06/10/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہو اور اس تاخیر کی وجہ ملزم یا اس کی طرف سے کسی شخص کا فعل یا غفلت نہ ہو تو قانون کے تحت اسے ضمانت کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔
مقدمہ چو ہدری شادی شمیم بنام سرکار وغیرہ (Criminal Petition No. 1449 of 2026) میں ملزم کے خلاف دفعہ 489-F PPC کے تحت مقدمہ درج تھا۔ اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید ہے۔
سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم یا اس کے وکیل کی جانب سے غیر ضروری التوا نہیں لیا گیا، جبکہ کئی مواقع پر ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ عدالت کی جانب سے پروڈکشن وارنٹ جاری ہونے کے باوجود ملزم کو پیش نہیں کیا گیا اور تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل آگے نہیں بڑھ سکا۔
عدالت نے واضح کیا کہ Section 497(1) Cr.P.C. کے تیسرے پروویزو کے تحت اگر ایک سال سے زائد عرصہ گزر جائے، ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت کا اصول لاگو ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ ملزم کے خلاف دوسرے مقدمات درج ہیں یا وہ کسی دوسرے مقدمے میں ملوث ہے، اسے statutory delay کی بنیاد پر ضمانت سے خود بخود محروم نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں دی گئی متعلقہ استثنائی شرائط پوری نہ ہوں۔
عدالت نے Ali Anwar Paracha v. The State (2024 SCMR 1596) اور دیگر سابقہ فیصلوں کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں ٹرائل میں ہونے والی تاخیر کسی طور ملزم سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔
چونکہ دفعہ 489-F PPC کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے اور ملزم نے طویل عرصہ حراست میں گزار لیا تھا، اس لیے سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت دے دی۔
یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ زیرِ حراست ملزم کو غیر ضروری طور پر طویل عرصہ تک ٹرائل مکمل کیے بغیر جیل میں رکھنا قانون کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق نہیں۔ تاہم ہر مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ متعلقہ حقائق، تاخیر کی وجہ اور قانون میں موجود شرائط و استثناؤں کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
یہ پوسٹ عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہے۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں اور حتمی قانونی رائے متعلقہ ریکارڈ دیکھ کر دی جا سکتی ہے۔
Akbar khan Advocate
03339699925