27/08/2026
19 مارچ 2017 کی وہ شام، اسلام آباد کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن کے تھانہ میں ایک استاد پر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن راولپنڈی/اسلام آباد میں تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات اور پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 07 درج کر کے انوار احمد کو گرفتار کیا گیا ۔
مقدمے کی کارروائی آگے بڑھی اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 8 جنوری 2021 کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اُسے دفعہ 295-A کے تحت 10 سال قیدِ با مشقت اور لاکھ روپے جرمانے (عدم ادائیگی پر 6 ماہ قیدِ محض) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(g) کے تحت 5 سال قیدِ با مشقت اور 50,000 روپے جرمانے (عدم ادائیگی پر 6 ماہ قیدِ محض) کی سزا سنائی۔ اس سزا کی منسوخی کی اپیل تاحال عدالتِ عالیہ کے سامنے زیرِ التوا تھی۔
سال 2025 میں، اڈیالہ جیل کے بند دروازوں کے پیچھے سے انوار احمد نے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ اُسے جیل میں حاصل ہونے والی قانونی رعایتوں (Remission) کا فائدہ دیتے ہوئے اُس کی رہائی کی راہ ہموار کی جائے اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے اُس کی کاٹی گئی سزا کی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔ 24 جولائی 2025 کو جب معزز جج محمد آصف کی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو پٹیشنر کے فاضل کونسل نے قانونی دلیلوں کا ایک بظاہر مضبوط تانا بانا بُنا۔ اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ پٹیشنر کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل ہی نہیں تھا اور تین مختلف ملزمان کے خلاف الگ الگ ثبوتوں کے باوجود ایک ہی مشترکہ چالان پیش کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پٹیشنر کی کلاس روم میں دی گئی 40 منٹ کی ایک تقریر کو گواہ نمبر 4 (جو کہ ایک طالب علم تھا) نے بغیر کسی قانونی اجازت کے ریکارڈ کیا، اور اُس 40 منٹ کے لیکچر میں سے صرف 4 منٹ اور 49 سیکنڈ کا ایک کٹا پھٹا کلپ سیاق و سباق سے ہٹا کر ملزم کے خلاف استعمال کیا گیا، جبکہ اگر پورا لیکچر سنا جائے تو اس سے کوئی جرم نہیں بنتا۔
وکیلِ صفائی نے فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت وفاقی حکومت کی ضروری منظوری کے بغیر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-A کا اطلاق قانونی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کلاس روم میں طالب علموں کی علمی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے دی گئی تقریر آزادئ اظہارِ رائے کی حفاظت میں آتی ہے اور اسے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(g) کے تحت دہشت گردی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مزید برآں، مبینہ وقوعہ کی صحیح تاریخ اور وقت کا آج تک کوئی پتہ نہیں، مقدمے میں کسی توہین آمیز مواد کی اشاعت یا پھیلاؤ کا کوئی عنصر شامل نہیں کیونکہ تفتیش کے دوران ملزم کے قبضہ سے کوئی اینڈرائیڈ موبائل فون ملا اور نہ ہی اُس کا کوئی فیس بک یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے تعلق ثابت ہوا، کالج انتظامیہ یا کسی گواہ نے کوئی باقاعدہ تحریری شکایت درج نہیں کرائی، اور ویڈیو اور لیکچر کے تحریری مسودے (Transcript) میں شدید تضادات ہیں۔
اس محاذ آرائی کے جواب میں، ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹیٹ کونسل نے سخت قانونی مؤقف اختیار کرتے ہوئے دلائل دیے کہ ریکارڈ پر ایسا ٹھوس اور جرم سے جوڑنے والا مواد موجود ہے جو بنیادی نظر میں پٹیشنر کو اس سنگین جرم سے ملاتا ہے۔ انہوں نے ایک انتہائی اہم اور فیصلے کا رخ موڑنے والی دلیل دی کہ چونکہ پٹیشنر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت سزا سنائی گئی ہے، اس لیے وہ قانون کے مطابق سزا میں کسی قسم کی چھوٹ یا رعایت (Remission) کا حقدار ہی نہیں ہے، لہٰذا اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل غور سے سنے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اڈیالہ جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، 16 جولائی 2025 تک انوار احمد 8 سال، 2 ماہ اور 26 دن کی سزا جیل میں کاٹ چکا تھا اور جرمانے کی ادائیگی سے مشروط اُس کی متوقع رہائی کی تاریخ 20 اپریل 2027 مقرر کی گئی تھی۔ لیکن اس تمام تر قانونی کشمکش کا حتمی فیصلہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 21-F کے سخت اور بے لچک الفاظ میں چھپا ہوا تھا۔
اس قانونی شق کے مطابق، کسی بھی دوسرے قانون یا جیل قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا یافتہ کسی بھی شخص کو سزا میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی، بجز اس کے کہ وہ چھوٹ خود حکومت کی طرف سے دی جائے یا پھر ملزم قانون کی نظر میں ایک "بچہ" (Child/Juvenile) ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون قیدیوں کو حسنِ اخلاق، تعلیمی سرگرمیوں یا جیل میں اچھے رویے کی بنیاد پر ملنے والی عام یا خصوصی رعایتوں کے راستے مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، اور چونکہ پٹیشنر نابالغ قیدی کی تعریف میں نہیں آتا، اس لیے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ اس تمام تر بحث و مباحثہ کے بعد جسٹس محمد آصف نے انوار احمد کی تمام دلا ئل کے باوجود، انسدادِ دہشت گردی کے سخت قانون کی روشنی میں اُس کی آئینی درخواست کو مسترد کر دیا۔
———————————
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) اور ہائی کورٹس کے ریکارڈز کے مطابق، ٹرائل کورٹس سے جن ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی، ان میں سے تقریباً 70 سے 80 فیصد افراد ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ آف پاکستان سے عدم ثبوت، تفتیش میں نقائص، اور گواہوں کے تضادات کی بنیاد پر بری (Acquitted) کر دیے گئے۔ بری ہونے والوں میں آسیہ بی بی، وجیہہ الالحسن، ڈاکٹر یونس شیخ، شفقات ایوب اور شگفتہ کوثر جیسے نامور مقدمات شامل ہیں، جہاں اعلیٰ ترین عدالتوں نے ثبوتوں کی عدم موجودگی اور جھوٹے ادعا پر ملزمان کو تمام الزامات سے پاک قرار دیا۔
جہاں تک پلانٹڈ (Planted Cases) یعنی جھوٹے، من گھڑت اور ذاتی عناد پر مبنی مقدمات کا تعلق ہے، تو سرکاری و عدالتی دستاویزات اس سچائی کی تصدیق کرتی ہیں۔ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے پیش کی گئی صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس اور پولیس کی رپورٹس میں یہ اعتراف کیا گیا کہ درج ہونے والے مقدمات میں سے ایک بڑی تعداد (کچھ صوبوں میں 50 فیصد سے زائد) ذاتی دشمنیوں، زمین کے تنازعات، کاروباری رقابت، خاندانی جھگڑوں یا مذہبی منافرت کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی۔