Knowledge Of Law by Advocate Usman Goreja Fans

Knowledge Of Law by Advocate Usman Goreja Fans This is the page administrated by Advocate Usman Goreja,s Fans and followers.Mr.Usman Goreja is not

وہ آپ کو پاگل نہیں کہتے وہ آپ کو پاگل بنا کر دکھاتے ہیں 🥺نارسسٹ کبھی خود کنٹرول نہیں کھوتاوہ حالات ایسے بناتا ہے کہ آپ ک...
04/05/2026

وہ آپ کو پاگل نہیں کہتے وہ آپ کو پاگل بنا کر دکھاتے ہیں 🥺
نارسسٹ کبھی خود کنٹرول نہیں کھوتا
وہ حالات ایسے بناتا ہے کہ آپ کنٹرول کھو دیں
اور پھر اسی کو آپ کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
یہ کھیل خاموشی سے شروع ہوتا ہے اور خاموشی میں ہی آپ کو توڑ دیتا ہے۔

1. وہ اکیلے میں اشتعال دلاتا ہے
چھوٹی چھوٹی باتیں، ہلکی سی بے عزتی، حدوں کی خلاف ورزی۔
اتنا کم کہ باہر والوں کو کچھ نظر نہ آئے
مگر اتنا زیادہ کہ اندر ہی اندر آپ گھٹنے لگیں۔

2. آپ “درست طریقے” سے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں
آپ صبر کرتے ہیں، بات کرتے ہیں، نظرانداز کرتے ہیں۔
ہر بار سوچتے ہیں شاید اب بہتر ہو جائے۔

3. جب آپ ردِعمل نہیں دیتے، وہ شدت بڑھاتا ہے
خاموشی اسے وہ نہیں دیتی جو وہ چاہتا ہے۔
تو وہ مزید چبھنے لگتا ہے
زیادہ تلخ، زیادہ جان بوجھ کر۔

4. آخرکار آپ ٹوٹ جاتے ہیں
اس لیے نہیں کہ آپ کمزور ہیں
بلکہ اس لیے کہ آپ انسان ہیں۔

5. جیسے ہی آپ ردِعمل دیتے ہیں، وہ کردار بدل لیتا ہے
اب وہ پرسکون ہوتا ہے، معصوم بنتا ہے، حیران ہوتا ہے۔
"آپ کو کیا ہو گیا ہے؟"

6. اچانک ایک تماشائی بھی آ جاتا ہے
لوگ آپ کا ردِعمل دیکھتے ہیں
مگر وہ وجہ نہیں دیکھتے جو اس تک لے گئی۔

7. اب آپ صفائیاں دے رہے ہوتے ہیں
ایسی بات کی وضاحت جس کا کوئی گواہ نہیں۔
اور عجیب بات یہ کہ قصوروار آپ ہی لگتے ہیں۔

8. وہ آپ کے ردِعمل کو ثبوت بنا لیتا ہے
"دیکھیں، میں کیا برداشت کرتا ہوں۔"
اور لوگ مان بھی لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے بس وہی دیکھا۔

9. آپ خود پر شک کرنے لگتے ہیں
"کیا میں نے زیادہ ردِعمل دیا؟"
حالانکہ آپ نے خود کو جتنا روکا
شاید کوئی اور اتنا نہ روک پاتا۔

10. یہ چکر بار بار دہرایا جاتا ہے
کیونکہ اب آپ زیادہ محتاط ہو چکے ہیں،
زیادہ دبے ہوئے اور اس کے لیے زیادہ آسان۔

11. آپ کانٹوں پر چلنے لگتے ہیں
اپنے فطری جذبات کو بھی دباتے ہیں
صرف اس خوف سے کہ کہیں آپ کو ہی غلط نہ ٹھہرا دیا جائے۔

12. اور وہ؟
وہ خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتا ہے
لوگوں کو بتاتا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کتنا صبر کر رہا ہے۔

اس سب کو کہتے ہیں Reactive Abuse (ردِعملی بدسلوکی)
یہ صرف آپ کا ردِعمل نہیں تھا
یہ ایک ردِعمل تھا جسے پیدا کیا گیا تھا۔
آپ پاگل نہیں ہیں۔
آپ کو آپ کی حد سے آگے دھکیلا گیا تھا۔
اور یہ دونوں چیزیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
Author: Kai Vinci
#آواز #عثمان

Alhamdulillah 🙏Today marks the 14th Anniversary of my enrolment as a High Court Advocate ⚖️It has been a journey of dedi...
05/04/2026

Alhamdulillah 🙏
Today marks the 14th Anniversary of my enrolment as a High Court Advocate ⚖️
It has been a journey of dedication, hard work, and countless lessons. I am truly grateful to Allah Almighty for His blessings, and thankful to my respected seniors, colleagues, clients, friends, and family for their continuous support and trust throughout these years.
From the very first day to today, every step has strengthened my commitment to justice and the legal profession.
Looking forward to serving with the same passion, integrity, and professionalism in the years ahead, InshaAllah.
Usman Shoukat Goreja
Advocate High Court
U.S Goreja Law Associates (Since 2009)

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج‏ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے ...
03/02/2026

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج
‏ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے کہ کسی کے گھر بغیر اطلاع دیے، اچانک "آ ٹپکنا" بالکل درست ہے۔ کوئی کال نہیں، کوئی میسج نہیں، کوئی تصدیق نہیں...کہ بندہ گھر موجود بھی ہے کہ نہیں۔!
‏بس گھنٹی بجا دینا اور یہ توقع کرنا کہ آپ کو فوراً گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا، تازہ چائے ملے گی، اور بھرپور مہمان نوازی کی جائے گی...
‏بظاہر تو یہ بے ضرر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دوسرے شخص کے وقت، جگہ (Space)، اور ذہنی حالت سے شدید لاپرواہی ہے۔
‏آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ اس دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے...
‏• ہو سکتا ہے گھر میں صفائی نہ ہو...
‏• ہو سکتا ہے کوئی بیمار ہو...
‏• ہو سکتا ہے بچے ابھی ایک بھرپور "جنگ کے میدان" کے بعد سوئے ہوں...
‏• ہو سکتا ہے میزبان تھکا ہوا ہو، پریشان ہو، یا کسی کے لیے بھی "سماجی طور پر پیش ہونے" کے موڈ میں نہ ہو...
‏• ہو سکتا ہے ان کے کوئی منصوبے ہوں، کام کی ڈیڈلائن ہو، کوئی میٹنگ ہو، فیملی ٹائم طے ہو، کسی دوسرے مہمان کا انتظار ہو، یا وہ آخر کار سکون کے چند لمحے گزار رہے ہوں...
‏مگر آپ کا یہ 'اچانک' دورہ سب کچھ درہم برہم کر دیتا ہے!
‏حدود کا احترام کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی انسانی تہذیب ہے۔
‏ایک سادہ سا میسج، ایک چھوٹی سی کال، ایک "ارے، اگر میں کل یا کچھ گھنٹوں بعد آؤں تو کیا آپ فارغ ہیں؟" پوچھنا مشکل نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔
‏صرف چند گھنٹوں کی اطلاع بھی لوگوں کو تیاری کا موقع دیتی ہے اور انہیں ہاں یا نہ کہنے کا اختیار دیتی ہے، تاکہ وہ دباؤ کے بجائے سکون سے آپ کی میزبانی کر سکیں۔
‏لہٰذا، یہ بات واضح ہو:
‏بغیر بتائے اچانک آ جانا نہ تو اچھا لگتا ہے، نہ ہی یہ کوئی روایتی طریقہ ہے اور نہ ہی یہ محبت کا اظہار ہے... یہ سراسر بے احترامی ہے!
‏یہ اصول طے ہونا چاہیے:
‏آپ اجازت کے بغیر کسی کے گھر نہیں پہنچتے۔ آپ پوچھتے ہیں، آپ تصدیق کرتے ہیں، اور پھر آپ ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاکہ آپ کی موجودگی ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس
دلائے...
#آوازعٹمان

جتنا دیکھ آئے ہیں، اچھا ہے، یہی کافی ہےاب کہاں جائیے، دُنیا ہے، یہی کافی ہےاب ضروری تو نہیں ہے کہ وہ پَھل دار بھی ہوپیڑ ...
19/12/2025

جتنا دیکھ آئے ہیں، اچھا ہے، یہی کافی ہے
اب کہاں جائیے، دُنیا ہے، یہی کافی ہے

اب ضروری تو نہیں ہے کہ وہ پَھل دار بھی ہو
پیڑ سے شاخ کا رِشتہ ہے، یہی کافی ہے

لاؤ میں تُم کو سمندر کے علاقے لِکھ دوں
میرے حِصّے میں یہ قطرہ ہے، یہی کافی ہے

کیا ضروری ہے کبھی تُجھ سے مُلاقات بھی ہو
تُجھ سے مِلنے کی تمنّا ہے، یہی کافی ہے
#آوازعثمان

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم❤️🙏💙
26/10/2025

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
❤️🙏💙

وہ ایسا کیس ہے اک میراجیتا بھی جس کو میں ہارا بھی #آوازعثمان
19/09/2025

وہ ایسا کیس ہے اک میرا
جیتا بھی
جس کو میں ہارا بھی
#آوازعثمان

مانع وحدت عارف نشود کثرت خلقبیشتر خلوت این طایفه در انجمن استصائب تبریزیدوسرے لوگوں کی موجودگی ایک عارف کی تنہائی میں کو...
09/07/2025

مانع وحدت عارف نشود کثرت خلق
بیشتر خلوت این طایفه در انجمن است
صائب تبریزی

دوسرے لوگوں کی موجودگی ایک عارف کی تنہائی میں کوئی خلل نہیں ڈالتی- یہ لوگ کسی انجمن میں ہو تو بھی زیادہ تر تنہا ہی ہوتے ہیں

لوگ اکثر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ زمانے نے ہمیں خدا سے دور کر دیا ہے، جدید زندگی بہت میکینیکل ہو گئی ہے جس میں خدا کی طرف توجہ دینا مشکل ہو گیا ہے- یہ شکایت نئی نہیں ہے، ہر زمانے کے لوگوں کو یہی شکایت رہی ہے- حقیقت یہ ہے کہ زندگی جس قدر آسان پچھلی دو صدیوں میں ہو گئی ہے اس قدر آسان پہلے کبھی نہیں رہی تھی-

صائب اسی شکایت کا جواب دے رہے ہیں کہ جن کے دل میں اللہ کی محبت ہوتی ہے، ان کی اللہ کی طرف لو لگانے کی قابلت لوگوں کی کثرت کی وجہ سے متاثر نہیں ہوتی- وہ بھیڑ بھاڑ میں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور دن بھر کی مصروفیت میں بھی اللہ کی طرف اس طرح دھیان لگائے رکھتے ہیں گویا وہ اکیلے ہوں- یوں بھی جن کے دل میں دنیا کی محبت نہ ہو انہیں دنیا کی بھیڑ بھاڑ، چک و چوند، اور مادیت پسندی میں دلچسپی نہیں ہوتی، انہیں بڑی کاریں، بڑے گھر، زرق برق کپڑے متاثر نہیں کرتے، اور نہ ہی جنس مخالف انہیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے- وہ دنیا کے کاروبار میں شریک بھی ہوتے ہیں لیکن صرف ضرورت کی حد تک، لیکن وہ دنیا کے کاروبار کو ہی زندگی کا واحد مقصد نہیں سمجھ لیتے-

غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا میں درویشی کے لیے دنیا کو تیاگ دینا نہ صرف ضروری نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا درویشی کا انتہائی سطحی، انتہائی ابتدائی درجہ ہے- دیکھا جائے تو سنیاسی بن جانا اور دنیا چھوڑ کر جنگلوں میں نکل جانا ایک طرح سے دنیا سے فرار حاصل کرنا ہے، دنیا میں رہ کر دنیا سے بیگانہ ہو جانا ہی اصل درویشی ہے- نفسانی خواہشات سے فرار حاصل کرنے کے لیے جنگلوں میں چلے جانا اپنی شکست تسلیم کر لینا ہے- اصل بہادری نفسانی محرکات کی موجودگی میں نفسانی خواہشات پر اس قدر کنٹرول حاصل کر لینا ہے کہ ہم اس ماحول میں بھی رہیں لیکن اپنی مقررہ حد سے آگے نہ بڑھیں

نفسانی خواہشات سے مراد صرف جنسی خواہشات ہی نہیں ہیں۔ دولت کی خواہش، اچھی کار کی خواہش، بڑی سکرین کے فون کی خواہش، بڑے گھر کی خواہش، یہ سب نفسانی خواہشات ہیں- دولت، اچھی کار، بڑی سکرین کا فون، بڑا گھر، یہ چیزیں بری نہیں ہیں- لیکن اگر ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اپنی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے تو پھر یہ چیزیں بری ہو جاتی ہیں- اگر ہم ان چیزوں کی خواہش اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے ہماری زندگی آرام دہ ہو جائے گی اور ہم اپنے مشن کو بہتر طور پر مکمل کر پائیں گے، اگر ہم ملکی، اخلاقی، معاشرتی، مذہبی، اور ذاتی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے یہ چیزیں حاصل کر سکتے ہیں تو ان چیزوں کے حصول کی خواہش میں کوئی برائی نہیں ہے- لیکن اگر ان چیزوں کو حاصل کرنے کی خواہش اس لیے ہے کہ پھر لوگ ہمیں امیر سمجھیں گے، ہمیں 'بڑا آدمی' سمجھیں گے، تو پھر جائز دولت سے ان کا حصول بھی ہماری شخصیت کو مسخ کر سکتا ہے- اور اگر ان چیزوں کے حصول کے لیے ہمیں مروجہ قوانین کو توڑنا پڑتا ہے، ملاوٹ کرنا پڑتی ہے، رشوت لینا یا دینا پڑتی ہے، دھوکہ دینا پڑتا ہے، گھٹیا مال سپلائی کرنا پڑتا ہے، تو پھر ان چیزوں کے حصول کی خواہش اپنی شخصیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے

اگر ہم جنسی خواہشات کی بات کریں تو اپنی جنسی خواہشات پر کنٹرول کرنا بھی معرفت کا ایک درجہ ہے- اپنی جنسی خواہشات کو چھپانے کے لیے دوسروں پر یہ پابندیاں لگانا کہ ہمیں جنس مخالف بالکل نظر نہ آئے اس بات کا اعتراف کرنا ہے کہ ہمیں اپنی جنسی خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں ہے- معرفت یہ ہے کہ ہم جنس مخالف کی موجودگی میں اپنے اوپر اس قدر کنٹرول رکھیں کہ ان سے روزمرہ کے تعلقات بھی رکھیں، دوستانہ لہجے میں بات چیت بھی کریں، لیکن کبھی دل میں یہ خیال نہ آنے دیں کہ ہمیں ان کے جسم میں کوئی دلچسپی ہے، انہیں یہ احساس نہ ہونے دیں کہ ان کا تعلق جنس مخالف سے ہے اور ان کی موجودگی ہمارے لیے ہیجان کا باعث ہے- اپنے جنسی ہیجان پر کنٹرول کرنے کے بجائے دوسروں پر یہ زبردستی کرنا کہ وہ ہمیں نظر نہ آئیں، یہ وہ اپنے جسم کو چھپا کر رکھیں دوسروں کو یہ بتانا ہے کہ ہم ابھی انسان نہیں بن پائے، ابھی ہم جانور ہی ہیں جنہیں اپنے جنسی رویوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا

معرفت کا مطلب صوفی بن جانا، داڑھی رکھ لینا، ہاتھ میں تسبیح پکڑ لینا اور نماز پڑھ لینا نہیں ہے- معرفت کا مطلب یہ پہچاننا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ یہ سمجھ لینا تو آسان ہے کہ زندگی کا مقصد بڑا گھر، بڑی گاڑی، بڑا ٹی وی، بڑا سیل فون نہیں ہے (اگرچہ لوگوں کی اکثریت اس مقام تک بھی نہیں پہنچ پاتی)۔ لیکن اگر ہماری زندگی کا مقصد صرف جنت کی لالچ ہے اور اس لالچ میں ہم درویشی اختیار کر لیتے ہیں تو یہ معرفت نہیں ہے- نیکی جنت کی لالچ میں کرنا ایسا ہی ہے جیسا کسی بچے کا ٹافی کی لالچ میں نماز پڑھنا- اصل معرفت یہ ہے کہ ہم اچھے کام اس لیے کریں کہ وہ اچھے کام ہیں، اس لیے نہیں کہ ان کے بدلے میں ہمیں جنت ملے گی- اچھے کاموں کے بدلے ہمیں جنت ضرور ملے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے، لیکن عارف اچھے کام اس لیے نہیں کرتا کہ اسے جنت میں جانا ہے، بلکہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے اللہ کو خوش کرنا ہے-

جب آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ زندگی کا مقصد اچھے گھر، اچھی کار نہیں ہے، زندگی کا مقصد محض جنت میں جانا نہیں ہے بلکہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے، تو پھر آپ کو یہ بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ خدا اس وقت خوش ہوتا ہے جب اس کی مخلوق خوش ہوتی ہے- پھر آپ لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے، ان کے ساتھ بدتہذیبی نہیں کرتے، انہیں حقارت سے نہیں دیکھتے۔ پھر آپ خیرات اس لیے نہیں دیتے کہ اس کے بدلے میں آپ کو جنت میں محل ملے گا، بلکہ اس لیے دیتے ہیں کہ اس سے لوگوں کی ضروریات پوری ہوں گی جس سے لوگ خوش ہوں گے، اور لوگ خوش ہوں گے تو اللہ بھی آپ سے خوش ہو گا کہ آپ نے اس کی مخلوق کو خوشی فراہم کی-

لیکن جب آپ اس مقام پر پہنچتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ آپ تنہا ہیں- زیادہ تر لوگ آپ کی طرح نہیں سوچتے- زیادہ تر لوگ نفسا نفسی میں مبتلا ہیں- لوگوں کی اکثریت مادیت پرستی میں مبتلا ہے خواہ وہ زبان سی کتنا ہی اقرار کرتے ہو کہ وہ نیک اور پاکباز ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو نمازی اور پرہیزگار کہتے ہیں ان کی اکثریت بھی دکھاوا کر رہی ہوتی ہے- لوگ روزہ رکھتے ہیں تو دوسروں کا جینا حرام کر دیتے ہیں، کوئی ضعیف، کوئی بیمار، کوئی غیر مسلم (یا کوئی مسلم) دن کے وقت کھاتا پیتا نظر آ جائے تو اس کی جان لینے کو تل جاتے ہیں حالانکہ اللہ نے عبادت کے بارے میں لوگوں کو چھوٹ دے رکھی ہے۔ لوگ حج کرنے جاتے ہیں تو اس لالچ میں جاتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے، اس لیے نہیں جاتے کہ یہ اللہ کا حکم ہے- کچھ لوگ جب حج سے واپس آتے ہیں تو دوسروں کو یہ تاٹر دینے لگتے ہیں کہ اب وہ گناہوں سے پاک ہو گئے ہیں اور انہیں دوسروں پر تنقید کا حق مل گیا ہے۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو حاجی کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں اور لوگوں کو نماز نہ پڑھنے کے طعنے دے کر ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں- کچھ لوگ قربانی کا جانور خریدتے ہیں تو اس کی قیمت کا اشتہار سوشل میڈیا پر چلاتے ہیں تاکہ سب کو یہ علم ہو جائے کہ انہوں نے سب سے مہنگا جانور خریدا ہے

آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ لوگوں میں تن تنہا ہیں- صائب بھی انہی لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں کہ ایسے لوگ محفل میں بھی تنہا ہوتے ہیں- اس لیے نہیں کہ وہ کسی سے بات چیت نہیں کرتے- ظاہراً وہ دنیاوی معاملات میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں- لیکن ان کی نظر، ان کی سوچ، ان کی فریکونسی اس قدر بلند ہوتی ہے
کہ وہ باقی لوگوں میں گھل مل ہی نہیں سکتے

#أوازعثمان

سقراط اگر زہر نہ پیتا تو مر جاتا
23/06/2025

سقراط اگر زہر نہ پیتا تو مر جاتا

اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے... اسٹ...
24/05/2025

اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...

اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی..

کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں..؟

سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..

ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں..؟

سب نے کہا بہت برے..

پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..

ٹیچر پھر ہنس دیئے..

صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے..؟

سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..؟

ٹیچر نے کہا ادب...

مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...

استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا..

انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...

یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...

اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو..

جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...

اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا...

With

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 13:00

Telephone

03009666160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge Of Law by Advocate Usman Goreja Fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Knowledge Of Law by Advocate Usman Goreja Fans:

Share