01/09/2022
قانون کے طلباء کےلیے
(مکرر)
تحریر: (سراج وزیر پروفیسر گومل لاء کالج)
میری اپنے طلباء سے کلاس میں بحث ہونا ایک معمول ہے، کچھ لوگوں کو یہ اچھا لگ سکتا ہے اور کبھی کبھی بے مقصد بھی لیکن میرا ماننا ہے کہ بے فائدہ ہرگز نہیں۔ اگر کسی جگہ آپ کو مضمون سے متعلق سوال اٹھانے کی بھی اجازت نہ ہو تو میں اسے کلاس نہیں سمجھتا۔ اس پوسٹ کا مقصد چند معروضات پیش کرنا ہے جو میرے بطور ایک قانون کے طالب علم تجربے سے متعلق ہیں۔
1. پہلی بات یہ کہ کوئی شاگرد کمزور نہیں ہوتا، یہ اس کی بنیاد ہوتی ہے جو پیچھے سے کمزور آرہی ہوتی ہے اور اس پر کام کیے بناء آگے سیکھنے کی استعداد اور رفتار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ایک لیکچر میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ لیکچرر آپ کو وہ سارا بیک اپ بھی فراہم کردے جو اس مرحلے پر آگے بڑھنے میں مدد دے۔ اس کو میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے قانون کے 'متن' پر تو بہت زیادہ زور دیا جاتا اور سیکشن وائز طلباء اسے پڑھتے ہیں لیکن 'اصولوں' کی بابت کوئی خاص بحث نہیں ہوتی۔ مثلاً تعزیرات پاکستان کے دفعات کو چاٹ لینا کمال نہیں اگر ان کے پیچھے فوجداری قانون کے عمومی اصول آپ کی نظروں سے اوجھل ہوں۔ اس چیز کو میں اکثر کانسپٹ کہا کرتا ہوں، اگر اس پر آپ کی گرفت مضبوط ہوجائے یعنی principles of criminal law پر، تو دنیا کا کوئی بھی کریمینل ایکٹ آپ آسانی کے ساتھ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں یہ چیز یہاں اگنور کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے جو مختلف قوانین کا ٹیکسٹ ہے، اسے سمجھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔
2. دوسری چیز زبان ہے۔ ہمارے طلباء انگریزی کو ہوا (bowww) سمجھتے ہیں اور بعینہ یہی وجہ ہے کہ میں پچھلے ڈیڑھ دو سال سے اردو میں پوسٹس تحریر کرتا ہوں تاکہ زیادہ پڑھنے والے ہوں اور سمجھ آسکے وگرنہ اس میں ٹائیپنگ اور ترجمہ دونوں دقتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ پھر انگریزی بھی وہ نہیں جو اخبارات و رسائل کی ہوتی ہے، یاد رکھیں ہر مضمون کا ایک مخصوص ذخیرہ الفاظ ہوتا ہے اور بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ سو دو سو بنیادی اصطلاحات سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور قانون کے شعبے میں تو یہ افضل بہ طریق اولی ہے کیونکہ ایک لفظ یا کامہ یا فل اسٹاپ سے پورا مفہوم بدل جاتا ہے۔ سو اس کو بار بار پڑھنا بھی ضروری ہے اور کوئی سی بھی قانونی لغت (آج کل تو نیٹ پر بھی دستیاب ہے) اپنے ساتھ رکھنا اور اس کی ورق گردانی کرنا بہت ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی مشورہ جنرل انگریزی کے بارے بھی ہے۔
میں نے جب بی اے میں لاء کا مضمون رکھا تو پھر کہیں اور نہیں دیکھا، اور تب اردو کی 'قانونی لغت' (از ڈاکٹر تنزیل الرحمان) خرید لی کیونکہ انگریزی کی استعداد بھی اتنی نہیں تھی اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ کوئی 'لاء ڈکشنری' بھی ہوتی ہے، اس کی ورق گردانی بہت مفید ثابت ہوئی۔
3. تیسری چیز اصول قانون یعنی jurisprudence کو سمجھنا ہے۔ یہ فہم اصول قانون اور اس کے فلسفے کو سمجھنے کی کلید ہے۔ اس لیے کسی بھی اچھی کتاب جو آپ کے سمجھنے کیلیے آسان ہو اور بھلی لگے، اس کو ضرور پڑھ لیں۔ اگر دلچسپی برقرار رہے تو پھر آپ مزید مطالعہ بھی کرسکتے ہیں اور نامور جیورسٹس کو بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن وہ ایک ایڈوانس اسٹیج ہے، فی الحال اس کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
4. اب جب آپ ان باتوں پر دھیرے دھیرے گپ شپ میں عمل کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے ذہن کی گرہیں کھل رہی ہیں۔ اب وہ وقت آگیا ہوگا کہ آپ آپنے کامن سینس اور فہم قانون کو کام میں لاتے ہوئے اپنی رائے قائم کرسکتے ہوں گے۔ یاد رہے، میں ہمیشہ دہراتا رہتا ہوں، قانون کی بنیاد کامن سینس پر ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی قانونی ضابطہ ایسا ہو جو انسان کی عقل اور سمجھ بوجھ کو attract نہ کرے، اس کی بنیاد reason پر ہے، دلیل پر ہے۔ اور اگر ایسا کوئی ضابطہ بن بھی جائے تو اسے خلاف عقل، منطقی طور پر غلط وغیرہ ثابت کرکے طاق نسیاں میں ڈال دیا جاتا ہے، وہ چل نہیں پاتا۔ سو کامن سینس سے کام لینا بہت ضروری ہے۔
5. کوئی بھی قانونی مسئلہ یا سوال سامنے آجائے چاہے وہ امتحان میں ہو یا کسی اور فورم پر تو دو باتوں کا انتہائی خیال رکھنا ضروری ہے۔ پہلا سائل کے سوال کو سمجھنا کہ پوچھا کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ سوال میں آپ اضافہ نہ کریں بلکہ جو پیرامیٹرز یا حقائق و واقعات سوال میں موجود ہیں انھی تک محدود رہیں۔ دوسری بات جواب ڈھونڈھتے وقت سوال کے مندرجات کے ہر پہلو پر نظر رکھیں اور اس سے متعلقہ اصول و قوانین کا بغور جائزہ لیں۔ بار بار پڑھ کر جائزہ لیں تاکہ اس عملی سچوئیشن پر قانون کا پراپر اطلاق ہو سکے اس طرح آپ قانونی رائے دیتے ہوئے بے شمار غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔
6. قانون کی تشریح و تعبیر کے لیے اس کے فہم کے لیے جب بھی موقع ملے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے پڑھیں۔ یہ فیصلے سالوں مہینوں کی محنت شاقہ کے بعد اور مختلف قانون دانوں کی کاوشوں اور ریاضت کا نچوڑ ہوتے ہیں ۔ قانون بارے شرح صدر ہونے کا اس سے زیادہ مفید ذریعہ اور کوئی نہیں اور یہ آپ کا قوانین بارے علم اور زبان دانی میں مہارت کے لیے بھی اکسیر ثابت ہوں گے ۔ عملی اعتبار سے فایدہ یہ ہے کہ قانون کا وہی مفہوم صحیح ہوتا ہے جو عدالت متعین کرے اور ریاستی نظام میں اسی پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
سو باتوں کی ایک بات، اپنے اساتذہ کا ادب کریں، ان سے سیکھیں اور شکر گزاری اختیار کریں۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ آندھی تقلید کریں لیکن اس کی مسند پر اسے ہمیشہ سمجھیں۔ یہ میرا تجربہ ہے کہ اس سے علم کا نور حاصل ہوتا ہے، بھلے وہ کم ہو لیکن کفایت کرتا ہے۔ اسی کو برکت کہا جاتا ہے، کوئی چیز زیادہ ہو اور کوئی چیز 'کافی' ہو، اس میں فرق ہے۔ الحمدللہ میرے استاد جانتے ہیں کہ میں آج بھی ان کی جوتیاں سر پر واقعتاً رکھ سکتا ہوں۔
آخری بات، روم ایک دن میں نہیں بنا تھا۔ قانون ایک بے کنار سمندر ہے اور کوئی بھی اس میں حتمیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نہ ہی آپ اور نہ ہی کوئی مہان جیورسٹ۔ اس لیے قطرہ قطرہ دریا کے اصول پر کاربند رہیں اور گاہے بگاہے مطالعہ کی عادت رکھیں۔ ایکٹ کا اصل متن ہمیشہ سامنے رکھیں، سیکشنز کو بار بار پڑھیں، کلاس میں یا کتابوں سے رف نوٹس وغیرہ لیا کریں، کتابیں خریدنے کی عادت ڈالیں یا نیٹ سے ڈاؤنلوڈ کریں اور زیادہ نہیں تو گھنٹہ بھر روزانہ مطالعہ کی عادت ڈالیں بقیہ اوقات میں موج شغل کریں، اپنی ٹیکسٹ بک کو بںظر غائر ضرور پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں، کوئی سوال ہو تو کسی سے پوچھا کریں یا خود نیٹ پر جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کریں۔
گائیڈ سے چھٹکارا پائیں اگر کوئی اچھی گائیڈ یا نوٹس مل جائیں تو بھی اسے سائیڈ بائی سائیڈ پڑھیں، اصل ٹیکسٹ کو ضرور پڑھیں اور کلاس میں کیے گئے نوٹس بھی۔ نقل پر لعنت بھیجیں، یہ راستہ آپ کو کہیں لے کر جانے والا نہیں، خود بھی اور دوستوں کو بھی اصرار کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے منع کریں۔ فرسٹ ڈویژن آرام سے آسکتی ہے باقی مارکس کے چکر کو بھی گولی ماریں۔ انشاء اللہ آپ ناکام نہیں ہوں گے ۔
و ما علینا الاالبلاغ۔