Syed Imran Haider Sabzwari

Syed Imran Haider Sabzwari Practicing lawyer at Islamabad High Court with an LL.M. in Commercial and Corporate Law from the University of London.

Partner at Cardinal Solicitors Firm, Blue Area, Islamabad. Specializing in litigation, corporate advisory, and legal consultancy.

28/07/2026
26/07/2026
17/07/2026

⚖️ عملِ تقسیم / ونڈا (Partition of Joint Property)
کیا آپ مشترکہ زرعی زمین، وراثتی جائیداد یا دیگر مشترکہ املاک میں اپنا قانونی حصہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
عملِ تقسیم (ونڈا) پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور پنجاب لینڈ ریونیو رولز 1968 کے تحت ایک قانونی کارروائی ہے، جس کے ذریعے ہر شریک کو اس کا علیحدہ اور واضح حصہ دیا جاتا ہے۔
📌 عملِ تقسیم کے عدالتی مراحل
🟢 مرحلہ 1: پہلا آرڈر
✅ درخواستِ تقسیم وصول کی جاتی ہے۔
✅ رجسٹر میں اندراج کیا جاتا ہے۔
✅ تمام شرکاء کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
✅ آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے۔
🟢 مرحلہ 2: دوسرا آرڈر
✅ تمام فریقین عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔
✅ ملکیت اور حصص کی جانچ کی جاتی ہے۔
✅ تحصیلدار / قانون گو / پٹواری سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے۔
🟢 مرحلہ 3: تیسرا آرڈر
✅ پٹواری کی رپورٹ وصول کی جاتی ہے۔
✅ مشترکہ رقبہ، کھاتہ، خسرہ جات اور حصص کی تصدیق کی جاتی ہے۔
✅ موقع کی پیمائش اور Mode of Partition تیار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
🟢 مرحلہ 4: چوتھا آرڈر
✅ نقشہ الف، ب، ج پیش کیا جاتا ہے۔
✅ تمام فریقین کو اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
🟢 مرحلہ 5: پانچواں آرڈر
✅ اعتراضات پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
✅ منظور شدہ نقشہ الف، ب، ج کی منظوری دی جاتی ہے۔
🟢 مرحلہ 6: چھٹا آرڈر
✅ تقسیم کی حتمی منظوری دی جاتی ہے۔
✅ Instrument of Partition (سندِ تقسیم) تیار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
✅ ریکارڈ میں اندراج کر کے کارروائی مکمل کر دی جاتی ہے۔
⚠️ اہم بات: اگر تقسیم کے دوران قانونی یا حقائق سے متعلق کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو متعلقہ فریق قانون کے مطابق اپیل، نظرِ ثانی یا دیگر قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتا ہے۔
کسی قانونی مشورے کے لیے دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں
سید عمران حیدر سبزواری ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
03008039637

15/07/2026

عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر البوسعیدی نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ بیان دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 45 برس سے دنیا کو یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایران خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اسی بنیاد پر خلیجی خطے کو حد سے زیادہ عسکری بنا دیا گیا۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اصل خطرہ تہران سے نہیں بلکہ اسرائیل (تل ابیب) کی بربریت سے آ رہا ہے، اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ ماضی کے جھوٹے پروپیگنڈے اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر مسلم امہ مستقبل کی درست سمت کا تعین کرے۔

Disclaimer: This news update regarding the strategic statement by Oman's Foreign Minister Badr Albusaidi has been sourced from international media for public awareness and information purposes.

16/06/2026

پتہ کی پتھری کے لئے۔

پتہ میں پتھری نہیں ھوتی بلکہ یہ جما ہوا صفرا ھوتا ھے جو جگر کے ٹھنڈا ہونے سے پتہ میں جم جاتا ھے اور پتھری کی شکل اختیار کر لیتا ھے۔ اصل میں یہ پتھری نہیں ھوتی ۔ ڈاکٹر حضرات پتہ نکال باہر کرتے ھیں جو اس کا حل نہیں ھے اللہ پاک نے پتہ انسان کے جسم میں رکھا اور اس کو نکال دینا مسئلہ کا حل نہیں ھے۔ اگر انگلی میں درد ھو تو کیا انگلی کٹوا دینی چاھیئے؟ اس کاعلاج کرنا چاہیے۔۔ میں تحریر زیادہ لمبی نہیں کرنا چاہتا اس کے علاج کی طرف آتے ھیں ۔۔
ھوالشافی۔۔۔
ایک چمچ زیتون کا تیل
ایک چمچ لیموں کا رس
ایک چٹکی سہاگہ بریاں
تمام کو ملا کر صبح نہار منہ کھاو پانی بھی نہیں پینا اور ایک گھنٹہ بعد ناشتہ کرو 15 سے 20 دن بعد ٹسٹ کروا لیں ان شا اللہ جما ھوا صفرا تخم ھو جائے گا ۔۔
درود پاک کثرت سے پڑھیں نماز پڑھیں اللہ مہربان ھو گا۔۔
والسلام
میاں امجد فاروق

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
13/06/2026

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ جَعَلَنٰا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْن بِوِلاٰیَةِاَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْن عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَ...
04/06/2026

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ جَعَلَنٰا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْن بِوِلاٰیَةِ
اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْن عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبْ علیہ السّلام !
حمد اس الله کی جس نے ہمیں ولایت
علیؑ ابن ابی طالبؑ سے متمسک رکھا

ائیرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو FIA حکام بغیر کسی وجہ کے آف لوڈنگ کے اقدام کو عدالت نے آف لوڈنگ کو غیر قانونی، من مانا اور ...
29/05/2026

ائیرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو FIA حکام بغیر کسی وجہ کے آف لوڈنگ کے اقدام کو عدالت نے آف لوڈنگ کو غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا
محمد عباس، جو اپنے دل میں #روشن مستقبل کے #خواب سجائے 31 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح سیالکوٹ انٹرنیشنل #ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے پاس نائجیریا کا #جائز ـویزا، #واپسی کا #کنفرم-ٹکٹ اور تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایئرلائن کے کاؤنٹر سے اسے بورڈنگ کارڈ جاری ہو چکا تھا اور یہاں تک کہ امیگریشن کے عملے نے بھی اس کے پاسپورٹ پر روانگی کی مہر ثبت کر دی تھی
محمد عباس کے قدم جیسے ہی جہاز کی طرف بڑھے، اسے لگا کہ اب وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا پہنچ جائے گا، جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار کرتے تھے اور جن کی دستاویزات عباس نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔وہ پرامید تھا کہ اپنوں کے پاس جا کر وہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے گا، لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ مایوس ہونے والا ہے۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج اچانک سامنے آیا اور اس نے محمد عباس کو روک لیا۔ بغیر کسی واضح وجہ کے، عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔اس پر یہ مبہم سا الزام لگایا گیا کہ وہ نائجیریا جانے کے بہانے دبئی میں ہی رک جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔اس کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک آف لوڈنگ پروفارما تھما دیا گیا جس پر صرف دو لکیریں لکھی تھیں: "ناپائیدار مالی حالات" اور "سفر کا غیر واضح مقصد"۔ عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے، وہ اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے، لیکن امیگریشن حکام نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کروڑوں روپے کے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور مسافروں کے سامنے ہونے والی اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک مسافر کے رکنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کے ایک طاقتور ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اس لامحدود اور بے لگام اختیار کا سوال تھا جو وہ ایئرپورٹس پر استعمال کرتا ہے۔ محمد عباس نے اس ناانصافی کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کر دی۔عدالت عالیہ کے سامنے جب یہ کیس سماعت کے لیے آیا، تو قانون اور انتظامی طاقت کے درمیان ایک بڑا معرکہ شروع ہو گیا۔
عدالت کے کمرے میں سسپنس اس وقت بڑھ گیا جب وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ امیگریشن حکام کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کسی بھی مسافر کی مالی حیثیت اور سفری مقصد کی جانچ پڑتال کریں ، انہوں نے دلیل دی کہ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
دوسری طرف، عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے گرجدار آواز میں کہا کہ ملک کے کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کے سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو عباس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا، نہ ہی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری زیر التوا تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا گیا؟
جسٹس راحیل کامران نے دونوں فریقین کے دلائل کو انتہائی غور سے سنا اور ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ جج نے جب ریمارکس دیے تو FIA کے حکام کے پسینے چھوٹ گئے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ "ناپائیدار مالی حالات" کا فیصلہ کس ترازو میں کیا گیا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کسی رقم کی حد مقرر کر رکھی ہے؟ اگر نہیں، تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟ جج نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہیں کہ جسے جب چاہا، جیسے چاہا گھما دیا، بلکہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں محمد عباس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے FIA کے اس اقدام کو مکمل طور پر غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے نہ صرف عباس کو مستقبل میں تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی، بلکہ اسے یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی اس ذلت اور مالی نقصان کے خلاف دیوانی عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کیس میں جسٹس راحیل کامران نے مستقبل کے لیے ایک تاریخی گائیڈ لائن جاری کر دی، جس کے تحت اب ایئرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے افسر کو تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے، ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی اور اس کی ایک کاپی فوری طور پر مسافر کو فراہم کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسی دوسرے محمد عباس کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال نہ کر سکے۔
سید عمران حیدر سبزواری
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
03008039637

Address

Islamabad High Court
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923008039637

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Imran Haider Sabzwari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Syed Imran Haider Sabzwari:

Shortcuts

Share