Bashir Ahmad Khokhar Law Associates

Bashir Ahmad Khokhar Law Associates Justice for everyone

19/05/2026

اگر خلع کے بعد میاں بیوی راضی ہو جائیں تو وہ نئے نکاح کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتے ہیں۔

2026 LHC 2559.

07/05/2026

سوال: میں نے عدالت میں کسی ملزم کی ضمانت دی تھی۔ اب وہ ملزم مفرور ہو گیا ہے۔ کیا کریں؟
جواب: ملزم کی ضمانت دینے والے کو اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے بلانے پر حاضر ہو۔ ملزم مفرور ہو جائے تو اس کی ضمانتیں مچلکے کی رقم/پراپرٹی ضبط ہو جاتی ہے۔
کوشش کریں ملزم کو ایک بار عدالت میں حاضر کریں اور اسی وقت درخواست دے دیں کہ میں اپنی ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں۔ عدالت ملزم کو کوئی اور ضمانتی پیش کرنے کا حکم دے گی ورنہ اس کی گرفتاری کے آرڈر کرے گی۔ اور آپ کی ذمہ داری ختم کر دے گی۔ آپ کی فراہم کردہ پراپرٹی وغیرہ آزاد ہو جائے گی۔ اگر ملزم نہیں پیش ہو رہا تو بھی آپ عدالت میں اپنی ضمانت واپس لینے کی درخواست دے دیں۔ تاکہ عدالت ملزم کو ثمن کرے یا وارنٹ وغیرہ ایشو کرے۔
نعمان علی کھوکھر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
سیٹ ایٹ حاصل پور بھاولپور
03336342947
03339778418

03/05/2026

2020 CLC 99
4 Muslim Personal Law
اگر ماں نانا سےپہلے فوت ہو جائےتو نانا کی پراپرٹی میں سے نواسے نواسیاں وراثتی حصے کی حقدار ہیں

لاہور ہائیکوررٹ نے حکومت کو ایڈھاک سروس پینشن میں شمار کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ دی...
23/04/2026

لاہور ہائیکوررٹ نے حکومت کو ایڈھاک سروس پینشن میں شمار کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کے حق میں بڑا ریلیف دیا ہے۔

کیس کا خلاصہ:
ڈاکٹر اظہر الحق احمد نے عدالت سے رجوع کیا کیونکہ ان کی ایڈہاک سروس (1985 تا 1990) کو پنشن میں شمار نہیں کیا جا رہا تھا، حالانکہ وہ بغیر کسی وقفے کے بعد میں ریگولر ہو گئے تھے۔

اہم قانونی نکتہ:
عدالت نے واضح کیا کہ:
اگر کوئی ملازم مسلسل سروس کرے
اور بعد میں اس کی سروس ریگولر ہو جائے
تو اس کی ایڈہاک/عارضی سروس بھی پنشن میں شمار ہوگی

عدالت کا فیصلہ:
لاہور ہائی کورٹ نے:
متعلقہ محکموں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے
حکم دیا کہ 1985 سے 1990 تک کی ایڈہاک سروس کو پنشن میں شامل کیا جائے
پنشن اور دیگر مالی فوائد دوبارہ حساب کر کے ادا کیے جائیں

عدالت کی اہم آبزرویشن:
عدالت نے کہا کہ:
ایڈہاک یا کنٹریکٹ سروس دراصل “Temporary Service” ہی کی ایک شکل ہے
جب یہ سروس بغیر وقفے کے ریگولر ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا غیر قانونی ہے
قانون کا مقصد ملازمین کو فائدہ دینا ہے، نہ کہ ان کے حقوق چھیننا

سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی توثیق:
عدالت نے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور عارضی سروس بھی پنشن میں شامل ہو سکتی ہے
بشرطیکہ سروس مسلسل ہو اور بعد میں ریگولرائز ہو جائے۔

اہم پیغام:
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کی:
ایڈہاک / کنٹریکٹ / ڈیلی ویجز سروس
بعد میں ریگولر ہوئی ہے

تو آپ کو بھی پنشن میں اس سروس کو شامل کروانے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

23/04/2026
12/04/2026

پاور آف اٹارنی (Mukhtarnama) کے ذریعے بھی ایف آئی آر درج کروائی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کچھ قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ آسان زبان میں مکمل طریقہ یہ ہے:
📌 پاور آف اٹارنی کے ذریعے ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ

1. Valid پاور آف اٹارنی ہونا ضروری ہے
پاور آف اٹارنی Properly تیار ہو (اسٹامپ پیپر پر)
Notary Public یا Oath Commissioner سے تصدیق شدہ ہو
اس میں واضح لکھا ہو کہ وکیل/مختار کو FIR درج کروانے کا اختیار ہے

2. متاثرہ شخص کی طرف سے اختیار
اصل متاثرہ شخص (Complainant) نے اپنے مختار کو مکمل اجازت دی ہو
اگر ممکن ہو تو پاور آف اٹارنی کے ساتھ ID card کی کاپی بھی attach کریں

3. تھانے میں درخواست دینا
مختار (Attorney) خود تھانے جا کر درخواست دے
پاور آف اٹارنی کی کاپی ساتھ لگائے
واقعہ کی مکمل تفصیل بیان کرے

4. پولیس کی Verification
پولیس پاور آف اٹارنی کی تصدیق کر سکتی ہے
بعض اوقات اصل مدعی سے فون پر یا ذاتی تصدیق بھی لی جاتی ہے

5. FIR کا اندراج
اگر پولیس مطمئن ہو جائے تو FIR درج کر لی جاتی ہے
FIR میں mention ہوتا ہے کہ یہ پاور آف اٹارنی کے ذریعے درج ہوئی ہے
⚖️ اہم قانونی نکتہ
عدالتوں نے تسلیم کیا ہے کہ پاور آف اٹارنی کے ذریعے FIR درج ہو سکتی ہے
حوالہ: PLJ 2026 Cr.C. 209

وکیل کی عدم موجودگی پر اپیل کا اخراج۔ قانونی و اصولی جائزہ۔ سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے یہ واض...
04/04/2026

وکیل کی عدم موجودگی پر اپیل کا اخراج۔ قانونی و اصولی جائزہ۔

سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ محض وکیل کی عدم موجودگی کی بنیاد پر کسی مقدمہ یا اپیل کو خارج کرنا ہر صورت میں قانون کے مطابق نہیں ہوتا، خصوصاً جب ایسا اقدام سائل کے بنیادی حقِ سماعت اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہو۔ اس مقدمہ عبدالرحمن بنام سید جعفر حسین میں ایک Regular Second Appeal (RSA No. 50 of 2010) لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت تھی، جسے 26 اکتوبر 2022 کو صرف اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ بعد ازاں تقریباً دو سال بعد اپیل کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی گئی، جسے ہائیکورٹ نے تاخیر کی بنیاد پر مسترد کر دیا، اور یوں معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے پیش ہوا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اہم نکتہ واضح کیا کہ Order XLI Rule 17, C.P.C کے تحت کسی اپیل کو عدم پیروی پر خارج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر ہو۔ جبکہ اس کیس میں متعلقہ تاریخ محض نوٹس کے اجراء کے لیے مقرر تھی، نہ کہ حتمی یا باضابطہ سماعت کے لیے، لہٰذا اس مرحلے پر اپیل کا اخراج ایک غیر قانونی اقدام قرار پایا۔ عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ قانونی طریقہ کار انصاف کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اسے ناکام بنانے کے لیے، اور کسی فریق کو مؤثر موقعِ سماعت دیے بغیر اس کے مقدمہ کو خارج کرنا اصولِ فطری انصاف، خصوصاً Audi Alteram Partem، کے منافی ہے۔

مزید برآں، سپریم کورٹ نے میعاد (Limitation) کے پہلو کو بھی نئے انداز میں دیکھا اور قرار دیا کہ چونکہ اپیل کا اخراج ہی قانونی طور پر درست نہ تھا، اس لیے 30 دن کی مخصوص میعاد لاگو نہیں ہوگی، بلکہ Limitation Act کے تحت تین سال کی عمومی میعاد لاگو ہوگی، جس کے تحت بحالی کی درخواست قابلِ سماعت تھی۔
ق
فیصلہ تحریر کرتے ہوئے جناب جسٹس شاہد بلال حسن نے درخواست گزاروں کے حق میں اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اصل اپیل کو بحال کیا، اور ہدایت کی کہ ہائیکورٹ ایک ماہ کے اندر فریقین کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرے۔ تاہم، عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے 50,000 روپے بطور اخراجات بھی عائد کیے تاکہ عدالتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

18/03/2026

آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:

آرڈر 9 رول 13 ضابطہ دیوانی (CPC) کے مطابق اگر کسی مقدمے میں عدالت مدعا علیہ کی غیر حاضری کی وجہ سے یک طرفہ فیصلہ (Ex-parte Decree) صادر کر دے تو مدعا علیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دے کر اس فیصلے کو منسوخ کرانے کی استدعا کرے۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مدعا علیہ عدالت کو مطمئن کرے کہ:

1۔ یا تو اسے سمن درست طریقے سے موصول نہیں ہوئے تھے،

2۔ یا پھر وہ کسی مناسب اور معقول وجہ (Sufficient Cause) کی بنا پر مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔

اگر عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہو جائے تو وہ مناسب شرائط کے ساتھ (جیسے اخراجات یا دیگر شرائط) یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کر سکتی ہے۔

تاہم آرڈر 9 رول 13 کے ساتھ موجود وضاحت (Proviso) کے مطابق اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ مدعا علیہ کو مقدمے کی تاریخ کا بروقت علم تھا اور اس کے باوجود وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو صرف سمن کی ترسیل میں کسی معمولی بے ضابطگی کی بنیاد پر یک طرفہ ڈگری منسوخ نہیں کی جائے گی۔

یہاں “مناسب وجہ” کی کوئی حتمی یا سخت تعریف قانون میں موجود نہیں ہے۔ اس کا تعین ہر مقدمے کے مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھ کر عدالت اپنی دانش، فہم اور صوابدید کے مطابق کرتی ہے۔

صرف یہ کہہ دینا کہ وکیل مقرر کر دیا تھا کافی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری صرف وکیل پر نہیں بلکہ فریق پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدہ معلومات لیتا رہے۔ اگر وکیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عموماً اس کی غفلت کا نقصان اسی فریق کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس نے اسے مقرر کیا تھا۔

🟢 لمیٹیشن ایکٹ (Limitation Act) کے تحت مدت:

آرٹیکل 164، Limitation Act کے مطابق یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کرانے کے لیے 30 دن کے اندر درخواست دائر کرنا ضروری ہے۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول ہوئے تھے تو مدت کا آغاز فیصلے کی تاریخ سے ہوگا۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول نہیں ہوئے تھے تو مدت کا آغاز اس تاریخ سے ہوگا. جب درخواست گزار کو فیصلے کا علم ہوا۔

سن 1980 کی ترمیم کے بعد سیکشن 5 Limitation Act بھی اس معاملے میں قابل اطلاق ہے، جس کے تحت اگر درخواست تاخیر سے دائر ہو تو عدالت تاخیر کو معاف کر سکتی ہے، بشرطیکہ درخواست گزار

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ فیملی عدالتیں اپنی جانب سے (خود بخود) بیوی کی جانب سے طلاق کے مطالبے کو خلع کی کارروائی می...
25/01/2026

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ فیملی عدالتیں اپنی جانب سے (خود بخود) بیوی کی جانب سے طلاق کے مطالبے کو خلع کی کارروائی میں تبدیل نہیں کر سکتیں، کیونکہ ایسا کرنے سے بیوی اپنے حقِ مہر سے محروم ہو جاتی ہے۔
چنانچہ عدالتِ عظمیٰ نے زیریں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شادی کو خلع کے بجائے طلاق کی بنیاد پر ختم کر دیا، اس لیے کہ شوہر نے دوسری شادی کر رکھی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ بیوی کو اس کا مکمل غیر ادا شدہ حقِ مہر، جو کہ 12 لاکھ روپے بنتا ہے، خاندانی عدالت کے ذریعے بذریعہ عملدرآمد ادا کیا جائے۔
عدالت نے اپنے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں، جسٹس مسرت ہلالی نے مشاہدہ کیا کہ:
“ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ جہاں بیوی شوہر سے نفرت یا بیزاری کا اظہار کرتی ہے، وہاں خاندانی عدالت شادی کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں بیوی اپنے حقِ مہر سے محروم ہو جاتی ہے۔”

Address

Office No 12 Judicial Complex Hasilpur District Bahawalpur
Bahawalpur

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923339778418

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bashir Ahmad Khokhar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bashir Ahmad Khokhar Law Associates:

Share