Akbar Khan Advocate

Akbar Khan Advocate اپنے قانونی حقوق جانیے، خود کو مضبوط بنائیے۔
پاکستانی قوانین کی آسان اردو میں وضاحت
روزانہ مستند قانونی معلومات

11/10/2026
10/10/2026

زمین پر قبضہ چھڑوانا ہو یا ڈگری پر عملدرآمد، اب سالوں کا انتظار ختم! پشاور ہائی کورٹ کا نیا اقدام، انصاف کی راہ آسان!

08/10/2026

⚖️ ضمانت ملی… پھر اسی عدالت نے واپس بھی لے لی!
بونیر پیربابا تھانے کاایک عجیب و نادر کیس، اس کیس سے سبق: ایف آئی آر میں کیا چیزیں ہوں تو ضمانت مشکل ہو سکتی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہو اور ا...
06/10/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہو اور اس تاخیر کی وجہ ملزم یا اس کی طرف سے کسی شخص کا فعل یا غفلت نہ ہو تو قانون کے تحت اسے ضمانت کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

مقدمہ چو ہدری شادی شمیم بنام سرکار وغیرہ (Criminal Petition No. 1449 of 2026) میں ملزم کے خلاف دفعہ 489-F PPC کے تحت مقدمہ درج تھا۔ اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید ہے۔

سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم یا اس کے وکیل کی جانب سے غیر ضروری التوا نہیں لیا گیا، جبکہ کئی مواقع پر ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ عدالت کی جانب سے پروڈکشن وارنٹ جاری ہونے کے باوجود ملزم کو پیش نہیں کیا گیا اور تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل آگے نہیں بڑھ سکا۔

عدالت نے واضح کیا کہ Section 497(1) Cr.P.C. کے تیسرے پروویزو کے تحت اگر ایک سال سے زائد عرصہ گزر جائے، ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت کا اصول لاگو ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ ملزم کے خلاف دوسرے مقدمات درج ہیں یا وہ کسی دوسرے مقدمے میں ملوث ہے، اسے statutory delay کی بنیاد پر ضمانت سے خود بخود محروم نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں دی گئی متعلقہ استثنائی شرائط پوری نہ ہوں۔

عدالت نے Ali Anwar Paracha v. The State (2024 SCMR 1596) اور دیگر سابقہ فیصلوں کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں ٹرائل میں ہونے والی تاخیر کسی طور ملزم سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔

چونکہ دفعہ 489-F PPC کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے اور ملزم نے طویل عرصہ حراست میں گزار لیا تھا، اس لیے سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت دے دی۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ زیرِ حراست ملزم کو غیر ضروری طور پر طویل عرصہ تک ٹرائل مکمل کیے بغیر جیل میں رکھنا قانون کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق نہیں۔ تاہم ہر مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ متعلقہ حقائق، تاخیر کی وجہ اور قانون میں موجود شرائط و استثناؤں کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

یہ پوسٹ عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہے۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں اور حتمی قانونی رائے متعلقہ ریکارڈ دیکھ کر دی جا سکتی ہے۔
Akbar khan Advocate
03339699925

⚖️ بیعانہ دے کر بھی جائیداد ہاتھ سے نکل سکتی ہے!سپریم کورٹ نے محمد عمران بنام اشفاق احمد، 2026 SCMR 1063 میں ایک اہم اصو...
06/10/2026

⚖️ بیعانہ دے کر بھی جائیداد ہاتھ سے نکل سکتی ہے!

سپریم کورٹ نے محمد عمران بنام اشفاق احمد، 2026 SCMR 1063 میں ایک اہم اصول واضح کیا کہ صرف بیعانہ ادا کر دینا خریدار کو جائیداد کے حصول کا ناقابلِ تنسیخ حق نہیں دیتا۔ اگر معاہدے میں بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے مقررہ وقت دیا گیا ہو تو خریدار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مقررہ وقت پر رقم ادا کرنے کے لیے مسلسل تیار اور آمادہ تھا۔

اس مقدمے میں ایک ہی جائیداد کے دو معاہدے ہوئے۔ پہلے معاہدے میں 13 کروڑ روپے قیمت اور 3 کروڑ روپے بیعانہ مقرر ہوا، جبکہ دوسرے معاہدے میں بقایا رقم کی ادائیگی کی آخری تاریخ 15 جنوری 2017 مقرر تھی۔

خریدار مقررہ وقت پر رقم ادا کرنے کے لیے نہ تو رقم پیش کر سکا، نہ پے آرڈر، بینک گارنٹی یا کسی قابلِ اعتماد بینک ریکارڈ سے اپنی مالی تیاری ثابت کر سکا۔ بعد میں عدالت میں رقم جمع کرانا بھی مقررہ مدت گزر جانے کے بعد ہوا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بعد میں رقم جمع کرا دینا پہلے کی قانونی کوتاہی کا ازالہ نہیں کرتا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ Specific Performance کوئی مطلق حق نہیں بلکہ equitable relief ہے؛ اس لیے جو شخص معاہدے کی تکمیل چاہتا ہے اسے اپنی مسلسل readiness and willingness ثابت کرنا ہوگی۔

مزید یہ کہ اگر معاہدے میں واضح طور پر وقت کی پابندی اور تاخیر کی صورت میں بیعانہ ضبط ہونے کی شرط موجود ہو تو عدالت فریقین کے معاہدے کو دوبارہ تحریر نہیں کرے گی بلکہ طے شدہ شرائط کو اہمیت دے گی۔

عام آدمی کے لیے سبق: بیعانہ دینے کے بعد خاموش نہ بیٹھیں۔ بقایا رقم کی مقررہ تاریخ کا خیال رکھیں، ادائیگی کی پیشکش کا تحریری اور بینک ریکارڈ محفوظ رکھیں، اور کسی بھی بیع نامے پر دستخط کرنے سے پہلے قانونی مشورہ ضرور لیں۔
اکبرخان ایڈوکیٹ بونیر 03339699925

پوتا/پوتی/نواسا/نواسى وراثت كى حقدار!PLD 2026 Islamabad 164
05/10/2026

پوتا/پوتی/نواسا/نواسى وراثت كى حقدار!

PLD 2026 Islamabad 164

04/10/2026

⚖️ ایک گواہ بھی سزا کی بنیاد بن سکتا ہے!

سپریم کورٹ نے PLD 2010 SC 100 میں اصول واضح کیا کہ قانون میں کسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے گواہوں کی مخصوص تعداد لازم نہیں۔ اصل اہمیت گواہی کے معیار اور قابلِ اعتماد ہونے کی ہے، تعداد کی نہیں۔

🔹 ایک قابلِ اعتماد گواہ کافی ہو سکتا ہے۔
🔹 ہر معاملے میں اضافی تائید ضروری نہیں۔
🔹 عدالت گواہ کی سچائی، اعتماد اور بیان کو پرکھے گی۔
🔹 اگر گواہی میں شک یا کمزوری ہو تو تائیدی شہادت کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں: شہادت گنی نہیں، تولی جاتی ہے۔

03/10/2026

آپ کی وجہ سے آپ کے والد، بھائی یا گھر کے کسی دوسرے فرد کا شناختی کارڈ بلاک نہیں ہو سکتا۔ قانون کیا کہتا ہے؟ ویڈیو دیکھیں۔

Address

Bunerwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akbar Khan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category