09/07/2026
**کیا ملازمت کے معاہدے (Employment Contract) میں درج Exclusive Jurisdiction Clause ہمیشہ نافذ العمل ہوتا ہے؟**
اسلام آباد ہائی کورٹ نے **2026 PLC (Labour) 77** میں ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اگرچہ فریقین عمومی طور پر کسی مخصوص فورم کے انتخاب پر اتفاق کر سکتے ہیں، لیکن **ملازمت کے معاہدوں میں موجود ایسی شرائط جو ملازم کے قانونی حقوق یا انصاف تک رسائی کو محدود کریں، ہر صورت قابلِ نفاذ نہیں ہوتیں۔**
اس مقدمے میں آجر (Employer) نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملازمت کے معاہدے کے مطابق تمام تنازعات صرف اسلام آباد کی عدالتوں میں سنے جا سکتے ہیں، جبکہ ملازم نے اپنی درخواست **National Industrial Relations Commission (NIRC) Quetta Bench** میں دائر کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ **NIRC ایک وفاقی ادارہ ہے جس کا اختیار قانون سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ اس مقام سے جہاں اس کی بینچ قائم ہو۔** لہٰذا اگر معاملہ **Industrial Relations Act, 2012** کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو NIRC کی کسی بھی مجاز بینچ کے سامنے کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے ایک اور نہایت اہم قانونی اصول پر بھی روشنی ڈالی کہ **Employment Contracts** اکثر **Standard Form Contracts** ہوتے ہیں، جن میں ملازم کو شرائط پر گفت و شنید کا حقیقی موقع حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شرط عدم مساوات (Inequality of Bargaining Power) کی بنیاد پر ملازم کے حقوق یا انصاف تک رسائی کو متاثر کرتی ہو، تو عدالت اس کی نفاذ پذیری کا ازسرِنو جائزہ لے سکتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف **Labour Law** بلکہ **Contract Law، Access to Justice، Jurisdiction** اور **Employment Rights** کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے۔ اس میں عدالت نے واضح کیا کہ **قانونی تحفظات، انصاف تک رسائی اور لیبر قوانین کے مقاصد کو کسی نجی معاہدے کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔**
**اہم قانونی نکات:**
✔️ Employment Contract میں درج ہر Jurisdiction Clause لازماً نافذ العمل نہیں ہوتا۔
✔️ NIRC کی Jurisdiction قانون سے حاصل ہوتی ہے، کسی مخصوص شہر یا بینچ سے نہیں۔
✔️ عدالتیں ملازم اور آجر کے درمیان **Inequality of Bargaining Power** کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔
✔️ لیبر قوانین کا بنیادی مقصد ملازمین کے قانونی حقوق اور انصاف تک مؤثر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
**حوالہ:** *2026 PLC (Labour) 77 – Islamabad High Court*