01/09/2026
⚠️ گلگت بلتستان میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات — ہم کب جاگیں گے؟
گلگت بلتستان کو امن، رواداری اور خوبصورت معاشرتی اقدار کی سرزمین سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
📊 رپورٹس کے مطابق:
پاکستان میں 2024 کے دوران بچوں سے زیادتی کے 3,364 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 3,630 ہوگئی۔ 2025 میں 522 r**e، 195 attempted r**e اور 108 gang-r**e کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ان اعدادوشمار میں گلگت بلتستان سے رپورٹ ہونے والے واقعات بھی شامل ہیں۔
2024 میں HRCP کی رپورٹ کے مطابق گلگت میں Child Protection Unit نے 33 child-abuse cases رپورٹ کیے، جن میں ایک سات سالہ بچے کے r**e کا واقعہ بھی شامل تھا۔ اسی سال بلتستان میں ایک سات سالہ بچی کے مبینہ r**e کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
❗ اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم ایسے واقعات کو صرف چند دن کی خبر سمجھ کر بھول جائیں؟
کیا والدین، تعلیمی ادارے، معاشرہ اور ریاست بچوں کے تحفظ کے لیے کافی اقدامات کر رہے ہیں؟
اور سب سے اہم — کیا متاثرین کو بروقت انصاف مل رہا ہے؟
⚖️ خاموشی مجرم کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ قانون کا بروقت استعمال متاثرہ شخص کو انصاف تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔
ضرورت ہے کہ:
🔹 بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے مؤثر awareness پیدا کی جائے۔
🔹 والدین بچوں کی سرگرمیوں اور اردگرد کے ماحول پر مناسب توجہ دیں۔
🔹 ایسے واقعات کی فوری قانونی رپورٹنگ کی جائے۔
🔹 پولیس اور متعلقہ ادارے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کریں۔
🔹 متاثرہ شخص کی عزت، رازداری اور قانونی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
🔹 ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور عدالت میں منصفانہ ٹرائل یقینی بنایا جائے۔
بچوں کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں — یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
⚖️ Speak Up. Protect Children. Seek Justice.
📞 Legal Consultation: +92 355 4692596
📍 Office No. 1, GM Market, Opposite Chief Court, Konodas, Gilgit