Jurisprudentia Legal Consultants

Jurisprudentia Legal Consultants Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jurisprudentia Legal Consultants, Bahawalpur.
(3)

📍 Expert Legal Solutions | Trusted Advocacy
⚖️ Civil • Criminal • Family • Cybercrime
📂 Corporate & Taxation Law | Islamabad & Bahawalpur
📞 DM or WhatsApp for Consultation: 0337-0755774

پاکستان کے سوشل میڈیا کریٹرز ہو جائیں تیار: ایف بی آر کے نئے ٹیکس قوانین کا نفاذ!اگر آپ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، یا کس...
10/04/2026

پاکستان کے سوشل میڈیا کریٹرز ہو جائیں تیار: ایف بی آر کے نئے ٹیکس قوانین کا نفاذ!

اگر آپ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، یا کسی بھی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے پیسے کما رہے ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے نہایت اہم ہے۔ حکومتِ پاکستان اور ایف بی آر (FBR) نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور کانٹینٹ کریٹرز کے لیے انکم ٹیکس کے نئے قوانین کا مسودہ (S.R.O. 546(I)/2026) جاری کر دیا ہے۔

1. یہ قانون کس پر لاگو ہوگا؟ (Application)
یہ قوانین ان تمام پاکستانی رہائشیوں (Resident Persons) کے لیے ہیں جو سوشل میڈیا کانٹینٹ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔ اگر آپ کا کانٹینٹ پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے اور آپ اس سے کسی بھی صورت میں معاوضہ حاصل کر رہے ہیں، تو آپ ان نئے قوانین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

2. سوشل میڈیا آمدنی کا حساب کتاب (Tax Formula)
حکومت نے ٹیکس لگانے کے لیے ایک خاص فارمولا وضع کیا ہے جس کے تحت آپ کی خالص آمدنی نکالی جائے گی۔
• ٹیکس کے لیے آمدنی کا حساب: (کل معاوضہ - اخراجات)۔
• اخراجات کی حد: آپ اپنی کل آمدنی پر زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کے اخراجات (Expenses) کلیم کر سکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ 100 روپے کماتے ہیں، تو 30 روپے خرچہ نکال کر بقیہ 70 روپے پر ٹیکس کا حساب ہوگا۔

3. کل معاوضہ کیسے طے ہوگا؟ (Total Remuneration)
ایف بی آر آپ کی کل آمدنی کا تعین دو طریقوں سے کرے گا اور جو رقم زیادہ ہوگی، اسے ہی آپ کی اصل آمدن مانا جائے گا:
• پہلا طریقہ (حقیقی آمدن): وہ تمام پیسے جو آپ کو کیش یا کسی اور صورت میں موصول ہوئے۔
• دوسرا طریقہ (ویوز کا حساب): اگر کوئی اپنی آمدن چھپاتا ہے، تو ایف بی آر ایک فارمولا استعمال کرے گا: (ویوز کی اوسط تعداد x کل پوسٹس x ریٹ)۔

4. یوٹیوب کے لیے خاص ریٹ (Revenue per mille)
اس نوٹیفیکیشن میں یوٹیوب کریٹرز کے لیے 195 روپے فی ایک ہزار ویوز کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ ایف بی آر اس ریٹ کو وقت کے ساتھ تبدیل کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

5. ٹیکس کی ادائیگی اور گوشوارے (Filing & Advance Tax)
• ایڈوانس ٹیکس: اب سوشل میڈیا کریٹرز کو سال کے اختتام کا انتظار نہیں کرنا ہوگا، بلکہ انہیں ہر تین ماہ (Quarterly) کے بعد ایڈوانس انکم ٹیکس جمع کروانا ہوگا۔
• خصوصی ٹیکس ریٹرن: انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں سوشل میڈیا کی آمدنی ظاہر کرنے کے لیے ایک علیحدہ حصہ (Special Part) شامل کیا جائے گا۔
• کمشنر کے اختیارات: اگر آپ کی ظاہر کردہ آمدنی ایف بی آر کے بتائے ہوئے فارمولے سے کم ہوئی، تو ٹیکس کمشنر کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اس غلطی کو درست کرے اور آپ سے واجب الادا ٹیکس وصول کرے۔

6. اہم تعریفیں (Definitions)
• سوشل میڈیا پلیٹ فارم: ہر وہ انٹرنیٹ سروس جہاں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور مواد شیئر کرتے ہیں۔
• سوشل میڈیا کانٹینٹ: ہر وہ ڈیجیٹل معلومات، ویڈیو یا تحریر جو کسی پلیٹ فارم پر پیسوں کے عوض (اشتہارات یا اسپانسر شپ) شیئر کی جائے۔

Jurisprudentia Legal Consultants
Rana Hassan Khalil (Advocate High Court)
03370755774
Bahawalpur & Lahore

یہ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس 2026 ہے، جو 14 فروری 2026 کو گورنر پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقص...
07/04/2026

یہ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس 2026 ہے، جو 14 فروری 2026 کو گورنر پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد 1967 کے ایکٹ میں جدید دور کی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹائزیشن اور تقسیمِ زمین کے عمل کو تیز بنانا ہے۔

اس ترمیمی آرڈیننس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن (Digitalization)
• ڈیجیٹل کیڈسٹر (Digital Cadaster): نقشوں کا ایک ایسا الیکٹرانک ریکارڈ متعارف کرایا گیا ہے جو براہ راست زمین کے ریکارڈ سے منسلک ہوگا اور زمین کے حصوں (parcels) کی درست پیمائش دکھائے گا۔
• کمپیوٹرائزڈ سسٹمز: بورڈ آف ریونیو اب زمین کے ریکارڈ کی دیکھ بھال، فیسوں کی ادائیگی، اور افسران کی کارروائیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا پابند ہوگا۔
• آن لائن حاضری: ریونیو افسر کے سامنے پیشی کے لیے اب الیکٹرانک یا ڈیجیٹل ذرائع (جیسے ویڈیو لنک وغیرہ) استعمال کیے جا سکیں گے۔

2. زمین کی تقسیم (Partition) کے نئے اور تیز قوانین
• 60 دن کی ڈیڈ لائن: ریونیو افسر اب زمین کی تقسیم کی درخواست یا وراثت کے انتقال کے بعد 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔
• تاخیر پر کارروائی: اگر افسر 60 دن میں فیصلہ نہیں کرتا، تو کیس کلکٹر کو منتقل ہو جائے گا، جو تاخیر کے ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گا۔
• پرائیویٹ تقسیم: اگر تمام وارثین آپس میں راضی ہوں، تو وہ ایک سال کے اندر اپنی نجی تقسیم کا منصوبہ پیش کر سکتے ہیں جسے اسسٹنٹ کلکٹر منظور کرے گا۔
• راستے کی زمین: زمین کی تقسیم کے دوران کسی بھی مشترکہ راستے کو تمام فریقین کے لیے بطور مشترکہ ملکیت برقرار رکھا جائے گا۔

3. وراثت اور انتقال (Mutation)
• وراثت یا کسی بھی قانونی طریقے سے زمین حاصل کرنے والے شخص کو فوری طور پر پٹواری یا اراضی ریکارڈ سینٹر (ARC) کو اطلاع دینی ہوگی۔
• پٹواری کی ذمہ داری: اگر پٹواری رپورٹ درج کرنے میں ناکام رہے، تو متاثرہ شخص براہ راست ریونیو افسر کو تحریری درخواست دے سکتا ہے۔

4. جرمانے اور سزائیں
اس آرڈیننس کے ذریعے مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے:
• ریونیو افسر کے احکامات کی خلاف ورزی یا مداخلت پر جرمانہ 500 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
• کچھ مخصوص خلاف ورزیوں پر جرمانہ 10 لاکھ (ایک ملین) روپے تک بھی ہو سکتا ہے۔

5. دیگر اہم ترامیم
• ثالثی (Arbitration): زمین کے تنازعات، حد بندی، یا تقسیم کے مسائل اب بورڈ آف ریونیو کی نوٹیفائیڈ "ثالثی کمیٹی" کو بھیجے جا سکتے ہیں، جس کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔
• قبضہ دلانا: جب زمین کی تقسیم کا فیصلہ ہو جائے گا، تو ریونیو افسر فوری طور پر "آلہ تقسیم" (Instrument of Partition) جاری کرے گا اور اسے عدالتی ڈگری کی طرح نافذ کر کے قبضہ دلوائے گا۔
• سول کورٹس کا دائرہ اختیار: ریونیو معاملات میں سول کورٹس کی غیر ضروری مداخلت کو روکا گیا ہے تاکہ معاملات جلد حل ہوں۔

اہم دفعات اور ان کی وضاحت:
• سیکشن 4 (ڈیجیٹل کیڈسٹر اور پارسل): اس میں "ڈیجیٹل کیڈسٹر" اور "پارسل" کی نئی تعریفیں شامل کی گئی ہیں، جس کا مطلب زمین کے نقشوں کو الیکٹرانک ریکارڈ اور مخصوص شناختی نمبر کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔

• سیکشن 11-A (پٹواری اور قانونگو کی تقرری): پٹواری اور قانونگو کی تقرری اور ان کے فرائض (ریکارڈ کی تیاری اور معائنہ) کے لیے نئے قواعد وضع کیے گئے ہیں۔
• سیکشن 24 اور 26 (الیکٹرانک سمن اور منادی): اب عدالتی سمن اور اشتہارات (منادی) روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل یا الیکٹرانک ذرائع سے بھی بھیجے جا سکیں گے۔

• سیکشن 35 (جرمانہ): ریونیو افسر کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر جرمانہ 500 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دیا گیا ہے۔

• سیکشن 40 (ریکارڈ آف رائٹس): بورڈ آف ریونیو کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے ذریعے کسی بھی علاقے (بشمول آبادی دہ اور لال لکیر) کے ریکارڈ کی دوبارہ تیاری یا خصوصی ترمیم کا حکم دے سکے۔

• سیکشن 41-C (کمپیوٹرائزڈ سسٹم): ریکارڈ کی حفاظت، فیسوں کی ڈیجیٹل وصولی اور ریونیو عدالتوں کی کارروائی کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کرنے کا قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

• سیکشن 42 اور 42-A (وراثت اور انتقال): وراثت یا منتقلیِ زمین کی صورت میں پٹواری یا اراضی ریکارڈ سینٹر کو فوری اطلاع دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
• سیکشن 117 (حد بندی اور بے دخلی): اگر کسی مالک کی زمین پڑوسی کے پاس زیادہ ہو، تو ریونیو افسر حد بندی کر کے قبضہ دلوانے اور بے دخلی کی کارروائی کر سکے گا۔

• سیکشن 134 (بھاری جرمانہ): بعض خلاف ورزیوں پر کلکٹر اب 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔
• سیکشن 135-A اور 142-A (تقسیمِ زمین کی مدت): مشترکہ زمین کی تقسیم کے کیسز کا فیصلہ ہر صورت 60 دن کے اندر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

• سیکشن 153 اور 159 (ثالثی کمیٹی): تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کمیٹی کا قیام اور اس کے فیصلے کو حتمی قرار دیا گیا ہے۔

• سیکشن 163 (نظرِ ثانی): کسی بھی فیصلے پر نظرِ ثانی (Review) کی درخواست اب صرف 30 دن کے اندر دی جا سکے گی۔

یہ ترمیم پنجاب میں زمین کے معاملات کو شفاف بنانے، پٹواری کلچر کو ڈیجیٹل سسٹم سے بدلنے اور زمین کی تقسیم کے سالوں پر محیط کیسز کو مہینوں میں حل کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔

Jurisprudentia Legal Consultants
Rana Hassan Khalil (Advocate High Court)
03370755774
Bahawalpur - Lahore

سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ جو قانونی اصطلاح میں "Withdrawal Simpliciter" (بغیر کسی شرط یا اجازت کے مقدمہ کی واپسی) کے ا...
25/03/2026

سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ جو قانونی اصطلاح میں "Withdrawal Simpliciter" (بغیر کسی شرط یا اجازت کے مقدمہ کی واپسی) کے اثرات پر بات کرتا ہے۔
عدالت نے اس فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے محض دعویٰ کرنا کافی نہیں، بلکہ ضابطہ کار کی سختی سے پابندی بھی ضروری ہے۔

کیس کا پس منظر اور حقائق:
- تنازعہ کی بنیاد: یہ کیس کوہاٹ میں واقع ایک دکان کے لیز ڈیڈ (مورخہ 01.07.1995) کے گرد گھومتا ہے۔ درخواست گزاروں (سہیل اسلام وغیرہ) کا دعویٰ تھا کہ ان کے والد اس دکان کے اصل لیز ہولڈر تھے اور ان کی وفات کے بعد دھوکہ دہی سے یہ لیز مدعا علیہ (سعد اللہ خان) کے نام منتقل کر دی گئی۔
- سابقہ قانونی کارروائی: ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ موجودہ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے، درخواست گزاروں کے والد نے اسی لیز ڈیڈ کو چیلنج کرنے کے لیے ایک اور مقدمہ (Civil Suit No. 298/1) دائر کیا تھا۔
- پہلے مقدمے کا انجام: یہ پہلا مقدمہ 30 مئی 2009 کو عدالت سے واپس لے لیا گیا تھا۔ واپسی کی اس درخواست میں دوبارہ مقدمہ دائر کرنے کی کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی عدالت نے ایسی کوئی اجازت دی تھی۔

عدالت کا ذہن اور قانونی استدلال: (Mind of the Court)
سپریم کورٹ نے اس کیس میں مدعی کے رویے اور قانونی خامیاں پکڑتے ہوئے درج ذیل اصول وضع کیے:

1. "واپسی" اور "دوبارہ مقدمہ" پر پابندی (Order XXIII Rule 1):
عدالت کا موقف یہ تھا کہ قانون کسی کو ایک ہی معاملے پر بار بار عدالت آنے کی اجازت نہیں دیتا اگر وہ ایک بار اپنا حق خود ہی ترک کر دے۔
- عدالتی مشاہدہ: اگر کوئی مدعی اپنا مقدمہ واپس لیتا ہے اور عدالت سے یہ اجازت نہیں لیتا کہ وہ "نئے سرے سے مقدمہ دائر کرے گا"، تو وہ ہمیشہ کے لیے اس حق سے محروم ہو جاتا ہے۔
- درخواست گزار کا دفاع: انہوں نے موقف اپنایا کہ پہلا مقدمہ ایک "نجی سمجھوتے" کی بنا پر واپس ہوا تھا۔ عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ سمجھوتہ عدالتی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا تھا، اس لیے اسے قانونی طور پر "بغیر شرط واپسی" ہی مانا جائے گا۔

2. عدالتی حکم کی حتمیت (Finality of Orders)
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ 2009 میں مقدمہ واپسی کا جو حکم ہوا تھا، اسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔
- عدالتی ذہن: جب ایک فریق عدالتی حکم کو تسلیم کر لے اور اسے اپیل میں چیلنج نہ کرے، تو وہ حکم "حتمی" (Final) ہو جاتا ہے۔ درخواست گزار کئی سالوں بعد اس حکم کے قانونی اثرات سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

3. میعادِ سماعت کا سخت معیار (Law of Limitation)
عدالت نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ قانونِ میعاد (Limitation Act) کے تحت بھی خارج ہونے کے قابل تھا۔
- اصول: آرڈر XXIII رول 2 کے تحت، جب آپ نیا مقدمہ کرتے ہیں (پہلے کی واپسی کے بعد)، تو وقت کا حساب اس دن سے شروع ہوتا ہے جب پہلی بار حقِ دعویٰ پیدا ہوا تھا۔
- نتیجہ: 1995 کے لیز ڈیڈ کو اتنے سالوں بعد چیلنج کرنا قانوناً "ہوپ لیسلی" (Hopelessly) ٹائم بارڈ تھا۔ عدالت نے سیکشن 14 (وقت کی رعایت) دینے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ مدعی نے کوئی "نیک نیتی" یا "دائرہ اختیار کی غلطی" ثابت نہیں کی تھی۔

حاصل بحث:
سپریم کورٹ کا "مائنڈ" بالکل واضح تھا: قانون صرف ان کی مدد کرتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے بیدار ہوں اور ضابطے کی پابندی کریں (Vigilantibus non dormientibus jura subveniunt)۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
- پہلا مقدمہ بغیر اجازت واپس لینا ایک قانونی رکاوٹ (Bar) بن گیا۔
- درخواست گزاروں کا دوسرا مقدمہ نہ صرف قانوناً ممنوع تھا بلکہ میعادِ سماعت سے بھی باہر تھا۔
- پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست تھا، اس لیے اپیل کی اجازت مسترد کی جاتی ہے۔

قانونی بحث: آرڈر ###VII رول 4 کے تحت میعادِ سماعت کا تعینقانونِ میعاد 1908 کے تفصیلی مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ع...
24/03/2026

قانونی بحث: آرڈر ###VII رول 4 کے تحت میعادِ سماعت کا تعین
قانونِ میعاد 1908 کے تفصیلی مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ضابطہ دیوانی کے آرڈر ###VII کے تحت صادر شدہ یکطرفہ ڈگری کو منسوخ کرانے کے لیے کسی مخصوص آرٹیکل میں مدتِ میعاد کا ذکر نہیں ملتا۔ چونکہ سمری مقدمات اپنی مخصوص نوعیت اور امتیازی طریقہ کار کی بنا پر عام دیوانی مقدمات سے یکسر مختلف ہیں، اس لیے ان پر عام دفعات کا اطلاق ممکن نہیں۔
1۔ آرٹیکل 181 کا اطلاق اور قانونی خلا (Legal Lacuna)
جہاں قانون کسی خاص درخواست کے لیے میعاد مقرر کرنے میں خاموش ہو، وہاں قانونِ میعاد کا آرٹیکل 181 (Residuary Article) میدان میں آتا ہے۔ سمری ڈگری کی منسوخی کے لیے چونکہ کوئی مخصوص مدت متعین نہیں، اس لیے تین سال کی میعادِ سماعت فراہم کرنے والا یہ آرٹیکل ہی یہاں مؤثر ہوگا۔ میعاد کا یہ دورانیہ اس وقت سے شروع ہوگا جب درخواست گزار کے علم میں متعلقہ ڈگری لائی جائے۔
2۔ آرٹیکل 164 بمقابلہ آرٹیکل 181
عام طور پر یکطرفہ ڈگری کی منسوخی کے لیے آرٹیکل 164 کا سہارا لیا جاتا ہے، تاہم سمری مقدمات میں جہاں مدعا علیہ سرے سے عدالت میں پیش ہی نہ ہوا ہو، وہاں اس آرٹیکل کا اطلاق ایک قانونی مغالطہ (Misdirection in Law) ہوگا۔ آرڈر ###VII رول 4 ایک مکمل اور خود مکتفی (Self-contained) ضابطہ ہے، جسے آرڈر IX رول 13 کے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہٰذا، ایسی صورتحال میں آرٹیکل 181 کے تحت رجوع کرنا ہی درست قانونی موقف ہے۔
3۔ "خصوصی حالات" اور عدالت کا وسیع اختیار
آرڈر ###VII رول 4 محض ایک ضابطہ کار نہیں بلکہ عدالت کو ایک ٹھوس (Substantive) اختیار تفویض کرتا ہے۔ اس کے تحت عدالت نہ صرف یکطرفہ ڈگری بلکہ بعض حالات میں میرٹ پر دی گئی ڈگری کو بھی کالعدم قرار دے سکتی ہے، بشرطیکہ مدعا علیہ "خصوصی حالات" (Special Circumstances) ثابت کر دے۔ یہ کڑی شرط ہی سمری کارروائی کو عام دیوانی مقدمات سے ممتاز کرتی ہے اور آرٹیکل 181 کے اطلاق کی بنیاد بنتی ہے۔
4۔ استثنائی صورتحال
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اگر مدعا علیہ دورانِ مقدمہ عدالت میں پیش ہو چکا ہو اور کارروائی اپنی سمری حیثیت کھو کر عام دیوانی نوعیت اختیار کر لے، تو صرف اسی مخصوص صورت میں آرٹیکل 164 کے اطلاق کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

حوالہ: سول ریویژن نمبر 504/2022، محمد یوسف بنام شہباز خان (2026 LHC 1669)

Eid Mubarak 🌙✨ May your heart be filled with joy and your home with blessings 🤍Grateful for faith, family, and endless b...
20/03/2026

Eid Mubarak 🌙✨ May your heart be filled with joy and your home with blessings 🤍

Grateful for faith, family, and endless blessings this Eid 🤲✨

Legal Summary: CIR vs. Messrs Sufi Tahir NadeemCitation: 2025 SCMR 1687Court: Supreme Court of PakistanDecided on: 24th ...
19/03/2026

Legal Summary: CIR vs. Messrs Sufi Tahir Nadeem
Citation: 2025 SCMR 1687
Court: Supreme Court of Pakistan
Decided on: 24th June, 2025

1. Overview of the Dispute
The litigation arose from the classification of packaging materials—specifically BOPP Composite/Plain Film, PET Film, CPP Metalized Film, and CPP Milky Film—under the Income Tax Ordinance, 2001. The respondent-taxpayer claimed these were Fast Moving Consumer Goods (FMCG) to avail a lower minimum tax rate of 0.2%. The Revenue Department contested this, applying a 1% rate on the grounds that these are industrial raw materials, not consumer goods.

2. Legal Definitions Applied
The Supreme Court analyzed the case based on the following statutory definitions:
- Consumer Goods (Section 2(13AB)): Goods consumed by the end consumer rather than used in the production of another good.
- Fast Moving Consumer Goods (Section 2(22A)): Consumer goods supplied in the retail market as per daily demand (excluding durable goods).

3. Judicial Findings
The Court set aside the High Court's previous judgment based on several key findings:
- Production vs. Consumption: The products are primarily used as packing material for other consumer goods (such as food, ci******es, and pharmaceuticals) rather than being the end-product themselves.
- Retail Market Presence: While consumers buy products wrapped in these films, they do not typically purchase the films as stand-alone items in the retail market.
- Industrial Nature: The goods were found to be meant primarily for industrial or commercial use, forming a key component of other products rather than being "consumer items".
- Durability: Under the Finance Act, 2017, "durable" goods are specifically excluded from the FMCG definition. The Court held that these film products fall under the category of durable goods.

4. Final Order
The Supreme Court allowed the appeals, ruling that the subject goods do not qualify as Fast Moving Consumer Goods under the Ordinance. The tax liability created by the Inland Revenue authorities was upheld.

کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور ایک ٹیکس گزار (ڈسٹری بیوٹر) کے درمیان تھا۔ ٹیکس گزار مختلف قسم کی پیکنگ فلمز (جیسے BOPP اور PET فلمز) بیچتا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ یہ اشیاء "Fast Moving Consumer Goods" (FMCG) کے زمرے میں آتی ہیں۔

تنازع کی وجہ:
- اگر یہ اشیاء FMCG مان لی جاتیں، تو ٹیکس گزار کو صرف 0.2% کم از کم ٹیکس دینا پڑتا۔
- لیکن محکمہ انکم ٹیکس کا موقف تھا کہ یہ عام استعمال کی اشیاء نہیں ہیں، اس لیے ان پر 1% ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اہم نکات:
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا پرانا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس کے حق میں فیصلہ دیا۔

عدالت کے اہم دلائل درج ذیل تھے:
- براہِ راست استعمال (End Use): قانون کے مطابق 'کنزیومر گڈز' وہ ہوتی ہیں جو براہِ راست صارف (Customer) استعمال کرے۔ یہ فلمز دراصل دوسری چیزوں (جیسے بسکٹ، صابن یا سگریٹ) کو پیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اس لیے یہ خود "تیار شدہ مال" نہیں بلکہ پیکنگ میٹریل ہیں۔
- ریٹیل مارکیٹ کی طلب: عدالت نے کہا کہ کوئی بھی عام گاہک دکان پر جا کر یہ فلمز (بغیر کسی پروڈکٹ کے) روزمرہ استعمال کے لیے نہیں خریدتا۔ اس لیے یہ "ڈیلی ڈیمانڈ" والی اشیاء نہیں کہلا سکتیں۔
- صنعتی استعمال: یہ اشیاء زیادہ تر صنعتی یا تجارتی مقاصد (Industrial use) کے لیے استعمال ہوتی ہیں نہ کہ براہِ راست عوام کے استعمال کے لیے۔
- پائیداری (Durable Goods): فنانس ایکٹ 2017 کے تحت، ایسی اشیاء جو پائیدار (Durable) ہوں، انہیں FMCG کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:
عدالت نے قرار دیا کہ یہ پیکنگ فلمز FMCG نہیں ہیں، اس لیے ان پر رعایت والا ٹیکس ریٹ (0.2%) لاگو نہیں ہو سکتا۔ ٹیکس گزار کو عام شرح کے مطابق ہی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

Laylatul Qadr a night better than a thousand months. May Allah accept our prayers and grant us Jannah. 🤲✨
16/03/2026

Laylatul Qadr a night better than a thousand months. May Allah accept our prayers and grant us Jannah. 🤲✨

⚖️ Expert Corporate Law Services You Can TrustLooking for a reliable Corporate Law Expert in Bahawalpur Division?At Juri...
07/03/2026

⚖️ Expert Corporate Law Services You Can Trust
Looking for a reliable Corporate Law Expert in Bahawalpur Division?
At Jurisprudentia Legal Consultants, we provide comprehensive legal solutions for businesses, startups, and organizations.
👨‍⚖️ Rana Hassan Khalil – Advocate
📌 Company Registration | SECP | FBR | IPO (Trademark)
📌 NGO/NPO | Import & Export License | Tax Litigation
📌 Chamber of Commerce | PPRA | Software Export Board
📞 Legal Advice: +92 337 0755774
📍 Bahawalpur | High Court & District Courts
Your business deserves legal strength, compliance, and confidence.

✅ فائلر بنیں اور اپنا ٹیکس بچائیں!ہم فراہم کرتے ہیں مکمل اور قابلِ اعتماد ٹیکس سروسز:📌 سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ📌 تص...
07/03/2026

✅ فائلر بنیں اور اپنا ٹیکس بچائیں!
ہم فراہم کرتے ہیں مکمل اور قابلِ اعتماد ٹیکس سروسز:
📌 سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ
📌 تصحیح شدہ ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ سٹیٹمنٹ
📌 سیلز ٹیکس ریٹرن فائلنگ
📌 تنخواہ دار افراد اور بزنس مالکان کے لیے گوشوارہ فائلنگ
📌 ایف بی آر نوٹسز کا بروقت اور مؤثر ریپلائی
📌 پوائنٹ آف سیل (POS) انوائس ویریفکیشن
📌 ایگری میپشن / ایکزمپشن سرٹیفکیٹ
📌 بزنس رجسٹریشن
📞 آج ہی رابطہ کریں اور ٹیکس کے جھنجھٹ سے نجات حاصل کریں!
📞 Contact Us Today For Professional Legal Support & Services:
📞 +92 337 0755774 (Adv. Rana Hassan Khalil)
📍 بہاولپور | شیخوپورہ | لاہور
#پنجاب #پاکستان #ایڈووکیٹ #عدالت

⚖️ Expert Corporate Law Services You Can TrustLooking for a reliable Corporate Law Expert in Bahawalpur Division?At Juri...
22/02/2026

⚖️ Expert Corporate Law Services You Can Trust

Looking for a reliable Corporate Law Expert in Bahawalpur Division?
At Jurisprudentia Legal Consultants, we provide comprehensive legal solutions for businesses, startups, and organizations.

👨‍⚖️ Rana Hassan Khalil – Advocate
📞 Legal Advice: +92 337 0755774
📍 Bahawalpur | High Court & District Courts

Your business deserves legal strength, compliance, and confidence.
See less

⚖️ ہر قانونی مسئلے کا قابلِ اعتماد حلجورسپرودینشیا لیگل کنسلٹنٹس — ماہر وکلاء کی خدمات📞 رابطہ کریں:03370755774📍 بہاولپور...
18/02/2026

⚖️ ہر قانونی مسئلے کا قابلِ اعتماد حل
جورسپرودینشیا لیگل کنسلٹنٹس — ماہر وکلاء کی خدمات

📞 رابطہ کریں:
03370755774
📍 بہاولپور | شیخوپورہ | لاہور
#پنجاب #پاکستان #ایڈووکیٹ #عدالت

تقسیم کا فیصلہ 60 دن میں ہو گا اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن ہےریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)کیسز کی سماعت اب کاغذی فائل...
16/02/2026

تقسیم کا فیصلہ 60 دن میں ہو گا اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن ہے

ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)

کیسز کی سماعت اب کاغذی فائلوں کے بجائے الیکٹرانک طریقے پر ہوگی۔ سائلین گھر بیٹھے اپنی سماعت کی تفصیلات دیکھ سکیں گے۔

تقسیم کے مقدمات کی مدت میں کمی تقسیم کے مقدمات کے فیصلے کی مدت 180 دن سے کم کر کے 60 دن کر دی گئی ہے۔ اگر ریونیو آفیسر 60 دن میں فیصلہ نہیں کرتا تو کیس اسسٹنٹ کمشنر کو منتقل ہو جائے گا۔ وراثت کی تقسیم پنجاب بھر میں وارثان اپنے متوفی کی وراثت کو اشتراک کر کے آپس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

ثالثی کمیٹی کا قیام تنازعات کے فوری حل کے لیے مقدمات ثالثی کمیٹی کو بھیجے جا سکیں گے۔

اپیل اور نگرانی دائر کرنے کی مدت

اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے اور فیصلہ بھی 30 دن کے اندر کیا جائے گا۔

مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ

کارروائی میں تاخیر کا باعث بننے والے عوامل کو ختم کر دیا گیا ہے اور عبوری احکامات کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکے گی۔

پنجاب حکومت نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ترامیم کا بل منظور کر لیا ۔

نوٹیفکیشن جاری

Jurisprudentia Legal Consultants
Rana Hassan Khalil
03370755774

Address

Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:00
Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 20:00
Sunday 08:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jurisprudentia Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share