Nazakat Hussain Abbasi Advocate

Nazakat Hussain Abbasi Advocate Lawyer and Law Firm
(46)

پشاور ہائی کورٹ کے معزز فورم پر مہاجرین کے بنیاد قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا محض ایک پیشہ ورانہ...
27/08/2026

پشاور ہائی کورٹ کے معزز فورم پر مہاجرین کے بنیاد قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں، بلکہ انصاف کے تقاضوں کی پاسداری ہے۔ بطور وکیل، میرا عزم ہے کہ قانون کی بالادستی، آئینی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے لیے اپنی آواز اور قلم کو بروئے کار لاتا رہوں۔

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد واقعہوردی، اسلحہ اور قانون — کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟آئیے اس واقعے کو جذبات نہیں، قانون ک...
25/08/2026

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد واقعہ

وردی، اسلحہ اور قانون — کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟

آئیے اس واقعے کو جذبات نہیں، قانون کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

کسی بھی ریاست میں وردی اختیار، ذمہ داری اور قانون کی پابندی کی علامت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص سرکاری یا فوجی حیثیت، وردی یا اسلحے کو کسی تعلیمی ادارے میں خوف و ہراس پیدا کرنے، رعب جمانے یا قانون شکنی کے لیے استعمال کرے تو معاملہ محض ایک شخص کے طرزِ عمل تک محدود نہیں رہتا بلکہ قانون، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی تحفظ کے سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

⚖️ 1۔ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965

Pakistan Arms Ordinance, 1965 کی دفعہ 11-B وفاقی یا صوبائی حکومت کو اختیار دیتی ہے کہ مخصوص مقامات، اوقات یا مواقع پر اسلحہ رکھنے، لے جانے یا نمائش پر پابندی عائد کرے۔ اس دفعہ میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے احاطے میں اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کرنے کا اختیار شامل ہے۔

لہٰذا محض اسلحے کا لائسنس موجود ہونا ہر جگہ اسلحہ لے جانے کی مطلق اجازت نہیں بن جاتا۔ کسی تعلیمی ادارے میں اسلحہ رکھنے یا لے جانے کی قانونی حیثیت متعلقہ حکومتی حکم، ادارے کے قواعد اور حالاتِ واقعہ کے مطابق طے ہوگی۔

⚖️ 2۔ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 — فوجی نظم و ضبط

Pakistan Army Act, 1952 میں مختلف نوعیت کے فوجی جرائم اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے لیے الگ الگ دفعات موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 42 “Illegal gratification” سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 55 “Violation of good order and discipline” سے متعلق ہے۔ اس لیے کسی واقعے میں فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا سوال ہو تو متعلقہ شق کا تعین اصل حقائق اور افسر کی حیثیت کے مطابق کیا جائے گا۔

⚖️ 3۔ اگر سویلین قانون بھی ٹوٹا ہو؟

Pakistan Army Act کی دفعہ 59 “Civil offences” اس امر سے متعلق ہے کہ Act کے تابع شخص کی جانب سے کیا جانے والا کوئی ایسا فعل جو سول قانون کے تحت جرم ہو، مخصوص قانونی شرائط کے تحت Army Act کے تحت بھی قابلِ کارروائی بن سکتا ہے۔

یعنی اگر کسی فوجی اہلکار کے خلاف واقعے کے شواہد سے کوئی ایسا فعل سامنے آئے جو پاکستان پینل کوڈ یا کسی دوسرے نافذ العمل قانون کے تحت جرم بنتا ہو، تو یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ معاملہ کس فورم اور کس قانونی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھے گا۔

⚖️ 4۔ اسلحہ لہرانا اور دھمکی کا معاملہ

پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 506 مجرمانہ دھمکی (Criminal Intimidation) کی سزا سے متعلق ہے۔ تاہم اس دفعہ کا اطلاق محض اسلحہ دکھائی دینے سے خودکار طور پر نہیں ہوتا؛ دھمکی، نیت، الفاظ، حالات اور دستیاب شواہد بھی اہم ہوتے ہیں۔

اسی طرح دفعہ 337-H ایسے فعل سے متعلق ہے جس میں رش یا غفلت سے انسانی جان یا ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ لہٰذا فائرنگ کے واقعے میں اصل نوعیت، سمت، مقصد، نقصان اور حالات کی بنیاد پر متعلقہ فوجداری دفعات کا تعین کیا جائے گا۔

سوال صرف یہ نہیں کہ فائرنگ کس نے کی؟

اصل سوال یہ بھی ہے:

کیا تعلیمی ادارہ کسی بھی شخص کے لیے اسلحہ لے کر آنے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی جگہ ہے؟

کیا وردی قانون سے بالاتر ہونے کا استحقاق ہے؟

کیا سرکاری حیثیت کا مطلب یہ ہے کہ سویلین ادارے میں قانون کے عمومی تقاضے نظر انداز کیے جا سکتے ہیں؟

اور سب سے بڑھ کر:

اگر ایک عام شہری یہی حرکت کرے تو کیا اس کے خلاف بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے گا؟

قانون کی اصل روح یہی ہے کہ اختیار جتنا بڑا ہو، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔

اگر سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کے متعلق سامنے آنے والے شواہد درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی فرد کے فعل کو پورے ادارے، پوری فوج یا کسی وسیع طبقے سے منسوب کرنا بھی درست نہیں؛ ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہونی چاہیے جس کا فعل ثابت ہو۔

وردی کا احترام اپنی جگہ، مگر قانون کی بالادستی سب سے مقدم ہے۔

تحقیق و تحریر

نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ

13/08/2026
مری پولیس کی جانب سے فرض شناسی، دیانتداری اور احتساب کی روشن مثالڈی پی او مری رضا تنویر سپراکی ہدایات پر مری پولیس قانون...
08/08/2026

مری پولیس کی جانب سے فرض شناسی، دیانتداری اور احتساب کی روشن مثال

ڈی پی او مری رضا تنویر سپراکی ہدایات پر مری پولیس قانون کی بالادستی، شفافیت، میرٹ اور انصاف کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
تھانہ مری میں مقدمہ نمبر 480/26 بجرم دفعہ161ت پ درج کیا گیا۔
حیدر علی عباس ولد تنویر احمد عباسی، سکنہ ڈاکخانہ لارنس کالج، تحصیل و ضلع مری نے مالِ مقدمہ کے عوض محرر چوکی گھوڑا گلی، سردار یاسر عباسی کو 8 ہزار روپے رشوت کی پیشکش کی۔

محررچوکی سردار یاسر عباسی نے فرض شناسی اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رشوت کی پیشکش کو مسترد کیا،
واقعہ کی ویڈیو بطور ثبوت محفوظ کی اور قانونی کارروائی کے لیے پیش کر دی، جس کی بنیاد پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

مری پولیس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ رشوت لینا اور رشوت دینا دونوں قانوناً جرم ہیں۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور میرٹ، شفافیت اور انصاف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا
بحوالہ *ترجمان مری پولیس*





07/08/2026

"Law is not just a profession—it is the foundation of justice, rights, and social transformation. During this insightful podcast, a renowned anchor highlighted that while medicine heals the human body, the legal profession has the power to heal society by protecting justice, equality, and the rule of law.

Adv. Nazakat Hussain Abbasi shared valuable insights on the noble responsibility of lawyers and the vital role they play in shaping a fair and progressive nation."

اسلام آباد کچہری میں ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان سموسے کی پلیٹ کے ساتھ چٹنی نہ ملنے پر شدید لفظی جنگ چھڑ گئی۔ خدشہ ظ...
24/07/2026

اسلام آباد کچہری میں ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان سموسے کی پلیٹ کے ساتھ چٹنی نہ ملنے پر شدید لفظی جنگ چھڑ گئی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت معاملہ نہ سنبھالا گیا تو اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلانا پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکہ نے بھی ثالثی کی پیشکش پر غور شروع کر دیا ہے۔ صدر بار فوری نوٹس لیں، ورنہ معاملہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

19/07/2026

اسلام آباد میں منعقدہ وکلاء کانفرنس سے قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا فکر انگیز خطاب سنا۔ آئین، قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے حوالے سے ان کے خیالات قابلِ توجہ تھے۔

الحمدللہ! آج مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ماشاء اللہ، نہایت خوش اخلاق، باوقار اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ، درازیٔ عمر اور دین و وطن کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ

Nazakat Hussain Abbasi Advocate
18/07/2026

Nazakat Hussain Abbasi Advocate

سردارِ اہلِ قلم، ترجمانِ خاندانِ عباسیہ، سفیرِ حق، جناب سفیر احمد عباسی کی عباسی ویلفیئر ٹرسٹ کے لیگل ہیڈ، جناب نزاکت حس...
08/07/2026

سردارِ اہلِ قلم، ترجمانِ خاندانِ عباسیہ، سفیرِ حق، جناب سفیر احمد عباسی کی عباسی ویلفیئر ٹرسٹ کے لیگل ہیڈ، جناب نزاکت حسین عباسی سے خوشگوار اور نہایت بامقصد ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور، فلاحی سرگرمیوں، قانونی معاملات اور ملت کی خدمت کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں شخصیات نے باہمی تعاون، اتحاد اور عوامی خدمت کے جذبے کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

Address

Office # 3 Allama Iqbal Block F-8 Markaz
Islamabad
40000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazakat Hussain Abbasi Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nazakat Hussain Abbasi Advocate:

Shortcuts

Share