25/03/2021
السلام علیکم B4U FAMILY !
جیساکہ آپ سب دوستوں کو معلوم ہے کہ B4U کمپنی پاکستان کی واحد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جس کا اپنا شرعی ایڈوائزری بورڈ اور لیگل ایڈوائزری بورڈ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ B4U کی پہلے دن سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ تمام تر شرعی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنا کاروبار کریں۔
پچھلے ایک دو مہینے سے پاکستان کے مختلف دارالعلوم اور علماءاور خصوصا جامعۃ الرشید کراچی کی طرف سے B4U کے Business model اور کاروبار جو کہ مضاربت کی بنیاد پر ہے کچھ اعتراضات سامنے آئے اگرچہ ان میں سے زیادہ تر اعتراضات کمپنی کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہیں لیکن پھر بھی B4U کے CEO جناب سیف الرحمان خان نے یہ ضرورت محسوس کی کہ علمائے کرام کے ان اعتراضات کا جائزہ لیا جائے ۔ لہذا اسی سلسلے میں 24 دسمبر کو B4U کے شرعی ایڈوائزری بورڈ کے ساتھ سے ایک مشاورتی میٹنگ ہوئی ۔ جس میں پاکستان کے تمام علمائے کرام اور خصوصا جامعۃالرشید کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا یہ اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں:
*1-* کمپنی راس المال یعنی Capital کے اوپر منافع دیتی ہے
*2-* کمپنی رقم کی سو فیصد گارنٹی دیتی ہے۔
*3-* کمپنی راس المال کو چھ مہینے سے پہلے نکالنے پر کٹوتی کرتی ہے ۔
*"کمپنی کےشرعی بورڈ کی طرف سے وضاحت اور فیصلہ جات:*
*1-* یہ اعتراض کے کمپنی منافع کیپیٹل کے حساب سے دیتی ہے محض غلط معلومات پر مبنی ہے کمپنی منافع کیپٹل کے حساب سے نہیں بلکہ فیصد کے اعتبار سے دیتی ہے جو کہ %40 اور %60 کی تقسیم ہے ۔ یعنی ٹوٹل منافع کا %40 کمپنی خود رکھتی ہے اور %60 آپنے انویسٹرز پر اُنکے راسُ المال کے فیصد کے حساب سے تقسیم کرتی ہے۔
*3-* یہ اعتراض کہ کمپنی راس المال یعنی کیپٹل کی سو فیصد گارنٹی دیتی ہے بھی محض افواہ اور غلط معلومات پر مبنی ہے۔ کمپنی شرعی مضاربت کے اصول کے مطابق راس المال کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے لیکن گارنٹی نہیں دیتی بلکہ نفع نقصان میں انویسٹرز اپنے راس المال کی فیصدی کے حساب سے شریک ہوتے ہیں۔
*3-* یہ اعتراض کہ راس المال کو چھ مہینے سے پہلے نکالنے پر کٹوتی ہوتی ہے بالکل حقیقت پر مبنی ہے- اگرچہ B4U کٹوتی کی اس رقم کو منافع میں شامل نہیں کرتی تھی بلکہ اس رقم کو B4U فاؤنڈیشن میں بطور صدقہ دیا جاتا تھا لیکن کمپنی کیCEO سیف الرحمان خان نے شرعی بورڈ کی مشاورت سے آج سے اس شرط کو ختم کردیا اور کمپنی کے بنیادی معاہدے میں یہ تبدیلی کی گئی کہ *اب انویسٹر اپنے راس المال کو 6 مہینے سے پہلے نہیں نکلواسکے گا اور چھ مہینے کے بعد جب چاہے وہ بغیر کسی کٹوتی کے اپنی رقم نکلوا سکتا ہے۔*
کمپنی کے CEO سیف الرحمان خان نیازی کا تمام اہل علم اور انسانیت کا درد رکھنے والے حضرات سے دردمندانہ اور مخلصانہ اپیل:
اللہ تعالی کا مجھ پر خصوصی کرم و فضل ہے جس نے مجھے کاروبار کرنے کی صلاحیت سے نوازا میں اس صلاحیت کو بحق انسانیت استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ الحمداللہ میں ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہوں اور ایمان اور مذہب زندگی کے تمام معاملات میں میری پہلی ترجیحات میں شامل ہیں۔ میں خود بھی رزق حلال کمانے کی کوشش کرتا ہوں اور دوسرے لوگوں کو بھی رزق حلال کما کر دینا چاہتا ہوں ۔ کمپنی اور کاروبار کے تمام معاملات میں اپنی مقدور بھر کوشش کرتا ہوں کے تمام شرعی تقاضے پورے کروں۔ لیکن بحیثیت انسان اگر کوئی کمی بیشی ہوتی ہے تو تمام اہل علم حضرات سے یہ اپیل ہے کہ وہ برملاہماری غلطیوں کی نشاندہی کرے۔ شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کے معاملے میں ہمارے دروازے نہ صرف ہمیشہ کھلے ہیں بلکہ اہل علم کی تعمیری تنقید ہمارے لیے باعث فخر اور رحمت ہے۔ اس کے ساتھ اہل علم حضرات سے درخواست ہے کہ کسی بھی کاروبار یا کمپنی کے بارے میں فتوی دینے سے پہلے نہ صرف اپنی تحقیق مکمل کر لیا کریں بلکہ اس کمپنی سے بھی حاصل شدہ معلومات کے بارے میں تصدیق کر لیا کریں محض سنی سنائی باتوں پر فتوی دینا مناسب طرز عمل نہیں۔