𝗛𝗮𝗺𝗶𝗱 𝗚𝗼𝗻𝗱𝗮𝗹 𝗔𝗱𝘃

𝗛𝗮𝗺𝗶𝗱 𝗚𝗼𝗻𝗱𝗮𝗹 𝗔𝗱𝘃 Social Activist, BusinessMan, Travel Consultant, Lawyer, Youtuber, Blogger, Vlogs.

18/05/2023
16/05/2023

‏لبنانی شخص اپنی کہانی سناتا ہے کہ میں جاپان کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھرا ہوا تھا -
میں ہوٹل کے سوئمنگ پول میں اترا تب میرے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا،نہاتے نہاتے می‍ں نے سوئمنگ پول میں پیشاب کر دیا کسی کیمیکل کی وجہ سے چند لمحوں میں پورے سوئمنگ پول کے پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا ‏سکیورٹی پر مامور افراد فوری پہنچ گئے اور مجھے سوئمنگ پول سے نکالا، میری نظروں کے سامنے عملہ آیا اور سوئمنگ پول کے پانی کو تبدیل کر دیا -
مجھے ہوٹل کے ریسیپشن میں بلایا گیا میرا پاسپورٹ اور سامان مجھے پکڑا دیا گیا اور ہوٹل سے مجھے باہر کر دیا -
اب میں شہر کے جس بھی ہوٹل کا رخ کرتا ‏ریسیپشن پر بیٹھا عملہ میرا پاسپورٹ دیکھ کر کہتا تم ہی ہو نا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا -
مجھے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں روم نہیں ملا، میں نے اپنے سفارت خانے کا رخ کیا اور انہیں ساری کہانی سنا دی، سفارت خانے سے یہ راہنمائی ملی کہ ایسا ہوٹل تلاش کریں جہاں سوئمنگ پول نہ ہو -‏میں جب جاپان چھوڑنے کیلئے ائیرپورٹ امیگریشن پہنچا تھا میرے پاسپورٹ پر مہر لگاتے ہوئے وہاں کے ایک آفیسر نے کہہ دیا امید ہے آپ کو اچھا سبق ملا ہوگا
وہ لبنانی شخص کہتے ہیں تین دنوں میں پورا جاپان جان چکا تھا کہ میں ہی تھا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا، ‏اس واقعے کو عرصہ بیت گیا آج بھی کوئی جاپانی مجھے نظر آتا ہے تو مجھے لگتا ہے اسے بھی پتہ ہوگا.
دوسری طرف ہمارے ملک میں اربوں ڈالر ملک کے لوٹ لیے گیے، خزانہ خالی کر دیا گیا لیکن
کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کون لوٹ گیا، کون کھا گیا، کس نے ہاتھ صاف کیا -‏ہمارے اداروں نے ہمیں معلوم ہی ہونے نہیں دیا کہ کون حرام کی اولاد ٹانگ اٹھا کر قومی خزانے میں کتنا پیشاب کر گیا ہے...😔🤔

منقول

🫣🤫
04/05/2023

🫣🤫

28/04/2023

آپکا بہت لوگوں کے ساتھ تعلق بنے گا اور بہت لوگوں کے ساتھ اپکا تعلق ختم ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسکا ہم اپنے روزمرہ زندگی میں تجربہ کرتے ہیں۔ کچھ بنیادی رشتوں کے علاوہ ہم کسی بھی انسان کے ساتھ مکمل زندگی نہیں رہ سکتے، کچھ ہمارے زندگی میں آتے ہیں اور کچھ ہمارے زندگی سے چلے جاتے ہیں۔
کچھ تعلقات، نظریات کے بنیاد پر بنتے ہیں تو کچھ جزبات کے بنیاد پر، لیکن یہ بات مسَلّم ہے کہ ہمارے تعلقات بنتے بھی جاتے ہیں اور ساتھ میں ختم بھی ہوتے ہیں اور ظاہر ہے تعلق میں بہت دفعہ زاتیات کا بھی تبادلۂ خیال ہوجاتا ہیں لیکن اگر کسی دن آپ کا رشتہ کسی ایسے شخص سے ختم ہو جاۓ جس سے آپ محبت کرتے تھے یا اپکا اس کے ساتھ کوئی بھی تعلق ہوا کرتا تھا تو کم ازکم آپ میں اتنی ظرفیت اور انسانیت ہونے چاہئیے کہ اُس کے سارے راز اور کہانیاں اکٹھے کرکے کسی کونے میں دفن کر دیں اور کبھی کسی کو اس تک پہچنے نہ دیں۔ ہمیں کھبی بھی کسی شخص کے کمزوریوں سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہییے، ہر انسان کسی نہ کسی پہلو میں کمزور ہوتا ہے، ہر شخص ناقص ہے، چاہے مؤمن ہو یا ملحد یا کوئی بھی، ہم سب انسان ہیں اور بحیثیتِ انسان ہم سب ناقص ہیں۔
شاید دوسرا انسان اپکو ہلکا لگے مگر اِس پوری کائنات میں ہر انسان کی خوشی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ پوری انسانیت کی خوشی ہے۔ کھبی کھبار ایسے بھی ہوتا ہے کہ ہم موقع کی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب وہ میرے خلاف کچھ فعل انجام دے گا، تاکہ اُن کے سارے راز برملا کرکے اس کو دوسروں کے سامنے شرمندہ کردوں۔ مطلب مجھے افسوس ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات ہمیں کہاں سے ملی ہیں !
ہماری ضمیر کیوں مرگئی ہے، ہمارا دل کیوں انسانیت کی لئے نہیں تڑپتا، ہم کیوں ایک دوسرے کو تڑپتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ ہم نے کیسے ایک مہربان اور احساس رکھنے والا انسان بننا ہے، یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ ہم نے ایک دوسرے کو بطور ایک انسان تمام کمزوریوں کے ساتھ کیسے قبول کرنا ہے۔
یہ احساس بہت ضروری ہے کہ ہر شخص کے لئے سب سے زیادہ عزیز اسکی عزتِ نفس اور زاتی زندگی ہے، اور ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی زاتی زندگی جو شاید بہت غلطیوں سے بھری ہیں، محفوظ ہو۔ اسلئے ایک انسان کو کھبی اتنا درندہ صفت نہیں بننا چاہئیے کہ وہ غصّے میں آکر یا کسی اور وجہ سے دوسرے انسان کو احساس کمتری کا شکار بناکر اسکی پوری زندگی کو ہی آگ لگا دیں۔

دو ارب سے زائد استعمال ہونی والی ایپ وٹس ایپ نے ایک نیا فیچر متعارف کروا دیااب آپ ایک ہی اکاؤنٹ چار فونز پر استعمال کر س...
26/04/2023

دو ارب سے زائد استعمال ہونی والی ایپ وٹس ایپ نے ایک نیا فیچر متعارف کروا دیا
اب آپ ایک ہی اکاؤنٹ چار فونز پر استعمال کر سکتے ہیں۔


13/04/2023

والدین کا گھر!
خلیل جبران
صرف یہی وہ گھر ہے
جہاں آپ جب جی چاہے
بغیر کسی دعوت کے جا سکتے ہیں
یہی وہ گھر ہے
جہاں آپ دروازے میں چابی لگا کر
براہِ راست گھر میں داخل ہو سکتے ہیں
یہ وہ گھر ہے
کہ جہاں محبت بھری نگاہیں
اس وقت تک دروازے پر لگے رہتی ہیں
جب تک آپ نظر نہ آ جائیں
یہ وہ گھر ہے
جو آپ کو آپ کی بچپن کی بے فکری
اور خوشیوں کے دن یاد دلاتا ہے
یہ وہ گھر ہے
جہاں آپ کی موجودگی
اور ماں باپ کے چہرے پر محبت کی نظر ڈالنا باعثِ برکت ہے اور ان سے گفتگو کرنا اعزاز کی بات ہے۔
یہ وہ گھر ہے
جہاں آپ نا جائیں تو
اس گھر کے مکینوں ک دل مرجھا جاتے ہیں۔
یہ وہ گھر ہے
جہاں ماں باپ ک صورت میں
دو شمعیں جلی رہتی ہیں
تاکہ آپکی دنیا کو روشنی سے جگمائیں
اور آپ کی زندگی کو خوشیوں اور مسرتوں سے بھر دیں
یہی ہے وہ گھر
جہاں کا دسترخواں خالص محبتوں سے بھر پور اور ہر قسم کی منافقت سے پاک ہے
یہ وہ گھر ہے
کہ اگر یہاں کھانے کا وقت ہو جائے
اور آپ کچھ نہ کھائیں
تو اس گھر کے مکینوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں
اور وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ گھر ہے جہاں
آپ کو ہر قسم کی خوشیاں
اور قہقہے میسر ہیں
آہ ہ ہ ہ۔۔۔ لوگو
ان گھروں کی اہمیت کو پہچانیں
قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے
وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں
جن کے پاس والدین کے گھر ہیں۔

09/04/2023

پڑھنے کے بعد مزہ نہ آیاپھر کہنا!!!
ایک ائیرلائن میں *ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ میں سوﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﯿﮟ، جبکہ
ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ،
ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔
*” ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ“*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ جی ﺑﺎﻟﮑﻞ“
ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ،
ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ،
ﭼﻨﺎنچہ ﮨﻢ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ،
ﭘﺘﮧﭼﻼ کہ *ﺟﯿﻨﺎ* ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ *” ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ“* ﭘﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ ﻭﮦ *ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ* ﺳﮯ بھی ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍٓﭨﻮﺑﺎﺋﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﯽ(سوانعمری) ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ“
*ﺟﯿﻨﺎ* ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ،
ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﺍﻭﻝ ﻧﮯ،
950ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮦ؟
ﮨﻮﺱ، ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ، ﻻﻟﭻ، ﮐﺎﮨﻠﯽ، ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ، ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭﺗﮑﺒﺮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﮯ،
ﺗﻮ ﯾﮧ ﺷﺎندﺍﺭ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ 1925ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ،
ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﯾﮧ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﺎﺭﺕ
ﮐﮯﻟﯿﮯﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯼ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑل ﺑﺎﺍﺻﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ"
ﻭﮦ ﻓﺮﻣﻮﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻓﻼﺳﻔﺮﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ بجاۓ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﻣﺜﻼً ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
( ﻭﮦ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﮯ، ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ، ﻗﺎﺋﺪ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯼ)
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﺮﻭﭨﻮﮐﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ،
ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ،
ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎﯾﺎ،
ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﯽ،
ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ،
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ،
ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻭﯾﻞ ﮈﻥ ﺍٓﭖ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎندﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ“
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؟
” ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ“
وﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ“
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ،
ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﻭﮦ بھانپ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔
”ﺍٓﭖ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ“
ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺍٓ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ،
ﺍٓﭖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﻋﻤﻠﯽ ‏(ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ) ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﺑﮭﯽ ”ﺍﮈﺍﭘﭧ“ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،
ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ۔
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﻧﻮﭦ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﭖ ﺩﯾﺎ،
ﺍٓﭖ ﮨﺮ ﻓﻮﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ؟
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ؐ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ،
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﻡ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍٓﭖ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮔﻨﻮﺍﺋﯿﮟ،
ﺟﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﮟ،
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺍٓﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﻮ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﯽ،
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ،
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ،
ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﭖ (ﻣﻨﺎﻓﻖ) ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔

08/04/2023

ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں سوار ایک بندر کے علاوہ تمام مسافر جاں بحق ھو گئے۔
‏حادثے کی تحقیقات ھوئیں،
‏ بلیک باکس سے معلومات اکٹھی کی گئیں تاہم جہاز تباہ ہونے کی وجوہات کا پتہ نہ چلایا جا سکا۔
‏تھک ہار کر اس نتیجے پہ پہنچا گیا کہ بندر کو train
‏کر کے اس قابل بنایا جائے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کی مدد کرسکے۔
‏چند ہفتوں کی تگ و دو کے بعد بندر اس قابل ہو گیا کہ اشاروں کی زبان میں کسی بھی سوال کا جواب دے سکے۔
‏تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بندر کو پیش کیا گیا۔
‏ایک آفیسر نے بندر سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اشاروں میں پوچھا کہ جب جہاز
‏تباہ ہوا تو مسافر کیا کر رھے تھے؟
‏اشاروں میں جواب ملا کہ کچھ سو رھے تھے، کچھ بات چیت میں مصروف تھےاور کچھ میگزین وغیرہ پڑھ رھے تھے۔
‏کمیٹی کے اراکین کا حوصلہ بندھا۔
‏دوسرا سوال ہوا کہ ائیر ہوسٹس کیا کر رہی تھیں۔
‏وہ میک اپ میں مصروف تھیں۔
‏کمیٹی کے اراکین نے معنی خیز نظروں سے ایک
‏دوسرے کو دیکھا۔
‏ایک اور سوال ہوا۔۔
‏جہاز تباہ ہونے سے پہلے پائلٹ کیا کر رھے تھے؟
‏جواب ملا وہ سو رہے تھے۔۔
‏تمام اراکین ششدر رہ گئے۔۔
‏کچھ لمحوں بعد ایک اور سوال ہوا۔
‏آپ اس وقت کیا کر رھے تھے؟
‏بندر نے فخریہ انداز سے میز پہ پڑی عینک اٹھا کر پہنی، چہرے پر کلر سمائل بکھیری اور دبنگ انداز
‏میں جواب دیا کہ
‏"میں اس وقت جہاز چلا رہا تھا"

‏"ہمارے موجودہ وزیراعظم نے کل خطاب کے دوران فرمایا"
‏ کہ
‏ملک میں منافع خور مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔
‏مافیاز حالات کو خراب کر رہے ہیں۔
‏یہ ٹولہ ملک کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہا ھے۔
‏کاش کوئی پوچھتا

‏کہ آپ کیا کر رھے ہیں؟؟
‏جواب وہی بندر والا ہوتا
‏کہ
‏میں ملک چلا رہا ھوں۔

ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭨﻠﯽ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﻭﯾﻨﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺍﺣﯽ ﻗﺼﺒﮯ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ...
07/04/2023

ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭨﻠﯽ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﻭﯾﻨﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺍﺣﯽ ﻗﺼﺒﮯ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﮨﮏ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﯿﺰ ﮐﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺑﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺭﮈﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﺎ ’’ ﺩﻭ ﮐﭗ ﮐﺎﻓﯽ ﻻﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ‘‘ ۔
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﺁﺭﮈﺭ ﮐﻮ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ۔ ﺑﯿﺮﮮ ﻧﮯ ﺁﺭﮈﺭ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﭗ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮐﭗ ﭘﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﻭ ﮐﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﮯ۔ ﺍﺱ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﯿﺮﮮ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﺭﻕ ﭼﺴﭙﺎﮞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﮐﺎﻓﯽ۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺩﻭ ﮔﺎﮨﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﭗ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﺁﺭﮈﺭ ﺩﯾﺎ، ﺩﻭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﮨﯽ ﮐﭗ ﭘﯿﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﯿﻦ ﮐﭗ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﺑﻨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺮﮮ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﺎ، ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﺭﻕ ﭼﺴﭙﺎﮞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﮐﺎﻓﯽ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻓﮩﻢ ﺗﮭﺎ۔

ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭖ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺳﮯ ﻗﻄﻌﯽ ﻣﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻏﺮﺑﺖ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﻋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛ ’’ ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻻﺅ ‘‘ ۔ ﺑﯿﺮﮮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ، ﺟﺴﮯ ﭘﯽ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﺑﻨﺎ۔۔

ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﺮﮮ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﭘﺮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﭼﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﻮﻧﭩﺮﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔۔

ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﭙﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﮨﻤﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻗﺼﺒﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺳﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻗﺪﺭ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝗛𝗮𝗺𝗶𝗱 𝗚𝗼𝗻𝗱𝗮𝗹 𝗔𝗱𝘃 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to 𝗛𝗮𝗺𝗶𝗱 𝗚𝗼𝗻𝗱𝗮𝗹 𝗔𝗱𝘃:

Share