05/07/2025
بلاسفیمی پروٹیکشن گروپ سے ھمارے چند سوال:-
اگر توہین رسالت کے مقدمات کے مدعی اور وکلا ناموس رسالت جیسی مقدس کاز پر پیسے کما رہے ہیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ساڑھے دس ماہ سے جاری میڈیا سہولتوں سے سے بھرپور سماعت میں تا حال پوری دنیا سے 10 روپے کا ایکسٹورشن، بلیک میلنگ، امداد حتی کہ چندہ کے نام پر لینے کا کوئی ثبوت پیش کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر مدعی خود بلاسفیمی میں بھیج کر سکرین شاٹ منگواتے ہیں۔ تو اسلام آباد ہائیکورٹ کی پسندیدہ عدالت اتنے عرصے میں ملزمان ان کے ورثاء انکے وکلاء، FIA ,PTA واٹس ایپ یا بگ ڈیٹا سے کوئی ایک سکرین شاٹ جس پر کسی مدعی کا نمبر درج ہو کیوں نہیں آ سکا؟
گرفتار 370 گستاخ افراد میں سے کسی ایک ملزم نے بھی اج تک دنیا کی کسی بھی لیبارٹری سے اپنے موبائل کی دوبارہ فرانزک یا اپنے مقدمے کی دوبارہ تفتیش کی درخواست کیوں نہیں دیتے؟
اج تک کسی ملزم نے اپنے موبائل کا ڈیٹا پبلک میں دکھانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟
بلاسفیمی پروٹیکشن گروپ مر تو سکتا ہے مگر ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا۔
کیونکہ بی پی جی (بلاسفیمی پروٹیکشن گروپ) کو 370 افراد کے گستاخ ھونے کا اتنا ہی یقین ھے جیتنا کہ سورج کے طلوع ہونے کا؟
یہ سب جانتے ہیں کہ یہ 370 گستاخ انسان کے روپ میں وہ درندے ہیں جو قرآن کے ساتھ بد فعلی کرتے ہیں زنا کرتے ہیں انزال کرتے ہیں۔ اوراس کی تصویریں چڑھاتے ہیں اپنے پرائیویٹ پارٹ پر میری اور آپ کی زندگیوں سے بڑھ کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ہماری ماؤں کے نام لکھتے ہیں اور اس تشہیر کا مقصد وطن عزیز میں بدامنی پیدا کرنا ہے
مگر کیا کریں
ان بے ضمیروں کو گھر جلوانے کی اجرت مل رہی ہے اس لیے یہ اس گستاخی کی پروٹیکشن کے لیے چیخ بھی رہے ہیں چلا بھی رہے ہیں اور ان کے سہولت کار ہر کرسی پہ بیٹھ کر اپنے اقاؤں کے لیے دم مار رہے ہیں۔