Fakhar Abbas Akbar Law House

Call Contact the business

Fakhar Abbas Akbar Law House "Fakhar Abbas Akbar Law House"
Whatsapp #+92 3009135281
A Registered Law Firm
Registration No 32341

14/10/2026

🚨سپریم کورٹ کا سرکاری ملازم کی ترقی کے حق میں اہم فیصلہ🚨سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں سرکاری ملازم کی ترقی ...
14/10/2026

🚨سپریم کورٹ کا سرکاری ملازم کی ترقی کے حق میں اہم فیصلہ🚨

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں سرکاری ملازم کی ترقی واپس لینے کے محکمانہ اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے ترقی کے تمام مالی و دیگر سابقہ فوائد کا حقدار قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ایک ایسے ملازم سے متعلق تھا جو بطور ایلیمنٹری سکول ٹیچر، فزیکل ایجوکیشن محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دے رہا تھا اور اسے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، فزیکل ایجوکیشن، گریڈ 16 کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

بعد ازاں محکمہ تعلیم نے اس کی ترقی کا حکم واپس لے لیا، جس کے خلاف ملازم نے قانونی چارہ جوئی کی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سروس رولز 2014ء کے تحت ایلیمنٹری سکول ٹیچر، فزیکل ایجوکیشن سے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، فزیکل ایجوکیشن کے عہدے پر ترقی کا راستہ موجود ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ قواعد میں موجود ایک وضاحتی نوٹ کو بنیاد بنا کر ملازم کی ترقی کے واضح حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ محکمہ کی جانب سے اس نوٹ کی تشریح کرتے ہوئے ترقی روکنے کا اقدام درست نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ:

انتظامی سہولت قانون کا متبادل نہیں بن سکتی اور قواعد میں موجود ابہام کو کسی ملازم کے جائز حق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ حکومت ایک بڑے سرکاری آجر کی حیثیت سے مثالی آجر کا کردار ادا کرنے کی پابند ہے۔ ملازم کی تنخواہ، سینیارٹی، ترقی اور ریٹائرمنٹ سے متعلق معاملات محض انتظامی نوعیت کے معاملات نہیں بلکہ اس کی پوری ملازمت، مستقبل اور عزت و وقار سے متعلق اہم معاملات ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ جب سروس رولز میں کوئی ابہام پیدا ہو تو اس کا بوجھ ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط کو واضح، مربوط اور قابلِ عمل بنائے۔

سپریم کورٹ کا حتمی حکم

سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور محکمہ کی جانب سے 24 مئی 2023ء کو ملازم کی ترقی واپس لینے کا حکم بھی ختم کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازم اپنی ترقی واپس لیے جانے کی تاریخ سے تمام سابقہ مالی و دیگر جائز فوائد حاصل کرنے کا حقدار ہے۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم اصول واضح کرتا ہے کہ محکمہ اپنے قواعد کی غلط تشریح، انتظامی سہولت یا اپنے پیدا کردہ ابہام کو بنیاد بنا کر کسی ملازم کو اس کے جائز ترقی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی کارروائی کے علم اور قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل کے درمیان واضح فرق ہے، جسے نظرانداز نہ...
12/10/2026

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی کارروائی کے علم اور قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل کے درمیان واضح فرق ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی وکیل عدالت میں صراحتاً یہ بیان دے کہ اسے اپنے مؤکل کی جانب سے پیش ہونے یا کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ہدایات حاصل نہیں ہیں، تو محض اس کی سابقہ پیشی کی بنیاد پر یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنے مؤکل کی طرف سے نوٹس وصول کر لیا ہے، بالخصوص جب عدالتی ریکارڈ میں بعد ازاں ایسی کوئی اجازت یا مؤکل کی نمائندگی میں پیشی موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں جب ٹرائل کورٹ کو معلوم ہو جائے کہ وکیل کے پاس ہدایات نہیں ہیں، تو عدالت کی ذمہ داری ہے کہ فریقین کے خلاف مزید کارروائی سے قبل انہیں قانون میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق نوٹس کی تعمیل یقینی بنائے۔

زیرِ نظر مقدمے میں عدالتی روزنامچے سے ظاہر تھا کہ سابقہ وکیل نے ہدایات نہ ہونے کی بنا پر پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔ ایسے حالات میں ٹرائل کورٹ کو چاہیے تھا کہ درخواست گزاران کو بذاتِ خود نوٹس کی تعمیل کے لیے مناسب قانونی اقدامات کرتی۔ اس کے برعکس متبادل طریقۂ تعمیل اختیار کیا گیا اور بالآخر یک طرفہ فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ چونکہ یہ کارروائی درخواست گزاران کو قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل یقینی بنائے بغیر مکمل کی گئی، اس لیے اسے قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ چنانچہ ایسے عمل کی بنیاد پر صادر ہونے والا فیصلہ اور ڈگری، جس میں فریقین کو مؤثر طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، منسوخی کے مستحق ہیں۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ نوٹس کی تعمیل میں اس نوعیت کی خامی محض ایک معمولی تکنیکی بے قاعدگی نہیں، بلکہ منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی تقاضوں سے متعلق ہے۔ ہر فریق کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے عدالتی کارروائی سے متعلق قانون کے مطابق اطلاع دی جائے اور اپنا دفاع پیش کرنے کا مؤثر موقع فراہم کیا جائے۔ جب عدالتی ریکارڈ ہی قانونی تعمیل کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہو، تو محض اس وجہ سے یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ فریق کو کارروائی کا علم تھا کہ اس کا سابقہ وکیل عدالت میں موجود تھا اور اس نے ہدایات نہ ہونے کا اظہار کیا تھا۔ اصولِ Audi Alteram Partem کا تقاضا ہے کہ کسی شخص کے خلاف منفی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اسے اپنا مؤقف پیش کرنے اور کارروائی میں مؤثر طور پر شریک ہونے کا حقیقی موقع دیا جائے۔

مقدمہ: C.P.L.A. No. 1748/2023
عنوان: Ghulam Mujtaba (deceased) through his L.Rs v. Ghulam Murtaza

بری ہونے کے بعد FIR کیوں؟**لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ****2025 LHC 5162**Abdul Rehman Faryad v Government of Punjab etc...
12/10/2026

بری ہونے کے بعد FIR کیوں؟

**لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ**

**2025 LHC 5162**

Abdul Rehman Faryad v Government of Punjab etc

W.P. No. 40844 of 2025

فیصلہ 18 جولائی 2025

جسٹس Abher Gul Khan

**اصل معاملہ**

درخواست گزار کے خلاف تھانہ نواں کوٹ لاہور میں FIR درج ہوئی تھی بعد ازاں مجسٹریٹ نے دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری کے تحت اسے بری کر دیا

بری ہونے کے بعد جب اس نے برطانیہ جانے کے لیے Police Character Certificate حاصل کیا تو اس میں سابقہ FIR کا ذکر موجود تھا

درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ جب وہ عدالت سے بری ہو چکا ہے تو اس کے Character Certificate میں سابقہ FIR کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے

**عدالت نے کیا قرار دیا**

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ FIR کا ریکارڈ قانونی اور انتظامی مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے لیکن بری ہونے والے شخص کے Character Certificate میں سابقہ FIR کا ایسا حوالہ شامل نہیں کیا جا سکتا جو اس کے خلاف منفی تاثر پیدا کرے

جب کسی شخص کو مجاز عدالت سے بری کر دیا جائے اور بریت کے خلاف کوئی اپیل یا نظرثانی زیر التوا نہ ہو تو پولیس ریکارڈ میں مقدمے کا حتمی نتیجہ درست طور پر ظاہر ہونا چاہیے

**اہم قانونی اصول**

بری ہونے کے بعد FIR کا ریکارڈ محفوظ رہ سکتا ہے لیکن اسے بری شخص کے خلاف مستقل مجرمانہ داغ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا

Character Certificate میں مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت درست طور پر ظاہر ہونا ضروری ہے

عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے تحفظ کے اصول کو بھی اہمیت دی

**حتمی فیصلہ**

لاہور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو ایسا Police Character Certificate جاری کیا جائے جو اس کی درست قانونی حیثیت ظاہر کرے اور متعلقہ FIR کا حوالہ اس سرٹیفکیٹ میں شامل نہ کیا جائے

**عوامی آگاہی**

اگر آپ کسی فوجداری مقدمے میں بری ہو چکے ہیں لیکن آپ کے Police Character Certificate میں سابقہ FIR کی وجہ سے رکاوٹ یا منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے تو اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی رہنمائی حاصل کریں

🔥پنجاب کے قانون انصاف میں بڑا انقلاب: متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) آرڈیننس 2026 نافذ! 🔥حکومتِ پنجاب نے عوام کو سستا، آ...
12/10/2026

🔥پنجاب کے قانون انصاف میں بڑا انقلاب: متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) آرڈیننس 2026 نافذ! 🔥

حکومتِ پنجاب نے عوام کو سستا، آسان اور تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے "دی پنجاب الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولیوشن آرڈیننس 2026" جاری کر دیا ہے۔

اس نئے قانون کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

✨ اہم نکات:

پنجاب متبادل نظامِ حلِ تنازعات اتھارٹی: لاہور میں ایک خودمختار اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو صوبہ بھر میں ADR سینٹرز، تربیت دینے والے اداروں اور سروس پرووائیڈرز کو رجسٹر اور مانیٹر کرے گی۔
تیز رفتار حل: عدالتیں سول اور قابلِ راضی نامہ فوجداری مقدمات کو ADR سینٹرز کے پاس بھیجیں گی، جسے 30 دن (زیادہ سے زیادہ 60 دن) کے اندر حل کرنا لازم ہوگا۔

کون حل کرائے گا؟ فریقین خود، ان کے وکلا، لاہور ہائیکورٹ کے نامزد کردہ مڈی ایٹر ججز، یا رجسٹرڈ ADR سینٹرز۔
خواتین اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سہولت: خواتین کے مقدمات میں خاتون ثالث کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ سمندر پار (اوورسیز) پاکستانی ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں حصہ لے سکیں گے۔
حتمی فیصلہ: فریقین کے درمیان تصفیہ ہوتے ہی عدالت ڈگری جاری کرے گی جو فوری قابلِ عمل ہوگی—اس کے خلاف کوئی اپیل یا طویل مقدمے بازی نہیں ہو سکے گی۔

رازداری کی ضمانت: تمام کارروائی کو مکمل طور پر راز میں رکھا جائے گا۔

📋 شامل مقدمات:

سول تنازعات (شیڈول-1): جائیداد و زمین کے تنازعات، خاندانی و بچوں کی تحویل کے مسائل، وراثت، تجارتی معاہدے، رقم کی وصولی اور حقِ شفع۔

خصوصی تنازعات (شیڈول-2): صارف کے حقوق (کنزیومر پروٹیکشن)، کاپی رائٹ، رینٹ/رہن جائیداد اور پیشہ ورانہ غفلت کے مقدمات۔

یہ آرڈیننس عدالتوں پر بوجھ کم کرنے اور عوام کو دہلیز پر فوری انصاف فراہم کرنے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے!

🔥سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملازمین کے پروفارما پروموشن کے حق میں اہم فیصلہ🔥سپریم کورٹ آف پاکستان نے سول پٹیشن نمبر 428 آف...
11/10/2026

🔥سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملازمین کے پروفارما پروموشن کے حق میں اہم فیصلہ🔥

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سول پٹیشن نمبر 428 آف 2025 میں پاکستان ریلوے کے ملازم کے پروفارما پروموشن کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست خارج کر دی۔

معاملہ یہ تھا کہ ملازم کو ٹرین سپروائزر (BS-11) کے عہدے پر 31.05.2019 سے پروفارما پروموشن دینے کے دعوے پر وفاقی سروس ٹربیونل نے محکمہ کو اس کے کیس پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

محکمہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملازم نے T-7(a) ٹریننگ کورس مکمل نہیں کیا، اس لیے وہ پروموشن کا اہل نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ T-7(a) کورس کی تکمیل ٹرین سپروائزر (BS-11) کے عہدے پر اگلی ترقی کے لیے لازمی شرط نہیں تھی۔ یہ شرط SAT کے عہدے پر ترقی سے متعلق تھی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ملازم کو محکمہ کے اپنے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر لائٹ اور سیڈنٹری ڈیوٹی دی گئی تھی۔ ایسی صورت میں اگر طبی وجوہات کی بنا پر فیلڈ ٹریننگ مکمل نہیں ہو سکی تو اسے ملازم کی جان بوجھ کر کوتاہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمہ پہلے ہی اسی T-7(a) کورس کی بنیاد پر ملازم کو SAT سے JAT کے عہدے پر تنزلی دے چکا تھا، جس اقدام کو وفاقی سروس ٹربیونل نے کالعدم قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی 22.01.2026 کو اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

لہٰذا ایک مرتبہ معاملہ طے ہونے کے بعد محکمہ کو اسی نکتے کو دوبارہ اٹھا کر ملازم کے پروفارما پروموشن کے حق سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محکمہ کسی سینئر ملازم کو، جو بصورتِ دیگر ترقی کا اہل ہو، اپنے جونیئرز کے ساتھ پروفارما پروموشن کے لیے زیرِ غور آنے کے اس کے جائز حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

چنانچہ سپریم کورٹ نے پاکستان ریلوے کی سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

Address

Jaspal Arcade Sector G 8/4
Islamabad
47000

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 18:00

Telephone

+923009135281

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fakhar Abbas Akbar Law House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fakhar Abbas Akbar Law House:

Shortcuts

Share