Malik Inam ul Haq Advocate

Malik Inam ul Haq Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Malik Inam ul Haq Advocate, Criminal lawyer, Bhakkar City, Bhakkar.

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ضلع بھکر کی عدالتوں میں ہر روز کی طرح بے شمار لوگ اپنے مقدمات کی تاریخیں بھگتنے اور انصاف کی امید لی...
08/08/2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ضلع بھکر کی عدالتوں میں ہر روز کی طرح بے شمار لوگ اپنے مقدمات کی تاریخیں بھگتنے اور انصاف کی امید لیے آ جا رہے تھے۔ کوئی وکیل سے مشورہ کر رہا تھا، کوئی ضمانت کی درخواست لکھوا رہا تھا، تو کوئی خاموشی سے بینچ پر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔

انہی لوگوں کے درمیان تقریباً بارہ تیرہ سال کا ایک دبلا پتلا بچہ بھی داخل ہوا۔

اس کے جسم پر میلا کچیلا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا کرتا تھا، پاؤں میں ٹوٹے ہوئے جوتے تھے، کندھے پر جوتے پالش کرنے کا پرانا تھیلا لٹک رہا تھا، جس میں صرف دو برش، دو ڈبیاں پالش، ایک پرانا کپڑا اور جوتے چمکانے والا فوم رکھا ہوا تھا۔

چہرہ دھول سے اٹا ہوا تھا، لیکن آنکھوں میں امید کی ایک آخری کرن باقی تھی۔

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک وکیل کے چیمبر کے سامنے رکا۔

چیمبر کے اندر انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے اپنے ایک کلائنٹ سے مقدمے کی بات کر رہے تھے۔

بچہ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔

کلائنٹ کے جانے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ باندھ لیے اور دھیمی آواز میں بولا…

“السلام علیکم جناب…”

“وعلیکم السلام بیٹا، اندر آ جاؤ۔”

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اندر آیا، مگر کچھ بول نہ سکا۔

وکیل صاحب نے محسوس کیا کہ اس کے ہونٹ کانپ رہے ہیں۔

انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،

“بیٹا، پہلے بیٹھ جاؤ۔”

مگر بچہ بیٹھنے کے بجائے ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔

وکیل صاحب نے اپنے معاون سے کہا،

“پہلے اس بچے کے لیے ایک گلاس ٹھنڈا پانی لاؤ۔”

بچے نے پانی پیا تو جیسے اس کی ہمت واپس آ گئی۔

وکیل صاحب نے نہایت شفقت سے پوچھا،

“بیٹا، بتاؤ کیا بات ہے؟ کیا گھر والے مارتے ہیں؟ کیا کھانے کے لیے پیسے نہیں ملتے؟ یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ بے جھجھک مجھے بتاؤ۔”

یہ سنتے ہی بچے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،

“نہیں جناب… ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ میری ماں زندہ ہے، نہ میرے والد، نہ دنیا میں میرا کوئی اور سہارا ہے۔ میرا صرف ایک بڑا بھائی تھا…”

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،

“جناب، میرے بھائی نے کوئی جرم نہیں کیا۔ محلے کے بااثر لوگوں نے اپنے آدمی کو بچانے کے لیے میرے بھائی پر جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ آج وہ بے گناہ جیل میں بند ہے۔”

“وہی میرا سہارا تھا… وہی مجھے کھانا کھلاتا تھا… آج میں سڑکوں پر سوتا ہوں، کبھی بازار میں، کبھی کسی دکان کے تھڑے پر رات گزار دیتا ہوں، اور لوگوں کے جوتے پالش کر کے دو وقت کی روٹی کماتا ہوں۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا پرانا تھیلا زمین پر رکھا اور اس میں سے مٹھی بھر نوٹ نکالے۔

“جناب… میرے پاس صرف چار سو پچاس روپے ہیں۔ کئی مہینوں سے تھوڑے تھوڑے کر کے جمع کیے ہیں۔ میرے پاس آپ کو دینے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اگر آپ میرے بھائی کو رہا کروا دیں تو میں قسم کھاتا ہوں، جب تک زندہ رہوں گا، روز آپ کے جوتے مفت میں پالش کرتا رہوں گا۔”

یہ الفاظ سن کر پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔

وکیل صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

انہوں نے وہ چار سو پچاس روپے بچے کے ہاتھ میں واپس رکھتے ہوئے کہا،

“بیٹا، اپنے پیسے سنبھال کر رکھو۔ انصاف خریدنے کی چیز نہیں ہوتا۔ اگر تمہارا بھائی واقعی بے گناہ ہے تو میں پوری کوشش کروں گا کہ اسے انصاف ملے۔”

اسی دن انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے مقدمے کی تمام فائلیں منگوائیں، گواہوں کے بیانات پڑھے، جیل جا کر خود اس نوجوان سے ملاقات کی اور ایک ایک ثبوت کی باریک بینی سے جانچ شروع کر دی۔

کئی دنوں کی محنت، مسلسل پیروی اور مضبوط دلائل کے بعد عدالت میں یہ ثابت ہو گیا کہ نوجوان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا تھا۔

آخرکار جج نے فیصلہ سنایا:

“ملزم بے گناہ ہے، اسے فوری طور پر رہا کیا جاتا ہے۔”

یہ سنتے ہی وہ چھوٹا بچہ دوڑتا ہوا اپنے بھائی سے لپٹ گیا۔

دونوں بھائی دیر تک ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے رہے۔

عدالت میں موجود کئی لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

چند دن بعد صبح سویرے وہی بچہ دوبارہ وکیل صاحب کے چیمبر پہنچا۔

اس نے خاموشی سے برش نکالا اور وکیل صاحب کے جوتے پالش کرنے لگا۔

وکیل صاحب مسکرائے اور بولے،

“بیٹا، اب اس کی ضرورت نہیں۔”

بچہ بولا،

“جناب، میں غریب ضرور ہوں، مگر اپنا وعدہ نہیں توڑتا۔”

وکیل صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑا، برش ایک طرف رکھا اور کہا،

“مجھے مفت کی پالش نہیں چاہیے… مجھے تمہارا روشن مستقبل چاہیے۔ آج سے تم سڑکوں پر نہیں، اسکول جاؤ گے، اور تمہارے بھائی کے لیے روزگار کا بندوبست کرنا میری ذمہ داری ہے۔”

یہ سن کر بچے کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔

اس دن عدالت کے باہر کھڑے لوگوں نے ایک بات ضرور محسوس کی…

قانون صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ کچھ لوگوں کے کردار میں بھی زندہ ہوتا ہے۔

نوٹ:
مقصد انسانیت، محبت اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ چند روز قبل بھی انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے ایک بوڑھی اماں کے بے گناہ بیٹے کی ضمانت بھی کروائی تھی
(تحریر باقر بُخاری)

الحمد اللّٰہ
01/08/2026

الحمد اللّٰہ

23/05/2026
شکریہ BTV News Punjab
12/05/2026

شکریہ BTV News Punjab

ایک دن کا واقعہ ہے…
ضلع بھکر کے معروف وکیل ملک انعام الحق چڈو اپنے چیمبر میں بیٹھے اپنے کلائنٹس سے گفتگو کر رہے تھے۔ کمرے میں مکمل خاموشی اور سنجیدگی کا ماحول تھا۔ اتنے میں اچانک دروازہ آہستہ سے کھلا…

ایک بوڑھی اماں، جن کے کپڑے پرانے اور چہرہ پریشانی سے بھرا ہوا تھا، لرزتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ وہ سیدھا وکیل صاحب کے ٹیبل کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں اور ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہنے لگیں:

“اللہ کے واسطے میرے بیٹے کو بچا لیں… وہ بے گناہ ہے۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ اسے ناحق قتل کے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے…”

یہ الفاظ سن کر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

ملک انعام الحق چڈو صاحب نے فوراً اماں جی کو تسلی دی، ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور انہیں کرسی پر بٹھایا۔ پھر میز پر رکھی گھنٹی بجائی۔ چند لمحوں بعد ان کا ملازم اندر آیا تو وکیل صاحب نے کہا:

“اماں جی کے لیے پانی لے کر آؤ…”

پانی آیا، اماں جی کو پیش کیا گیا، اور پھر ان کی مکمل بات انتہائی توجہ سے سنی گئی۔

وکیل صاحب نے کیس کی تمام تفصیلات حاصل کیں، ہر پہلو کا جائزہ لیا، گراؤنڈ چیک کیا، ثبوت دیکھے… اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ ایک حق اور سچ کا مقدمہ ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کیس لڑیں گے۔

انہوں نے اماں جی سے کہا:

“انشاء اللہ… آپ فکر نہ کریں۔ اللہ پاک بہتر کرے گا، میں آپ کے بیٹے کا کیس ضرور لڑوں گا۔”

پھر وہ دن آیا جب عدالت میں حق اور سچ کی جنگ لڑی گئی۔ اللہ پاک کو حق بہت پسند ہے… اور جب نیت صاف ہو تو اللہ کی مدد بھی شامل ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے وکیل صاحب کو کامیابی عطا فرمائی، اور وہ نوجوان جو ناحق قتل کے الزام میں گرفتار تھا، باعزت بری ہو گیا۔

جب بیٹا جیل سے رہا ہو کر اپنی ماں کے پاس پہنچا تو بوڑھی ماں کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ بار بار وکیل صاحب کو دعائیں دے رہی تھیں۔

پھر اماں جی نے اپنے دوپٹے کے کونے میں بندھے ہوئے پانچ سو روپے نکالے اور اسکے بل نکال کر وکیل صاحب کی طرف بڑھا دیے۔

حالانکہ ملک انعام الحق چڈو صاحب ان وکلاء میں شمار ہوتے ہیں جو بڑے بڑے قتل اور ضمانت کے مقدمات لڑتے ہیں اور جن کی فیس لاکھوں روپے میں ہوتی ہے…
وکیل صاحب نے وہ 500 روپے لے لیے اور اپنی جیب سے 1000 نکال کر اُس لڑکے کو دیے اور کہا بیٹا یہ آپکا کرایہ ہے وہ پانچ سو جو امّاں نے دیے تھے آج بھی وکیل صاحب کی ٹیبل پر نظر آتے ہیں

کیونکہ یہ مقدمہ انہوں نے صرف اور صرف اللہ کی رضا، ایک بے بس ماں کے آنسوؤں اور انسانیت کی خاطر لڑا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر کوئی کام خالص اللّٰہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اللّٰہ پاک غیب سے مدد فرماتا ہے، عزت دیتا ہے اور کامیابی بھی عطا فرماتا ہے۔

انسانیت آج بھی زندہ ہے…
لاکھوں روپے فیس لینے والے وکیل نے ایک غریب ماں کے لیے مفت کیس لڑا… اور اللہ نے انہیں عزت بھی دی اور فتح بھی

روزنامہ لاہور رنگ Baqir Shah Bkجناب ایڈیشنل سیشن جج بھکر، قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزمان عبداللہ ،محمد عبداللہ پسران محمد...
09/04/2026

روزنامہ لاہور رنگ Baqir Shah Bk

جناب ایڈیشنل سیشن جج بھکر، قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزمان عبداللہ ،محمد عبداللہ پسران محمد بخش قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 28 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو باعزت بری کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ندیم حسن ولد نذیر حسن قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 36 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو ا غ وا کرنے کے بعد ق تل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 423/25 بجرم دفعات 365 اور 302 تھانہ سٹی بھکر میں درج کیا گیا تھا۔

ملزمان کی جانب سے ملک انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے پیروی کی، جبکہ عدالت نے شواہد کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو باعزت بری کر دیا

08/04/2026

جناب ایڈیشنل سیشن جج بھکر، ق ت ل کے مقدمہ میں نامزد ملزمان عبداللہ ،محمد عبداللہ پسران محمد بخش قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 28 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو باعزت بری کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ندیم حسن ولد نذیر حسن قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 36 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو ا غ وا کرنے کے بعد ق تل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 423/25 بجرم دفعات 365 اور 302 تھانہ سٹی بھکر میں درج کیا گیا تھا۔

ملزمان کی جانب سے ملک انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے پیروی کی، جبکہ عدالت نے شواہد کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو باعزت بری کر دیا

جناب ایڈیشنل سیشن جج بھکر، قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزمان عبداللہ ،محمد عبداللہ پسران محمد بخش قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 2...
08/04/2026

جناب ایڈیشنل سیشن جج بھکر، قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزمان عبداللہ ،محمد عبداللہ پسران محمد بخش قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 28 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو باعزت بری کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ندیم حسن ولد نذیر حسن قوم گورچھا، سکنہ چک نمبر 36 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر کو ا غ وا کرنے کے بعد ق تل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 423/25 بجرم دفعات 365 اور 302 تھانہ سٹی بھکر میں درج کیا گیا تھا۔

ملزمان کی جانب سے ملک انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے پیروی کی، جبکہ عدالت نے شواہد کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو باعزت بری کر دیا

اغ  - واء اور زیا۔ دتی کے ملزم کی ضمانت خارج
08/04/2026

اغ - واء اور زیا۔ دتی کے ملزم کی ضمانت خارج

Address

Bhakkar City
Bhakkar
33000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Inam ul Haq Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share