Azam & Associates

Azam & Associates ⚖️ Legal Services | Advocate High Court
👨‍⚖️ Azam Jan Baloch
📍 District Court Dera Ghazi Khan
📞 0330-9233408 | 0323-6432920

If U want to be filer then contact Us.
28/08/2026

If U want to be filer then contact Us.

27/08/2026

19 مارچ 2017 کی وہ شام، اسلام آباد کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن کے تھانہ میں  ایک استاد پر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن راولپ...
27/08/2026

19 مارچ 2017 کی وہ شام، اسلام آباد کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن کے تھانہ میں ایک استاد پر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن راولپنڈی/اسلام آباد میں تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات اور پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 07 درج کر کے انوار احمد کو گرفتار کیا گیا ۔
مقدمے کی کارروائی آگے بڑھی اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 8 جنوری 2021 کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اُسے دفعہ 295-A کے تحت 10 سال قیدِ با مشقت اور لاکھ روپے جرمانے (عدم ادائیگی پر 6 ماہ قیدِ محض) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(g) کے تحت 5 سال قیدِ با مشقت اور 50,000 روپے جرمانے (عدم ادائیگی پر 6 ماہ قیدِ محض) کی سزا سنائی۔ اس سزا کی منسوخی کی اپیل تاحال عدالتِ عالیہ کے سامنے زیرِ التوا تھی۔
سال 2025 میں، اڈیالہ جیل کے بند دروازوں کے پیچھے سے انوار احمد نے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ اُسے جیل میں حاصل ہونے والی قانونی رعایتوں (Remission) کا فائدہ دیتے ہوئے اُس کی رہائی کی راہ ہموار کی جائے اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے اُس کی کاٹی گئی سزا کی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔ 24 جولائی 2025 کو جب معزز جج محمد آصف کی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو پٹیشنر کے فاضل کونسل نے قانونی دلیلوں کا ایک بظاہر مضبوط تانا بانا بُنا۔ اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ پٹیشنر کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل ہی نہیں تھا اور تین مختلف ملزمان کے خلاف الگ الگ ثبوتوں کے باوجود ایک ہی مشترکہ چالان پیش کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پٹیشنر کی کلاس روم میں دی گئی 40 منٹ کی ایک تقریر کو گواہ نمبر 4 (جو کہ ایک طالب علم تھا) نے بغیر کسی قانونی اجازت کے ریکارڈ کیا، اور اُس 40 منٹ کے لیکچر میں سے صرف 4 منٹ اور 49 سیکنڈ کا ایک کٹا پھٹا کلپ سیاق و سباق سے ہٹا کر ملزم کے خلاف استعمال کیا گیا، جبکہ اگر پورا لیکچر سنا جائے تو اس سے کوئی جرم نہیں بنتا۔
وکیلِ صفائی نے فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت وفاقی حکومت کی ضروری منظوری کے بغیر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-A کا اطلاق قانونی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کلاس روم میں طالب علموں کی علمی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے دی گئی تقریر آزادئ اظہارِ رائے کی حفاظت میں آتی ہے اور اسے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(g) کے تحت دہشت گردی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مزید برآں، مبینہ وقوعہ کی صحیح تاریخ اور وقت کا آج تک کوئی پتہ نہیں، مقدمے میں کسی توہین آمیز مواد کی اشاعت یا پھیلاؤ کا کوئی عنصر شامل نہیں کیونکہ تفتیش کے دوران ملزم کے قبضہ سے کوئی اینڈرائیڈ موبائل فون ملا اور نہ ہی اُس کا کوئی فیس بک یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے تعلق ثابت ہوا، کالج انتظامیہ یا کسی گواہ نے کوئی باقاعدہ تحریری شکایت درج نہیں کرائی، اور ویڈیو اور لیکچر کے تحریری مسودے (Transcript) میں شدید تضادات ہیں۔
اس محاذ آرائی کے جواب میں، ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹیٹ کونسل نے سخت قانونی مؤقف اختیار کرتے ہوئے دلائل دیے کہ ریکارڈ پر ایسا ٹھوس اور جرم سے جوڑنے والا مواد موجود ہے جو بنیادی نظر میں پٹیشنر کو اس سنگین جرم سے ملاتا ہے۔ انہوں نے ایک انتہائی اہم اور فیصلے کا رخ موڑنے والی دلیل دی کہ چونکہ پٹیشنر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت سزا سنائی گئی ہے، اس لیے وہ قانون کے مطابق سزا میں کسی قسم کی چھوٹ یا رعایت (Remission) کا حقدار ہی نہیں ہے، لہٰذا اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل غور سے سنے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اڈیالہ جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، 16 جولائی 2025 تک انوار احمد 8 سال، 2 ماہ اور 26 دن کی سزا جیل میں کاٹ چکا تھا اور جرمانے کی ادائیگی سے مشروط اُس کی متوقع رہائی کی تاریخ 20 اپریل 2027 مقرر کی گئی تھی۔ لیکن اس تمام تر قانونی کشمکش کا حتمی فیصلہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 21-F کے سخت اور بے لچک الفاظ میں چھپا ہوا تھا۔
اس قانونی شق کے مطابق، کسی بھی دوسرے قانون یا جیل قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا یافتہ کسی بھی شخص کو سزا میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی، بجز اس کے کہ وہ چھوٹ خود حکومت کی طرف سے دی جائے یا پھر ملزم قانون کی نظر میں ایک "بچہ" (Child/Juvenile) ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون قیدیوں کو حسنِ اخلاق، تعلیمی سرگرمیوں یا جیل میں اچھے رویے کی بنیاد پر ملنے والی عام یا خصوصی رعایتوں کے راستے مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، اور چونکہ پٹیشنر نابالغ قیدی کی تعریف میں نہیں آتا، اس لیے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ اس تمام تر بحث و مباحثہ کے بعد جسٹس محمد آصف نے انوار احمد کی تمام دلا ئل کے باوجود، انسدادِ دہشت گردی کے سخت قانون کی روشنی میں اُس کی آئینی درخواست کو مسترد کر دیا۔
———————————

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) اور ہائی کورٹس کے ریکارڈز کے مطابق، ٹرائل کورٹس سے جن ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی، ان میں سے تقریباً 70 سے 80 فیصد افراد ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ آف پاکستان سے عدم ثبوت، تفتیش میں نقائص، اور گواہوں کے تضادات کی بنیاد پر بری (Acquitted) کر دیے گئے۔ بری ہونے والوں میں آسیہ بی بی، وجیہہ الالحسن، ڈاکٹر یونس شیخ، شفقات ایوب اور شگفتہ کوثر جیسے نامور مقدمات شامل ہیں، جہاں اعلیٰ ترین عدالتوں نے ثبوتوں کی عدم موجودگی اور جھوٹے ادعا پر ملزمان کو تمام الزامات سے پاک قرار دیا۔
جہاں تک پلانٹڈ (Planted Cases) یعنی جھوٹے، من گھڑت اور ذاتی عناد پر مبنی مقدمات کا تعلق ہے، تو سرکاری و عدالتی دستاویزات اس سچائی کی تصدیق کرتی ہیں۔ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے پیش کی گئی صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس اور پولیس کی رپورٹس میں یہ اعتراف کیا گیا کہ درج ہونے والے مقدمات میں سے ایک بڑی تعداد (کچھ صوبوں میں 50 فیصد سے زائد) ذاتی دشمنیوں، زمین کے تنازعات، کاروباری رقابت، خاندانی جھگڑوں یا مذہبی منافرت کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ کا غیرت کے نام پر قتل سے متعلق فیصلہ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر ق...
25/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ کا غیرت کے نام پر قتل سے متعلق فیصلہ

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمہ میں راضی نامہ مسترد کردیا

جسٹس سید فرہاد علی شاہ ملزم محمد ناصر اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں


ملزمان پر اٹھارہ سالہ نجماں مائی کو غیرت کے ما۔پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام ہے


غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے قانونی نکتہ ہے کردیا


غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ


قانون کسی شخص کو غیرت کے نام پر کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، فیصلہ


نہ ملکی قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ


غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل نو میں دیے گئے حقِ زندگی اور آزادی کے منافی ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ

24/08/2026

بیوی کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی صورت میں بیوی کا شوہر کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے سے انکار (RECALCITRANCE) نافرمانی نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
PLD 2026 SUPREME COURT 302

24/08/2026

ہوٹل میں پکڑے جانے والے
جوڑوں / Couples / پر پولیس
مقدمہ درج نہیں کر سکتی
2024 PLRJ 1972

20/08/2026

کسی کو فحش (گندی) تصاویر اور ویڈیوز بھیجنا یا ان باکس کرنا
ایک قابلِ سزا جرم ہے
جس کی سزا 7 سال قید ہے۔
22(1) of PECA Act 2016

18/08/2026

مزید قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں ۔

17/08/2026

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔

حسین جمال و دیگر بنام وفاقِ پاکستان و دیگران
آئینی درخواستیں نمبر 1585 و 1587/2026 اور 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد
فاضل جج: جناب جسٹس ارباب محمد طاہر
فیصلہ: 06.08.2026

آئینِ پاکستان، 1973—آرٹیکلز 4، 9، 25 اور 33—ایمیگریشن آرڈیننس، 1979—ایمیگریشن رولز، 1979—وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974—بیرونِ ملک سفر کا حق—ائیرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنا—ایف آئی اے امیگریشن حکام کے اختیارات—دائرۂ اختیار—مساواتِ شہری—علاقائی و جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—اختیارات سے تجاوز۔

حقِ سفر—بنیادی حق: بیرونِ ملک سفر کرنا شہری کی آزادی کا حصہ اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی سفر محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی، روزگار، تعلیم، کاروبار اور ایک بامقصد زندگی کے حصول سے منسلک ہے۔ لہٰذا اس حق پر پابندی صرف واضح قانونی و آئینی اختیار کے تحت ہی عائد کی جاسکتی ہے۔

ایمیگریشن کلیئرنس—محافظِ تارکینِ وطن کا قانونی دائرۂ اختیار: ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور اس کے تحت بنائے گئے ایمیگریشن رولز، 1979 نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی تصدیق، جانچ، پروسیسنگ اور کلیئرنس کا مکمل قانونی نظام وضع کیا ہے۔ قانون نے اس مقصد کے لیے Protector of Emigrants کو مخصوص اتھارٹی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ اتھارٹی شہری کے روزگار، ملازمت کے معاہدے، اہلیت، دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کے بعد رجسٹریشن اور کلیئرنس جاری کرتی ہے۔

ایف آئی اے کا اختیار—تحقیق، ریگولیشن نہیں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔ تحقیقِ جرم اور کسی قانونی سرگرمی کی ریگولیشن دو مختلف تصورات ہیں۔ ایمیگریشن کی ریگولیشن کا اختیار Protector of Emigrants کو دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا متعلقہ اختیار مخصوص جرائم کی تفتیش تک محدود ہے۔

قانونی اختیار کے بغیر انتظامی کارروائی—اختیار سے تجاوز: ہر سرکاری ادارہ قانون کی پیداوار ہے اور صرف وہی اختیار استعمال کرسکتا ہے جو قانون نے اسے صراحتاً یا لازمی طور پر تفویض کیا ہو۔ شہری کے حقوق کو متاثر کرنے والی ہر کارروائی کا کوئی نہ کوئی واضح قانونی ماخذ ہونا ضروری ہے۔ اگر قانونی اختیار موجود نہ ہو تو کارروائی اختیار سے تجاوز (ultra vires) اور بلاجواز قانونی اختیار تصور ہوگی، خواہ اسے کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو۔

ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف کو اپیل یا نظرِ ثانی کا اختیار حاصل نہیں: اگر Protector of Emigrants نے قانون کے مطابق کسی شہری کے کاغذات، ملازمت، ویزا اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کرکے اسے ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن دے دی ہو تو ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف محض ائیرپورٹ پر موجود ہونے کی بنیاد پر اسی معاملے کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ نہ ہی وہ Protector of Emigrants کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتا ہے، کیونکہ قانون میں ایسا کوئی اختیار فراہم نہیں کیا گیا۔

قانونی نظام کو بے معنی بنانے سے گریز: اگر ایف آئی اے کو Protector of Emigrants کی جانب سے پہلے ہی کی گئی جانچ کے بعد دوبارہ وہی معاملات جانچنے اور مختلف نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار تسلیم کرلیا جائے تو اس سے Protector of Emigrants کے پورے قانونی نظام کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی اور قانون کے تحت مقرر کردہ رجسٹریشن کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ قانون کی ایسی تشریح سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی قانونی شق یا قانونی طریقۂ کار کو بے اثر یا غیر مؤثر بنا دے۔

پیشگی یا قیاسی شبہ—بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے: محض اس بنیاد پر کہ ماضی میں کسی مخصوص طبقے یا اسی نوعیت کے افراد نے بیرونِ ملک جا کر قانون کی خلاف ورزی کی، کسی موجودہ شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔ قانون کسی حقیقی خلاف ورزی پر کارروائی کی اجازت دیتا ہے، مگر محض قیاسی شبہ (predictive suspicion) کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔

علاقائی یا جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—آئین کے منافی: پاکستان میں آئینی طور پر صرف ایک قسم کی شہریت ہے، یعنی پاکستانی شہریت۔ صوبہ، ضلع، علاقہ، نسل، قبیلہ یا رہائش شہریوں کی الگ الگ آئینی کلاسز تشکیل نہیں دیتے۔ ہر شہری مساوی عزت، احترام اور قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔ کسی شہری کے ساتھ محض اس کے ضلع، صوبے یا جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر مختلف یا منفی سلوک آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل 33 میں موجود علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کے اصول سے متصادم ہوگا۔

ہر شہری کو اس کے اپنے کردار کی بنیاد پر جانچا جائے: ریاستی ادارے کسی شہری کا جائزہ اس کے اپنے طرزِ عمل، اس کے مخصوص حقائق اور اس کے ذاتی دستاویزات کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، لیکن اسے اس کے ضلع، علاقے یا رہائش سے منسوب عمومی تصورات اور دقیانوسی مفروضوں کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دے سکتے۔ مساوی شہریت محض آئینی خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ نفاذ آئینی ضمانت ہے۔

آف لوڈنگ—واضح قانونی بنیاد لازم: اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، درست ویزا اور Protector of Emigrants کی جانب سے قانون کے مطابق ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن موجود ہو تو اسے سفر سے روکنے یا آف لوڈ کرنے کے لیے کسی مخصوص قانونی شق کا حوالہ دینا لازم ہے۔ ایسی قانونی بنیاد کی عدم موجودگی میں آف لوڈنگ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائی ہوگی۔

موجودہ مقدمات میں نتیجہ: درخواست گزاروں کے پاس درست پاسپورٹ، غیر ملکی روزگار کے ویزے اور Protector of Emigrants کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن/ایمیگریشن کلیئرنس موجود تھی۔ ان کے روزگار کے معاہدوں، اسناد اور دیگر متعلقہ امور کی پہلے ہی مجاز قانونی اتھارٹی جانچ کرچکی تھی۔ وفاقی حکومت یا ایف آئی اے عدالت کے سامنے کوئی ایسی قانونی شق پیش نہ کرسکی جو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو Protector of Emigrants کے فیصلے کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کا اختیار دیتی ہو۔ چنانچہ درخواست گزاروں کو انہی امور کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا، جنہیں مجاز اتھارٹی پہلے ہی جانچ اور منظور کرچکی تھی، بلا قانونی اختیار قرار پایا۔

انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم—قانون سازی کا حل: عدالت نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، منظم بھیک مانگنے اور بیرونِ ملک روزگار کے ذرائع کے غلط استعمال جیسے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم قرار دیا کہ اگر موجودہ قانونی نظام ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے تو اس کا حل قانون سازی اور قانونی اصلاحات ہیں، نہ کہ ایف آئی اے کی جانب سے ائیرپورٹس پر ایک متوازی اور غیر قانونی اسکریننگ نظام قائم کرنا۔

اداروں کا احتساب—آف لوڈ ہونے والا ہر شخص سوال اٹھاتا ہے: عدالت نے اہم طور پر نشاندہی کی کہ ہر آف لوڈ کیا جانے والا تارکِ وطن درحقیقت Protector of Emigrants کے نظامِ کلیئرنس کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود ریکارڈ پر ایسا کچھ موجود نہیں تھا کہ متعلقہ Protector of Emigrants یا Overseas Employment Promoter کے خلاف کوئی انکوائری، محکمانہ کارروائی یا اصلاحی اقدام کیا گیا ہو۔ صرف مسافروں کو نشانہ بنانا جبکہ ان سرکاری و متعلقہ اہلکاروں کا احتساب نہ کرنا جنہوں نے کلیئرنس دی، موجودہ آف لوڈنگ پریکٹس کی قانونی حیثیت، انصاف اور افادیت پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

حتمی فیصلہ: آئینی درخواستیں نمبر 1585 اور 1587/2026 منظور کی گئیں اور ان درخواست گزاروں کی آف لوڈنگ کو بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار قرار دیا گیا۔ آئینی درخواست نمبر 5338/2025 نمٹا دی گئی، جبکہ فیصلے کے متعلقہ پیراگرافس میں دی گئی آئینی و قانونی آبزرویشنز برقرار رہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو تعمیل اور ضرورت پڑنے پر قانونی اصلاحات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔

قانونی اصول / Ratio Decidendi:
اگر کوئی پاکستانی شہری درست پاسپورٹ، درست ویزا اور ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور ایمیگریشن رولز، 1979 کے تحت Protector of Emigrants سے باقاعدہ ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن حاصل کرچکا ہو تو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو قانون میں واضح اختیار کے بغیر اس کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے، اس پر اپیل یا ریویو کی حیثیت سے بیٹھنے یا شہری کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ایسی کارروائی، اگر کسی مخصوص قانونی اختیار کے بغیر کی جائے، تو شہری کے حقِ سفر اور آئینی ضمانتوں سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی۔۔۔

17/08/2026

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی حق ہے، اس پر تشدد آئین پر حملہ ہے، خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی کامل ضمانت دیتا ہے، قانونی حق مانگنے پر عورت کا قتل کرنا قانون کے ساتھ کھلی بغاوت اور سفاکی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے مطابق ایسے سرد مہری اور منصوبہ بند قتل میں مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں، گھریلو حدود کے اندر ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق موقع سے ملنے والے خ*ل اور پستول کا فارنزک میچ جرم کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے، ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی نقص نہیں، سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

واضح رہے کہ11 اکتوبر 2020 کو ملزم وسیم عباس نے سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، خاتون نے فیملی کورٹ سے خلع کی قانونی ڈگری حاصل کی تھی۔

خلع کی ڈگری ملنے کے 48 گھنٹے بعد ملزم نے گھر میں داخل ہو کر خاتون کو قتل کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ملزم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی
J.P._617_2025

Address

Dera Ghazi Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azam & Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Azam & Associates:

Shortcuts

Share