𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊

𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 • Islamabad Bar Council
• 𝐅𝐚𝐦𝐢𝐥𝐲 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐢𝐯𝐢𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬
(1)

28/05/2026

21/05/2026

゚ 🫣

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر ...
14/05/2026

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔

پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔

طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔

  am always here for u.⚖️🖋📑
05/05/2026

am always here for u.⚖️🖋📑

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟(سپر داری — Superdari)کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد ...
29/04/2026

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟

(سپر داری — Superdari)
کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد رقم یا کوئی اور قیمتی سامان اپنی تحویل میں لے لیا ہے؟

بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیس چلنے کے دوران بھی آپ قانونی طور پر اپنا سامان واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
اس عمل کو "سپر داری" کہتے ہیں — اور یہ آپ کا قانونی حق ہے۔

📖 قانونی بنیاد
سپر داری کا قانونی اختیار ضابطہ فوجداری 1898 (CrPC) کی دفعہ 516-A میں موجود ہے۔
اس دفعہ کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ضبط شدہ جائیداد کو اس کے اصل مالک یا کسی قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دے — بشرطیکہ وہ اسے محفوظ رکھے اور عدالت کے حکم پر حاضر کرے۔
یہ اختیار مجسٹریٹ اور سیشن عدالت دونوں کو حاصل ہے۔

📌 مکمل 6 مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار

1️⃣ وکیل سے رابطہ کریں
سب سے پہلے کسی مستند وکیل سے مشورہ کریں۔ سپر داری کی درخواست تکنیکی دستاویز ہے — غلط طریقے سے دائر کی جائے تو مسترد ہو سکتی ہے۔

2️⃣ درخواست دائر کریں
متعلقہ مجسٹریٹ عدالت میں باقاعدہ تحریری درخواست جمع کروائیں جس میں درج ہو:
سامان کی مکمل تفصیل
گرفتاری یا ضبطی کی تاریخ اور مقام
FIR نمبر یا مقدمے کا حوالہ
ملکیت کی بنیاد

3️⃣ پولیس رپورٹ طلب ہوگی
عدالت متعلقہ تھانے کو حکم دے گی کہ وہ ضبط شدہ سامان کے بارے میں مکمل رپورٹ پیش کرے، جس میں سامان کی حالت اور موجودہ جگہ کا ذکر ہو۔

4️⃣ ملکیت کا ثبوت پیش کریں
یہ مرحلہ سب سے اہم ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ سامان آپ کا ہے:

🔹 گاڑی کے لیے: رجسٹریشن بک، انشورنس، ٹیکس ٹوکن
🔹 موبائل فون کے لیے: اصل رسید، IMEI نمبر کا ریکارڈ
🔹 نقد رقم کے لیے: بینک ریکارڈ یا قابل اعتماد گواہ
🔹 زیور یا قیمتی اشیاء کے لیے: خریداری کی رسید یا جواہری کا سرٹیفکیٹ
5️⃣ فرانزک رپورٹ (اگر ضروری ہو)
اگر گاڑی کے انجن یا چیسز نمبر میں کسی قسم کی ٹیمپرنگ کا شبہ ہو تو عدالت فرانزک رپورٹ لازمی طلب کرے گی۔ اس کے بغیر سپر داری نہیں ملے گی۔

6️⃣ مچلکہ (Surety Bond) اور سامان کی واپسی
جب عدالت مطمئن ہو جائے تو حکم جاری ہوتا ہے۔ آپ کو ایک ضامن (Surety) پیش کرنا ہوگا جو یہ ضمانت دے کہ سامان عدالت کے حکم پر واپس کیا جائے گا۔ اس کے بعد سامان آپ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

⚠️ اہم قانونی پابندیاں جو ہر شخص کو معلوم ہونی چاہئیں

🔴 فروخت پر مکمل پابندی
سپر داری پر حاصل کیا گیا سامان مقدمے کے حتمی فیصلے تک فروخت، گروی یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

🔴 عدالت میں پیشی لازمی
جب بھی عدالت طلب کرے، آپ کو سامان پیش کرنا ہوگا۔ پیشی سے گریز سپر داری منسوخ کروا سکتا ہے۔

🔴 حالت برقرار رکھنا ضروری
سامان اسی حالت میں رکھنا ہوگا جیسے ملا ہو۔ کوئی تبدیلی یا مرمت عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

🔴 ضامن کی ذمہ داری
اگر سامان پیش نہ کیا جائے تو ضامن (Surety) کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

🔹 کیا سپر داری کیس ختم ہونے سے پہلے مل سکتی ہے؟
جی ہاں۔ سپر داری کا مقصد ہی یہ ہے کہ کیس کے دوران سامان مالک کے پاس رہے۔

🔹 اگر پولیس سپر داری کی مخالفت کرے تو؟
پولیس اپنی رپورٹ میں اعتراض درج کر سکتی ہے لیکن آخری فیصلہ عدالت کا ہوتا ہے۔

🔹 کتنا وقت لگتا ہے؟
عموماً 2 سے 6 ہفتے — لیکن بھرپور دستاویزات ہوں تو جلد فیصلہ ممکن ہے۔

🔹کیا بغیر وکیل کے درخواست دی جا سکتی ہے؟
قانوناً ہاں، لیکن عملاً وکیل کے بغیر درخواست مسترد ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

💡 آخری بات
پاکستان میں ہزاروں لوگ برسوں تک اپنا سامان پولیس کے پاس پڑا رہنے دیتے ہیں — صرف اس لیے کہ انہیں اپنے حقوق کا علم نہیں ہوتا۔
اپنے حقوق جاننا انصاف حاصل کرنے کا پہلا قدم ہے۔

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہتمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدماہم نکتہ:اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غی...
23/04/2026

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
تمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدم
اہم نکتہ:
اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غیر قانونی بنیاد پر ہو
تو اس بنیاد پر ہونے والی تمام بعد ازاں:
رجسٹریاں
خرید و فروخت
انتقالات
قانوناً غیر مؤثر اور کالعدم تصور ہوں گے
عدالتی اصول:
"جب بنیاد ہی غلط ہو تو پورا ڈھانچہ بھی قائم نہیں رہ سکتا"
: 2025 YLR 373

Dower .  حق مہراس مقدمہ میں درخواست گزار خاتون نے فیملی کورٹ میں اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اس نے نان و نفق...
16/04/2026

Dower . حق مہر
اس مقدمہ میں درخواست گزار خاتون نے فیملی کورٹ میں
اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اس نے نان و نفقہ، جہیز کے سامان کی واپسی یا اس کی قیمت اور مؤخر مہر (پانچ تولہ سونا) کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے اس دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب داخل کیا۔ فریقین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں فیملی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کو مقدمہ دائر کرنے کی تاریخ سے "ماہانہ پانچ ہزار روپے" نان و نفقہ دینے کا حکم دیا اور مؤخر مہر کی ادائیگی بھی منظور کر لی، تاہم جہیز کے سامان کا دعویٰ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔بعد ازاں دونوں فریقین نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ اپیلیٹ عدالت نے نان و نفقہ کے حکم کو برقرار رکھا لیکن جہیز کے سامان کے بارے میں جزوی طور پر دعویٰ منظور کرتے ہوئے "ڈھائی لاکھ روپے" بطور "متبادل قیمت" دینے کا حکم دیا، جبکہ مؤخر مہر کا دعویٰ یہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ مؤخر مہر عام طور پر طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد قابلِ ادائیگی ہوتا ہے۔

ہائیکورٹ نے مقدمہ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ نان و نفقہ کے تعین کے بارے میں نچلی عدالتوں کا فیصلہ شوہر کی مالی حیثیت اور بیوی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ جہیز کے سامان کے حوالے سے بھی اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا کیونکہ معاشرتی رواج کے مطابق والدین اپنی بیٹی کو شادی کے وقت جہیز دیتے ہیں، اس لیے عدالت نے قرائن کی بنیاد پر جزوی طور پر دعویٰ منظور کیا۔

تاہم مؤخر مہر کے مسئلے پر عدالت نے تفصیلی قانونی بحث کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی فقہ میں اس بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں: ایک رائے کے مطابق مؤخر مہر صرف طلاق یا وفات کے بعد واجب الادا ہوتا ہے، جبکہ دوسری رائے کے مطابق بیوی کے مطالبہ پر شادی کے دوران بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 10 کے مطابق اگر نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا وقت یا طریقہ واضح طور پر درج نہ ہو تو پورا مہر مطالبہ پر قابلِ ادائیگی سمجھا جائے گا۔ چونکہ اس مقدمہ کے نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کو کسی مخصوص وقت، طلاق یا وفات کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا تھا، اس لیے بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ شادی برقرار ہونے کے باوجود بھی مؤخر مہر کا مطالبہ کرے۔

اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے قانون کو درست طور پر لاگو کرتے ہوئے مؤخر مہر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اس فیصلے کو کالعدم کیا۔ لہٰذا ہائیکورٹ نے آئینی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو اس حد تک کالعدم قرار دیا اور فیملی کورٹ کا مؤخر مہر کے متعلق حکم بحال کر دیا۔

قانونی اصول: اگر نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص وقت یا شرط مقرر نہ کی گئی ہو تو دفعہ 10 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت وہ مہر بیوی کے مطالبہ پر فوراً قابلِ ادائیگی ہوگا، خواہ ازدواجی تعلق برقرار ہی کیوں نہ ہو۔.

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب...
14/04/2026

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب انصاف صرف ڈیجیٹل ہوگا!
​ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک تاریخی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے "ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم" (RCMS) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب پنجاب کی تمام ریونیو عدالتوں میں نئے مقدمات کا اندراج صرف اور صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ 15 اپریل 2026 سے کوئی بھی دستی یا مینول درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پروسیس کیا جائے گا۔ سب سے اہم اور سخت ہدایت یہ ہے کہ اب کوئی بھی اپیلٹ کورٹ ایسے کیس کو سرے سے سنے گی ہی نہیں جس کا فیصلہ نچلی عدالت نے RCMS کے ذریعے جنریٹ نہ کیا ہو۔ یہ فیصلہ ریونیو افسران کی من مانیوں کو روکنے اور عدالتی عمل کو مکمل شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا مینول کام کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف سنگین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اب آپ کے زمین کے مقدمات کا پورا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا جسے کوئی غائب یا تبدیل نہیں کر سکے گا۔
​سالہا سال سے ریونیو عدالتوں میں فائلیں گم ہونا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے الزامات ایک عام سی بات بن چکے تھے جس سے سائلین رل جاتے تھے۔ سائلین کو اپنے کیس کی اگلی تاریخ یا فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اسی فرسودہ نظام اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد مقدمات کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ یہ نوٹیفکیشن ان تمام عناصر کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے جو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے غریب سائلین کا حق مارتے تھے۔ اب پنجاب بھر کا ریونیو نظام ایک نئے، تیز رفتار اور شفاف ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
​لازمی ڈیجیٹل اندراج: 15 اپریل 2026 کے بعد تمام نئے ریونیو کیسز کا اندراج صرف RCMS کے ذریعے ہوگا۔
​مینول سسٹم کا خاتمہ: ہاتھ سے لکھی درخواستوں یا پرانی فائلوں پر اب کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
​اپیل پر پابندی: اگر نچلی عدالت کا فیصلہ ڈیجیٹل سسٹم سے جاری نہیں ہوا، تو اسے کسی بھی اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
​افسران کی جوابدہی: پنجاب بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز اس نئے ڈیجیٹل سسٹم پر عملدرآمد کروانے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔
​اس انقلابی تبدیلی سے عام شہری کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ "پٹواری کلچر" اور عدالتی عملے کے غیر ضروری اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ آپ کا کیس اب کسی اندھیرے کمرے میں فائلوں کے ڈھیر تلے نہیں دبے گا، بلکہ آن لائن مانیٹرنگ کی وجہ سے متعلقہ افسران مقررہ وقت پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
​نظام کی ڈیجیٹلائزیشن تو خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے دور دراز تحصیلوں میں بیٹھا عملہ اس پیچیدہ سسٹم کو چلانے کی مکمل تربیت رکھتا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیکنالوجی کے نام پر سائلین کو نئے طریقے سے ہراساں کیا جائے؛ ڈیجیٹل سسٹم صرف اسی صورت کامیاب ہوگا جب اس کی مانیٹرنگ بھی اتنی ہی سخت ہو۔

08/04/2026

حکومتِ پاکستان نے پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم قانون منظور کیا ہے، جسے 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
🔹 اس ترمیم کے تحت:
دفعہ 5 میں لفظ "والد" (Father) کو تبدیل کر کے "والدین" (Parent) کر دیا گیا ہے۔
چنانچہ اب وہ تمام افراد، جن کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو، انہیں پاکستانی شہریت کا حقدار تسلیم کیا جائے گا، خواہ ان کی تاریخِ پیدائش کچھ بھی ہو۔
🔹 پس منظر:
متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن میں پاسپورٹ کی درخواستیں اس بنیاد پر مؤخر یا مسترد کی گئیں کہ درخواست دہندگان کے والد غیر ملکی تھے، حالانکہ ان کے پاس نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔
🔹 عدالتی نظائر:
پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے معزز فیصلوں میں یہ قرار دیا گیا کہ سنہ 2000 کی ترمیم کو ماضی سے مؤثر (Retrospective Effect) سمجھا جائے، تاکہ ایسے افراد کو بھی شہریت کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
🔹 ترمیم کا مقصد:
✔ شہریت کے حصول میں قانونی وضاحت پیدا کرنا
✔ متاثرہ افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی
✔ پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سہولت پیدا کرنا

یہ ترمیم انصاف اور مساوات کے اصولوں کے عین مطابق ایک اہم پیش رفت ہے۔

Address

District Courts
Hassan Abdal
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 12:00
Tuesday 09:00 - 12:00
Wednesday 09:00 - 12:00
Thursday 09:00 - 12:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 12:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share