16/06/2026
ایکڑ/کیلہ بندی اور کشتواری رقبہ
زمین کی پیمائش کے نظام میں کیلہ بندی ایک باقاعدہ مستطیل شکل میں کی جاتی ہے تاکہ ریکارڈ اور نقشہ جات کو سمجھنا آسان ہو۔
🔹 25 ایکڑ (200 کنال) کی کیلہ بندی
25 ایکڑ پر مشتمل ایک مستطیل میں کل 25 خانے (ایکڑ) ہوتے ہیں۔
ایک ایکڑ کی لمبائی: 40 کرم (220 فٹ)
ایک ایکڑ کی چوڑائی: 36 کرم (198 فٹ)
اس طرح 25 ایکڑ کے پورے مستطیل کی:
لمبائی: 200 کرم (1100 فٹ)
چوڑائی: 180 کرم (990 فٹ)
🔹 10 ایکڑ (80 کنال) کی کیلہ بندی
بعض علاقوں میں 10 ایکڑ پر مشتمل مستطیل بھی رائج ہے، جس کی:
لمبائی: 180 کرم
چوڑائی: 80 کرم
ہوتی ہے۔
🔹 کشتواری رقبہ کیا ہوتا ہے؟
کشتواری رقبہ عموماً باقاعدہ مستطیل شکل میں نہیں ہوتا بلکہ قدرتی حدود اور زمینی حالات کے مطابق زگ زیگ (بے قاعدہ) شکل کا ہوتا ہے۔
یہ مختلف نمبروں خسرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔
ہر خسرہ نمبر کا رقبہ الگ الگ ہو سکتا ہے۔
بعض خسرہ جات بڑے جبکہ بعض چھوٹے ہوتے ہیں۔
پوٹھوہار کے پہاڑی علاقوں، ریگستانی علاقوں اور دیگر غیر ہموار زمینوں میں زیادہ تر کشتواری پیمائش استعمال ہوتی ہے۔
ان کی پیمائش بھی عموماً کرم میں درج کی جاتی ہے اور حد بندی کے وقت ہر سمت کی لمبائی الگ الگ لکھی جاتی ہے۔
تصویر میں دائیں جانب کشتواری (زگ زیگ) رقبہ جبکہ بائیں جانب 10 اور 25 ایکڑ کی باقاعدہ کیلہ بندیاں دکھائی گئی ہیں، جس سے دونوں اقسام کی پیمائش کا فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔