14/05/2026
سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔
ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔
پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔
طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔
ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔