School of Law

School of Law Legal Awareness Page by:
Usman Ali Alavi

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہرقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے...
21/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

​۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)

​شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

​راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
​بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
​بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
​اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
​بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

​خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

​مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

​۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
​ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

​ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
​شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
​شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

​۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات

​شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

​اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

​عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

​۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

​بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

​ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

​ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

​جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

​شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

​مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

​۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
​عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
​عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
​یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
​یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran
Shared by: Usman Ali Alavi

21/05/2026

PLD 2021 SC 708

اگر کسی ملزم کے خلاف جرم میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت (incriminating material) موجود نہ ہو، تو یہ خود قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرنے کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان

​ضمانت قبل از گرفتاری کی بابت سپریم کورٹ نے اپنے اس اہم ترین فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اب ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے پولیس یا شکایت کنندہ (complainant) کی بدنیتی (malafide) کو الگ سے ثابت کرنا لازمی نہیں ہے۔ اگر کسی ملزم کے خلاف جرم میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت (incriminating material) موجود نہ ہو، تو یہ خود قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرنے کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔ عدالتوں کا محض یہ سوچ کر ضمانت دینے سے ہچکچانا کہ یہ ایک "غیر معمولی ریلیف" ہے، درست نہیں ہے۔

​سپریم کورٹ کے مطابق، آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کے تحت ہر شہری کو بلاوجہ اور بغیر ثبوت گرفتاری سے تحفظ حاصل ہے۔ اگر ریکارڈ پر ملزم کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہو اور پھر بھی پولیس اسے گرفتار کرنے پر بضد ہو، تو پولیس اور مدعی کی یہ ضد خود ہی ان کی بدنیتی (malafide) کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ملزم کو الگ سے بدنیتی کا کوئی آزادانہ ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

​اہم قانونی نکات (Key Legal Points)

​ثبوت کی عدم موجودگی اور ضمانت (Absence of Incriminating Material):
اگر تفتیشی افسر کے پاس ملزم کے خلاف جرم سے جوڑنے والا کوئی مواد یا گرفتاری کا کوئی ٹھوس جواز موجود نہ ہو، تو ملزم قبل از گرفتاری ضمانت کا حقدار ہے۔

​بدنیتی کا نیا معیار:
(Shift in Proving Malafide):

پہلے عدالتیں قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے پولیس یا مدعی کی بدنیتی (malafide) کا ٹھوس ثبوت مانگتی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد، اگر ملزم کے خلاف ثبوت نہ ہوں اور پھر بھی اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے، تو یہ عمل خود بدنیتی شمار ہوگا؛ ملزم کو الگ سے کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

​بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10-A (Fundamental Rights & Article 10-A):

عدالت نے قرار دیا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل (Right to Fair Trial) اور آزادی کا حق دیتا ہے۔ بغیر ثبوت کے من مانی گرفتاری (Arbitrary Arrest) اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

​عدالتوں کے رویے میں تبدیلی کی ہدایت (Guidance for Lower Courts):
سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کی اس روش کو غلط قرار دیا جہاں وہ صرف اس لیے ضمانت خارج کر دیتی ہیں کہ یہ ایک "غیر معمولی ریلیف" ہے۔ عدالتوں کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے یا نہیں۔

Shahzada Qaiser Arfat alias Qaiser v. The State and another" (PLD 2021 SC 708), the apex Court of the country was pleased to observe as under:-

"....The non-availability of incriminating material against the accused or non-existence of a sufficient ground including a valid purpose for making arrest of the accused person in a case by the investigating officer would as a corollary be a ground for admitting the accused to pre-arrest bail, and vice versa. Reluctance of the courts in admitting the accused persons to pre-arrest bail by treating such a relief as an extraordinary one without examining whether there is sufficient incriminating material available on record to connect the accused with the commission of the alleged offence and for what purpose his arrest and detention is required during investigation or trial of the case, and their insistence only on showing malafide on part of the complainant or the Police for granting pre-arrest bail does not appear to be correct, especially after recognition of the right to fair trial as a fundamental right under Article 10-A of Constitution of Pakistan, 1973. Protection against arbitrary arrest and detention is part of the right to liberty and fair trial. This Court has, in many cases, granted pre-arrest bail to accused persons after finding that there are no reasonable grounds for believing their involvement in the commission of the alleged offence and has not required independent proof of malafide on part of the Police or the complainant before granting such relief. Despite non-availability of the incriminating material against the accused, his implication by the complainant and the insistence of the police to arrest him are the circumstances which by themselves indicate the malafide on part of the complainant and the Police, and the accused need not lead any other evidence to prove malafide on their part....

PLD 1956 Federal Court 171"عدالت بنام دی کراؤن" عدالت گواہ کے بیان کے سچے حصے کو قبول اور جھوٹے حصے کو مسترد کر سکتی ہے۔...
20/05/2026

PLD 1956 Federal Court 171
"عدالت بنام دی کراؤن"

عدالت گواہ کے بیان کے سچے حصے کو قبول اور جھوٹے حصے کو مسترد کر سکتی ہے۔
چیف کورٹ/ سپریم کورٹ۔

پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین فیصلہ جس میں چشم دید گواہ کے "منحرف" Hostile قرار دیئے جانے کے باوجود ملزم کی موت کی سزا چیف کورٹ/ سپریم کورٹ نے برقرار رکھی۔

​۱. کیس کے بنیادی حقائق (Facts of the Case)

​مقتولہ اور خاندانی پس منظر:
مقتولہ مسمات فضیل بیگم موضع گنجہ کی رہنے والی تھی لیکن اس کی شادی گاؤں سکھ چین کے سردار خان سے ہوئی تھی۔ شوہر کی وفات کے بعد اس کے جیٹھ (سردار خان کے بھائی) اکبر خان نے جائیداد پر قبضہ کرنے کی نیت سے اس پر بدچلنی کا الزام لگایا اور اسے تنگ کرنا شروع کیا۔
​واقعہ کا پس منظر:
اکبر خان کے رویے سے تنگ آ کر فضیل بیگم نے اپنے بھائی حاکم علی (جو کہ معذور تھا) کو شکایت کی اور واپس اپنے میکے موضع گنجہ جانے کا فیصلہ کیا۔

​وقوعہ (۱۴ جون ۱۹۵۴):
فضیل بیگم ٹرین کے ذریعے گجرات سے لالہ موسیٰ اسٹیشن پہنچی۔ وہاں اس کا بھائی حاکم علی ایک گھوڑی کے ساتھ اس کا منتظر تھا۔ حاکم علی نے فضیل بیگم کی شیر خوار بچی کو اپنے آگے گھوڑی پر بٹھایا جبکہ فضیل بیگم پیدل چل رہی تھی۔

​حملہ اور قتل:
جب وہ لالہ موسیٰ سے تقریباً ڈیڑھ میل دور گاؤں "چک گورانی" کے قریب پہنچے تو دو ملزمان، عدالت (جو مسلح تھا) اور بہادر (جس کے پاس لاٹھی تھی) سامنے آئے۔ بہادر نے فضیل بیگم کے سر پر لاٹھی ماری جس سے وہ زمین پر گر گئی، اور پھر عدالت نے انتہائی قریب سے اس کے سینے پر بندوق سے فائر کر کے اسے موقع پر ہی قتل کر دیا۔

​ابتدائی تفتیشی رپورٹ (FIR):
واقعے کے فوراً بعد حاکم علی نے لالہ موسیٰ پولیس اسٹیشن جا کر وقوعہ کے تقریباً آدھے گھنٹے کے اندر شام ۶:۴۵ بجے رپورٹ (FIR) درج کروائی، جس میں اس نے دونوں ملزمان کو نامزد کیا اور واقعے کی تفصیلی کہانی بیان کی۔
​طبی معائنہ (Post-Mortem):
ڈاکٹر بشیر احمد نے ۱۶ جون ۱۹۵۴ کو مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کیا، جس میں سر پر لاٹھی کے زخم اور سینے پر بندوق کے گولیوں کے شدید زخم پائے گئے، جس سے حاکم علی کی ایف آئی آر میں بیان کردہ کہانی کی تصدیق ہوئی۔

​۲. پبلک پراسیکیوٹر کی جرح (Cross-Examination by Prosecutor)
​یہ کیس اس لحاظ سے اہم ہے کہ استغاثہ (Prosecution) کا اپنا بنیادی چشم دید گواہ، حاکم علی، ٹرائل کورٹ میں دباؤ یا کسی سمجھوتے کے تحت اپنے اصل بیان سے منحرف (Hostile) ہونے لگا تھا۔ اس صورتحال میں پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کی اجازت سے اپنے ہی گواہ پر جرح کی:

​تضادات پیدا کرنا:
حاکم علی نے سیشن کورٹ میں جرح کے دوران ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ملزمان نے اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے اور اس نے انہیں صرف ان کے 'قد و قامت' (Sizes) سے پہچانا تھا۔

​میڈیکل رپورٹ سے انحراف:
اس نے ٹرائل کے دوران یہ بھی بیان بدلنے کی کوشش کی کہ مقتولہ کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جو کہ میڈیکل رپورٹ اور اس کی اپنی درج کردہ ایف آئی آر کے بالکل برعکس تھا۔

​پراسیکیوٹر کا ردعمل:
پبلک پراسیکیوٹر نے حاکم علی کو اس کی درج کروائی گئی ایف آئی آر دکھائی اور اس پر سخت جرح کی۔ پراسیکیوٹر نے ثابت کیا کہ حاکم علی نے ایف آئی آر میں ملزمان کو نامزد کیا تھا اور واقعے کی جو تفصیلی تصویر کشی کی تھی، وہ میڈیکل رپورٹ سے سو فیصد میچ کرتی تھی۔ لہٰذا، بعد میں عدالت میں دیا گیا اس کا یہ بیان کہ "چہرے چھپے ہوئے تھے" بالکل جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

قانون کے تحت پراسیکیوٹر کا جرح کا حق
عدالت نے یہ اصول واضح کیا کہ قانون کے تحت پبلک پراسیکیوٹر کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ عدالت کی اجازت سے اپنے ہی ایسے گواہ پر جرح کر سکے جو عدالت میں آ کر استغاثہ کے کیس کو نقصان پہنچانے یا ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہو۔ پراسیکیوٹر نے حاکم علی کے بدلتے ہوئے بیانات کو چیلنج کرنے کے لیے اسی قانونی حق کا استعمال کیا۔

ایف آئی آر (FIR) کے ذریعے تضادات کو بے نقاب کرنا
حاکم علی نے سیشن کورٹ میں جرح کے دوران ملزمان کو بچانے کے لیے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وقوعہ کے وقت ملزمان نے اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے اور اس نے انہیں صرف ان کے 'قد و قامت' (Sizes) سے پہچانا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے گولی لگنے کی جگہ (سینے کے بجائے پیٹھ) کے بارے میں بھی تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی۔

پراسیکیوٹر کی جرح: پبلک پراسیکیوٹر نے حاکم علی کا سامنا اس کی اپنی درج کروائی گئی ابتدائی تفتیشی رپورٹ (FIR) سے کروایا۔ پراسیکیوٹر نے جرح میں ثابت کیا کہ وقوعہ کے فوراً بعد (آدھے گھنٹے کے اندر) حاکم علی نے بغیر کسی ابہام کے ملزمان (عدالت اور بہادر) کو نامزد کیا تھا اور ان کے ہتھیاروں (بندوق اور لاٹھی) کا بالکل درست ذکر کیا تھا۔

​۳. عدالت کے اہم نتائج اور واضح کردہ اصول (Findings of the Court)
​سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف ملزمان نے فیڈرل کورٹ (موجودہ سپریم کورٹ) میں اپیل دائر کی تھی۔ چیف جسٹس محمد منیر نے اپیل خارج کرتے ہوئے درج ذیل اہم قانونی نکات اور نتائج اخذ کیے:

​الف۔ گواہی کی جانچ کا اصول (Appreciation of Evidence)
​عدالت نے قرار دیا کہ شہادتوں کو پرکھنے کا کوئی سخت اور جامد قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کوئی گواہ اپنے بیان میں تضاد پیدا کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے، تو یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ اس کی گواہی کا سچا حصہ قبول کر لے اور جھوٹا حصہ مسترد کر دے۔

​ب۔ ایف آئی آر (FIR) کی قانونی حیثیت
​عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر کوئی "Substantive Evidence" (مستقل جرمی شہادت) نہیں ہے، بلکہ اسے صرف گواہ کے بیان کی تصدیق یا تردید کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پراسیکیوٹر کو قانوناً حق حاصل ہے کہ وہ منحرف گواہ کی پرانی اسٹیٹمنٹ (FIR) سامنے رکھ کر اس پر جرح کرے۔

کیا جرح کرنے سے پراسیکیوٹر گواہ سے دستبردار ہو جاتا ہے؟
چیف جسٹس محمد منیر نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ طے کیا:
عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایک پراسیکیوٹر اپنے کسی گواہ پر (اس کے معاندانہ رویے کی وجہ سے) جرح کرتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پراسیکیوٹر اس گواہ کو مکمل طور پر چھوڑ رہا ہے یا اب استغاثہ اس گواہ کی شہادت کے کسی بھی حصے پر انحصار نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پراسیکیوٹر کی جرح کا مقصد صرف گواہ کے اس جھوٹے حصے کو بے نقاب کرنا ہوتا ہے جو اس نے بعد میں کسی بدنیتی یا دباؤ کے تحت بولا ہو۔ گواہ کا وہ بیان جو سچا اور دیگر حالات (جیسے میڈیکل رپورٹ) سے مطابقت رکھتا ہو، اسے عدالت اب بھی سزا کے لیے بنیاد بنا سکتی ہے۔

ج۔ ایف آئی آر کا بطورِ تردید استعمال (Use of FIR to Contradict)
عدالت عالیہ اور فیڈرل کورٹ نے پراسیکیوٹر کے جرح کرنے کے انداز اور ایف آئی آر کے استعمال کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ:
اگرچہ ایف آئی آر خود کوئی بنیادی جرمی شہادت (Substantive Evidence) نہیں ہے، لیکن پراسیکیوٹر نے قانونِ شہادت کے تحت اسے بالکل درست طریقے سے گواہ کے عدالت میں دیے گئے بیان کی تردید (Contradiction) کے لیے استعمال کیا۔
جرح کے ذریعے یہ ثابت ہو گیا کہ حاکم علی کا عدالت میں یہ کہنا کہ "اس نے ملزمان کو صرف قد کاٹھ سے پہچانا"، ایک صریحاً جھوٹ تھا، کیونکہ کوئی بھی ہوش مند شخص ایف آئی آر میں اتنی قطعی اور تفصیلی کہانی محضSurmise (قیاس آرائی) یا صرف قد دیکھ کر بیان نہیں کر سکتا۔

​د۔ حاکم علی کی گواہی پر عدالت کا فیصلہ
​عدالت نے قرار دیا کہ حاکم علی کا ایف آئی آر میں دیا گیا بیان بالکل سچا تھا کیونکہ:
​وہ مقتولہ کا بھائی تھا اور اس کا ملزمان سے کوئی ذاتی عناد نہیں تھا کہ وہ اصل قاتلوں کو چھوڑ کر انہیں پھنساتا۔
​اس نے وقوعہ کے آدھے گھنٹے کے اندر ملزمان کے نام اور ہتھیاروں کی تفصیل بتائی، جو کہ کوئی دماغی ایجاد نہیں ہو سکتی۔

​ٹرائل کورٹ میں ملزمان کو بچانے کے لیے اس کا یہ کہنا کہ "اس نے صرف قد سے پہچانا"، ایک صریحاً جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی کوشش تھی، جسے خارج کیا جاتا ہے۔

​ڈ۔ دوسرے گواہ (سلطان) کی گواہی
​دوسرے گواہ سلطان (PW-10) نے بھی بعد میں ملزمان کے دباؤ میں آ کر اپنے بیان سے مکرنے کی کوشش کی تھی، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ اس کا پولیس کو دیا گیا ابتدائی بیان کہ اس نے ملزمان کو بندوق اور لاٹھی سمیت جائے وقوعہ سے بھاگتے دیکھا تھا، حاکم علی کے اصل بیان کی مکمل تائید کرتا ہے۔

​حتمی نتیجہ (Conclusion)
​فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر نے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان عدالت اور بہادر مسمات فضیل بیگم کے بے گناہ اور بے دردی سے کیے گئے قتل میں مکمل طور پر ملوث ہیں اور ان کی سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔ گواہان کے بعد میں دیے گئے تضادات محض ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی ناپاک کوشش تھی جس کی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو نہیں دیا جا سکتا۔
Shared by:
Usman Ali Alavi

پشاور ہائیکورٹ نے سزا مکمل ہونے کے باوجود قیدی کو 12 سال جیل میں رکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور...
20/05/2026

پشاور ہائیکورٹ نے سزا مکمل ہونے کے باوجود قیدی کو 12 سال جیل میں رکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سید محمد عتیق شاہ نے سینٹرل جیل کراچی میں قید امین حسین کی خیبر پختونخوا منتقلی کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل، ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسر اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

اے اے جی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو کراچی جیل سے منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اس وقت کرم جیل میں ہے، ملزم کو 2014 میں کراچی میں نارکوٹکس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں 2016 میں اسے ایک سال تین ماہ کی سزا ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کرم انتظامیہ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کراچی انتظامیہ کو خط لکھا تھا کہ ملزم انہیں مطلوب ہے، جس پر 26 جولائی 2019 کو ڈپٹی کمشنر نے ڈی پی او کرم کو ملزم کی کراچی سے کرم منتقلی کے لیے مراسلہ جاری کیا، تاہم 2019 کے بعد اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا کی مدت مکمل ہونے کے باوجود ان کا مؤکل 12 سال تک کراچی جیل میں قید رہا۔ اس پر چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے زندگی کے 12 سال کراچی جیل میں ضائع کیے گئے ہیں، اس غفلت میں جو بھی ملوث ہو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کا ہر صورت تعین کیا جائے۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سید محمد عتیق شاہ نے کرم سے تعلق رکھنے والے امین حسین کی خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ ریکارڈ پر موجود نہیں ہے، لہذا محکمہ داخلہ تین دن کے اندر دوبارہ رپورٹ جمع کرائے۔

ڈی پی او کرم اور ایس پی انویسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں، جبکہ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کرم کو بھی مکمل ریکارڈ سمیت عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کرم 30 اپریل کے عدالتی حکم کے مطابق ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں، ناکامی کی صورت میں قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
پشاور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 8 جون 2026 تک ملتوی کر د ہے۔

2025 SCMR 495زمین یا ​مکان کی خرید و فروخت کے معاہدے کی تعمیلِ مختص (Specific Performance)، معاہدے میں وقت کی اہمیت اور ...
19/05/2026

2025 SCMR 495

زمین یا ​مکان کی خرید و فروخت کے معاہدے کی تعمیلِ مختص (Specific Performance)، معاہدے میں وقت کی اہمیت اور فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین۔ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

​مقدمے کے حقائق (Facts of the Case)

​فریقین اور معاہدہ:
یہ مقدمہ جائیداد کے مالک ذیشان پرویز (بائع/فروخت کنندہ/Petitioner) اور محمد ناصر (مشتری/خریدار/Respondent) کے درمیان مورخہ 26 مارچ 2013 کو ہونے والے ایک معاہدہ بیع (Agreement to Sell) سے متعلق ہے۔ معاہدے کے تحت کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے (DHA) میں واقع ایک بنگلہ 2 کروڑ 58 لاکھ 50 ہزار روپے میں طے پایا۔
​ادائیگیوں کا شیڈول: مشتری (خریدار) نے بیعانے کے طور پر 25 لاکھ 85 ہزار روپے کی پیشگی ادائیگی کر دی۔ معاہدے کے مطابق مزید 34 لاکھ 15 ہزار روپے کی قسط ادا کی جانی تھی اور بقیہ رقم (1 کروڑ 98 لاکھ 50 ہزار روپے) جائیداد کا پرامن قبضہ دینے اور فروخت کی قانونی دستاویزات (Sale Deed) کی رجسٹری کے وقت ادا ہونا تھی۔

​بائع پر عائد شرائط:
جائیداد پر ایک بینک کا قرضہ تھا اور وہ رہن (Mortgage) رکھی ہوئی تھی۔ معاہدے کے تحت مشتری سے 34 لاکھ 15 ہزار روپے وصول کرنے کے بعد بائع (فروخت کنندہ) کی ذمہ داری تھی کہ وہ بینک کا تمام قرضہ ادا کرے، بینک سے این او سی (NOC/Clearance Certificate) حاصل کرے، جائیداد اپنے نام منتقل (Mutate) کروائے اور 15 اگست 2013 تک تمام کاغذی کارروائی مکمل کرے۔

​تاریخ کا تنازع اور عدالت کا رجوع:
معاہدے میں ایک فاش غلطی (Misprint) تھی کہ مزید رقم کی ادائیگی کی تاریخ "20 مارچ 2013" لکھی گئی تھی، جو کہ معاہدہ دستخط ہونے کی تاریخ (26 مارچ) سے بھی پہلے کی تھی۔ خریدار نے مئی 2013 تک رقم ادا کر دی جسے فروخت کنندہ نے بغیر کسی اعتراض کے قبول کر لیا۔ تاہم، بعد میں بائع نے الزام لگایا کہ مشتری نے وقت پر ادائیگی نہیں کی اور 2 ستمبر 2013 کو معاہدہ منسوخ کرنے کا نوٹس بھیج دیا اور عدالت میں معاہدے کی منسوخی کا دعویٰ دائر کر دیا۔ جواب میں، مشتری نے معاہدے پر زبردستی عمل درآمد (Specific Performance) کروانے کا جوابی دعویٰ دائر کر دیا۔ مشتری نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے بقیہ رقم سے بھی زیادہ (1 کروڑ 98 لاکھ روپے) عدالت میں جمع کروا دیے۔

​ہائی کورٹ کا فیصلہ:
سندھ ہائی کورٹ نے مشتری (خریدار) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بائع کا دعویٰ خارج کر دیا اور جائیداد خریدار کے نام منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بائع نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

​فریقین کا موقف اور دلائل (Stance and Arguments of Both Parties)
​1۔ بائع / فروخت کنندہ کا موقف (Petitioner / Vendor's Stance)

​پہلی خلاف ورزی:
خریدار معاہدے کے تحت 34 لاکھ 15 ہزار روپے کی قسط مقررہ وقت (مارچ 2013) پر ادا کرنے میں ناکام رہا۔
​دوسری خلاف ورزی: خریدار نے آخری تاریخ یعنی 15 اگست 2013 تک بھی بقیہ رقم ادا نہیں کی، جس کی وجہ سے معاہدہ ناکام یا ختم (Frustrated) ہو گیا۔

​حقِ منسوخی:
چونکہ خریدار نے معاہدے کی شرائط اور وقت کی پابندی نہیں کی، اس لیے بائع کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بیعانہ ضبط کر کے معاہدہ منسوخ کر دے، اور ہائی کورٹ کا خریدار کے حق میں ڈگری جاری کرنا قانوناً غلط ہے۔

​2۔ مشتری / خریدار کا موقف (Respondent / Vendee's Stance)

​معاہدے کی تحریری غلطی:
معاہدے میں لکھی گئی تاریخ (20 مارچ 2013) ایک انسانی غلطی تھی کیونکہ معاہدے پر دستخط ہی 26 مارچ کو ہوئے تھے۔ اصل تاریخ 20 مئی 2013 تھی۔
​شرائط کی پاسداری اور بائع کی مدد: خریدار ہر وقت رقم دینے کے لیے تیار تھا۔ حتیٰ کہ جب بائع کے پاس بینک کا قرضہ اتارنے کے پیسے کم پڑ گئے، تو خریدار نے بائع کی درخواست پر اضافی رقم براہِ راست بینک میں جمع کروائی تاکہ این او سی مل سکے۔

​بائع کی اپنی ناکامی:
خریدار کی طرف سے رقم کی ادائیگی کے باوجود بائع ستمبر 2013 تک بینک سے جائیداد واگزار (Redeem) کروانے اور این او سی لینے میں ناکام رہا، اس لیے خلاف ورزی بائع کی طرف سے ہوئی نہ کہ خریدار کی طرف سے۔ خریدار نے اپنی آمادگی ثابت کرنے کے لیے پوری رقم عدالت میں بھی جمع کروا دی تھی۔

​سپریم کورٹ کے فیصلہ دینے کی وجوہات (Reasons Given by the Court for the Decision)

​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بائع کی اپیل خارج کر دی اور درج ذیل قانونی و مادی وجوہات بیان کیں:

​اپنی غلطی کا فائدہ نہ اٹھاسکنے کا اصول
(Nullus commodum capere potest de injuria sua propria):
عدالت نے اس لاطینی اصول کا حوالہ دیا جس کا مطلب ہے کہ "کوئی بھی شخص اپنے ہی کیے گئے غلط کام یا کوتاہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔" چونکہ بائع خود وقت پر بینک کا قرضہ اتارنے اور جائیداد کو رہن سے آزاد کروانے میں ناکام رہا تھا، اس لیے وہ خریدار پر الزام لگا کر معاہدہ منسوخ نہیں کر سکتا۔

​معاہدے کی تشریح کا اصول:
(Contra Proferentem):
عدالت نے واضح کیا کہ اگر معاہدے کی کسی تحریر میں ابہام یا غلطی ہو (جیسے دستخط سے پہلے کی تاریخ لکھنا)، تو اس کی تشریح اس فریق کے خلاف کی جاتی ہے جس نے وہ دستاویز تیار کی ہو یا جو اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہو۔ عقلِ سلیم (Common Sense) یہی کہتی ہے کہ خریدار معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے ادائیگی نہیں کر سکتا تھا۔ نیز بائع نے مئی 2013 میں رقم بغیر کسی اعتراض کے وصول کر لی تھی، لہٰذا اب وہ اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔

​غیر منقولہ جائیداد میں وقت کی اہمیت:
(Time as Essence of Contract):

عدالت نے قانونِ معاہدہ (Contract Act, 1872) کی دفعہ 55 کی روشنی میں طے کیا کہ عام طور پر زمین یا مکان کی خرید و فروخت کے معاملات میں وقت "معاہدے کی روح یا اصل شرط" (Essence) نہیں ہوتا، جب تک کہ واضح طور پر ایسا نہ لکھا گیا ہو۔ اگر بائع کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وقت اہم تھا، تو خلاف ورزی پہلے بائع نے کی کیونکہ اس نے رقم لینے کے باوجود بینک سے این او سی (NOC) نہیں لیا۔

​خریدار کیCapability اور نیک نیتی کا ثبوت:
خریدار نے نہ صرف بائع کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائے بلکہ عدالت کے حکم پر بقیہ تمام رقم بھی یکمشت عدالت میں جمع کروا دی، جو اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ خریدار معاہدے کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت تیار اور مالی طور پر مستحکم تھا۔

​نتیجہ:
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خریدار (مشتری) کی طرف سے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، بلکہ بائع اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا اور بعد میں عدالتوں کو اپنے ذاتی مفاد کی تشریح کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ، خریدار کا تعمیلِ مختص (Specific Performance) کا دعویٰ بالکل درست ڈگری کیا گیا تھا۔

18/05/2026

2024 P Cr. LJ 1972
PLJ 2024 Cr.C. 1185

​مقدمے کے حقائق (Facts of the Case)

​پولیس چھاپہ اور گرفتاری:
پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر ایک گھر پر چھاپہ مارا جہاں درخواست گزاران (ایک مرد اور مسمات خالدہ بی بی) کو قابلِ اعتراض حالت میں پایا گیا۔

​رقم کی برآمدگی:
خاتون ملزمہ کے قبضے سے 1500 روپے نقدی برآمد کی گئی، جس کے بارے میں پولیس کا الزام تھا کہ یہ رقم اس نے طوائف پسندی/جسم فروشی (Prostitution) کے عوض وصول کی تھی۔

​ایف آئی آر کا اندراج:
پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعات 371-A اور 371-B کے تحت ایف آئی آر درج کی، جو کسی شخص کو جسم فروشی کی غرض سے بیچنے یا خریدنے سے متعلق ہیں۔

​ضمانت کی درخواست:
ملزمان نے ہائی کورٹ میں دفعہ 497 Cr.P.C کے تحت ضمانت بعد از گرفتاری (Bail after Arrest) کی درخواست دائر کی۔

​عدالت کے طے کردہ قانونی اصول اور مشاہدات

​عالیہ عدالت نے کیس کے حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے درج ذیل اہم قانونی نکات اور اصول وضع کیے:

​1۔ دفعات 371-A اور 371-B PPC کا غلط اطلاق
​عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایک مرد اور عورت کسی چکلے (Brothe House) میں جنسی ملاپ میں مصروف پائے جائیں، تو ان پر دفعہ 371-A یا 371-B کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
​اسی طرح، اگر کوئی شخص چکلا چلا رہا ہو اور وہ کسی گاہک کو جنسی ملاپ کے لیے کسی طوائف کی خدمات پیش کرے، تو اس پر بھی یہ دفعات تب تک عائد نہیں ہوسکتیں جب تک کہ وہاں کسی عورت کی باقاعدہ خرید و فروخت، خدمات حاصل کرنے (Hiring) یا مستقل سپردگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملے جس کا مقصد اسے طوائف بنانا یا غیر قانونی جنسی تعلقات کے لیے مستقل استعمال کرنا ہو۔
​2۔ پولیس کے اختیارات اور کارروائی کا درست طریقہ کار
​عدالت نے واضح کیا کہ معتبر اطلاع ملنے پر پولیس بغیر وارنٹ کے ایسے مقامات پر داخل تو ہو سکتی ہے جہاں آوارہ یا بدکردار لوگ جمع ہوتے ہوں، لیکن اس کے بعد کارروائی جرم کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے:

​جسم فروشی آرڈیننس:
اگر گھر چکلا ثابت ہو تو کارروائی 'پنجاب سپریشن آف پروسٹی ٹیوشن آرڈیننس 1961' کے تحت ہونی چاہیے۔

​بدکاری (Fornication):
اگر مرد اور عورت باہمی رضا مندی سے جنسی ملاپ کر رہے ہوں، تو یہ دفعہ 496-B PPC (بدکاری) کا جرم بنتا ہے۔ لیکن اس جرم پر کارروائی کے لیے پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی، بلکہ دفعہ 203-C Cr.P.C کے تحت مجسٹریٹ کی عدالت میں باقاعدہ تحریری شکایت (Complaint) دائر کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔

​سرِعام فحاشی:
اگر معاملہ دفعہ 294 PPC (سرعام فحش حرکات) کا ہو، تو پولیس مجسٹریٹ کی اجازت سے ہی تفتیش کر سکتی ہے۔

​3۔ پراسیکیوشن کے کیس میں خامیاں اور شواہد کی عدم موجودگی
​عدالت نے نوٹ کیا کہ پولیس کے پاس ملزمان کے خلاف کوئی پکا ثبوت موجود نہیں تھا:

​طبی معائنہ (MLR):
ریکارڈ پر کوئی میڈیکو لیگل رپورٹ موجود نہیں تھی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ان کے درمیان حالیہ جنسی ملاپ ہوا تھا۔

​فارنزک شواہد:
موقع سے نہ تو کوئی منی یا خون کے دھبوں والے کپڑے برآمد ہوئے اور نہ ہی کوئی دوسرا فارنزک مواد اکٹھا کیا گیا۔

​چکلے کا ثبوت:
ایسا کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ خاتون پیشہ ور طوائف ہے یا وہ گھر مستقل طور پر چکلے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا تاکہ پنجاب سپریشن آف پروسٹی ٹیوشن آرڈیننس 1961 کا اطلاق ہو۔

​بغیر وارنٹ داخلہ:
یہ بات بھی واضح نہیں تھی کہ آیا وہ گھر واقعی کسی بدکردار طبقے کی پناہ گاہ تھا جس کی وجہ سے پولیس کا بغیر وارنٹ داخل ہونا قانوناً جائز قرار پائے۔

​عدالتی فیصلہ (Conclusion)
​عالیہ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کا ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات (371-A/371-B) سے بظاہر کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا اور ان کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد کرے گی۔
​موجودہ مرحلے پر یہ کیس بالکل واضح طور پر مزید انکوائری (Further Inquiry) کا ہے، جو کہ دفعہ 497(2) Cr.P.C کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ چنانچہ، عدالت نے حالات و واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور (Allowed) کر لی۔

Detail Judgement of Lahore High Court against concurrent findings of lower courts in civil case regarding oral sale.
18/05/2026

Detail Judgement of Lahore High Court against concurrent findings of lower courts in civil case regarding oral sale.

17/05/2026

کم عمر لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح — شرعی اور قانونی حیثیت۔
تحریر: عثمان علی علوی۔

کم عمر لڑکی کے اپنی مرضی سے نکاح کی حیثیت ایک پیچیدہ قانونی مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے شرعی قوانین اور پاکستان میں نافذ فوجداری قوانین میں تضاد اور عدالتوں کے متضاد فیصلے اس پیچیدگی میں اضافے اور ابہام پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ اس تحریر میں اس مسئلہ کی شرعی و قانونی وضاحت بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے تین الگ چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے:

1۔ شرعی بلوغت کیا ہے اور کم عمری کے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے۔
2۔ چائلڈ میرج اور کم عمری کے قوانین کیا کہتے ہیں۔
3۔ کم عمری کے نکاح کے حوالے سے، اغواء اور ریپ کے مقدمات میں عدالتی رویہ

عام طور پر لوگ ان تینوں چیزوں کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں یا انہیں خلط ملط کرتے ہیں، حالانکہ شرعی اور قانونی اصول ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔

1۔ شرعی لحاظ سے بلوغت اور کم عمری کے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے۔
شرعی لحاظ سے اصل معیار “بلوغت” ہے، صرف عمر نہیں۔
بلوغت دو طریقوں سے ثابت ہو سکتی ہے:

ا) جسمانی علاماتِ بلوغت سے
یا
ب) اگر علامات واضح نہ ہوں تو 15 سال کی عمر سے

اسی لیے فقہی اعتبار سے یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر لڑکی جسمانی طور پر بالغہ ہو تو وہ نکاح کی اہلیت رکھتی ہے۔
البتہ اگر لڑکی جسمانی طور پر نابالغہ ہو، یعنی اس میں بلوغت کے آثار موجود نہ ہوں، تو اس کی اپنی رضامندی سے کیا گیا نکاح کم از کم شدید شرعی اشکال اور عدمِ اہلیت کا مسئلہ پیدا کرتا ہے، اور ایسی صورت میں ازدواجی تعلقات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی یاد رہے کہ فقہِ اسلامی میں “نکاح” اور “رخصتی یا ازدواجی تعلقات” دو الگ مسائل ہیں۔ کم عمری، جسمانی نقصان یا عدمِ استطاعت کی صورت میں ازدواجی تعلقات کا مسئلہ الگ قانونی و شرعی بحث رکھتا ہے۔

2۔ خیبر پختونخوا میں چائلڈ میرج کی قانونی حیثیت
خیبر پختونخوا میں تاحال عمومی قانونی پوزیشن یہ ہے کہ:
16 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی “چائلڈ میرج” کے زمرے میں آتی ہے۔
یعنی اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہو تو:
نکاح خواں،
والدین،
سرپرست،
یا نکاح میں شامل دیگر افراد
کے خلاف چائلڈ میرج کے قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ “چائلڈ میرج” قرار دیے جانے کا مطلب ہر صورت میں نکاح کا ازخود کالعدم یا باطل ہونا نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ میں فقہی اصول، خاندانی قوانین اور فوجداری قوانین ایک دوسرے سے مختلف دائرہ رکھتے ہیں۔

3۔ اگر 16 سال سے کم عمر لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرے تو قانونی صورتحال کیا بنتی ہے؟
یہ سب سے پیچیدہ حصہ ہے۔
اگر لڑکی:
جسمانی طور پر بالغہ ہو،
اپنی مرضی ظاہر کرے،
اور کسی شخص کے ساتھ نکاح کر لے،
تو شرعی لحاظ سے اس نکاح کے متعلق فقہی بحث موجود ہے، خصوصاً فقہِ حنفی میں بالغہ لڑکی کے اپنے نکاح کو اصولی طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن پاکستانی فوجداری قانون میں صورتحال ہمیشہ اتنی سادہ نہیں رہتی۔
کیونکہ ایسے مقدمات میں ایک ساتھ کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
لڑکی کی اصل عمر کیا ہے؟
کیا وہ قانونی طور پر “child” شمار ہوتی ہے؟
کیا والدین کی تحویل سے نکالنا اغواء ہے؟
کیا رضامندی قانونی طور پر معتبر ہے؟
کیا ازدواجی تعلقات ریپ کے زمرے میں آئیں گے؟
کیا چائلڈ میرج کے قوانین لاگو ہوں گے؟
اسی وجہ سے عدالتوں کے فیصلوں میں بعض اوقات اختلاف نظر آتا ہے۔

4۔ اغواء (Kidnapping / Abduction) کے مقدمات کیوں بنتے ہیں؟
اگر کم عمر لڑکی والدین کے گھر سے نکل کر کسی شخص کے ساتھ چلی جائے یا نکاح کر لے، تو عام طور پر درج ذیل دفعات لگائی جاتی ہیں:
اغواء
ابڈکشن
چائلڈ میرج
زنا بالجبر یا ریپ
لڑکی کو ورغلانے یا بہلانے کے الزامات

یہاں ایک اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ:
کم عمر لڑکی کی “رضامندی” ہر معاملے میں مکمل قانونی دفاع نہیں بنتی، خصوصاً جب قانون اسے ابھی child تصور کر رہا ہو۔
اسی وجہ سے اگر لڑکی اپنی مرضی سے بھی گئی ہو، تب بھی اغواء کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔

5۔ ریپ کے مقدمات میں اصل قانونی تنازع کیا ہے؟
یہی وہ حصہ ہے جہاں سب سے زیادہ ابہام پایا جاتا ہے۔
ایک رائے یہ رہی ہے کہ:
اگر لڑکی 16 سال سے کم عمر ہو، تو اس کی رضامندی جنسی تعلقات کے لیے قانونی طور پر مؤثر نہیں سمجھی جائے گی۔
اسی بنیاد پر بعض مقدمات میں ازدواجی تعلقات کو بھی ریپ قرار دیا گیا۔
دوسری طرف بعض عدالتی فیصلوں میں یہ دیکھا گیا کہ:
لڑکی بالغہ تھی،
اپنی مرضی سے گئی،
نکاح موجود تھا،
لہٰذا معاملہ زبردستی یا ریپ کا نہیں بنتا۔
اسی وجہ سے مختلف عدالتوں کے فیصلوں میں فرق دیکھا گیا ہے۔

6۔ حالیہ عدالتی رجحان کیا ہے؟
حالیہ برسوں میں پاکستانی عدالتیں، خصوصاً بچوں کے تحفظ کے قوانین کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض حالیہ فیصلوں میں:
18 سال سے کم عمر لڑکی،
کم عمری میں نکاح،
اور ازدواجی تعلقات
کو بچوں کے تحفظ کے اصولوں کے مطابق دیکھا گیا ہے، اور بعض صورتوں میں ریپ یا غیر قانونی عمل قرار دیا گیا ہے۔
اسی لیے اب یہ کہنا درست نہیں کہ:
“اگر لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہو تو ہر صورت میں فوجداری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔”
بلکہ موجودہ قانونی صورتحال میں ہر مقدمہ اپنے حقائق، عمر، میڈیکل شواہد، رضامندی، اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق الگ دیکھا جاتا ہے۔

7۔ اس پورے مسئلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ:
شرعی بلوغت، نکاح کی فقہی حیثیت، چائلڈ میرج قوانین، اغواء، اور ریپ — یہ سب الگ قانونی و شرعی تصورات ہیں۔
اسی لیے کسی ایک اصول کو لے کر پورے معاملے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ پاکستانی قانونی صورتحال میں خصوصاً کم عمر لڑکیوں کے معاملات میں عدالتیں:
عمر، جسمانی بلوغت، رضامندی، نکاح، والدین کی تحویل،
اور بچوں کے تحفظ کے قوانین، سب کو ملا کر فیصلہ کرتی ہیں۔

8. اس تمام پیچیدہ بحث کو مندرجہ ذیل تین صورتوں میں سمیٹا اور سمجھا جا سکتاہے۔

پہلی صورت:
اگر لڑکی جسمانی طور پر نابالغہ ہو:

ا) اس کی رضامندی انتہائی کمزور شرعی و قانونی حیثیت رکھتی ہے۔
ب) ازدواجی تعلقات شدید قانونی و شرعی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
ج) ریپ، اغواء اور چائلڈ میرج کے مقدمات بن سکتے ہیں۔

دوسری صورت:
اگر لڑکی جسمانی طور پر بالغہ ہو مگر عمر 16 سال سے کم ہو:

ا) شرعی لحاظ سے نکاح کے متعلق فقہی گنجائش کی بحث موجود ہے۔
ب) لیکن قانونی طور پر چائلڈ میرج، اغواء اور بعض صورتوں میں ریپ کے مقدمات بن سکتے ہیں۔
ج) عدالتوں کے فیصلے ہر کیس کے حقائق کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

تیسری صورت:
اگر لڑکی 16 سال یا اس سے زائد عمر کی ہو:

ا) اس کی رضامندی کو قانونی اہمیت زیادہ دی جاتی ہے۔
ب) بالغہ لڑکی کے اپنی مرضی سے نکاح کو عدالتی نظائر میں عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
ج) تاہم اگر جبر، دھوکہ، زبردستی یا کسی اور جرم کے شواہد ہوں تو الگ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when School of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category