13/08/2026
📋 وراثتی انتقال کا مکمل اور قانونی طریقۂ کار
کسی عزیز کی وفات کے بعد اس کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو قانونی ورثاء کے نام منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی و ریونیو کارروائی مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ عام طور پر وراثتی انتقال (Inheritance Mutation) کے لیے درج ذیل مراحل اختیار کیے جاتے ہیں:
1۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں
سب سے پہلے متعلقہ یونین کونسل/متعلقہ اتھارٹی سے متوفی کا باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ (Death Certificate) حاصل کیا جاتا ہے، جو وراثتی کارروائی کی بنیادی دستاویز ہے۔
2۔ نادرا سے FRC حاصل کریں
اس کے بعد نادرا کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) حاصل کیا جاتا ہے تاکہ متوفی کے خاندانی کوائف اور ممکنہ قانونی ورثاء کا ریکارڈ سامنے آ سکے۔
3۔ بیانِ حلفی اور دیگر دستاویزات
وراثتی کارروائی کے لیے حسبِ ضرورت بیانِ حلفی (Affidavit) اور دیگر متعلقہ دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔ تمام ورثاء کی شناخت اور قانونی حیثیت کی تصدیق کے لیے مطلوبہ ریکارڈ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
4۔ قانونی نوٹس/اخباری اشتہار
متعلقہ قانونی و ریونیو طریقۂ کار کے مطابق اخبار میں اشتہار یا عوامی نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے تاکہ اگر کسی شخص کو وراثت یا ورثاء کے تعین کے حوالے سے کوئی اعتراض ہو تو وہ مقررہ مدت کے اندر اپنا اعتراض پیش کر سکے۔
5۔ شجرۂ نسب / Family Tree کی تکمیل
متعلقہ پٹواری یا ریونیو عملہ متوفی کے خاندان کا شجرۂ نسب (Shajra Nasab/Pedigree) تیار اور تصدیق کرتا ہے، جس کے ذریعے وراثتی حق رکھنے والے افراد کا تعین کیا جاتا ہے۔
6۔ وراثتی انتقال کی منظوری
تمام مطلوبہ دستاویزات، شناخت، شجرۂ نسب اور دیگر قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریونیو اتھارٹی/مجاز افسر وراثتی انتقال کی کارروائی مکمل کرکے اسے منظور کرتا ہے، جس کے بعد جائیداد کا ریکارڈ قانونی ورثاء کے نام منتقل ہو جاتا ہے۔
⚖️ اہم قانونی بات
صرف FRC، بیانِ حلفی یا شجرۂ نسب کا موجود ہونا بذاتِ خود جائیداد کی ملکیت منتقل نہیں کرتا۔ جائیداد کے ریونیو ریکارڈ میں قانون کے مطابق وراثتی انتقال کا اندراج اور منظوری ضروری ہے۔
اگر ورثاء کے درمیان اختلاف ہو، کسی وارث کا نام ریکارڈ میں موجود نہ ہو، کسی وارث کو جان بوجھ کر محروم کیا گیا ہو، یا جائیداد پر تنازع موجود ہو تو معاملہ مزید قانونی کارروائی کا متقاضی ہو سکتا ہے۔
📌 وراثتی معاملات میں کسی بھی دستاویز پر دستخط کرنے یا جائیداد تقسیم کرنے سے پہلے متعلقہ قانونی ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔
#وراثت #جائیداد