The Law Study

The Law Study This page provide a Knowledge about Pakistani Laws related Civil, Criminal, Family, tax and other laws. We also share a different Judgement of different courts.

The law study is a website for All llb topics or subjects. http://thelawstudy.blogspot.com/

18/05/2026

ذرا سوچیے !
جب قبضہ مافیہ اور فراڈیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں گے تو کیا معصوم لوگوں کا حق نہیں مارا جائیگا جبکہ نظام تو پہلے ہی بااثر ظالم لوگوں کو سپورٹ کررہا ہے

زمین کا محافظ: پٹواری کی اہمیت اور حقیقتآج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا بندہ "ڈیجیٹلائزیشن" اور "آن لائن سسٹم" کا بھاشن دے ...
18/05/2026

زمین کا محافظ: پٹواری کی اہمیت اور حقیقت
آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا بندہ "ڈیجیٹلائزیشن" اور "آن لائن سسٹم" کا بھاشن دے رہا ہے کہ اب پٹواری کا کردار ختم ہو گیا۔ لیکن یاد رکھیں، یہ باتیں صرف سکرین کی حد تک اچھی لگتی ہیں۔ زمین کے معاملات میں حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جو لوگ محکمہ مال کی ابجد سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آپ کے مسئلے کا حل صرف پٹواری کے پاس ہے۔
پیسوں کا لین دین، سسٹم کی خرابیاں یا حکومت کی پالیسیاں اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب ایک زمیندار اپنی ملکیتی الجھنوں میں پھنستا ہے، تو اسے نکالنے والا صرف پٹواری ہوتا ہے۔ درج ذیل نکات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پٹواری کو "زمین کی ماں" کیوں کہا جاتا ہے:
1. شجرہ نسب اور خاندانی تاریخ کا امین
صرف پٹواری ہی وہ واحد کڑی ہے جو آپ کے دادا، پردادا اور ان کی نسلوں کے شجرہ نسب سے واقف ہوتا ہے۔ کمپیوٹر صرف موجودہ ریکارڈ دکھاتا ہے، لیکن وراثت کے پیچیدہ انتقالوں میں جب رشتوں کی پہچان کی بات آتی ہے، تو صرف پٹواری کا ریکارڈ ہی بولتا ہے۔
2. موقع کی پہچان اور حد براری (نشان دہی)
سرکاری ریکارڈ میں زمین کا نمبر لکھ دینا الگ بات ہے، لیکن موقع پر جا کر یہ بتانا کہ کس کی زمین کہاں ختم ہو رہی ہے اور کس کی کہاں سے شروع، یہ صرف پٹواری کی بصیرت ہے۔ پٹواری "لٹھے" (نقشہ) پر بنی ہر لکیر اور "کرم" کے حساب سے زمین کی پیمائش کا وہ ماہر ہے جس کا نعم البدل کوئی سافٹ ویئر نہیں ہو سکتا۔
3. ونڈاجات اور تقسیمِ اراضی
جب بھائیوں کے درمیان زمین تقسیم ہوتی ہے، تو کاغذوں میں حصہ لکھنا آسان ہے، لیکن "پھانٹ" بنانا، رستہ نکالنا، پانی کی باری طے کرنا اور زمین کی کوالٹی (اچھی یا ماڑی زمین) کے حساب سے برابری کرنا صرف پٹواری کا ہنر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس کونے میں زمین بنجر ہے اور کہاں سونا اگل رہی ہے۔
4. عدالتی معاملات اور شہادت
جب زمین کا کیس عدالت میں جاتا ہے، تو جج صاحب بھی کمپیوٹرائزڈ پرنٹ سے زیادہ پٹواری کی "رپورٹ" اور اس کی شہادت کو اہمیت دیتے ہیں۔ پٹواری وہ گواہ ہے جس کے پاس زمین کے تغیر و تبدل کی دہائیوں پر محیط تاریخ محفوظ ہوتی ہے۔
5. آفاتِ سماوی اور ریونیو ریکوری
سیلاب ہو، قحط ہو یا ٹڈی دل کا حملہ، حکومت کو یہ پٹواری ہی بتاتا ہے کہ کس کسان کا کتنا نقصان ہوا (گردآوری کے ذریعے)۔ آبیانہ ہو یا زرعی ٹیکس، سرکاری خزانے کی وصولی کے لیے پٹواری ہی فیلڈ میں کھڑا نظر آتا ہے۔
6. ریکارڈ کی درستی (ترمیمِ ریکارڈ)
آن لائن سسٹم میں غلطی ہو جائے تو فائلیں دفاتر کے چکروں میں دب جاتی ہیں، لیکن پٹواری کے پاس موجود "روزنامچہ واقعیاتی" وہ دستاویز ہے جہاں ہر لمحے کی تبدیلی فوری درج ہوتی ہے۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے بنیاد ہمیشہ پٹواری کا ریکارڈ ہی بنتا ہے۔
حاصلِ کلام:
پٹواری صرف ایک سرکاری ملازم نہیں، بلکہ دیہی معیشت اور معاشرت کا وہ ستون ہے جس کے بغیر زمین کا انتظام چلانا ناممکن ہے۔ نظام کی اصلاح ہونی چاہیے، لیکن پٹواری کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد کو نکال کر اس پر محل بنانے کی کوشش کرنا۔ صاحبِ عقل جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں بھی، زمین کا اصل "وارث" اور "محافظ" وہی ہے جو اس مٹی کے ایک ایک انچ کی تاریخ سینے میں دبائے بیٹھا ہے۔

⚖️ شناختی کارڈ بلاک کرنا — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہسپریم کورٹ نے واضح قرار دیا ہے کہ دیوانی ڈگری یا رقم کی وصولی کے لیے ش...
18/05/2026

⚖️ شناختی کارڈ بلاک کرنا — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح قرار دیا ہے کہ دیوانی ڈگری یا رقم کی وصولی کے لیے شہری کا CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق:
🔹 CNIC کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
🔹 ضابطہ دیوانی کے تحت ex*****on proceedings میں CNIC بلاک کرنے کی گنجائش نہیں۔
🔹 واضح قانونی اختیار کے بغیر عدالت شہری کی بنیادی شناخت معطل نہیں کر سکتی۔
🔹 قرض، ڈگری یا فیملی نوعیت کے مالی معاملات میں ایسا حکم قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے۔
⚠️ اہم وضاحت:
یہ اصول عام طور پر دیوانی/مالی ڈگریوں کی ex*****on پر لاگو ہوتا ہے؛ فوجداری مقدمات، مفرور ملزمان یا کسی خاص قانون کے تحت کارروائی کا معاملہ الگ ہو سکتا ہے۔

18/05/2026
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے ایک بار پھر کئی تلخ سوالات ہمارے سامنے لا کھڑے کیے ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا...
17/05/2026

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے ایک بار پھر کئی تلخ سوالات ہمارے سامنے لا کھڑے کیے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ایک دکان پر چھاپہ مارتے ہیں اور وہاں موجود دکاندار کو، جو نہ مزاحمت کر رہا ہے، نہ بدتمیزی اور نہ فرار کی کوشش، سرِعام تھپڑ مارا جاتا ہے۔

یہ تھپڑ شاید صرف ایک شخص کے چہرے پر نہیں پڑا…
بلکہ قانون، اختیار اور انسانیت کے چہرے پر بھی ایک سوال بن کر ابھرا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جرائم کی تفتیش کرنا، قانون نافذ کرنا اور معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
لیکن کیا کسی وردی، کسی عہدے یا کسی اختیار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کسی شہری کی عزتِ نفس کو مجروح کرے؟

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزت اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔
قانون یہ اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ ایک پُرامن اور تعاون کرنے والے شخص پر ہاتھ اٹھایا جائے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 352 بھی واضح کرتی ہے کہ بلاجواز طاقت کا استعمال جرم ہے، چاہے یہ کسی عام شہری کی طرف سے ہو یا کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے۔

افسوس صرف اس واقعے پر نہیں…
افسوس اس سوچ پر ہے جہاں طاقت کو اخلاق سے بڑا سمجھ لیا گیا ہے۔
جہاں وردی خدمت کی علامت کم اور خوف کی علامت زیادہ بنتی جا رہی ہے۔

اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد چند دن کی معطلی، رسمی انکوائری یا وقتی شور کے بعد وہی لوگ دوبارہ وہی کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں جس پر کبھی کارروائی ہوئی تھی۔
گویا مسئلہ صرف افراد کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جہاں عوام کی عزت کے تحفظ کو کبھی سنجیدگی سے قانون کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔

حالانکہ انسان صرف موت سے نہیں مرتا…
کبھی بھرے بازار میں ہونے والی تذلیل،
کبھی اختیار کے نشے میں مارا گیا ایک تھپڑ،
اور کبھی ہجوم کے سامنے چھین لیا گیا وقار بھی انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس میں نہیں کہ وہ کسی کمزور کو کتنی آسانی سے خوفزدہ کر سکتی ہے،
بلکہ اس میں ہے کہ اختیار ہونے کے باوجود انصاف، تحمل اور انسانیت کو کیسے قائم رکھتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال، عوامی تذلیل اور بلاجواز تشدد کے خلاف ایسے سخت اور عملی قوانین نافذ کیے جائیں کہ ہر وردی قانون کی محافظ تو ہو، مگر انسانیت کی حرمت کی بھی نگہبان بنے۔

کیونکہ جہاں انسان کی عزت محفوظ نہ رہے، وہاں قانون کی بالادستی صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

پاکستان میں اراضی کی منتقلی کے حوالے سے رجسٹری اور انتقال دو الگ مگر لازمی مراحل ہیں۔ ان کا بنیادی فرق نیچے دی گئی تفصیل...
16/05/2026

پاکستان میں اراضی کی منتقلی کے حوالے سے رجسٹری اور انتقال دو الگ مگر لازمی مراحل ہیں۔ ان کا بنیادی فرق نیچے دی گئی تفصیل سے سمجھا جا سکتا ہے:
1. رجسٹری (Registry / Sale Deed)
رجسٹری اراضی کی خرید و فروخت کی ایک دستاویز ہے جو خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان تحریر ہوتی ہے۔
نوعیت: یہ ایک قانونی معاہدہ ہے جس پر سب رجسٹرار (Sub-Registrar) کے دستخط اور مہر ہوتی ہے۔
پہلا مرحلہ: زمین خریدتے وقت سب سے پہلے رجسٹری کروائی جاتی ہے۔
اخراجات: اس میں سٹیمپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور دیگر سرکاری ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں۔
حیثیت: یہ ملکیت کا ایک مضبوط قانونی ثبوت ہے، لیکن یہ خودکار طریقے سے پٹوار خانے یا سرکاری ریکارڈ میں زمین آپ کے نام منتقل نہیں کرتی۔
2. انتقال (Intaqaal / Mutation)
انتقال سرکاری ریکارڈ (پٹوار خانہ یا لینڈ ریکارڈ سنٹر) میں ملکیت کی تبدیلی کے عمل کو کہتے ہیں۔
نوعیت: یہ زمین کے ریکارڈ (رجسٹرِ حقدارانِ زمین یا جمع بندی) میں ایک نام کاٹ کر دوسرے کا نام درج کرنے کا نام ہے۔
دوسرا مرحلہ: رجسٹری کروانے کے بعد اس کی بنیاد پر متعلقہ پٹواری یا اے ڈی ایل آر (ADLR) کے پاس انتقال درج کروایا جاتا ہے۔
مقصد: اس کا مقصد حکومت کے پاس موجود ریکارڈ کو اپ ٹو ڈیٹ کرنا ہے تاکہ سرکاری طور پر زمین کے مالک کا نام تبدیل ہو سکے۔
حیثیت: انتقال اراضی کے ریکارڈ میں انتظامی تبدیلی ہے، لیکن اگر رجسٹری موجود نہ ہو تو صرف انتقال کی قانونی حیثیت رجسٹری جتنی مضبوط نہیں ہوتی۔

چیک اور ان کی اقسامبینکنگ اور فوجداری قوانین کے تحت چیک کے مختلف زمرہ جات اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کی تفصیل درج ذ...
16/05/2026

چیک اور ان کی اقسام
بینکنگ اور فوجداری قوانین کے تحت چیک کے مختلف زمرہ جات
اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کی تفصیل درج ذیل ہے:
چیک کی اقسام اور ان کا قانونی مفہوم
پاکستان کے قوانین، بالخصوص Negotiable Instruments Act, 1881 کے تحت چیک کی اہم
*چیک کی مختلف اقسام اور ان کا فرق*
*سیلف چیک (Self Check):* اکاؤنٹ ہولڈر خود رقم نکلوانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
*بائی نیم چیک (By Name / Order Check):* کسی مخصوص فرد یا ادارے کے نام جاری کیا جاتا ہے، جس کی ادائیگی صرف اسی کو ہوتی ہے۔
*کمپنی چیک (Company Check):* کمپنی کے اکاؤنٹ سے جاری ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری دستخط کنندہ (Director) اور کمپنی دونوں پر ہوتی ہے۔
*اسٹیل چیک (Stale Check)*: وہ چیک جس کی تاریخ کو 6 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہو۔ ایسا چیک بینک قبول نہیں کرتا۔
*گارنٹی/سیکیورٹی چیک *(Guarantee Check):* یہ کسی معاہدے یا لین دین کے تحفظ کے طور پر دیا جاتا ہے، نہ کہ فوری ادائیگی کے لیے۔
*2. فوجداری علاج (Criminal Remedy - PPC/CrPC)*
دفعہ 489-F (تعزیراتِ پاکستان): بدنیتی سے چیک ڈس آنر ہونے پر مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔
*سزا:* 3 سال تک قید اور جرمانہ۔
کارروائی: بینک سے 'ڈس آنر میمو' ملنے پر متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر (FIR) کی درخواست دی جاتی ہے۔
*3. دیوانی علاج (Civil Remedy - CPC)*
آرڈر 37 (Order ###VII CPC): رقم کی واپسی کے لیے 'سمری سوٹ' (Summary Suit) دائر کیا جاتا ہے۔
*فائدہ:* یہ عام دیوانی مقدمات سے تیز ہوتا ہے اور مدعا علیہ کو دفاع کے لیے عدالت سے اجازت (Leave to Defend) لینی پڑتی ہے۔
*4. اعلیٰ عدالتوں کے اہم فیصلے (Judgements)*
*سپریم کورٹ (2018 SCMR 1606):* محض چیک کا ڈس آنر ہونا جرم نہیں، جب تک کہ جاری کرنے والے کی 'بدنیتی' (Dishonest Intent) ثابت نہ ہو۔
*سپریم کورٹ (2021 SCMR 149):* اگر چیک 'سیکیورٹی' کے طور پر دیا گیا تھا اور کوئی حقیقی قرض موجود نہ تھا، تو دفعہ 489-F کے تحت کارروائی کے لیے سخت ثبوت درکار ہوں گے۔
*لاہور ہائی کورٹ (PLD 2020 Lahore 54):* عدالت نے واضح کیا کہ کمپنی کے چیک کی صورت میں اس کے ڈائریکٹرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے اگر وہ کمپنی کے معاملات کے انچارج ہوں۔
*سپریم کورٹ (PLD 2011 SC 30):* چیک ڈس آنر ہونے کے مقدمات میں ضمانت (Bail) کے اصول وضع کیے گئے۔
*5. ضروری قانونی نکات*
تاریخ کا اندراج: چیک پر لکھی گئی تاریخ سے 6 ماہ کے اندر اسے بینک میں پیش کرنا لازمی ہے۔
تحریری نوٹس: چیک ڈس آنر ہونے کے بعد فریقِ ثانی کو قانونی نوٹس بھیجنا بہتر عمل ہے تاکہ بدنیتی ثابت کی جا سکے۔
رقم کی حد: یہ قوانین ہر مالیت کے چیک پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔

زمینی تنازعات کے حل کے لیے نئی "ثالثی کمیٹی": عوام کی عدالت، عوام کے قریب!  پنجاب حکومت کی جانب سے مقامی سطح پر زمین کے ...
16/05/2026

زمینی تنازعات کے حل کے لیے نئی "ثالثی کمیٹی": عوام کی عدالت، عوام کے قریب!
پنجاب حکومت کی جانب سے مقامی سطح پر زمین کے پیچیدہ تنازعات کو نمٹانے کے لیے ایک انقلابی اور خوش آئند فیصلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ 30 اپریل 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق، اب زمینی جھگڑوں کے حل کے لیے شہریوں کو برسوں عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے، بلکہ مقامی سطح پر تشکیل دی گئی "ثالثی کمیٹی" (Arbitration Committee) ان مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نکالے گی۔
کمیٹی کی مکمل ساخت اور طاقتور نیٹ ورک:
اس کمیٹی کو انتہائی متوازن بنایا گیا ہے تاکہ انتظامی اور عوامی دونوں پہلو شامل رہیں:
اسسٹنٹ کمشنر (سربراہ): جو قانونی اور انتظامی سربراہی فراہم کریں گے۔
تحصیلدار و گرداور حلقہ (ممبران):جو ریونیو معاملات کی تکنیکی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
نمبردار (ممبر):جو دیہی سطح پر سرکاری نمائندہ اور گواہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
3 مقامی معروف شخصیات (ممبران): جو علاقے کے حالات اور لوگوں کے مزاج سے واقف ہوں تاکہ فیصلے میں عوامی اعتماد برقرار رہے۔
یہ فیصلہ کیوں ضروری تھا؟
عمومی طور پر زمین کے چھوٹے چھوٹے تنازعات تھانوں اور کچہریوں میں برسوں لٹکے رہتے ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ دشمنیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اس کمیٹی کے ذریعے مقامی سطح پر مصالحت کو فروغ ملے گا اور انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔
ایک تعمیری تجویز:
حکومت کا یہ اقدام بلاشبہ ستائش کے قابل ہے، تاہم اس پورے ڈھانچے میں ایک کڑی ایسی ہے جس کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ پٹواری، جسے زمین کے ریکارڈ کی "ماں" اور ریونیو سسٹم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، اس کے پاس شجرہ نصب سے لے کر گرداوری تک کا تمام ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔
اگرچہ کمیٹی میں اعلیٰ افسران موجود ہیں، لیکن اگر پٹواریکی مشاورت اور ریکارڈ تک ان کی براہِ راست رسائی کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے، تو کمیٹی کے فیصلوں میں غلطی کا امکان صفر ہو جائے گا اور ریکارڈ کی تصدیق کے لیے وقت کی مزید بچت ہوگی۔ کیونکہ زمینی حقائق اور نقشوں کی جتنی گہری پہچان پٹواری کو ہوتی ہے، وہ کسی بھی فیصلے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی ثابت ہو سکتی ہے۔
ہم اس فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ کمیٹی عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گی

کیا زبردستی ونڈاجات خاندانوں میں نئے تنازعات پیدا کریں گے؟پنجاب کے دیہی معاشرے کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی زیادہ تر...
16/05/2026

کیا زبردستی ونڈاجات خاندانوں میں نئے تنازعات پیدا کریں گے؟
پنجاب کے دیہی معاشرے کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی زیادہ تر زمینیں مشترکہ کھاتوں میں موجود ہیں۔ ایک ہی خاندان کے بہن بھائی، کزنز اور دیگر وارث آپس کی رضامندی سے اپنے اپنے حصے استعمال کر رہے ہیں۔ کئی جگہوں پر دہائیوں سے زبانی تقسیم اور باہمی اعتماد کے تحت نظام چل رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مشترکہ کھاتوں کی وجہ سے تنازعات، مقدمات اور قبضے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ ہزاروں خاندان آج بھی انہی مشترکہ کھاتوں میں باہمی اتفاق کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
خصوصاً دیہاتوں میں ایک روایت یہ بھی موجود ہے کہ اکثر بہنیں اپنی وراثتی زمین بھائیوں سے نہیں مانگتیں بلکہ خاندان کے اتفاق کی خاطر خاموش رہتی ہیں یا اپنا حصہ بھائیوں کے پاس رہنے دیتی ہیں۔ ریکارڈ میں ان کا حصہ موجود ہوتا ہے لیکن عملی قبضہ بھائیوں کے پاس ہوتا ہے۔
اب حکومتِ پنجاب نے کے تحت مشترکہ کھاتوں کو تقسیم کرکے ہر فرد کا الگ اور واحد کھاتہ بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ بظاہر اس منصوبے کا مقصد ریکارڈ کی درستگی، شفافیت اور مستقبل کے تنازعات کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے زبردستی ونڈاجات کرنا واقعی درست فیصلہ ہے؟
جب ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان:
▪️ فرنٹ کا مسئلہ آئے گا
▪️ راستوں کا تنازع کھڑا ہوگا
▪️ اچھی اور خراب زمین کی تقسیم ہوگی
▪️ قبضوں کی حدبندی ہوگی
تو کیا اس سے نئے جھگڑے جنم نہیں لیں گے؟
آج جو خاندان مشترکہ کھاتوں کے باوجود اتفاق سے چل رہے ہیں، ممکن ہے کل وہی عدالتوں اور تھانوں میں ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہوں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے عمل میں زیادہ دباؤ فیلڈ اسٹاف خصوصاً پٹواری پر ڈالا جا رہا ہے۔ عوامی غصہ، سیاسی دباؤ اور زبردستی ونڈاجات کا بوجھ نچلے عملے پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ پالیسی سازی کا ہے۔
اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، ریکارڈ بھی درست ہونا چاہیے، خواتین کے حقوق بھی محفوظ ہونے چاہئیں، لیکن ہر گاؤں، ہر خاندان اور ہر زمین کی اپنی ایک زمینی حقیقت ہوتی ہے۔
لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ:
✅ زبردستی تقسیم کے بجائے رضاکارانہ نظام اپنائے
✅ خاندانوں کی باہمی رضامندی کو اہمیت دے
✅ مقامی روایات اور سماجی حقائق کو سمجھے
✅ فیلڈ اسٹاف کو غیر ضروری دباؤ سے بچائے
✅ تدریجی اور مشاورتی اصلاحات متعارف کروائے
کیونکہ زمین صرف رقبہ نہیں ہوتی…
یہ خاندانوں کے رشتوں، روایات اور نسلوں کی کہانی بھی ہوتی ہے۔

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E کالعدم قرار۔وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو غیر آئینی (...
16/05/2026

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E کالعدم قرار۔
وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو غیر آئینی (Ultra Vires) قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور جائیداد مالکان کیلئے انتہائی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
سیکشن 7E کیا تھا؟
فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کروائے گئے سیکشن 7E کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ایک سے زائد جائیداد موجود ہو، تو حکومت یہ تصور کرتی تھی کہ اس جائیداد سے اس کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے برابر آمدن حاصل ہو رہی ہے، چاہے حقیقت میں کوئی کرایہ یا آمدن نہ ہو۔ اسی فرضی آمدن پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔
آئینی تنازع کیا تھا؟
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت وفاق صرف "آمدن" پر ٹیکس لگا سکتا ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ اس لیے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکشن 7E دراصل پراپرٹی ٹیکس تھا جسے انکم ٹیکس کا نام دیا گیا۔
عدالت کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سیکشن 7E وفاقی حکومت کے آئینی اختیارات سے تجاوز تھا، لہٰذا یہ قانون آئین سے متصادم ہے۔
یہ فیصلہ جائیداد مالکان کیلئے ایک بڑی قانونی اور مالی ریلیف سمجھا جا رہا ہے اور اس سے وفاق اور صوبوں کے ٹیکس اختیارات کی آئینی حد بھی واضح ہو گئی ہے

Address

Chamber No 16 Alama Iqbal Building District Courts Faisalabad
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 08:00 - 14:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923478675390

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Law Study posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share