08/08/2026
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ضلع بھکر کی عدالتوں میں ہر روز کی طرح بے شمار لوگ اپنے مقدمات کی تاریخیں بھگتنے اور انصاف کی امید لیے آ جا رہے تھے۔ کوئی وکیل سے مشورہ کر رہا تھا، کوئی ضمانت کی درخواست لکھوا رہا تھا، تو کوئی خاموشی سے بینچ پر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
انہی لوگوں کے درمیان تقریباً بارہ تیرہ سال کا ایک دبلا پتلا بچہ بھی داخل ہوا۔
اس کے جسم پر میلا کچیلا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا کرتا تھا، پاؤں میں ٹوٹے ہوئے جوتے تھے، کندھے پر جوتے پالش کرنے کا پرانا تھیلا لٹک رہا تھا، جس میں صرف دو برش، دو ڈبیاں پالش، ایک پرانا کپڑا اور جوتے چمکانے والا فوم رکھا ہوا تھا۔
چہرہ دھول سے اٹا ہوا تھا، لیکن آنکھوں میں امید کی ایک آخری کرن باقی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک وکیل کے چیمبر کے سامنے رکا۔
چیمبر کے اندر انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے اپنے ایک کلائنٹ سے مقدمے کی بات کر رہے تھے۔
بچہ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔
کلائنٹ کے جانے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ باندھ لیے اور دھیمی آواز میں بولا…
“السلام علیکم جناب…”
“وعلیکم السلام بیٹا، اندر آ جاؤ۔”
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اندر آیا، مگر کچھ بول نہ سکا۔
وکیل صاحب نے محسوس کیا کہ اس کے ہونٹ کانپ رہے ہیں۔
انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“بیٹا، پہلے بیٹھ جاؤ۔”
مگر بچہ بیٹھنے کے بجائے ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔
وکیل صاحب نے اپنے معاون سے کہا،
“پہلے اس بچے کے لیے ایک گلاس ٹھنڈا پانی لاؤ۔”
بچے نے پانی پیا تو جیسے اس کی ہمت واپس آ گئی۔
وکیل صاحب نے نہایت شفقت سے پوچھا،
“بیٹا، بتاؤ کیا بات ہے؟ کیا گھر والے مارتے ہیں؟ کیا کھانے کے لیے پیسے نہیں ملتے؟ یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ بے جھجھک مجھے بتاؤ۔”
یہ سنتے ہی بچے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،
“نہیں جناب… ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ میری ماں زندہ ہے، نہ میرے والد، نہ دنیا میں میرا کوئی اور سہارا ہے۔ میرا صرف ایک بڑا بھائی تھا…”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
“جناب، میرے بھائی نے کوئی جرم نہیں کیا۔ محلے کے بااثر لوگوں نے اپنے آدمی کو بچانے کے لیے میرے بھائی پر جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ آج وہ بے گناہ جیل میں بند ہے۔”
“وہی میرا سہارا تھا… وہی مجھے کھانا کھلاتا تھا… آج میں سڑکوں پر سوتا ہوں، کبھی بازار میں، کبھی کسی دکان کے تھڑے پر رات گزار دیتا ہوں، اور لوگوں کے جوتے پالش کر کے دو وقت کی روٹی کماتا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا پرانا تھیلا زمین پر رکھا اور اس میں سے مٹھی بھر نوٹ نکالے۔
“جناب… میرے پاس صرف چار سو پچاس روپے ہیں۔ کئی مہینوں سے تھوڑے تھوڑے کر کے جمع کیے ہیں۔ میرے پاس آپ کو دینے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اگر آپ میرے بھائی کو رہا کروا دیں تو میں قسم کھاتا ہوں، جب تک زندہ رہوں گا، روز آپ کے جوتے مفت میں پالش کرتا رہوں گا۔”
یہ الفاظ سن کر پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔
وکیل صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
انہوں نے وہ چار سو پچاس روپے بچے کے ہاتھ میں واپس رکھتے ہوئے کہا،
“بیٹا، اپنے پیسے سنبھال کر رکھو۔ انصاف خریدنے کی چیز نہیں ہوتا۔ اگر تمہارا بھائی واقعی بے گناہ ہے تو میں پوری کوشش کروں گا کہ اسے انصاف ملے۔”
اسی دن انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے مقدمے کی تمام فائلیں منگوائیں، گواہوں کے بیانات پڑھے، جیل جا کر خود اس نوجوان سے ملاقات کی اور ایک ایک ثبوت کی باریک بینی سے جانچ شروع کر دی۔
کئی دنوں کی محنت، مسلسل پیروی اور مضبوط دلائل کے بعد عدالت میں یہ ثابت ہو گیا کہ نوجوان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا تھا۔
آخرکار جج نے فیصلہ سنایا:
“ملزم بے گناہ ہے، اسے فوری طور پر رہا کیا جاتا ہے۔”
یہ سنتے ہی وہ چھوٹا بچہ دوڑتا ہوا اپنے بھائی سے لپٹ گیا۔
دونوں بھائی دیر تک ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے رہے۔
عدالت میں موجود کئی لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
چند دن بعد صبح سویرے وہی بچہ دوبارہ وکیل صاحب کے چیمبر پہنچا۔
اس نے خاموشی سے برش نکالا اور وکیل صاحب کے جوتے پالش کرنے لگا۔
وکیل صاحب مسکرائے اور بولے،
“بیٹا، اب اس کی ضرورت نہیں۔”
بچہ بولا،
“جناب، میں غریب ضرور ہوں، مگر اپنا وعدہ نہیں توڑتا۔”
وکیل صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑا، برش ایک طرف رکھا اور کہا،
“مجھے مفت کی پالش نہیں چاہیے… مجھے تمہارا روشن مستقبل چاہیے۔ آج سے تم سڑکوں پر نہیں، اسکول جاؤ گے، اور تمہارے بھائی کے لیے روزگار کا بندوبست کرنا میری ذمہ داری ہے۔”
یہ سن کر بچے کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔
اس دن عدالت کے باہر کھڑے لوگوں نے ایک بات ضرور محسوس کی…
قانون صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ کچھ لوگوں کے کردار میں بھی زندہ ہوتا ہے۔
نوٹ:
مقصد انسانیت، محبت اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ چند روز قبل بھی انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے ایک بوڑھی اماں کے بے گناہ بیٹے کی ضمانت بھی کروائی تھی
(تحریر باقر بُخاری)