیکن FIR میں اسے مقتولین کو آگ میں پھینکنے کا کردار نہیں دیا گیا۔

بعد کی شہادت میں اس کے خلاف یہ مخصوص کردار شامل کیا گیا۔

عدالت نے اس قسم کی تبدیلی کو material improvement قرار دیتے ہوئے اس کی شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت کو متاثر ہونے کا اہم سبب سمجھا۔

👨‍⚖️ شریک ملزمان بری ہوئے تو باقیوں کا کیا ہوگا؟

یہ فیصلے کا نہایت اہم اصول ہے۔

اگر متعدد ملزمان کے خلاف ایک ہی گواہی اور ایک ہی واقعے کی بنیاد پر ایک جیسا الزام ہو، لیکن عدالت اسی گواہی کی بنیاد پر کچھ ملزمان کو بری کر دے، تو باقی ملزمان کو صرف اسی کمزور شہادت پر سزا نہیں دی جا سکتی، جب تک ان کے خلاف کوئی آزاد اور مضبوط اضافی شہادت موجود نہ ہو۔

سادہ الفاظ میں:

ایک ہی شہادت کو ایک ملزم کے لیے جھوٹا اور دوسرے کے لیے سچا قرار دینے کے لیے مضبوط وجہ اور آزادانہ تائید ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اصول کے لیے Akhtar Ali v. The State (2008 SCMR 6)، Muhammad Pervaiz v. The State (PLD 2019 SC 592)، Liaqat Ali v. The State (2021 SCMR 455) اور دیگر نظائر کا حوالہ دیا۔

🩸 زخمی گواہ ہونا کافی نہیں

سپریم کورٹ نے ایک اور اہم بات واضح کی:

Injury establishes presence, not necessarily truthfulness.

یعنی کسی گواہ کا زخمی ہونا اس بات کی تائید کر سکتا ہے کہ وہ موقع پر موجود تھا، لیکن اس سے اس کی پوری گواہی خود بخود سچی اور قابلِ اعتماد نہیں بن جاتی۔

زخمی گواہ کی شہادت بھی دوسرے شواہد کی طرح سخت جانچ پڑتال سے گزرے گی۔

اگر اس کی گواہی FIR، دوسرے عینی گواہوں اور مقدمے کے بنیادی حقائق سے متصادم ہو تو صرف زخمی ہونے کی بنیاد پر conviction برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

🔥 بھٹے کی آگ اور Burn Injuries کا سوال

عدالت نے اس پہلو کو بھی اہم سمجھا کہ prosecution کے مطابق ملزمان نے انتہائی گرم furnace کے قریب جا کر مقتولین کو آگ میں پھینکا تھا۔

لیکن ملزمان کے جسم پر burn injuries یا ایسی حفاظتی تدابیر کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس انتہائی گرم ماحول میں متوقع تھیں۔

یہ circumstance بھی prosecution story کو مزید doubtful بنانے والے عوامل میں شامل ہوا۔

⚖️ عدالت جذبات نہیں، ثبوت دیکھتی ہے

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرم کی سنگینی عدالت کو متاثر نہیں کر سکتی۔

چاہے جرم کتنا ہی heinous یا horrific کیوں نہ ہو، prosecution کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے کہ وہ ملزم کا جرم beyond reasonable doubt ثابت کرے۔

سنگین جرم ≠ ناقابلِ اعتماد شہادت کی قبولیت

🕊️ Benefit of Doubt — رعایت نہیں، حق ہے

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ:

Benefit of doubt is a right, not a concession.

اگر مقدمے میں صرف ایک ایسی معقول circumstance بھی موجود ہو جو ایک محتاط اور سمجھدار ذہن میں ملزم کے جرم کے بارے میں reasonable doubt پیدا کر دے تو اس کا فائدہ ملزم کو دینا ضروری ہے۔

اس مقدمے میں عدالت کے سامنے تو متعدد شکوک اور تضادات موجود تھے۔

⚰️ سزائے موت کے مقدمات میں معیار مزید سخت

Capital punishment کے مقدمات میں عدالت کو شہادت کا مزید محتاط اور سخت جائزہ لینا ہوتا ہے۔

استغاثہ کی شہادت:

✔️ قابلِ اعتماد ہو؛
✔️ باہم مطابقت رکھتی ہو؛
✔️ اعتماد پیدا کرنے والی ہو؛
✔️ بنیادی تضادات سے پاک ہو؛ اور
✔️ ملزم کا جرم beyond reasonable doubt ثابت کرتی ہو۔

محض امکان، قیاس یا کمزور عینی شہادت پر سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

🏛️ بری ہونے والے ملزم کو Double Presumption of Innocence

ریاست کی جانب سے بری ہونے والے متعدد ملزمان کے خلاف دائر درخواست کے حوالے سے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ بریت کے بعد ملزم کو double presumption of innocence حاصل ہوتی ہے۔

یعنی پہلے وہ قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، اور جب مجاز عدالت اسے بری کر دے تو اس کی بے گناہی کا مفروضہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

اس لیے acquittal میں مداخلت کے لیے صرف مختلف interpretation کافی نہیں؛ strong and exceptional grounds درکار ہوتے ہیں۔

⭐ فیصلے کا نچوڑ

اس فیصلے سے چند بنیادی اصول سامنے آتے ہیں:

1. سنگین جرم ناقابلِ اعتماد شہادت کو قابلِ اعتماد نہیں بنا دیتا۔
2. FIR میں نام نہ ہونا اور بعد میں بغیر تسلی بخش وضاحت کے نام شامل ہونا serious doubt پیدا کر سکتا ہے۔
3. FIR کے بعد ملزم کو نیا اور بنیادی کردار دینا material improvement ہو سکتا ہے۔
4. Injured witness ہونا credibility کی ضمانت نہیں۔
5. ایک ہی شہادت پر شریک ملزمان کی بریت کے بعد باقی ملزمان کو بھی مضبوط آزادانہ تائید کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔
6. Benefit of doubt ملزم کا حق ہے، رعایت نہیں۔
7. ایک معقول شک بھی acquittal کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
8. Capital cases میں prosecution evidence کی scrutiny مزید سخت ہوتی ہے۔
9. Acquittal کے بعد double presumption of innocence پیدا ہوتی ہے۔
10. بریت میں مداخلت کے لیے مضبوط اور غیر معمولی قانونی بنیاد ضروری ہے۔

مختصر قانونی اصول:

فوجداری انصاف میں عدالت جرم کی سنگینی نہیں بلکہ شہادت کی مضبوطی دیکھتی ہے؛ اور جہاں قابلِ اعتماد ثبوت کے بجائے معقول شک موجود ہو، وہاں سزا نہیں بلکہ بریت قانون کا تقاضا بن جاتی ہے۔

اگر کوئی راستہ 20 سال یا اس سے زائد عرصہ تک مسلسل اور حق کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہو تو Easements Act, 1882 کے تحت Rig...
20/08/2026

اگر کوئی راستہ 20 سال یا اس سے زائد عرصہ تک مسلسل اور حق کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہو تو Easements Act, 1882 کے تحت Right of Way کا حق حاصل ہو جاتا ہے، جسے مالک بعد ازاں ختم یا روک نہیں سکتا۔

2007 SCMR 901

Land Your First Government Legal Role — Rs.100,000 Stipend for Law Interns (Apply by 31 Aug)Ministry of Law & Justice is...
20/08/2026

Land Your First Government Legal Role — Rs.100,000 Stipend for Law Interns (Apply by 31 Aug)

Ministry of Law & Justice is hiring 3 Intern / Associate Lawyers on contract — perfect for fresh law graduates ready to launch a public‑sector legal career. This paid internship offers a competitive allowance of Rs.100,000, real courtroom and policy exposure, and the chance to build a government network that matters.

Why apply
- Paid placement: Rs.100,000 monthly allowance.
- Real experience: Assignments in legal drafting, research, policy review, and case support.
- Career boost: Government work looks strong on a CV and opens doors to public service roles.
- Limited seats: Only 3 positions — competition will be high.

Who should apply
- Fresh LLB/LLM graduates, recent bar pass candidates, or final‑year students (check eligibility on the portal).
- Strong legal research, drafting, and communication skills.
- Motivated to work in government law and policy.

How to apply
- Apply online by 31 August 2026
at https://www.njp.gov.pk
- Read the full vacancy notice and required documents on the portal before submitting.

https://www.njp.gov.pk/

⚖️ سپر ٹیکس کے خلاف بڑا فیصلہ: کمپنی کا قانونی ٹیکس کریڈٹ ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، ایف بی آر من مانی نہیں کر سکتا!وفاقی آئ...
20/08/2026

⚖️ سپر ٹیکس کے خلاف بڑا فیصلہ: کمپنی کا قانونی ٹیکس کریڈٹ ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، ایف بی آر من مانی نہیں کر سکتا!

وفاقی آئینی عدالت نے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت حاصل شدہ ٹیکس کریڈٹ کو سپر ٹیکس کی واجب الادا رقم کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ نجی موبائل کمپنی CM Pak Limited کی اپیلوں پر دیا گیا، جس میں عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ قانون کے مطابق دیکھنے کی ہدایت کی۔

📌 تنازع اصل میں کیا تھا؟

ایف بی آر نے کمپنی کو سپر ٹیکس کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اسے قانون کے تحت حاصل ٹیکس کریڈٹ موجود ہے، جسے سپر ٹیکس کی واجب الادا رقم کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔

کمپنی نے اس مقصد کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن درخواست مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پہنچا۔

⚖️ عدالت نے کیا قرار دیا؟

عدالت نے قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت حاصل ٹیکس کریڈٹ ایک باقاعدہ اور تسلیم شدہ قانونی حق ہے۔

صرف یہ کہہ دینا کہ ٹیکس دہندہ پہلے پوری رقم ادا کرے اور بعد میں ریفنڈ حاصل کرے، اس کے قانونی حقِ ایڈجسٹمنٹ کو ختم نہیں کرتا۔

سادہ الفاظ میں:

اگر قانون ٹیکس کریڈٹ کا حق دیتا ہے تو ٹیکس دہندہ کو قانون کے مطابق اس کریڈٹ کو واجب الادا ٹیکس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا حق بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

🔎 ایف بی آر کے لیے بھی اہم ہدایت

عدالت نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کمپنی کی جانب سے ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ کے دعوے کا قانون کے مطابق جائزہ لے اور اس پر باقاعدہ فیصلہ کرے۔

یعنی معاملہ محض اس بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا کہ ٹیکس دہندہ کو پہلے رقم ادا کرنی چاہیے اور بعد میں ریفنڈ مانگنا چاہیے۔

⭐ فیصلے کا اہم قانونی اصول

اس فیصلے میں عدالت نے مالیاتی قوانین کی تشریح کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کے قانونی حقوق اور سہولت کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا۔

یہ فیصلہ خاص طور پر ان کمپنیوں اور کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے لیے اہم ہے جن کے ذمہ مختلف نوعیت کے ٹیکس واجبات ہوں اور ان کے پاس قانون کے تحت قابلِ استعمال ٹیکس کریڈٹ بھی موجود ہو۔

🏛️ نتیجہ

وفاقی آئینی عدالت نے:

✔️ CM Pak Limited کی اپیلیں منظور کیں۔
✔️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا۔
✔️ دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ کو تسلیم شدہ قانونی حق قرار دیا۔
✔️ سپر ٹیکس کے خلاف ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ کے دعوے کو قانون کے مطابق دیکھنے کی ہدایت کی۔
✔️ ایف بی آر کو کمپنی کے دعوے پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

کیس: CM Pak Limited, through its Authorized Officer v. The Federation of Pakistan through Secretary, Division & others
F.C.P.L.A. No. 1276 of 2026

ایک جملے میں:

قانونی ٹیکس کریڈٹ محض کاغذی حق نہیں؛ جہاں قانون اجازت دیتا ہو وہاں اسے سپر ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کا دعویٰ قانون کے مطابق زیرِ غور لانا ضروری ہے۔

https://www.linkedin.com/posts/arw-partners-llp_land-your-first-government-legal-role-rs-activity-7495939613119692800-Dw...
19/08/2026

https://www.linkedin.com/posts/arw-partners-llp_land-your-first-government-legal-role-rs-activity-7495939613119692800-Dw2U?utm_source=share&utm_medium=member_ios&rcm=ACoAADncDOoBnhec68BXS6ao92qFJja6g0a3dqc

Land Your First Government Legal Role — Rs.100,000 Stipend for Law Interns (Apply by 31 Aug) Ministry of Law & Justice is hiring 3 Intern / Associate Lawyers on contract — perfect for fresh law graduates ready to launch a public‑sector legal career. This paid internship offers a competitive al...

Address

401, Hilal Road Road F-11
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARW & Partners LLP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share