Lawsmiths

Lawsmiths Justice. Integrity. Excellence We have a reputation for providing an exceptional legal service. Our clients recognize and value this.

LAWSMITHS – Advocates & Legal Consultants, Islamabad. 18+ years’ experience in family & civil law, advocating for women’s & children’s rights — including Pakistan’s landmark ruling setting minimum marriage age at 18. We are renowned for our commitment to excellence and for our ability to find innovative solutions to the most complex of legal problems.

KNOW YOUR RIGHTS. PROTECT YOURSELF.Many people tolerate injustice simply because they do not know what the law allows th...
28/08/2026

KNOW YOUR RIGHTS. PROTECT YOURSELF.

Many people tolerate injustice simply because they do not know what the law allows them to do.

Whether the issue involves:

• Family disputes, divorce or child custody
• Domestic violence or harassment
• Inheritance and succession rights
• Property and civil disputes
• Criminal proceedings
• Consumer and banking matters
• Child protection and child rights
• Corporate and regulatory matters

Knowing your legal rights is the first step. Acting at the right time can make the difference.

Do not ignore a legal problem until it becomes a crisis.

LAWSMITHS
Advocates | Legal Consultants

Legal awareness. Professional guidance. Protection of rights.

وراثت کی تقسیم میں اگر ایک وارث تعاون نہ کرے تو کیا ہوگا؟کوئی ایک وارث دوسرے قانونی ورثاء کو ان کے حصے سے محروم نہیں کر ...
15/08/2026

وراثت کی تقسیم میں اگر ایک وارث تعاون نہ کرے تو کیا ہوگا؟

کوئی ایک وارث دوسرے قانونی ورثاء کو ان کے حصے سے محروم نہیں کر سکتا۔

اگر کوئی وارث تقسیم وراثت میں تعاون نہ کرے، کاغذات اپنے پاس رکھے، جائیداد پر ناجائز قبضہ کرے، یا جان بوجھ کر معاملہ لٹکائے، تب بھی دوسرے ورثاء اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے مناسب قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔

صورتحال کے مطابق قانونی چارہ جوئی میں یہ امور شامل ہو سکتے ہیں:

• جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیگل ہیرشپ
• ورثاء کی قانونی حیثیت کا تعین
• تقسیم جائیداد
• قبضہ یا حصہ کی بازیابی
• ناجائز فروخت یا منتقلی کے خلاف حکم امتناعی

ہر وراثتی معاملہ الگ نوعیت رکھتا ہے۔ بروقت قانونی مشورہ اور درست دستاویزات نہ صرف تاخیر سے بچاتی ہیں بلکہ خاندانی تنازعات کو بھی کم کرتی ہیں۔

وراثت، جانشینی، تقسیم جائیداد یا دیگر قانونی امور کے لیے LAWSMITHS سے رابطہ کریں۔

Lawsmiths
Advocates and Legal consultants

#وراثت

🇵🇰 کی جانب سے یومِ آزادی مبارک LAWSMITHS 🇵🇰14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ایک مضبوط پاکس...
14/08/2026

🇵🇰 کی جانب سے یومِ آزادی مبارک LAWSMITHS 🇵🇰

14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔

ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد قانون کی بالادستی، انصاف، مساوات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر قائم ہے۔

آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم ایک ایسے پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، انصاف ہر شہری کی دسترس میں ہو اور آئین و قانون کا احترام ہماری اجتماعی ترجیح ہو۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

LAWSMITHS
Advocates & Legal Consultants

#14اگست

🚨PROTECT YOUR CHILDREN. DO NOT TRUST BLINDLY.🚨The brutal sexual assault and murder of an 18-month-old baby in Karachi sh...
11/08/2026

🚨PROTECT YOUR CHILDREN. DO NOT TRUST BLINDLY.🚨

The brutal sexual assault and murder of an 18-month-old baby in Karachi should shake every parent and every household.An 18-month-old baby cannot understand whom to trust or distrust.

She cannot recognise a predator.
She cannot understand an unsafe touch.
She cannot protect herself.
She may not even be able to tell her parents what happened.

The responsibility is entirely OURS.

Do not blindly trust someone with your child simply because that person is a relative, neighbour, family friend, domestic worker, driver, teacher, or someone you have known for years.

Familiarity does not guarantee safety.
Never leave a baby or young child alone with someone unless absolutely necessary. Know where your child is, who is around them, and who has access to them.
For older children, teach body safety and appropriate boundaries. But remember, teaching children is not a substitute for adult supervision.

We need to stop worrying about whether our precautions will offend relatives or acquaintances.
A child’s safety comes first.

There are predators within societies, communities and sometimes within trusted circles. We cannot identify them merely by appearance or relationship.

Be vigilant.
Supervise.
Question.
Set boundaries.
Protect your children.

They depend on us for their safety.

LAWSMITHS
Advocates &Legal Consultants

🚨اپنے بچوں کی حفاظت کریں، کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں🚨کراچی میں صرف 18 ماہ کی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور بہیمانہ ...
11/08/2026

🚨اپنے بچوں کی حفاظت کریں، کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں🚨

کراچی میں صرف 18 ماہ کی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کا واقعہ ہر والدین اور پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

18 ماہ کی بچی یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کون قابلِ اعتماد ہے اور کون نہیں۔

وہ کسی درندہ صفت انسان کو پہچان نہیں سکتی۔
وہ غلط لمس کو سمجھ نہیں سکتی۔
وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتی۔
وہ شاید یہ بتانے کے قابل بھی نہ ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔

اس کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری ہم بڑوں پر ہے۔

صرف اس بنیاد پر اپنے بچے کو کسی کے پاس تنہا نہ چھوڑیں کہ وہ رشتہ دار، پڑوسی، خاندانی دوست، گھریلو ملازم، ڈرائیور، استاد یا برسوں سے جانا پہچانا شخص ہے۔جان پہچان حفاظت کی ضمانت نہیں۔خصوصاً شیر خوار اور کم عمر بچوں کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط کریں۔ یہ جاننا والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کا بچہ کہاں ہے، کس کے ساتھ ہے اور کن لوگوں کو اس تک رسائی حاصل ہے۔

بڑے بچوں کو جسمانی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ لمس اور اپنی بات بلاخوف والدین کو بتانے کی تربیت دیں۔ لیکن یہ تربیت والدین کی نگرانی کا متبادل نہیں۔ہمیں یہ سوچنا چھوڑنا ہوگا کہ ہماری احتیاط سے کوئی رشتہ دار یا جاننے والا ناراض ہو جائے گا۔کسی کی ناراضی سے زیادہ اہم آپ کے بچے کی حفاظت ہے۔

معاشرے میں ایسے درندہ صفت لوگ موجود ہیں جو بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں، اور بعض اوقات وہ ہمارے اپنے جاننے والوں اور قابلِ اعتماد سمجھے جانے والے حلقوں میں بھی موجود ہوتے ہیں۔

محتاط رہیں۔
نگرانی کریں۔
حدود مقرر کریں۔
اندھا اعتماد نہ کریں۔
اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔

کیونکہ کم عمر بچے اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتے۔
وہ اپنی حفاظت کے لیے ہم پر منحصر ہیں۔

اگر آپ کو کسی بچے کے ساتھ بدسلوکی یا جنسی استحصال کا شبہ ہو تو خاموش نہ رہیں۔ متعلقہ چائلڈ پروٹیکشن اداروں سے رابطہ کریں اور قانونی مدد حاصل کریں۔

LAWSMITHS
قانونی آگاہی | تحفظِ اطفال | انصاف تک رسائی

پاکستان میں بچوں کا تحفظ، قوانین موجود ہیں، مگر کیا ان پر مؤثر عملدرآمد ہو رہا ہے؟بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظی...
07/08/2026

پاکستان میں بچوں کا تحفظ، قوانین موجود ہیں، مگر کیا ان پر مؤثر عملدرآمد ہو رہا ہے؟

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر میں بچوں سے زیادتی اور تشدد کے 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ان رپورٹ شدہ واقعات میں شامل ہیں:

• بچوں کے جنسی استحصال کے 1,015 واقعات
• اغوا کے 558 واقعات
• لاپتہ بچوں کے 101 واقعات
• کم عمری کی شادی کے 35 واقعات
• 49 شیر خوار بچے سڑکوں کے کنارے لاوارث حالت میں پائے گئے

یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک بچہ ہے جس کی سلامتی، عزت اور بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین بھی موجود ہیں اور ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں۔

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، NCRC، کو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی، متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینے، شکایات کی جانچ اور بچوں کے مؤثر تحفظ کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے کا اہم مینڈیٹ حاصل ہے۔

اسلام آباد میں ICT Child Protection Act, 2018 بچوں کی نگہداشت اور تحفظ کے لیے باقاعدہ قانونی نظام فراہم کرتا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن کے متعلقہ اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی کریں، تشدد، استحصال یا غفلت کی شکایات پر بروقت کارروائی کریں اور متاثرہ بچے کے تحفظ اور بحالی کو یقینی بنائیں۔

اس کے باوجود بچوں کے خلاف جرائم کے مسلسل سامنے آنے والے اعداد و شمار قانون پر عملدرآمد، ادارہ جاتی مداخلت اور فالو اپ کی مؤثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن کا عمل صرف شکایت وصول کرنے، کاغذی کارروائی مکمل کرنے یا بچے کو خاندان کے حوالے کرنے پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں تشدد یا زیادتی کا الزام ہو، وہاں بچے کی سلامتی کا مناسب جائزہ، مؤثر مداخلت اور مسلسل فالو اپ ناگزیر ہے۔

NCRC اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کو زیادہ فعال، قابل رسائی، جوابدہ اور مؤثر بنانا ہوگا۔ ان کا کردار صرف واقعات رپورٹ ہونے کے بعد کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ روک تھام اور عوامی آگاہی بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔

ایک بڑا مسئلہ عوام میں آگاہی کی کمی بھی ہے۔ بہت سے والدین، اساتذہ اور خود بچے آج بھی نہیں جانتے کہ:

• بچوں کے ساتھ کون سا رویہ abuse کے زمرے میں آتا ہے
• زیادتی یا تشدد کی شکایت کہاں اور کیسے کی جائے
• قانون بچے کو کیا تحفظ فراہم کرتا ہے
• بچے کے تحفظ کی ذمہ داری کن اداروں پر عائد ہوتی ہے
• اگر تشدد یا زیادتی کرنے والا خاندان کا فرد یا کوئی جاننے والا ہو تو کیا کیا جائے

آگاہی مہمات کو صرف سیمینارز اور سرکاری تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں اسکولوں، گھروں اور عام آبادی تک پہنچنا چاہیے۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذاتی تحفظ، حدود اور مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی خطرے کی علامات پہچاننے اور بروقت رپورٹ کرنے کی تربیت اور معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

صرف چھ ماہ میں 1,914 رپورٹ شدہ واقعات محض اظہار تشویش نہیں، عملی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، اداروں کی جوابدہی، بروقت مداخلت، مسلسل فالو اپ اور وسیع عوامی آگاہی وقت کی ضرورت ہے۔

قانون بچے کو اسی وقت تحفظ دیتا ہے جب اس پر عملدرآمد ہو۔

ہر بچے کو محفوظ زندگی، عزت اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔

LAWSMITHS
Advocates & Legal Consultants


CHILD PROTECTION IN PAKISTAN: LAWS EXIST, BUT ARE THEY BEING EFFECTIVELY IMPLEMENTED?According to the latest report by c...
07/08/2026

CHILD PROTECTION IN PAKISTAN: LAWS EXIST, BUT ARE THEY BEING EFFECTIVELY IMPLEMENTED?

According to the latest report by child protection NGO Sahil, 1,914 cases of child abuse were reported across Pakistan during the first six months of 2026.

The reported cases included:

• 1,015 cases of child sexual abuse
• 558 cases of abduction
• 101 cases of missing children
• 35 cases of child marriage
• 49 infants found abandoned by the roadside

These are not merely statistics. Behind every number is a child whose safety, dignity and fundamental rights have been violated.

Pakistan has laws and institutions specifically established for the protection of children.

The National Commission on the Rights of Child, NCRC, has an important mandate to monitor violations of children’s rights, examine existing laws and policies, inquire into complaints and advocate for effective protection of children.

In Islamabad, the ICT Child Protection Act, 2018 provides a legal framework for the protection of children in need of care and protection. The child protection system is expected to identify children at risk, respond to cases of abuse and neglect, ensure their safety, and facilitate their protection and rehabilitation.

Yet the continuing number of cases raises serious questions about the effectiveness of implementation, intervention and follow up.

Child protection cannot end with receiving a complaint, completing paperwork, or simply returning a child to his or her family. Where abuse or violence is alleged, there must be a proper assessment of the child’s safety, effective intervention and meaningful follow up.

NCRC and child protection institutions must be more visible, accessible, responsive and accountable. Their role must extend beyond reacting to reported cases. Prevention and public awareness must become a priority.

A major concern is the lack of awareness among the public. Many parents, teachers and children still do not know:

• What constitutes child abuse
• How and where abuse should be reported
• What legal protection is available
• Which institutions are responsible for protecting a child
• What to do when the alleged abuser is a family member or someone known to the child

Awareness campaigns must reach schools, homes and communities. Children should receive age appropriate education about personal safety, boundaries and how to seek help. Parents and teachers must know how to recognise warning signs and where to report concerns.

1,914 reported cases in only six months demand more than expressions of concern.

We need effective implementation of existing laws, stronger institutional accountability, timely intervention, proper follow up and widespread public awareness.
A law protects a child only when it is implemented.
Every child has the right to safety, dignity and protection.
If you, your child, or someone you know has experienced child abuse, violence or exploitation, contact LAWSMITHS for confidential legal guidance and assistance.

LAWSMITHS
Advocates & Legal Consultants

25/06/2026
25/06/2026

ہر چند دن بعد ایک اور معصوم بچہ درندگی کا شکار بن جاتا ہے۔

آخر کب؟
کب ہمارا معاشرہ واقعی مہذب ہوگا؟
کب ہمارے بچے بلا خوف و خطر محفوظ زندگی گزار سکیں گے؟

خاموشی نہیں، انصاف چاہیے۔
ہمارے بچوں کا تحفظ سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔

Address

Office No 38 3rd Floor , E 11 Markaz Islamabad
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 01:00 - 17:00

Telephone

+923008504860

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawsmiths posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lawsmiths:

Shortcuts

Share