Legal Point

Legal Point "Elevating justice with precision – Legal Point (Law Firm), where expertise meets excellence."
(10)

25/08/2026

ربیع الاول آیا تو دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پھر سے جگانے کا وقت ہے۔ 🌙🤍

یہ بابرکت مہینہ ہمیں صرف خوشی اور عقیدت کا اظہار ہی نہیں، بلکہ سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں؛ اس کی اصل پہچان ہمارے اخلاق، معاملات، سچائی، امانت داری، نرمی اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک میں نظر آنی چاہیے۔

آئیے اس ربیع الاول میں زیادہ سے زیادہ درود و سلام پڑھیں، سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں، اپنے کردار اور رویوں میں بہتری لائیں اور اپنے اردگرد محبت، رحمت اور بھلائی کو فروغ دیں۔ 🌹

اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

May this blessed month of Rabi ul Awwal inspire us to turn our love for Prophet Muhammad ﷺ into action — through kindness, honesty, compassion, good character, and following the teachings of Seerat-un-Nabi ﷺ.

اپنی دعاؤں میں Legal Point کو بھی یاد رکھیے گا۔ 🤲

🌙 عید میلاد النبی ﷺ مبارکربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں، بلکہ رحمت، عدل، انصاف، برداشت اور انسانیت کے اُن اصولوں...
25/08/2026

🌙 عید میلاد النبی ﷺ مبارک

ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں، بلکہ رحمت، عدل، انصاف، برداشت اور انسانیت کے اُن اصولوں کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا بنیادی حصہ ہیں۔

آئیے اس بابرکت موقع پر عہد کریں کہ ہم اپنے معاملات میں انصاف کو ترجیح دیں گے، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے اور اپنے معاشرے میں امن و خیر کے
فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

Legal Point Advocates & Consultants کی جانب سے آپ سب کو
🌙 عید میلاد النبی ﷺ مبارک ہو۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
🌹🌹🌹🌹🌹 🌙 ۔

کیا صرف وردی دیکھ کر فیصلہ سنا دینا بھی ایک قسم کی ذہنی پروگرامنگ ہے؟ایک مخصوص طبقے کا مائنڈ سیٹ شاید اس حد تک بن چکا ہے...
25/08/2026

کیا صرف وردی دیکھ کر فیصلہ سنا دینا بھی ایک قسم کی ذہنی پروگرامنگ ہے؟

ایک مخصوص طبقے کا مائنڈ سیٹ شاید اس حد تک بن چکا ہے کہ وردی والا جہاں بھی نظر آئے، پہلے الزام لگاؤ، پھر ویڈیو کا آخری دس سیکنڈ دکھاؤ، اور سچ سامنے آنے تک جھوٹ کو اتنی تیزی سے پھیلا دو کہ وہ بہت دور جا چکا ہو۔

24 اگست کو سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں جو کچھ ہوا، وہ یقیناً قابلِ تشویش ہے۔ طلبہ کا احتجاج، انتظامی تنازع، تلخ کلامی، پھر جسمانی تصادم اور آخر میں پستول اور دو ہوائی فائرنگ—یہ سب سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔

لیکن بطور وکیل میرا سوال جذباتی نہیں، قانونی ہے۔

جب اس افسر نے پستول نکالی، کیا اس لمحے اسے اپنی جان یا جسم کو سنگین نقصان پہنچنے کا معقول خدشہ تھا؟

پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 96 سے 106 حقِ دفاعِ ذات کو تسلیم کرتی ہیں۔ دفعہ 102 کے تحت یہ حق خطرے کے معقول خدشے سے شروع ہو سکتا ہے اور خطرہ برقرار رہنے تک جاری رہ سکتا ہے۔ جبکہ دفعہ 99 واضح کرتی ہے کہ دفاع کے نام پر ضرورت سے زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

لہٰذا اگر مکمل شواہد سے ثابت ہو کہ افسر کو ہجوم نے گھیر لیا، جسمانی حملہ ہوا اور اسے واقعی سنگین خطرہ لاحق تھا، تو حقِ دفاع کا مؤقف قانونی طور پر ضرور زیرِ غور آئے گا۔

لیکن یاد رکھیے:

حقِ دفاع، انتقام کا لائسنس نہیں۔

خطرہ ختم ہونے کے بعد طاقت یا فائرنگ جاری رہے تو معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔

اور یہ بات دونوں طرف لاگو ہوتی ہے:

نہ وردی قانون سے اوپر ہے، نہ ہجوم قانون سے باہر۔

اس لیے فیصلہ صرف وائرل کلپ، سیاسی وابستگی یا وردی دیکھ کر نہ کریں۔

مکمل ویڈیو، گواہان، میڈیکل شواہد اور اس لمحے کے اصل حالات فیصلہ کریں گے کہ وہاں دفاع تھا یا زیادتی۔

میں جاوید خان، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، لیگل پوائنٹ سے۔

قانون جذبات سے نہیں، شواہد سے فیصلہ کرتا ہے۔

#اسلامآباد #قانون

24/08/2026

"خاتون کمانڈو تو نہیں؟" اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسی سماعت کہ جج بھی ہنسی نہ روک سکے 😂⚖️

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں ایسا منظر دیکھنے میں آیا کہ وکلاء، حاضرین اور خود جسٹس صاحب بھی اپنی ہنسی نہ روک سکے۔

معاملہ کچھ یوں تھا: ایک سابق نیوی افسر نے ضمانت کی درخواست دائر کی، جس کا مؤقف تھا کہ اس کی بیگم نے اسے تین بار زخمی کیا — جس کے نشانات موجود، ہسپتال کی فائل بھی اور CCTV فوٹیج بھی۔ جیسے ہی وکیل نے دلائل شروع کیے، پوری عدالت ہنسی سے گونج اٹھی۔ جسٹس خادم حسین نے خود تسلیم کیا کہ جب وکیل خود ہنس رہا ہے تو وہ کیسے ہنسی روکیں۔ سب سے دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب معلوم ہوا کہ خاتون فلسفے میں پی ایچ ڈی ہیں، اور ان کے وکیل کا دلیل تھا کہ "عورت گھر کی لارڈشپ ہے، مار سکتی ہے۔"

مذاق اپنی جگہ، لیکن ایڈووکیٹ جاوید خان ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں: اگر یہی معاملہ الٹ ہوتا اور متاثرہ عورت ہوتی، تو کیا ہم اسی طرح ہنستے؟ یقیناً نہیں — فوراً اسے ڈومیسٹک وائلنس اور خواتین کے حقوق کا سنگین مسئلہ قرار دیا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ جب متاثرہ ایک مرد ہو تو ہماری حساسیت کہاں چلی جاتی ہے؟ تشدد تشدد ہوتا ہے، چاہے مرد پر ہو یا عورت پر — عدالت مذاق کی نہیں، انصاف کی جگہ ہے۔ فیصلہ فی الحال محفوظ کر لیا گیا ہے۔

This Islamabad High Court hearing went viral for its lighter moments, but raises a serious point: domestic violence and physical abuse deserve equal seriousness regardless of the victim's gender. Advocate Javaid Khan reflects on why society's sensitivity toward abuse often disappears when the victim is a man.

📌 اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں

22/08/2026

پولیس نے FIR درج کرنے سے انکار کر دیا؟ انصاف کا راستہ بند نہیں ہوا! ⚖️🚨

اگر آپ کسی جرم کی شکایت لے کر تھانے جائیں اور پولیس FIR درج کرنے سے انکار کر دے، تو بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب انصاف کا دروازہ بند ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون آپ کو اس صورتحال میں بھی متبادل قانونی راستہ فراہم کرتا ہے۔

اگر آپ کی درخواست میں قابلِ دست اندازی جرم (Cognizable Offense) شامل ہے اور اس کے باوجود پولیس FIR درج نہیں کرتی، تو سب سے پہلے متعلقہ DPO، CPO یا دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہاں بھی شنوائی نہ ہو، تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-A کے تحت جسٹس آف پیس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک اہم قانونی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: جسٹس آف پیس خود مقدمے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ اس کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ بظاہر کوئی قابلِ دست اندازی جرم بنتا ہے یا نہیں۔ اگر قانون کے مطابق ضروری ہو تو جسٹس آف پیس پولیس کو FIR درج کرنے یا مناسب کارروائی کا حکم جاری کر سکتا ہے۔

یہ معلومات ہر اس شہری کے لیے نہایت اہم ہے جسے کبھی تھانے میں FIR درج کروانے میں رکاوٹ کا سامنا ہوا ہو یا مستقبل میں ہو سکتا ہے — اپنے حقوق جانیں، درست قانونی فورم سے رجوع کریں، اور قانون کے مطابق اپنا حق حاصل کریں۔

If police refuse to register an FIR despite a cognizable offense being disclosed, Pakistani law provides a clear remedy. After approaching senior police officials like the DPO or CPO, an aggrieved person can move an application before the Justice of Peace under Section 22-A of the Code of Criminal Procedure. The Justice of Peace does not decide the case itself — it only examines whether a cognizable offense is prima facie made out, and can direct police to register the FIR or take appropriate action accordingly. Essential legal awareness for anyone who has faced difficulty getting an FIR registered in Pakistan.

📌 مزید قانونی رہنمائی کے لیے لیگل پوائنٹ سے رابطہ کریں
📞 0333 7703712 | 🌐 legalpoint.pk

21/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے لیے صرف 1% ٹیکس والی اسکیم بھی موجود ہے؟ 🏪⚖️

اس اسکیم کے تحت ایسے چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز جن کی سالانہ سیلز 2 کروڑ روپے تک ہے، اپنی declared annual sales پر 1% ٹیکس ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس میں ایک اہم شرط بھی ہے کہ کم از کم سالانہ ٹیکس 25,000 روپے ہوگا۔

اور سب سے اہم سہولت؟

پی او ایس مشین کی شرط نہیں۔ یعنی اس اسکیم کے تحت آنے والے اہل چھوٹے ریٹیلرز کے لیے
POS integration کی پابندی نہیں رکھی گئی۔

مثلاً اگر کسی اہل دکاندار کی سالانہ declared sales 50 لاکھ روپے ہوں تو 1% کے حساب سے ٹیکس 50,000 روپے بنتا ہے۔ جبکہ کم از کم ٹیکس کی حد 25,000 روپے ہے۔

لیکن یاد رکھیں: صرف دکاندار ہونا اس اسکیم کے لیے کافی نہیں؛ eligibility، declared sales اور متعلقہ قانونی شرائط کو دیکھنا ضروری ہے۔

اگر آپ دکاندار، retailer یا چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں تو یہ اسکیم آپ کے لیے ٹیکس compliance کو آسان بنا سکتی ہے۔

💬 آپ کے کاروبار کی سالانہ سیلز کتنی ہیں؟ کیا 1% ٹیکس والی یہ اسکیم آپ کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے؟

مزید Tax & Legal Updates کے لیے Legal Point کو Follow کریں۔

Pakistan’s 1% tax scheme for small retailers and shopkeepers can provide a simplified tax compliance option for eligible businesses with annual sales up to PKR 20 million. The scheme provides for tax based on declared annual sales, subject to a minimum annual tax of PKR 25,000, with no POS machine requirement for eligible retailers. This video explains the small retailer tax scheme, 1% retailer tax, shopkeeper tax in Pakistan, retail business tax, POS exemption and tax compliance for small businesses.

19/08/2026

کیا نکاح کے وقت جہیز کی لسٹ بنانا صرف ایک رسم ہے؟ نہیں، اس کے پیچھے قانونی تقاضے بھی موجود ہیں۔ ⚖️

پاکستانی قانون کے تحت Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 میں جہیز، بری اور شادی کے تحائف کی فہرست سے متعلق قانونی تقاضے موجود ہیں، اور متعلقہ فہرست نکاح رجسٹرار کو فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی قانون میں بیان کی گئی ہے۔ اس قانونی تقاضے کو نظر انداز کرنے پر سزا اور جرمانے کی قانونی گنجائش بھی موجود ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم قانونی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے: اگر کسی وجہ سے جہیز کی مقررہ فہرست نکاح رجسٹرار کو فراہم نہ کی گئی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی کا جہیز کی واپسی کا دعویٰ ہر صورت میں ختم ہو جاتا ہے۔ قانونی کمپلائنس کا مسئلہ الگ ہے، جبکہ جہیز کی ملکیت اور اس کی واپسی کا دعویٰ الگ قانونی معاملہ ہے۔ عدالت دستیاب شہادت، رسیدوں، تصاویر، دیگر ریکارڈ اور مقدمے کے مجموعی حقائق کو دیکھ سکتی ہے۔

اس لیے شادی کے وقت جہیز اور بری کے اہم سامان کی باقاعدہ فہرست بنائیں، جہاں ممکن ہو اشیاء کی قیمت اور تفصیل درج کریں، رسیدیں، تصاویر اور دیگر ثبوت محفوظ رکھیں اور نکاح رجسٹرار سے متعلقہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بارے میں تصدیق ضرور حاصل کریں۔

💬 کیا آپ کے خیال میں نکاح کے وقت جہیز کی قانونی فہرست لازمی ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں بتائیں۔

⚖️ اپنا قانونی حق، Legal Point کے ساتھ جان کر جئیں۔

Know your legal rights regarding dowry, bridal gifts and Nikah registration in Pakistan. The Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 provides legal requirements concerning the documentation of dowry, bridal gifts and presents. However, failure to provide the prescribed list does not automatically eliminate every claim for recovery of dowry articles. Family Courts may consider available evidence, receipts, photographs and the overall facts of the case. Proper documentation at the time of marriage can therefore become extremely important in future family disputes.

Follow Legal Point for more legal awareness about Pakistan Family Law, Dowry Recovery, Women's Rights, Marriage Law, Nikah Registration and Family Court cases.

18/08/2026

سیکورٹی چیک دیا اور بینک سے واپس ہو گیا — کیا یہ جرم ہے؟

Is a bounced security cheque automatically a crime? The Supreme Court of Pakistan draws a clear line between a security/guarantee cheque and a payment cheque under Section 489-F.

🎥 Full case breakdown: https://youtu.be/aF8PdmdzXn8

🔔 Follow Legal Point for more legal awareness content in Urdu

17/08/2026

کیا آپ کی کمپنی SECP پر رجسٹرڈ ہے؟ یہ قانونی ذمہ داری نظر انداز نہ کریں!

اگر آپ کی کمپنی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) پر رجسٹرڈ ہے، تو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ کمپلائنس آپ کی لازمی قانونی ذمہ داری ہے۔

قانون کے مطابق ہر کمپنی کو اپنی اینوئل جنرل میٹنگ (AGM) مقررہ وقت میں منعقد کرنا ضروری ہے — عام طور پر مالی سال کے اختتام کے چار ماہ کے اندر۔ AGM کے بعد کمپنی پر لازم ہے کہ وہ اپنی سالانہ رپورٹنگ 30 دن کے اندر SECP میں جمع کروائے، جس میں بنیادی طور پر دو اہم فائلنگز شامل ہیں:

فارم A — یہ کمپنی کا سالانہ ریٹرن ہے، جو کمپنیز ایکٹ 2017 کی سیکشن 130 کے تحت لازمی ہے۔ اس میں کمپنی کے ڈائریکٹرز، ممبران، شیئر کیپیٹل اور رجسٹرڈ آفس سے متعلق مکمل تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔

فارم 9 (پہلے فارم 29 کہلاتا تھا) — یہ اس وقت فائل کیا جاتا ہے جب کمپنی کے ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو، یا آڈیٹرز میں کوئی تبدیلی واقع ہو۔ یہ تبدیلی کی تاریخ سے 15 دن کے اندر فائل کرنا لازمی ہے۔

اگر کمپنی بروقت کمپلائنس نہ کرے تو اسے جرمانوں، بڑھتی ہوئی پینالٹیز، اور شدید صورت میں SECP کے ریکارڈ سے کمپنی کے نام کے اخراج (Strike Off) جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل نان کمپلائنس کی صورت میں کمپنی کے ڈائریکٹرز ذاتی طور پر بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔

📌 اپنی کمپنی کی اینوئل کمپلائنس آج ہی مکمل کروائیں — لیگل پوائنٹ کی کارپوریٹ اینڈ لیگل ٹیم سے رابطہ کریں اور تمام فائلنگز بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کروائیں۔

Under the Companies Act 2017, every SECP-registered company must hold its Annual General Meeting (AGM) on time and file its annual statutory returns — primarily Form A (annual return under Section 130, covering directors, members, and share capital) and Form 9, formerly Form 29 (reporting changes in directors, CEO, or auditors within 15 days) — within 30 days of the AGM. Non-compliance results in escalating penalties and, in serious cases, the company being struck off the SECP register, with directors potentially held personally liable. Legal Point's corporate and legal team helps companies complete their annual SECP compliance accurately and on time.

📌 مزید معلومات اور فوری مشاورت کے لیے ابھی رابطہ کریں
📞 0333 7703712 | 🌐 legalpoint.pk


Address

Office No. 112, Madina Arcade, Street No. 110, G-13/1
Islamabad
43701

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share