30/04/2026
امریکی ویزا پالیسی میں تاریخی سختی: نئے انٹرویو قوانین-امریکی حکومت نے خاموشی سے کونسی نئی پالیسی نافذ کر دی ؟
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خاموشی سے ایک ایسی پالیسی نافذ کر دی ہے جس نے بین الاقوامی سفر اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور گارڈین کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، اب امریکہ کا ویزا حاصل کرنا محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سیکیورٹی امتحان بن چکا ہے۔
گارڈین نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک ایسا سرکاری حکم نامہ (Cable) حاصل کیا ہے جو دنیا بھر کے تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیجا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں افسران کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے انٹرویو لینے کے روایتی طریقے کو تبدیل کریں۔ اب کسی بھی درخواست گزار کا انٹرویو تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وہ دو نئے اور انتہائی حساس سوالات کا واضح جواب نہ دے دے۔
امریکی حکومت نے اب ویزا انٹرویو میں درج ذیل دو سوالات کو "لازمی شرط" (Prerequisite) کے طور پر شامل کیا ہے:
پہلا سوال: "کیا آپ کو اپنے ملک یا جہاں آپ مستقل طور پر مقیم رہے ہیں، وہاں کبھی کسی قسم کے جسمانی نقصان، بدسلوکی یا تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے؟"
دوسرا سوال: "کیا آپ کو اپنے ملک واپس جانے کی صورت میں کسی قسم کے نقصان یا ناروا سلوک کا خوف ہے؟"
پالیسی کی شدت: اگر کوئی درخواست گزار ان سوالات کا جواب "ہاں" میں دیتا ہے یا کسی بھی وجہ سے جواب دینے سے کتراتا ہے یا خاموش رہتا ہے، تو قونصلر افسر کے پاس یہ ٹھوس بنیاد ہوگی کہ وہ فوری طور پر ویزا کی درخواست مسترد کر دے۔
فلٹر کر کے ان کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دے گی۔