04/04/2026
وکیل کی عدم موجودگی پر اپیل کا اخراج۔ قانونی و اصولی جائزہ۔
سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ محض وکیل کی عدم موجودگی کی بنیاد پر کسی مقدمہ یا اپیل کو خارج کرنا ہر صورت میں قانون کے مطابق نہیں ہوتا، خصوصاً جب ایسا اقدام سائل کے بنیادی حقِ سماعت اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہو۔ اس مقدمہ عبدالرحمن بنام سید جعفر حسین میں ایک Regular Second Appeal (RSA No. 50 of 2010) لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت تھی، جسے 26 اکتوبر 2022 کو صرف اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ بعد ازاں تقریباً دو سال بعد اپیل کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی گئی، جسے ہائیکورٹ نے تاخیر کی بنیاد پر مسترد کر دیا، اور یوں معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے پیش ہوا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اہم نکتہ واضح کیا کہ Order XLI Rule 17, C.P.C کے تحت کسی اپیل کو عدم پیروی پر خارج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر ہو۔ جبکہ اس کیس میں متعلقہ تاریخ محض نوٹس کے اجراء کے لیے مقرر تھی، نہ کہ حتمی یا باضابطہ سماعت کے لیے، لہٰذا اس مرحلے پر اپیل کا اخراج ایک غیر قانونی اقدام قرار پایا۔ عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ قانونی طریقہ کار انصاف کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اسے ناکام بنانے کے لیے، اور کسی فریق کو مؤثر موقعِ سماعت دیے بغیر اس کے مقدمہ کو خارج کرنا اصولِ فطری انصاف، خصوصاً Audi Alteram Partem، کے منافی ہے۔
مزید برآں، سپریم کورٹ نے میعاد (Limitation) کے پہلو کو بھی نئے انداز میں دیکھا اور قرار دیا کہ چونکہ اپیل کا اخراج ہی قانونی طور پر درست نہ تھا، اس لیے 30 دن کی مخصوص میعاد لاگو نہیں ہوگی، بلکہ Limitation Act کے تحت تین سال کی عمومی میعاد لاگو ہوگی، جس کے تحت بحالی کی درخواست قابلِ سماعت تھی۔
ق
فیصلہ تحریر کرتے ہوئے جناب جسٹس شاہد بلال حسن نے درخواست گزاروں کے حق میں اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اصل اپیل کو بحال کیا، اور ہدایت کی کہ ہائیکورٹ ایک ماہ کے اندر فریقین کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرے۔ تاہم، عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے 50,000 روپے بطور اخراجات بھی عائد کیے تاکہ عدالتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔