14/08/2026
ایک باپ کو خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو داماد نے پھر مارا ہے۔
پہلے بھی ایسا ہوا تھا، مگر ہر بار ماں بیٹی کو سمجھا دیتی،
نئی نئی شادی ہے، وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
باپ بھی خاموش رہتا۔ اسے لگتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے کچھ باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
مگر اُس رات جب خبر دوبارہ آئی تو باپ کے اندر کا صبر ٹوٹ گیا۔
رات کا وقت تھا۔ گھر میں سب سو رہے تھے۔
باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا، بس بینڈ باجے والوں کو ساتھ لیا اور سیدھا داماد کے گھر جا پہنچا۔
دروازہ کھلا تو سب حیران رہ گئے۔
سمدھی جی؟ اس وقت؟ خیریت تو ہے؟
باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اسی لمحے ایک کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے بیٹی نے اپنے باپ کو دیکھا۔
آنکھیں ملیں تو بیٹی کی آنکھوں میں برسوں کا سوال تھا،
اور باپ کی آنکھوں میں ایک ہی جواب۔
اس نے دور سے ہاتھ کے اشارے سے کہا:
چل… چلیں۔
بیٹی جیسے اس ایک جملے کا برسوں سے انتظار کر رہی تھی۔
باپ نے بینڈ والوں کی طرف دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے کہا:
بجاؤ!
اچانک رات کی خاموشی میں بینڈ بجنے لگا۔
لوگ دروازے پر کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔
باپ آگے بڑھا، اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
آج میں تجھے لینے آیا ہوں…
بارات لے کر نہیں،
تجھے اُس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو رسمِ شادی سمجھ لیا گیا تھا۔
اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل دیا۔
بینڈ بجتا رہا۔
مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی…
ایک بیٹی اپنے باپ کے ساتھ عزت کے گھر واپس جا رہی تھی۔
کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر توڑتا نہیں،
اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔
یہ ایک ٹی وی پر چلنے والا سبق آموز اشتہار تھا، مگر چند منٹ کی وہ کہانی دل پر ایک لمبی لکیر کھینچ گئی۔