05/02/2026
ایف بی آر نے فنانس منسٹر کو بھی ٹیکس ریمائنڈر ایس ایم ایس بھیج دیا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس کے تحت ٹیکس ریٹرن فائلرز کو مالی لین دین ظاہر کرنے کے لیے ایس ایم ایس بھیجے جا رہے ہیں — جن میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شامل ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی ایف بی آر کی جانب سے نَجنگ میسج موصول ہوا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس بڑھانے کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی، جہاں سینیٹر اسد قاسم نے ایس ایم ایس میں بینک بیلنس اور ٹرانزیکشن ڈیٹا شامل ہونے پر رازداری سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ ستمبر 2025 میں شروع ہونے والی اس مہم کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ اضافی ٹیکس ریٹرنز جمع ہوئے جبکہ نِل فائلرز کی تعداد میں بھی کمی آئی۔
31 اکتوبر کی توسیعی ڈیڈ لائن تک 60 لاکھ ریٹرنز موصول ہوئے، تاہم ٹیکس سال 2025 میں مجموعی ریٹرنز کی تعداد کم ہو کر 72 لاکھ رہ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ایس ایم ایس میں استعمال ہونے والا ڈیٹا پراپرٹی اور گاڑیوں کی رجسٹریشن اتھارٹیز سے حاصل کیا جاتا ہے اور صرف متعلقہ ٹیکس دہندہ کو ہی بھیجا جاتا ہے۔
ایف بی آر نے واضح کیا کہ یہ پیغامات قانون کے مطابق ہیں اور مالی رازداری کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ تمام معلومات ایف بی آر کے محفوظ سسٹمز میں موجود رہتی ہیں۔
اجلاس میں سپر ٹیکس پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ مجموعی سپر ٹیکس 217 ارب روپے ہے، نہ کہ 300 ارب روپے جیسا کہ پہلے بتایا جا رہا تھا۔
کمیٹی نے بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس چارجز لینے پر سخت تنقید کی اور اسٹیٹ بینک کو فوری نوٹس لینے کی ہدایت کی۔