05/08/2026
*لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری کے مقدمات سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کے احکامات کالعدم قرار دے دیے, عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی کرایہ دار کو مؤثر دفاع کا موقع دیے بغیر بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور ایسا فیصلہ انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے*
جسٹس مزمل اختر شبیر نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی کرایہ دار کے خلاف رینٹ ٹربیونل میں یکطرفہ (Ex Parte) کارروائی شروع کر دی جائے تو اسے قانون کے مطابق اس کارروائی کو ختم کروانے اور مقدمہ لڑنے کی اجازت (Leave to Contest) حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ مدت کے اندر درخواست دائر کرے، عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن (4)21 اور (5) کا اطلاق صرف حتمی یکطرفہ فیصلے تک محدود نہیں بلکہ اس مرحلے پر بھی ہوتا ہے جب صرف یکطرفہ کارروائی شروع کی گئی ہو اور ابھی حتمی فیصلہ نہ آیا ہو۔
فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ رینٹ ٹربیونل قانون میں دی گئی مدتِ میعاد (Limitation) کو اپنے انتظامی حکم کے ذریعے کم نہیں کر سکتا، موجودہ مقدمے میں درخواست گزاروں کے خلاف 29 اپریل 2025 کو یکطرفہ کارروائی شروع کی گئی، جبکہ انہوں نے 8 مئی 2025 کو، یعنی دس دن کے اندر، یکطرفہ کارروائی ختم کرنے اور Leave to Contest کی درخواست دائر کر دی تھی، اسکے باوجود نچلی عدالتوں نے یہ درخواستیں بغیر کسی قانونی جواز اور وجوہات بیان کیے محض "ٹائم بار" قرار دے کر مسترد کر دیں، جسے ہائیکورٹ نے قانون اور ریکارڈ کی غلط تشریح قرار دیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ وجوہات کے بغیر دیا گیا عدالتی حکم ایک غیر وجوہاتی (Non-Speaking) Order ہوتا ہے، جو قانون کی نظر میں پائیدار نہیں رہتا، ایسے احکامات فریقین کے آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت منصفانہ سماعت (Fair Trial) کے بنیادی حق کو متاثر کرتے ہیں۔
عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگرچہ مقدمات کا بروقت فیصلہ ضروری ہے، لیکن جلد بازی میں ایسا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس سے کسی فریق کے قانونی حقوق مجروح ہوں۔
چنانچہ ہائی کورٹ نے رینٹ ٹربیونل اور اپیلٹ کورٹ کے تمام متعلقہ احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزاروں کی دونوں درخواستیں، یعنی یکطرفہ کارروائی ختم کرنے اور Leave to Contest کی درخواست، دوبارہ بحال کر دیں اور رینٹ ٹربیونل کو ہدایت کی کہ وہ ان درخواستوں کا فیصلہ قانون کے مطابق ایک ماہ کے اندر کرے اور اس کے بعد بے دخلی کی درخواست کی کارروائی بھی غیر ضروری التوا کے بغیر جلد از جلد مکمل کرے۔
*Read Complete Judgment ⬇️*
https://www.adalatonline.pk/caselaw/2026-lhc-4835/
https://sys.lhc.gov.pk/appjudgments/2026LHC4835.pdf
Rent Tribunal cannot defeat a tenant's statutory right to seek leave to contest by prematurely proceeding ex parte, and any application filed within the prescribed limitation period must be decided on merits rather than rejected as time-barred.