Land Record Disputes Consultancy

Land Record Disputes Consultancy Title Scrutiny and Think Based Solutions.

16/03/2022

Revenue Laws.
List of chapters:

1)Powers/ Jurisdiction
2) Jurisdiction of revenue authority
3) Power of Revenue officer
4) Revisional Powers of Revenue Board
5) Power of board of revenue to remand
6) Revisional Jurisdiction of Revenue Board
7) Power of Review Revenue Board
8) Jurisdiction of Civil Court
9) Decree of Civil Court
10) Powe of Cane Commissioner
11) Jurisdiction of revenue court
12) Mutation
13) Entry of Mutation
14) Exchange mutation
15) Attestation of mutation
16) Mutation Attested on the basis on Power of Attorney
17) Tamleek Mutation
18) Thirty years old mutation
19) Payment of tax and mutation fee
20) Attestation during mutation
21) Determination of validity of mutation
22) Restriction after mutation
23) Pesumption of truth
24) Fraud
25) Allegation of fraud
26) Sanction of mutation-absence of executor
27) Beneficiary
28) Presumption
29) Cancellation of Mutation
30) Sanction of Mutation
31) Limitation
32) Review of Mutation
33) Nature and correctness of mutation
34) Notice
35) Attestation of mutation of inheritance
36) Gift Mutation
37) Value of gift mutation
38) Gift through mutation by unsound person
39) Entries in revenue record
40) Entries in record of rights
41) ONUS to prove
42)Correction of entries
43) Correction of Entry record of rights
44) Rectification of Advease entries in revenue record
45) Disputed entries in revenue record
46) Correction of mistakes
47) Long standing entries
48) Giving effect to decree in revenue record
49) Cancellation of entry
50)Appointment of Lumberdary
51) Principle of Premoganiture
52) Additional Post
53) Conduct of Candidate
54) Religion of Candidate
55) Eligibility
56) Prefrential right
57) Appointed of successor Lumberdar
58) Women Lumberdar
59) Lumberdar for two adjacent village
60) Lumberdar grant
61) Hereditary claik
62) Constitutional Jurisdiction of High Court
63) Partition of Holding
64) Partition of Land more than one Khewal
65) Partition proceedings
66) Affirmation of Partition Private Effected
67) Sanad taqseem
68) Partition of state land
69) Party to suit
70) Joint Land
71) Inherited property
72) Nature and Distribution of Shamlet Deh
73) Demarcation
74) Demarcation of land
75) Order of demarcation
76) Demarcation of Budrries of Urban Property
77) Khasra Girdawari
78) Correction of Girdawari
79) Khasra Girdwari of residential plot
80) Evidentry value of Khasra Girdawari
81) Suits
82) SUIT against government
83) Suit for declaration
84) Suit for Declaration and Permananet injunction
85) Pre-Emption suit
86) Suit for Possession
87) Suit for Possession of Immoveable property
88) Suit for Pussess and Permanent Injunction
89) Miscellaneous
90) Constitutional Application
91) Appeal
92) Appeal and Revision
93)Appeal to board of revenue
94) Execation meney decree
95) Maintenance decree
96) Allotment of Land under temporary Cultivation Lease scheme
97) Ex*****on of declarartory decree
98) Allotment of Land
99) Estoppel
100) Res-judicate
101) Onus of proof
102) Arbitrary Exercise of Power
103) Arrease of Land Revenue
104) Cause of action
105) Sale of Property through Auction
106)Dispossession
107) Sale of mortgaged property
108) Sale of immovable property
109) Grant of Propriety rights to Lessees
110) Evidentry value of parat patwar
111)Report of Patwari
112)Change in shares
113) Right of Prior purchase
114) Delivery of symbolic Possession
115) Theft of trees
116) Registered deed
117) Oral gift
118) Imprisonement in default of fine
119) Auction of state land
120) Service of summons
121) Resumption of tenancy
122) Illegal Possession
123) Fraud
124) Negligence
125)Cancellation of registered power of attorney
126) Lis pendence
127) Joint Agricultural land
128) Co sharer
129) Transaction of sales and gift
130) Presumption
131) Remand of case
132) Cancellation of Allotment
134) Cancellation of Lease
135) Demolishing Sanctioned path
136) Power of review
137) Enrochment
138) Illegal occupant
139) Second Review petition
140) Inheritance
141) Recovery of fine
142) Recovery of government dues
143) Consolidation of holdings
144) Acquisition of land
145) Shamilat deh

09/07/2021

شجرہ نسب



محکمہ مال میں اپنے شجرہ نسب کی تحقیق اور قوم کی تصدیق کا فول پروف طریقہ کار
محکمہ مال میں اپنے شجرہ نسب کی تحقیق کے لئے ہر بندہ اپنے آبائو اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائے۔ یہ آفس ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے۔

متلعقہ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء، 1880 یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں۔1872، 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی۔ ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری، گرداور، چوکیدار، نمبردار، ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گائوں والوں سے تصدیق کی جاتی، اس کے بعد اس کی قوم درج ہوتی۔

یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کر سکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ نائی، موچی، کمہار، ترکھان، لوہار، جولاہا، ملیار، چمیار، ترک، ڈھونڈ، سراڑہ، تیلی، قریشی، سید، اعوان، شیخ، جاٹ، ارائیں، برڑہ، راجپوت، کھٹڑ، گجر، مغل، کرڑال، خٹک، تنولی، عباسی، جدون، دلزاک، ترین، بٹ، وغیرہ اور دیگر بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں اور اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جا کر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں۔ وہی آپ کے پاس آپ کی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا۔

ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا۔

محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل، ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل، رسم و رواج، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں، زراعت پیشہ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض، انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض و ذمہ داریاں، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔

جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں، کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے، دریا، رستے، جنگل، پہاڑ، کھائیاں، مزروعہ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔

ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ، کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے 5 فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز ’’فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔

اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیل دار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔

اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا، جو آج بھی اتنی موثر ہے کہ کوٸی بھی اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کرنے کی کوشش کرے مگر کاغذات مال کا ریکارڈ کسی مصلحت سے کام نہیں لیتا۔ تحصیل یا ضلعی محافظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے، یہ ریکارڈ پردادا کے بھی پردادا کی قوم، کسب اور سماجی حیثیت نکال کر سامنے رکھ دے گا۔

بہرحال یہ موضوع سخن نہیں۔ جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے، ان کے وارثوں کے نام شجرے کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثتی مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے ۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں ۔

شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت جسے جمع بندی کہتے ہیں اور اب اس کا نام رجسٹر حقداران زمین تبدیل ہوا ہے، وجود میں آیا۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام، نمبر کھیوٹ، کھتونی، خسرہ، کیلہ، مربعہ اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوا۔ ہر چار سال بعد اس دوران منظور ہونے والے انتقالات بیعہ، رہن، ہبہ، تبادلہ، وراثت وغیرہ کا عمل کر کے اور گزشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت، کاشت کار کی تبدیلی ، رجسٹر گرداوری کی تبدیلی یا زمین کی قسم کی تبدیلی وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹر حقداران تیار ہوتا ہے اور اس کی ایک نقل ضلعی محافظ خانہ میں داخل ہوتی ہے۔

اس دستاویز کے نئے اندراج کے لئے انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ کار موجود ہے۔ اس کی تیاری میں جہاں حلقہ پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے ،وہاں گرداور اور حلقہ آفیسر ریونیو سو فیصد پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کی صحت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ضابطے کے مطابق افسران مذکور کا متعلقہ گائوں میں جا کر مالکان کی موجودگی میں اس کے اندراج کا پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست جاری کرنا ضروری ہے، جن کی درستی کا پٹواری ذمہ دار ہوتا ہے۔ آخر میں تحصیل دار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ اب یہ غلطیوں سے مبرا ہے۔

رجسٹر حقداران زمین کے ساتھ رجسٹر گرداوری بھی تیار ہوتا ہے، جس میں چار سال کے لئے آٹھ فصلات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ مارچ میں فصل ربیع اور اکتوبر میں فصل خریف مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ موقع پر جا کر پٹواری مالکان و کاشتکاران کی موجودگی میں فصل کاشتہ و نام مالک، حصہ بقدر اراضی اور نام کاشتکار کا اندراج کرتا ہے۔ ہر فصل کے اختتام پر ایک گوشوارہ فصلات برآمدہ تیار کر کے اس کتاب کے آخر میں درج کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے کتنی برآمد ہوئی۔ اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوائی جاتی ہے ، جس سے صوبہ اور ملک کی آئندہ برآمدہ اجناس کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

اس رجسٹر میں نہری اور بارانی علاقوں کی موقع کی مناسبت سے اقسام زمین نہری، ہیل، میرا، رکڑ ، بارانی اول ، بنجر ، کھندر وغیرہ کے علاوہ روہڑ ، بن ، سڑکیں، رستہ جات ، قبرستان ، عمارات اور مساجد وغیرہ بھی تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ رجسٹر ریونیو کی اہم دستاویز ہے اور مطابق قانون اس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر کر کے نتائج تحریر کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

رجسٹر انتقالات میں جائیداد منتقلہ کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس میں نام مالک ، جس کے نام جائیداد منتقل ہوئی، گواہان ، نمبر کھیوٹ ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ حصہ منتقلہ ، زر ثمن ، پٹواری مفصل تحریر کرتا ہے ،گرداور جملہ کوائف تصدیق کرتا ہے اور ریونیو آفیسر (تحصیلدار) بوقت دورہ پتی داران، نمبرداران کی موجودگی میں تصدیق کر کے فیصلہ کرتا ہے ۔ پرت پٹوار پر حکم لکھتا ہے اور پرت سرکار برائے داخلہ تحصیل دفتر ہمراہ لے جاتا ہے۔ کاغذات مال متذکرہ کے علاوہ بھی کئی دستاویزات ہوتی ہیں، جن سے جملہ ریکارڈ آپس میں مطابقت کرتا ہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔

جو کاغذات ہر وقت استعمال میں رہتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ پٹواری کے پاس ایک ’’لال کتاب‘‘ بھی ہوتی ہے، جس میں گائوں کے جملہ کوائف درج ہوتے ہیں جیسے اس گائوں کا کل رقبہ، مزروعہ کاشتہ، غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ، مردم شماری کا اندراج، مال شماری جس میں مویشی ہر قسم اور تعدادی نر، مادہ، مرغیاں ، گدھے، گھوڑے، بیل، گائے، بچھڑے غرض کیا کچھ نہیں ہوتا۔ جس طرح یہ محکمہ بنا اور اس کے قواعد وضوابط بنائے گئے اور متعلقہ اہلکاران و افسران کی ذمہ داریاں مقرر ہوئی تھیں، اگر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو اس سے بہتر نظام زمین کوئی نہیں۔ یہ نظام انگریز کے دور میں بہترین اور 1964-65ء تک نسبتاً بہتر چلتا رہا۔

01/05/2021

Address

Office No. 51, Fatima Jinnah Block, District Courts, F-8 Markaz Islamabad
Islamabad
44220

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Land Record Disputes Consultancy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Land Record Disputes Consultancy:

Share

Category