08/10/2023
اج مجھے اپنے افس میں اس بچے کو دیکھ کر انتہائی خوشی و مسرت ہوئی لیکن کچھ دن قبل یہ تقریبا 18 سال کا لڑکا ہتھکڑیوں میں بندھا ہوا جب عدالت میں پیش کیا گیا مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس کے پاس گیا پوچھنے پر اس بچے نے مجھے بتایا کہ میں ٹو بہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتا ہوں میرے والد دل کے مریض ہیں میں اپنے گھر کا اکیلا کفیل ہوں اس وجہ سے اپنے علاقے سے اتنے دور ہری پور میں حجامت کا کام کر کے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتا ہوں
بچے کی میں نے جب ایف ائی ار دیکھی تو اس پر چار کلو ہیروئن اور 1100 گرام چرس ڈال دی گئی تھی میں نے اس کا سابقہ ریکارڈ دیکھا تو اس پر قبل ازیں کسی بھی قسم کا کوئی بھی مقدمہ درج نہ تھا مزید پوچھنے پر مجھے اس بچے نے بتایا کہ میں کبھی بھی منشیات فروشی کے کام میں ملوث نہ رہا ہوں اور نہ ہی خود پیتا ہوں لیکن اس پر موجود یہ چار کلو ہیروئن ایک بہت ہی بڑا مسئلہ تھا جب میں نے بچے سے ہیروئن کی بابت پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ اج تک نہ تو میں نے ہیروئن دیکھی ہے اور نہ ہی میرے پاس سے کسی بھی قسم کی ہیروئن کی کوئی برامدگی ہوئی ہے۔
اللہ کا نام لے کر میں نے اس بچے کو اس مقدمے میں ضمانت دلوانے کے لیے کوشش شروع کی کہ اگر یہ بچہ زیادہ عرصے تک جیل میں رہتا ہے تو اس کی تربیت اور ائندہ انے والی زندگی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے جس پر بالاخر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس عبدالعزیز صاحب نے طویل بحث مباحثے اور قانونی تکنیکی و واقعاتی دلائل سننے کے بعد اپنا یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس بچے کو فلفور ضمانت پر رہا کیا جائے بدیں وجہ چار کلو ہیروئن اور 1100 گرام چرس کا پرچہ ہونے کے باوجود بچے کو رہا کر دیا گیا
سامعین و حضرات ۔ اپ کے ساتھ یہ بات شیئر کرنے کا محض مقصد یہ ہے کہ کبھی بھی کسی بھی قسم کا کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو اسے اللہ کی طرف سے ازمائش سمجھ کر قبول کرنا چاہیے اور ثابت قدمی کے ساتھ پاکستان کے عدالتی نظام پر یقین رکھتے ہوئے بہترین قانونی معاونت حاصل کریں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ ہمیں عدالتی نظام کچھ دے نہیں سکتا بس ہم سے یہ غلطی ہوتی ہے کہ ہم اس نظام انصاف کو حاصل کرنے میں اپنے ذاتی غلط فیصلوں اور بے یقینیوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ اج اس بچے کا میرے افس میں میرے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عدالتی جنگ کو صحیح طریقے سے لڑا جائے تو بڑے سے بڑے مسئلے سے اسانی سے نکلا جا سکتا ہے
انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ جن بھی لوگوں نے اس بچے کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے وقت انے پر ان کے خلاف بھی قانونی کاروائی کی جائے گی تاکہ ائندہ کسی کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو سکے
محمد ضیا طاہر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
0312 5751393