Al-Rehman Law Associates GRW

Al-Rehman Law Associates GRW We provide legal consultation and extensive legal services in law.

We provide legal consultation and extensive legal services in law, including civil litigations, criminal litigations, family litigations, alternate dispute resolutions (ADR), contract management, services matters, constitution matters, administrative matters and intellectual property right registrations.

پٹواری اب ماسوائے وراثت بیع زبانی انتقال نہیں کر سکتانوٹیفکیشن جاری یہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی جانب سے، مورخہ...
30/12/2025

پٹواری اب ماسوائے وراثت بیع زبانی انتقال نہیں کر سکتا
نوٹیفکیشن جاری
یہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی جانب سے، مورخہ 30 دسمبر 2025، یہ حکم دیتا ہے کہ پنجاب میں زمین کی منتقلی کے بیشتر انتقالات زبانی لین دین کے بجائے باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویز پر مبنی ہونے چاہئیں۔
اہم ہدایات
زبانی لین دین پر پابندی: وراثت کے معاملات کے علاوہ، کوئی بھی انتقال (ملکیت کے ریکارڈ میں تبدیلی) زبانی لین دین، بیان یا دعوے کی بنیاد پر درج یا منظور نہیں کیا جائے گا۔
وراثت کے لیے استثنا: وراثت سے متعلق انتقالات واحد استثنا ہیں اور قانون کے مطابق منظور ہوتے رہیں گے۔
رجسٹریشن کی ضرورت: زمین کے حقوق کی منتقلی، بشمول فروخت، رہن، تبادلہ، اور تحفہ (وراثت کے علاوہ)، ایک ایسی دستاویز پر مبنی ہونی چاہیے جو دی رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور دی ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہو۔
نفاذ اور سزائیں: تمام ریونیو افسران اور اہلکاران کو ان ہدایات پر سختی سے عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فوری نفاذ: یہ نوٹیفکیشن 30 دسمبر 2025 سے فوری طور پر نافذ العمل ہوا۔

"گاڑیوں کے کالے شیشوں کا معاملہ - 25 دسمبر 2025 کی تازہ ترین اپ ڈیٹ۔ ▪️ ڈی آئی جی مسٹر وقاص نذیر، ہیڈ آف ٹریفک پولیس پنج...
29/12/2025

"گاڑیوں کے کالے شیشوں کا معاملہ - 25 دسمبر 2025 کی تازہ ترین اپ ڈیٹ۔
▪️ ڈی آئی جی مسٹر وقاص نذیر، ہیڈ آف ٹریفک پولیس پنجاب کے مطابق۔
▪️"پچھلی مسافروں کی سیٹوں اور پچھلی اسکرین پر فیکٹری OEM نصب ٹنٹ گلاس غیر قانونی نہیں ہے اور ٹریفک قانون کے مطابق اس کی اجازت ہے اور اس اکاؤنٹ پر کوئی چالان نہیں کیا جائے گا"
▪️ ڈی آئی جی مسٹر وقاص نذیر، ہیڈ آف ٹریفک پولیس پنجاب نے اس کا نوٹس لیا ہے اور پنجاب پولیس کے تمام فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اس کی اجازت ہے اور کوئی چالان/جرمانہ نہیں کیا جا سکتا۔

18/12/2025

489F Cheque pre-arrest Bail
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس سے کوئی ریکوری نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ایسے غلط نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہوئے، اس کے غلط نقطہ نظر کی بنیاد پر جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیا-
NLR-2017-Criminal-SC-268

Cheque issue to self would seriously need consideration at a trial . bail allowed. (2014-YLR-640)

(Case Laws)
✨جزوی ادائیگی کی صورت میں مدعی اندراج FIR کا حقدار نہ ہے۔
ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہوئی۔👍 . .2019 PCrLJ 295

✨بینک میں Payment بھی Stop کروانا ضروری ہے محض چیک بک چوری کی رپٹ درج کروانے کی بناء پر 489-F ت پ کیس میں ضمانت منظور نہ ہو گی۔
. . .2013 YLR 626👍

✨اگر ملزم بطور گارنٹی چیک دینا تسلیم کرے تو ضمانت کا حقدار نہ ہو گا۔ . . .2011 YLR 1284👍

✨اگر چیک ایشو ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر بنک میں پیش نہ کیا جاۓ تو ملزم ضمانت کا حقدار ہو گا۔ . .2020 YLR 2064👍

✨اگر چیک بطور Security دیا گیا ہو تو ملزم کے خلاف 489- F ت پ کا اطلاق نہ ہو گا۔ ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2016 PCrLJ 769👍

✨اگر چیک ملزم کی بجاۓ کسی دیگر شخص نے جاری کیا ہو تو ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2014 YLR 882👍

✨صرف چیک جاری کرنے کی بناء پر 489F ت پ ثابت نہ ہو گا۔ بلکہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ چیک بے ایمانی سے جاری کیا گیا۔ . .2021 YLR 324👍

✨بطور گارنٹی دیئے گئے چیک پر 489F ت پ کا اطلاق نہ ہوگا۔ ضمانت منظور ہوئی۔ . .2020 PCrLJ 268👍

✨Plaintiff registration is not entitled to FIR in case of partial payment.
*Bail confirmed before arrest. . . 2019 PCrLJ 295

✨It is also necessary to stop the payment in the bank. Just by filing a report of check book theft, the bail of 489-F case will not be accepted.
. . . 2013 YLR 626

✨If the accused agrees to give a guarantee check, he will not be entitled to bail. . . . 2011 YLR 1284

✨If the check is not presented to the bank within six months after the issue, the accused will be entitled to bail. . . . 2020 YLR 2064

✨If the check is given as security then 489-F will not be applicable against the accused. The accused will be entitled to pre-arrest bail. . . 2016 PCrLJ 769

✨If the check is issued by someone other than the accused, the accused will be entitled to pre-arrest bail. . . . 2014 YLR 882

✨Just issuing a check will not prove 489F. It is important to prove that the check was issued dishonestly. . . 2021 YLR 32

✨489F will not apply to guaranteed checks. Bail granted. . . 20
چیک اگر بطور گارنٹی دیا گیا ہو تو ملزم پر 489کا
پرچہ نہیں ہو سکتا
(Scmr- 2013 -51) (2016-pcrlj-769)

جہاں سول جج نے متنازعہ چیک کو منسوخ کر دیا ہو تو اس چیک کے خلاف کویی پرچہ درج نہیں ہو گا
(2016-pcrlj-1102)

اگر چیک کو ڈس آنر نہ کروایا اور چھ ماہ کا عرصہ گزر گیاتو آپ آرڈر 37کا داد رسی سے بھی محروم ہو گیے پھر سادہ دعوی براے برآمدگی رقم دایر کرنا ہو گا
(2016-CLC-932)

اگر چھ ماہ کے بعد آپ چیک کو بینک میں پیش کرتے ھیں تو بینک ایسے چیک کو کیش کرنے کا پابند نہیں جب تک اکاؤنٹ ھولڈر خود بینک کو نہ کہے۔ اگر اس چیک کو اگر بینک مسترد کر دے تو نہ تو نہ تو اس چیک پر پرچہ ھو گا اور نہ ھی ارڈر 37 کا دعوئ۔ 2021 pcrlj 1071 A

اگر کسی نے بینک کا قرضہ دینا ہو اور اس کو چیک جاری کرے جو ڈس آنر ہو جائے اس پر 489F لاگو نہیں ہو گا
2019 PCrLJ 902 Lahore
چیک چھ ماہ کے اندر بینک میں پیش کرنا لازمی ہے
2004MLD 951‏
بینک میں چیک پیش کیئے بغیر دعویٰ دلاپانے قابل رواں نہ ہے ‏2016 CLC937‏
مدعاعلیہ نے چیک پر دستخط کرنا تسلیم کیا دعویٰ ڈگری
‏2014 CLC244‏
چیک کی بناء پر عام دعویٰ دلاپانے بھی کیا جا سکتا ہے
‏2014 CLC 837‏
پرونوٹ پر دو گواہان کی تصدیق اور رسیدی ٹکٹ لگانا لازمی ہیں ہے 2006 SCMR 895
گواہان کے دستخط پرونوٹ کو مصدقہ دستاویز نہیں بناتے
2016-PLJ-SC-169

پرونوٹ کے لئے ضروری ہے کہ لائسنس یافتہ وثیقہ نویس تحریر شدہ ہو بصورت دیگر پرونوٹ لائسنس یافتہ وثیقہ نویسں کا تحریر کردہ نہ تھا دعویٰ خارج
2016 CLC 848

پرامیسری نوٹ لکھنے والے دن رقم ادا کرنا ضروری نہ ہے رقم بعد میں بھی دی جا سکتی ہے۔مدعاعلیہ نے بغیر کوئی رقم وصول کیے بغیر چیک کیسے دیا دعوی ڈگری شده
2017YLR 416
مدعاعلیہ نے کہا کہ چیک پر میرے دستخط نا ہے ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کو پیش نہ کیا دعویٰ ڈگری ہوا
‏2016 ScMR 2163‏

پرونوٹ 5 لاکھ سے زائد رقم کا ہو تواس پر 100 سے بطور Stamp قابل ادائیگی ہے۔بصورت دیگر قابل ادخال شہادت ہے‏2012 CLC 1679‏

منسوخی چیک دفعہ39 قانون دادرسی ایکٹ
سول کورٹ نے دعویٰ منسوخی چیک میں قرار دیا تھا کہ چیک بلا بدل جاری کیاگیا اور سول کورٹ کی اس ڈگری کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے حکم زیر اعتراض بابت اندراج مقدمہ منسوخ کر دیا اور سائل کی آئینی درخواست منظور فرما لی۔
2016 PcrLJ 1102 Lah

پرونوٹ کی بنیاد پر زرنقد کا دعوی آرڈر 37 کے تحت دائر هوا جبکہ مدعاعلیہ فریق نے منسوخی دستاویز کا دعوی سول کورٹ میں دائر کیا اور ساتھ ھی ڈسٹرکٹ جج کو ہر دو دعوی جات یکجا کرنے کی درخواست گذاری جو منظور هوكر دعوى جات consolidate ھو گئے جس کیخلاف نگرانی ہائی کورٹ دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ نے نگرانی خارج فرمائی
PLJ 2023 Lahore 199
[Multan Bench Multan]

Title: Lahore High Court Grants Post-Arrest Bail in Cheque Dishonour Case

Article:

In a recent judgment by the Lahore High Court, Lahore, in Case No. Crl. Misc. No.18392-B/2024, Syed Muhammad Ali sought post-arrest bail in a case arising from F.I.R. No.1042/2024 under Section 489-F PPC at Police Station Raiwind City, District Lahore.

The petitioner, Syed Muhammad Ali, had issued a cheque of Rs.32,00,000/- to the complainant, which was dishonoured by the bank upon presentation. The case was registered under Section 489-F PPC, which deals with dishonestly issuing a cheque for repayment of a loan or fulfilment of an obligation.

Upon examination of the available evidence, the court noted that there was insufficient proof to establish that the cheque was issued for repayment of a loan or fulfilment of an obligation. The court emphasized that Section 489-F PPC was not intended for the recovery of amounts but for punishing those who dishonestly issue cheques.

The court further observed that the petitioner had been detained in jail since his arrest, and mere detention served no useful purpose to the prosecution's case. Therefore, considering the totality of circumstances, the court granted post-arrest bail to the petitioner.

It is essential to note that the court's observations are tentative and confined to the disposal of the bail petition. The trial of the case will proceed on its merits, and any interference in the trial process may lead to the recall of the bail order.

This judgment underscores the importance of adhering to legal standards and ensuring that bail is not withheld as a form of punishment. It also reaffirms the principle that bail is a rule and refusal is an exception, particularly in cases where further probe or inquiry is required.

Overall, the Lahore High Court's decision in this case reflects a commitment to upholding justice while safeguarding the rights of the accused.

استعفی کا اردو ترجمہمحترم صدرِ پاکستان،گیارہ سال قبل میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ چار سال...
14/11/2025

استعفی کا اردو ترجمہ
محترم صدرِ پاکستان،
گیارہ سال قبل میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ چار سال بعد، اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ مزید چار سال گزرنے کے بعد، میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ان گیارہ برسوں پر محیط عرصے میں، جن مختلف عہدوں پر میں فائز رہا، ہر بار میرا حلف ایک ہی بنیاد پر قائم رہا — یہ حلف کسی دستور کا نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان کا تھا۔

دوسری بات، ستائیسویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس مجوزہ ترمیم کے مضمرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس خط کی تفصیلات دہرانے کی ضرورت نہیں، مگر اتنا کہنا کافی ہے کہ جس اندیشے کا ذکر میں نے اُس وقت کیا تھا، وہ آج افسوسناک طور پر حقیقت بن چکا ہے۔

پاکستان کے عوام کی خدمت کرنا، عدلیہ کا حصہ بن کر، میرے لیے سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنے منصب کی ذمہ داریاں اپنے حلف کے تقاضوں کے مطابق پوری کرنے کی کوشش کی۔ آج، وہی حلف مجھے یہ احساس دلاتا ہے کہ مجھے اس منصب سے اپنا استعفیٰ پیش کر دینا چاہیے۔

جس آئین کی پاسداری اور حفاظت کا میں نے وعدہ کیا تھا، وہ اب اپنی اصل روح میں باقی نہیں رہا۔ جتنا بھی میں نے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ایسا نہیں ہے، مگر اب اس حقیقت سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی کہ نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر کھڑے کیے جا رہے ہیں، وہ دراصل اسی آئین کی قبر پر ہیں۔ جو کچھ باقی ہے، وہ محض ایک سایہ ہے — ایسا سایہ جو نہ اس کی روح رکھتا ہے، نہ عوام کی آواز۔

یہ لباس جو ہم بطور جج زیبِ تن کرتے ہیں، محض اعزاز یا زیور نہیں، بلکہ ایک مقدس امانت کی یاد دہانی ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری تاریخ میں یہ لباس اکثر خاموشی اور مصلحت کی علامت بن گیا۔ اگر آنے والی نسلیں ان کو کسی اور نظر سے دیکھنا چاہتی ہیں، تو پھر ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی تکرار نہیں ہونا چاہیے۔

اسی امید کے ساتھ، میں آج یہ لباس آخری بار اتارتا ہوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا باضابطہ استعفیٰ، مؤثر الفور، پیش کرتا ہوں۔

اللہ کرے کہ جو بھی انصاف کرے، وہ سچائی کے ساتھ کرے۔

(جسٹس اطہر من اللہ)
سپریم کورٹ آف پاکستان
شاہراہِ دستور، اسلام آباد

--

قومی اسمبلی پاکستان سے مورخہ 12 نومبر 2025 کو منظور ہونے والاآئینِ پاکستان (ستائیسویں ترمیم) بل، 2025— The Constitution ...
14/11/2025

قومی اسمبلی پاکستان سے مورخہ 12 نومبر 2025 کو منظور ہونے والا
آئینِ پاکستان (ستائیسویں ترمیم) بل، 2025
— The Constitution (Twenty-Seventh Amendment) Bill, 2025 as passed by the National Assembly of Pakistan.

اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے کہ آپ چور ہیں، بدعنوان ہیں یا کردار خراب ہے، اور اس سے آپ کی عزت مجروح ہو تو آپ یہ ہتک عزت کا...
24/09/2025

اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے کہ آپ چور ہیں، بدعنوان ہیں یا کردار خراب ہے، اور اس سے آپ کی عزت مجروح ہو تو آپ یہ ہتک عزت کا کیس کر کے عدالت سے مندرجہ حکم لے سکتے ۔

اعلان (Declaration) کہ الزام جھوٹا اور غلط ہے۔

• ہرجانہ (Damages) یعنی پیسوں میں معاوضہ جو کروڈو میں ہو سکتا کہ آپ کی بدنامی، ذہنی اذیت یا مالی نقصان پر مخالف آپکو پیسے دے ۔

• حکم امتناعی (Injunction) کہ مخالف مزید جھوٹے الزامات نہ لگائے یا شائع کرے۔

• بعض اوقات عدالت مخالف فریق کو معافی شائع کرنے یا وضاحت دینے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

یہ نوٹیفکیشن کیا کہتا ہے؟

یہ نوٹیفکیشن (22 ستمبر 2025) گورنر پنجاب کی طرف سے جاری ہوا ہے:

• پنجاب میں ہتک عزت کے ٹریبونل قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ ہتک عزت کے کیسز عام عدالتوں کے بجائے یہ ٹریبونل سنیں۔


• تین ٹریبونل بنائے گئے ہیں:
1. لاہور → انجم رضا سید (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
2. ملتان → محمد ابراہیم اصغر (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
3. راولپنڈی → غفار مہتاب (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)


• یہ نوٹیفکیشن سب سرکاری محکموں کو بھیجا گیا ہے تاکہ وہ آگاہ رہیں اور ضرورت پڑنے پر تعاون کریں۔

سادہ الفاظ میں:
اگر کوئی آپ پر جھوٹے الزام لگا کر آپ کی عزت خراب کرتا ہے
یا سوشل میڈیا، اخبارات، ٹی وی یا کسی اور پلیٹ فارم پر غلط خبریں یا بیانات پھیلائے جائیں۔
• یا کسی فرد یا ادارے کی عزت کو نقصان پہنچانے والی پبلیکیشن یا اسٹیٹمنٹ۔

تو آپ ہتک عزت کا کیس کر سکتے یہ کیس اب عام عدالت میں نہیں بلکہ متعلقہ ڈیفامیشن ٹریبونل (لاہور، ملتان یا راولپنڈی) میں کریں گے۔

وہاں سے آپ کو ہرجانہ، معافی اور مزید بدنامی روکنے کا حکم مل سکتا ہے۔

“فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2024” سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق: جو کوئی بھی جادو، کالا جادو، ٹونا ٹوٹکا یا اس...
19/09/2025

“فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2024” سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق: جو کوئی بھی جادو، کالا جادو، ٹونا ٹوٹکا یا اس سے متعلقہ خدمات انجام دے گا یا ان کا پرچار کرے گا، اسے کم از کم 6 ماہ سے لے کر 7 سال تک قید اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا اور اس کا مقدمہ سیشن کورٹ میں چلایا جائے گا۔
روحانی علاج یا رہنمائی صرف وہی افراد کر سکیں گے جنہیں وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے لائسنس جاری کیا
گیا ہو

اب محبوب آپکے قدموں میں نہیں آئے گا

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی تاخیر کو کم کرنے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹائم فریم پالیسی متعارف کر...
15/09/2025

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی تاخیر کو کم کرنے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹائم فریم پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف قسم کے مقدمات کے لیے مقرر کردہ وقت کی حد 2 ماہ سے لے کر 24 ماہ تک ہے۔ اس پالیسی کا مقصد عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو بروقت انصاف فراہم
کرنا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر ہے جس میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (NJPMC) کی 54ویں میٹنگ مورخہ 18 اگست 2025 کے فیصلے کے مطابق مختلف نوعیت کے مقدمات کے لیے مقررہ ٹائم لائنز دی گئی ہیں۔

اہم نکات درج ذیل ہیں:

مختلف مقدمات کے لیے مقررہ مدت (Timelines)

1. ڈیکلیریٹری سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 24 ماہ

2. ڈیکلیریٹری سوٹ (وراثتی تنازعات) → 12 ماہ

3. انجکشن سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 6 ماہ

4. ریکوری سوٹ (محصولات/مالی معاملات) → 12 ماہ

5. اسپیسفک پرفارمنس (کنٹریکٹ انفورسمنٹ) → 18 ماہ

6. کرایہ داری مقدمات → 6 ماہ

7. فیملی مقدمات (خلع، حق مہر، نان و نفقہ، سرپرستی وغیرہ) → 6 ماہ

8. وراثتی سرٹیفکیٹ (بلا اعتراض کیسز) → 2 ماہ

9. فیملی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ

10. بینکنگ کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ

11. سول کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 3 ماہ

12. کرایہ داری ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 6 ماہ

13. فوجداری مقدمات (کم عمر ملزمان، JJSA 2018 کے تحت) → 12 ماہ

14. فوجداری مقدمات (سات سال تک کی سزا والے) → 12 ماہ

15. فوجداری مقدمات (سات سال سے زائد سزا والے) → 18 ماہ

16. فوجداری مقدمات (قتل) → 24 ماہ

17. مزدور مقدمات → 6 ماہ

ہدایات

تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور اسپیشل ٹریبونلز کے ججز کو یہ ٹائم لائنز فراہم کر دی گئی ہیں۔

سختی سے ان پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب میں بارشوں کی کمی کے باعث پانی کی قلت کا خدشہ ہے۔  اس صورتحال کے پیش نظر، محکمہ ماحولیات کی جانب سے پنجاب میں مندر...
13/02/2025

پنجاب میں بارشوں کی کمی کے باعث پانی کی قلت کا خدشہ ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر، محکمہ ماحولیات کی جانب سے پنجاب میں مندرجہ ذیل احکامات جاری:

▪️غیر قانونی / غیر منظور شدہ کار واش / سروس اسٹیشنوں کی فوری بندش۔

▪️تمام کار واش اسٹیشنوں پر 28 فروری 2025 تک واٹر ری سائیکلنگ سسٹم اور یو چینلز کی تنصیب لازمی۔ خلاف ورزی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ اور کار واش ایریا سیل۔

▪️گاڑیوں کی آئل واشنگ پر مکمل پابندی۔

▪️گھروں میں کار دھونے اور ہوز پائپ کے استعمال پر پابندی۔ خلاف ورزی پر 10 ہزار روپے جرمانہ۔

▪️لان، باغات، گالف کورسز اور گرین بیلٹس میں زیادہ پانی کے بہاؤ پر پابندی۔

▪️تعمیراتی کاموں میں زیر زمین پانی کے استعمال پر پابندی۔ صرف سطحی یا ری سائیکل شدہ پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد جس کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو بینکنگ ٹرانزیکشن کے بغیر خریدی جائے گی تو اس پر ٹوٹل ویلیو کا...
27/01/2025

اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد جس کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو بینکنگ ٹرانزیکشن کے بغیر خریدی جائے گی تو اس پر ٹوٹل ویلیو کا پانچ پرسنٹ پینلٹی ادا کرنی ہوگی

23/11/2024

جب بھی کسی جائیداد منقولہ یعنی کہ Moveable Property جیساکہ موٹر سائیکل، ٹریکٹر، بس، پستول، بندوق، موبائل وغیرہ کی بابت کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے یا کسی ملزم کی گرفتاری کے ساتھ اس کی moveable property کو پولیس اپنی حراست میں لے لیتی لیکن مال مقدمہ کو چونکہ حفاظت کے ساتھ نہیں رکھا جاتا جس کے حصول کے لئے سپرداری کی درخواست دی جاتی ہے جس میں ذکر کیا جاتا ہے کہ میں ضامن دینے کے لیے تیار ہوں اگر بڑی گاڑی یا زیادہ مالیت کا سامان ہے تو عدالت ضمانتی مچلکے طلب کرسکتی ہے۔ اس درخواست کے بعد عدالت متعلقہ پولیس سٹیشن سے رپورٹ طلب کرے گی اور آپکو گاڑی موٹر-سائیکل یا جو بھی مال مقدمہ ہے اس کو آپکے سپرد کردے گی۔ سپرداری میں 3/4 دن میں گاڑی و دیگر مال مقدمہ کی سپرداری ہو جاتی ہے۔

ضابطہ فوجداری کا سیکشن *516A* سپرداری قانون سے ہی متعلق ہے اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ مال مقدمہ جس کا کیس ابھی عدالت میں چل رہا ہو تو اس صورت میں عدالت خود سے یا کسی کی درخواست پر جو اس مال مقدمہ کا مالک کو یا آخری قابض ہو اس کے حوالے وہ مال کرسکتی ضمانتی مچلکے لیکر یا بغیر ضمانتی مچلکوں کے

پولیس اگر 134 کی سپرداری نا لے تو جسٹس اف پیس کے پاس پٹیشن فائل کر سکتے ہے

لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ ۔17-اے کا قانون 24 جولائی 2024 کو ختم ہوا ہے لہذا 24 جولائی سے پہلے جنکے والدین فوت ہوئ...
16/10/2024

لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ ۔

17-اے کا قانون 24 جولائی 2024 کو ختم ہوا ہے لہذا 24 جولائی سے پہلے جنکے والدین فوت ہوئے تھے یا میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائرڈ ہوئے تھے انکے بچے نوکری کے مستحق ہیں ۔

Address

370. KIYANI CHEMBERS SESSION COURTS
Gujranwala
52250

Opening Hours

Monday 08:00 - 04:00
Tuesday 08:00 - 04:00
Wednesday 08:00 - 04:00
Thursday 08:00 - 04:00
Friday 09:00 - 01:00
Saturday 08:00 - 02:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Rehman Law Associates GRW posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share