law knowledge hub

Website

law knowledge hub law is my sword ⚔️ justice is my shield 🛡️

https://whatsapp.com/channel/0029Vb5dGAVF6sn0nQ6nHQ0F

مزید قانونی معلومات کیلئے وٹس ایپ چینل کو فالو کریں ۔
(1)

Submit your return before 30th SeptemberOtherwise, there is a heavy penalty of PKR25,000/- us waiting for you.
07/09/2026

Submit your return before 30th September

Otherwise, there is a heavy penalty of PKR
25,000/- us waiting for you.

Categories of witnesses ⚖️
25/08/2026

Categories of witnesses ⚖️

20/08/2026

❓ کیا ضمانت (Bail) کے مرحلے پر بھی ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دیا جا سکتا ہے؟
​❓ مقدمے کے ٹرائل میں بلاوجہ تاخیر (Delay in Conclusion of Trial) اور گواہان کے پیش نہ ہونے پر کیا ملزم ضمانت کا حقدار ہو جاتا ہے؟
​❓ ٹرائل کورٹ اور پراسیکیوٹر پر کیس مینجمنٹ سسٹمز اور گواہان کی وقت پر پیشی کی کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

​📌 One-Line Citation Description
ضمانت کے مرحلے پر بھی شک کا فائدہ ملزم کو مل سکتا ہے؛ نیز پراسیکیوشن کی سستی یا بلاوجہ تاخیر کے باعث ملزم کو طویل عرصے تک بغیر پیشرفت جیل میں رکھنا ضمانت پر رہائی کا مضبوط جواز ہے۔

​⚖️ 2026 SCMR 1076
[Supreme Court of Pakistan]
​👥 Fayaz Khan Versus Mohsin Shah and another

​CRL.P.L.A. No. 243-P of 2024, decided on 8th July, 2025.
(On appeal from the Order dated 29.11.2024 passed by the Peshawar High Court in Cr. M.B.A. No. 3789-P of 2024)
​Bench: Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar and Mr. Justice Irfan Saadat Khan

​📘 Definitions of Legal Concepts
​⛔️ Benefit of Doubt at Bail Stage (ضمانت کی سطح پر شک کا فائدہ): فوجداری قانون کا اصول ہے کہ ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔ یہ اصول جامد (Static) نہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، اور اگر کیس کے حالات و واقعات اجازت دیں تو ٹرائل سے پہلے یا ضمانت کے مرحلے پر بھی شک کا فائدہ ملزم کو دیا جا سکتا ہے۔
​⛔️ Delay in Trial & Protracted Litigation (ٹرائل میں بلاجواز تاخیر): اگر ملزم سنگین جرم (مثلاً دفعہ 302/324 PPC) کے تحت 2 سال 5 ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں ہو اور پراسیکیوشن کی سستی، عدم توجہی یا گواہان کو پیش نہ کرنے کی وجہ سے ٹرائل آگے نہ بڑھ رہا ہو، تو ملزم کو لامتناہی عرصے کے لیے "طویل مقدمہ بازی" (Protracted Litigation) کا شکار بنا کر قید نہیں رکھا جا سکتا۔
​⛔️ Case Management & Prosecutor's Duty (کیس مینجمنٹ اور پراسیکیوٹر کا کردار): چالان (Section 173 Cr.P.C) جمع ہونے اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے درمیان مسلسل رابطے کے ذریعے گواہان کو طے شدہ کیلنڈر (Calendar of Witnesses) کے مطابق بروقت عدالت میں پیش کرنا پراسیکیوشن کا بنیادی فرض ہے۔

​⚖️ Definitions of Sections & Laws
​⛔️ Section 497, Code of Criminal Procedure (Cr.P.C), 1898: غیر قابلِ ضمانت جرائم میں بعد از گرفتاری ضمانت (Bail After Arrest) کے اصول و ضوابط۔
​⛔️ Sections 302 & 324, Pakistan Penal Code (PPC), 1860: قتلِ عمد اور اقدامِ قتل۔
​⛔️ Sections 173 & 493, Cr.P.C: تفتیشی رپورٹ (چالان) اور پراسیکیوٹر کے فرائض۔

​

​📖 Background of the Case
سائل (فیاض خان) کے خلاف قتلِ عمد اور اقدامِ قتل (302/324 PPC) کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ سائل گذشتہ 2 سال اور 5 ماہ سے مسلسل جیل میں قید تھا جبکہ ٹرائل کورٹ میں پراسیکیوشن گواہان کو پیش کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے ٹرائل میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہو سکی۔
​سائل نے پشاور ہائی کورٹ سے ضمانت بعد از گرفتاری خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ ٹرائل کورٹ کی رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ تاخیر کا زیادہ تر حصہ پراسیکیوشن اور مستغیث کی عدم توجہی کی وجہ سے ہوا تھا۔
​⚖️ Core Legal Questions
​❓ کیا پراسیکیوشن کی ناکامی اور تاخیر کی بنا پر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جا سکتا ہے؟
​❓ کیا ضمانت کا فیصلہ کرتے وقت عدالت کو کیس کے میرٹس کی تفصیلی جرح میں جانا چاہیے؟

​🏛️ Court's Observations & Legal Principles
​✅ مقدمے کے میرٹس پر جائزہ کی حد: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت عدالت کو مقدمے کے میرٹس (Merits of the case) میں جانے کی بجائے صرف پراسیکیوشن کے موجودہ مواد اور ٹھوس شہادت (Tangible Evidence) تک محدود رہنا چاہیے تا کہ معقول وجوہات (Reasonable Grounds) کا تعین کیا جا سکے۔
​✅ پراسیکیوشن کی سستی کا اثر: سپریم کورٹ نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پراسیکیوشن بغیر کسی معقول وجہ کے گواہان پیش کرنے میں بے بس نظر آئی، جس کے نتیجے میں ملزم بلاوجہ قید کا شکار رہا۔
​✅ ٹرائل کورٹس کے لیے کیس مینجمنٹ کی ہدایت: عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ غیر ضروری التواء (Unnecessary Adjournments) کو روکنا اور ٹرائل کو وقت پر مکمل کروانا ٹرائل کورٹس کا قانونی فرض ہے۔ عدالتیں محض خاموش تماشائی یا بے بس نہیں ہو سکتیں بلکہ انہیں Case Management System کے تحت چالان اور گواہان کی پیشی کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

​⚖️ Final Order
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سائل (فیاض خان) کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کر لی اور اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔

​📑 Ratio Decidendi
اگر پراسیکیوشن کی عدم توجہی یا سستی کی بنا پر ٹرائل میں بلاجواز اور غیر معمولی تاخیر ہو، تو ملزم کو لا محدود قید میں رکھنے کی بجائے 497 Cr.P.C کے تحت ضمانت پر رہائی دی جا سکتی ہے؛ نیز ضمانت کے مرحلے پر بھی ملزم شک کے فائدے کا حقدار ہے۔

​💼 Practical Utility for Advocates
​وکلاءِ صفائی / ملزم (Counsel for Accused):
​اگر سنگین مقدمات (مثلاً 302 PPC) میں ملزم طویل عرصے سے جیل میں ہو اور ٹرائل کورٹ میں گواہان نہ آ رہے ہوں، تو 2026 SCMR 1076 پر انحصار کرتے ہوئے "Protracted Litigation" اور "Delay in Trial" کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ/ہائی کورٹ سے ضمانت کی استدعا کریں۔
​ٹرائل کورٹ کی آرڈر شیٹ (Order Sheet) سے یہ ثابت کریں کہ تاخیر کا سبب ملزم یا اس کا کونسل نہیں بلکہ پراسیکیوشن ہے۔
​وکلاءِ پراسیکیوشن / مدعی (Counsel for Complainant/State):
​ملزم کی ضمانت کی مخالفت کرتے وقت یہ ثابت کریں کہ تاخیر کا ذمہ دار سائل (Accused) خود یا اس کے وکلاء کی طرف سے بلاجواز التواء (Adjournments) مانگنا ہے، پراسیکیوشن نہیں۔

​🎯 Quotable Legal Principle
​"The basic philosophy of criminal jurisprudence is that the prosecution has to prove its case beyond reasonable doubt, a principle applicable at all stages including bail. Where an accused suffers as a victim of protracted litigation due to the prosecution's failure to produce witnesses without plausible justification, excessive and unwarranted delay entitles the accused to the concession of bail."

​📚 Precedents Relied Upon
​ضمانت کے اصول اور ٹرائل میں تاخیر:
🆚 Section 497, Code of Criminal Procedure (Cr.P.C), 1898
🆚 2024 SCP 417 = 2025 SCMR 395 (Mrs. Faryal Arif Latif v. Arif Latif)
🆚 2026 SCMR 1076 Supreme Court of Pakistan

2026 SCMR 11076076

[Supreme Court of Pakistan]

Present: Muhammad Ali Mazhar and Irfan Saadat Khan, JJ

FAYAZ KHAN ---Petitioner

versus

MOHSIN SHAH and another ---Respondents

CRL.P.L.A. No. 243-P of 2024, decided on 8th July, 2025.

(On appeal from the Order dated 29.11.2024 passed by the Peshawar High Court, Peshawar in Cr. M.B.A. No. 3789-P of 2024).

(a) Criminal Porcedure Code (V of 1898)---

---S.497---Bail---Principles and scope---Every accused is innocent until his guilt is proved and benefit of doubt can be extended to accused even at bail stage, if facts of case so warrant---Basic philosophy of criminal jurisdiction is that prosecution has to prove its case beyond reasonable doubt and such principle applies at all stages including pre-trial and even at the time of deciding whether accused is entitled to bail or not which is not an static law but growing all the time, molding itself according to exigencies of time---In order to ascertain whether reasonable grounds exist or not, the Court should not probe into the merits of the case but restrict itself to material placed before it by prosecution to see whether some tangible evidence is available against accused. [p. 1082] A

(b) Criminal Procedure Code (V of 1898)---

----Ss. 173 & 493---Filing of investigation report-Prosecutor, responsibility of--After submission of report under Section 173, Cr.P.C. role of prosecutor becomes more essential, where relentless liaison is required with investigating officer to ensure that immediately after framing of charge by Trial Court, the prosecution witnesses are produced according to calendar of witnesses as soon as possible but within a reasonable period of time. [p. 1082] B

(c) Criminal Procedure Code (V of 1898)---

----S. 497---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 302 & 324---Qatl-i-amd and attempt to commit qatl-i-amd---Bail, grant of---Delay in conclusion of trial--Trial Court, responsibility of---Case management system---Accused sought bail on the plea of delay in conclusion of trial as he had been in custody for last 2 years and 05 months and trial had not been concluded---Validity---No plausible justification was shown as to why such prolong delay was caused and why prosecution was so helpless and failed to produce prosecution witnesses in Court for early and timely conclusion of trial---Due to reckless conduct, accused was suffering as victim of protracted litigation without any progress in trial---Trial Court submitted all causes of delay and had attributed most part of delay to prosecution and complaint---If such excessive and unwarranted delays were occasioned, Trial Court under the provision of Criminal Procedure Code, 1898 was neither so helpless nor powerless, rather ought to have ensured timely compliance with a well-balanced case management system, specifying for its own docket for filing reports under Section 173, Cr.P.C. without delay with regular follow ups and immediately on framing of charge, a reasonable time line of producing prosecution witnesses by investigating officer---Stern efforts are also required for curtailing frequency of unnecessary adjournments if sought by any party---Bail was [pp. 1083, 1084] C & D allowed.

Mrs. Faryal Arif Latif v. Arif Latif 2024 SCP 417 = 2025 SCMR 395 rel.

09/08/2026

اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی شق نمبر ایک پاکستان کے لیے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ.. صفحہ نمبر ایک اور دو دیکھ لیں ..

(تجویز کردہ آئینی مسودہ)

باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ

پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔

باب دوم: نئے صوبے

بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پنجاب

1. شمالی پنجاب
2. سنٹرل پنجاب
3. جنوبی پنجاب
4. پوٹھوہار
5. بہاولپور

سندھ

6. کراچی
7. حیدرآباد
8. میرپورخاص
9. سکھر
10. لاڑکانہ

خیبر پختونخوا

11. پشاور
12. ہزارہ
13. ملاکنڈ
14. ڈیرہ اسماعیل خان

بلوچستان

15. کوئٹہ
16. مکران
17. ژوب
18. قلات

دیگر وفاقی اکائیاں

19. گلگت بلتستان
20. آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)

⸻

باب سوم: صدرِ مملکت

* صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
* صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔
* صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
* وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔
* صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔

⸻

باب چہارم: وفاقی کابینہ

* تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
* ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔
* قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔

⸻

باب پنجم: گورنر

* ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔
* گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
* اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔

⸻

باب ششم: وفاقی مقننہ

* قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔
* سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔
* تمام وفاقی قوانین، بجٹ اور آئینی ترامیم سینیٹ سے منظور ہوں گی۔
* سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں اوپن بیلٹ کے ذریعے کریں گی۔

⸻

باب ہفتم: صوبائی حکومت

* ہر صوبے میں منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔
* وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
* صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔

⸻

باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت

* وفاقی آئینی عدالت ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہوگی۔
* یہی ادارہ سپریم کورٹ کا آئینی کردار ادا کرے گا۔
* آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کا حتمی فیصلہ اسی عدالت کے پاس ہوگا۔

⸻

باب نہم: بلدیاتی نظام

* ہر ضلع میں ضلع ناظم براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوگا۔
* ڈپٹی کمشنر (DC) ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی افسر ہوگا۔
* ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ضلع ناظم کے ماتحت ضلعی امن و امان کے انتظام میں کام کرے گا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔
* تحصیل ناظم اور یونین کونسل کا نظام آئینی تحفظ کے ساتھ قائم ہوگا۔
* ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔

⸻

باب دہم: بنیادی اصول

1. مضبوط وفاق، بااختیار صوبے۔
2. طاقتور اور آئینی بلدیاتی نظام۔
3. تیز، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
4. آزاد وفاقی آئینی عدالت۔
5. اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔
6. تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔

08/08/2026

❓ کیا ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 540 کے تحت ملزمان صفائی کے ثبوت کے طور پر ایسے گواہان کو طلب کر سکتے ہیں جنہیں استغاثہ (Prosecution) نے منحرف (Won-over) یا غیر ضروری قرار دے کر ترک (Abandon) کر دیا ہو ؟

​❓ اگر ملزمان نے دفعہ 342 Cr.P.C کے ابتدائی بیان میں صفائی کے ثبوت دینے سے انکار کیا ہو، تو کیا وہ بعد میں دفعہ 540 کے تحت اہم عینی شاہدین (Eye-witnesses) کو بلانے کی استدعا کر سکتے ہیں ؟

​📌 One-Line Citation Description
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کا دوسرا حصہ لازمی (Mandatory) ہے؛ اگر ایف آئی آر کے عینی شاہدین کو استغاثہ ترک بھی کر دے، تو مقدمے کے منصفانہ فیصلے (Just Decision) کے لیے عدالت انہیں دفاعی یا عدالت کے گواہ کے طور پر طلب کرنے کی پابند ہے۔

​⚖️ 2026 P Cr. LJ 1164
[Peshawar High Court, Mingora Bench (Swat)]
​👥 Sher Zada and 3 others Vs. The State and another
​Bench: Mr. Justice Dr. Khurshid Iqbal

​📘 Definitions of Legal Concepts

​⛔️ Section 540 Cr.P.C (Court's Power to Summon Material Witness): یہ دفعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ اختیاری (Discretionary) ہے جس کے تحت عدالت کسی بھی شخص کو گواہ کے طور پر بلا سکتی ہے۔ دوسرا حصہ لازمی (Mandatory) ہے جس کے تحت اگر کسی گواہ کی شہادت مقدمے کے منصفانہ فیصلے (Just Decision) کے لیے ضروری معلوم ہو، تو عدالت پر اسے طلب اور زیرِ بحث لانا فرض ہے۔

​⛔️ Abandonment of Witnesses by Prosecution (استغاثہ کا گواہان کو ترک کرنا): اگر چالان میں شامل عینی شاہدین کو چالان کا حصہ بنانے کے بعد بھی استغاثہ اس بنیاد پر چھوڑ دے کہ وہ منحرف ہو چکے ہیں، تو اس سے ملزم کا یہ حق ختم نہیں ہوتا کہ وہ منصفانہ محاکمے کے لیے ان گواہوں کو عدالت میں پیش کرائے۔

​⛔️ Right of Defence after Alteration of Charge (فردِ جرم کی تبدیلی کے بعد دفاع کا حق): اگر فردِ جرم میں ترميم کی جائے یا شہادت کا نیا مرحلہ آئے، تو دفعہ 342 Cr.P.C کے تحت ملزم کو بیانِ حلفی (Section 340(2) Cr.P.C) اور صفائی کا ثبوت پیش کرنے کا دوبارہ موقع ملتا ہے، خواہ اس نے پہلے اس سے انکار کیا ہو۔

​⚖️ Definitions of Sections & Laws

​⛔️ Section 540, Code of Criminal Procedure (V of 1898): اہم گواہان کو سمن کرنے یا دوبارہ طلب کرنے سے متعلق اختیارات۔

​⛔️ Sections 302, 324, 337-F(vi) & 34, Pakistan Penal Code (PPC): قتلِ عمد، اقدامِ قتل، شجہ اور اشتراکِ نیت کے تحت جرائم۔

​

​📖 Background of the Case
شیر زادہ اور دیگر (پٹیشنرز/ملزمان) کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درپیش تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر اور چالان میں دو افراد کو بطورِ عینی شاہد (Eye-witnesses) نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم، دورانِ سماعت استغاثہ نے 22 اگست 2022 کو ان دونوں گواہوں کو اس موقف کے ساتھ ترک (Abandon) کر دیا کہ وہ ملزمان کے ساتھ مل چکے ہیں (Won-over)۔ بعد میں جب فردِ جرم میں ترمیم کی گئی اور ملزمان کے بیانات دفعہ 342 Cr.P.C کے تحت ریکارڈ ہوئے، تو انہوں نے دفاع میں ان عینی شاہدین کو طلب کرنے کی درخواست دی۔ ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواست رد کر دی کہ ملزمان پہلے ہی صفائی کے ثبوت دینے سے انکار کر چکے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ میں کرمنل رویژن (Criminal Revision) دائر کی۔

​⚖️ Core Legal Questions
​❓ کیا ایف آئی آر میں نامزد عینی شاہدین کی گواہی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری (Essential) تصور ہوگی؟

​❓ کیا ٹرائل کورٹ کا ان گواہوں کو بلانے سے انکار کرنا ملزم کے منصفانہ محاکمے (Fair Trial) کی نفی ہے؟

​🏛️ Court's Observations & Legal Principles

​✅ دفعہ 540 کے لازمی اور اختیاری پہلو: عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ دفعہ 540 Cr.P.C کے دوسرے حصے میں لفظ "Shall" کا استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر کسی گواہ کی شہادت مقدمے کے "Just Decision" کے لیے لازمی ہو، تو عدالت کا فرض ہے کہ وہ اسے طلب کرے، اس میں عدالت کی مرضی یا پس و پیش کی گنجائش نہیں رہتی۔

​✅ ایف آئی آر کے عینی شاہدین کی اہمیت: چونکہ دونوں گواہان وقوعہ کے روز سے ہی ایف آئی آر میں بطور عینی شاہد نامزد تھے، اس لیے ان کی گواہی سچائی تک پہنچنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ استغاثہ کا انہیں محض "Won-over" قرار دے کر ترک کر دینا ملزم کے اس حق کو سلب نہیں کر سکتا کہ وہ ان کا سامنا کرے۔

​✅ تاخیری حربے کا عدم ثبوت: ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ ان دو گواہوں کی طلبی سے مقدمے میں کوئی غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی، کیونکہ ابھی ٹرائل کورٹ نے ملزمان کا بیانِ حلفی (Section 340(2) Cr.P.C) لینا تھا اور حتمی دلائل کی سماعت باقی تھی۔

​⚖️ Final Order
پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج (جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال) نے:
​ملزمان کی کرمنل رویژن پٹیشن منظور (Allowed) کر دی۔
​ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ان دونوں عینی شاہدین کو پیش کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کی اجازت دی جائے۔

​📑 Ratio Decidendi
مقدمے کے منصفانہ فیصلے (Just Decision) اور سچائی کی تلاش کے لیے ایف آئی آر میں درج عینی شاہدین کی شہادت لازمی امر ہے۔ استغاثہ کے ترک کردہ گواہان کو دفاعی یا عدالتی گواہ (Court Witness) کے طور پر دفعہ 540 Cr.P.C کے تحت طلب کیا جانا ملزم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔

​💼 Practical Utility for Advocates
​فوجداری وکلاء (Defense Counsel) کے لیے:
​اگر پبلک پراسیکیوٹر (Prosecutor) اہم یا عینی شاہدین کو اس عذر پر چالان سے نکال دے یا چھوڑ دے کہ وہ "Won-over" ہو گئے ہیں، تو اس نظیر کو پیش کر کے دفعہ 540 Cr.P.C کے تحت ان گواہان کی فوری طلبی کی درخواست دیں۔
​اگر دفعہ 342 کے ابتدائی مرحلے پر "No Evidence in Defence" لکھا جا چکا ہو، تب بھی فردِ جرم کی تبدیلی یا نئے حقائق کی روشنی میں اس کی ترمیم کروا کر گواہ طلب کیے جا سکتے ہیں۔

​🎯 Quotable Legal Principle
​"Section 540, Cr.P.C has two parts; the second part is mandatory in nature making it obligatory on the part of a Court to summon and examine any person if his evidence appears to be essential for the just decision of the case, notwithstanding that the prosecution had abandoned such witnesses."

​📚 Precedents Relied Upon

​🆚 Nawabzada Shah Zain Bugti and others v. The State (PLD 2023 SC 160)

🆚 Shair Ali Shah v. The State (2018 YLR 1777)

🆚 Muhammad Tanveer v. The State and others (2020 MLD 62)

2026 P Cr. LJ 1164

[Peshawar (Mingora Bench)]

Before Dr. Khurshid Iqbal, J

SHER ZADA and 3 others---Petitioners

versus

The STATE and another---Respondents

Criminal Revision No. 15-M of 2023 with Criminal Miscellaneous No. 136-M of 2023, decided on 3rd April, 2023.

Criminal Procedure Code (V of 1898)---

----S. 540---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 302, 324, 337-F(vi) & 34---Summoning of witnesses---Scope---Application of accused for summoning of witnesses in defence was dismissed---Validity---Admittedly, both the witnesses had been shown as the eye-witnesses of the occurrence---Said witnesses were shown as witnesses of the prosecution in the final report (challan)---Prosecution had abandoned the said witnesses on 22.08.2022 for the reason that they were strangers and they had been won over by the petitioners/accused---Although, the petitioners/accused in their statements recorded under S.342, Cr.P.C., on 25.10.2022 and on 09.01.2023, didn't prefer to avail the opportunity of producing evidence in defence, however, in the latter statements petitioners/accused availed the opportunity of recording statements on oath---Latter statement had been recorded after alteration in the charge against them on 12.12.2022---Perusal of the altered charge would show that when asked about the production of evidence in defence, they replied in the negative but added that they might have done so if it was deemed necessary after the closing of the prosecution evidence---Two significant aspects of the matter inhand were that; firstly, both the witnesses had been shown in the FIR as the eye-witnesses of the occurrence---Said fact being so, perhaps the Trial Court could have summoned them as Court witnesses for the just decision of the case---Secondly, though the prosecution closed its case, the Trial Court had yet to examine the petitioners/accused on oath under S.340(2), Cr.P.C. and to hear the arguments of the parties before announcing the judgment---Section 540, Cr.P.C, related to the power of the Court to summon material witness or examine the person present before it---Said provision had two parts, first part vested in the Court the discretionary power to summon anyone as a witness or examine any person who was present though was not summoned as a witness---Second part which was mandatory in nature made it obligatory on the part of a Court to summon and examine or recall and re-examine any such person if his evidence appeared to be essential for the just decision of the case---As the witnesses concerned had been shown in the FIR as the eye-witnesses of the occurrence, therefore, their evidence appeared to be essential for the just decision of the case---In the instant case, the examination of the two witnesses did not appear to be vexatious, as they had already shown as eye-witnesses of the occurrence---Moreover, such examination was not likely to cause delay in the conclusion of the trial---Criminal revision petition was allowed, accordingly. [pp. 1166, 1169] A, B, C & D

Nawabzada Shah Zain Bugti and others v. The State PLD 2023 SC 160; Shair Ali Shah v. The State through Advocate General Muzaffarabad and 4 others 2018 YLR 1777; 2001 SCMR 308 and Muhammad Tanveer v. The State and others 2020 MLD 62 rel.

08/08/2026

*فیملی کورٹ کے چند منفرد فیصلے جو روٹین سے ہٹ کر ہیں اور امید ہے آپ کی نظر سے نہیں گزرے ہوں گے۔*_
_فیملی کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یکطرفہ ڈگری پاس ہونے کے بعد مدعا علیہ کے پتہ پر ڈگری کی مصدقہ کاپی بھیجے۔_
_*2017 CLC N 69*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی عدالت یکطرفہ ڈکری پاس کرنے سے پہلے مدعا علیہ کو نوٹس حاضری بھیج سکتی ہے۔_
_*2017 PLJ Pesh 01*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہیز کیس کے اجراء میں ضامن کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ڈیفالٹ کی صورت میں جہیز ادا کرے۔_
_*2016 PLD Pesh 109*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_خلع کے علاوہ باقی حقائق کے خلاف درخواست منسوخی ڈگری کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب مدعا علیہ/ججمنٹ ڈیٹر کو اس ڈکری کا علم ہوگا۔_
_*2017 CLC N 69*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_بیوی کو حق مہر ادا نہ کرنا بھی ظلم/Cruelty ہے۔ جوکہ خلع کے لیے بہترین گراؤنڈ ہے۔_
_*2018 CLC 93*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کیس میں Interim Order کے خلاف رِٹ پٹیشن نہیں ہوسکتی۔_
_*2018 CLC N 47*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کورٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فیملی کیس کا 6 ماہ کے اندر اندر فیصلہ کرے۔_
_*2018 YLR 1231*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_باپ اپنے بچے کو خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اس کا یہ بہانہ نہیں سنا جائے گا کہ اس کے پاس ذرائع آمدن نہیں ہیں۔_
_*2018 CLC N 47*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_بیوی خاوند کی Cruelty ثابت نہ کرسکی۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیوی شادی کے تحائف واپس کرے اور شوہر حق مہر ادا کرے۔_
_*2018 PLD Pesh 34*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں خاوند کے لیے Past Maintenance کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔_
_*2018 YLR 1501*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_پردہ نشیں عورت اپنے والد کے ذریعے اپنی شہادت ریکارڈ کروا سکتی ہے اگر اس کے والد کو کیس حالات کا اچھی طرح سے پتہ ہوتو۔_
_*2002 CLC 1336*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی لاء ایک سپیشل لاء ہے۔ اس میں اجراء کی درخواست کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہے۔_
_*2018 YLR 1501*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ہائی کورٹ فُل بینچ نے فیملی قوانین کی تشریح کرتے وقت یہ قرار دیا کہ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 اور مسلم فیملی لاز آرڈینیس 1961 کی متعلقہ دفعات غیرقانونی ہیں کہ خلع کی صورت میں بیوی کو حق مہر کی رقم بھی واپس کرنی پڑے گی جبکہ اسلامی اصولوں کے تحت اسے صرف شادی کے تحائف واپس کرنے چاہئیں۔_
_*PLD 2009 Pesh 92*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہاں بیوی/عورت رہتی ہوگی اسی جگہ فیملی کیس دائر کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی اختیار سماعت نہیں دیکھا جائے گا۔_
_*PLD 2006 Pesh 189*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_طلاق یافتہ بچی اگر ماں کے پاس ہوتو باپ اس کا خرچہ نان و نفقہ دینے کا پابند ہے۔_
_*2014 MLD 351 Pesh*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2012 Lah 43*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ماں بچے کا خرچہ باپ کو معاف بھی کردے تو باپ دینے کا پابند ہے۔_
_*2014 MLD 351 Pesh*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_نکاح نامہ میں لکھی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں آتی ہے اور فیملی کورٹ اس حوالہ سے ڈکری پاس کرسکتی ہے۔_
_*PLD 2016 SC 613*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2009 Lah 227*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہیز کی رقم مدعیہ کے والد کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔ اب Controversy باپ اور بیٹی کے درمیان ہے۔ خاوند کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ سول کورٹ کا معاملہ ہے فیملی کورٹ کا نہیں۔_
_*2013 YLR 1903*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_شادی کی تاریخ کے بعد منتقل کی گئی پراپرٹی حق مہر یا گفٹ کے ضمرہ میں نہیں آتی۔_
_*PLD 2011 Kar 196*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جہاں طلائی زیورات یا انکی قیمت واپس کرنے کی ڈکری پاس ہوجائے تو اس صورت میں قیمت Date of Payment کے حساب سے دیکھی جائے گی۔_
_*2013 SCMR 1049*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_جس کیس میں مدعیہ صرف طلائی زیورات کی بابت استدعا کرے اور ان کی مالیت کرنسی میں نہ بتائے تو اس صورت میں مدعاعلیہ کے پاس آپشن ہوگی کہ وہ یاتو طلائی زیورات بمطابق وزن واپس کرے یا پھر اتنی رقم ادا کرے جس سے اس وزن کے طلائی زیورات اوپن مارکیٹ سے خریدے جاسکیں۔_
_*2014 CLC 895*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_ہر باپ کا حق ہے کہ وہ اپنے بچے سے ملاقات غیر مشروط طریقے سے کرے۔ ملاقات کے لیے Surety Bonds مشروط کرنا غیرآئینی ہے اور اسے 199 کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔_
_*2014 CLC 1168*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_اگر Pendency کے دوران دعویٰ Partly واپس لیا جائے تو نیا سوٹ فائل کیا جاسکتا ہے۔ اس پر Res Judicata کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔_
_*2012 MLD 1795*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_معزز ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ 99 فیصد سامان جہیز کے کیسز میں جھوٹ بولتی ہے کہ لِسٹ شادی کے وقت تیار کی گئی تھی۔ اور 1 فیصد کیسز میں وہ ضِد کرتی ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔_
_*2013 MLD 939 Lah*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_خرچہ نان و نفقہ ایک فائدہ نہیں بلکہ حق ہے۔ اگر خلع کے کیس میں خرچہ نان و نفقہ کو بطور شرط معاف کیا گیا تو یہ غیرقانونی ہے اور اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔_
_*2012 MLD 1943*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_چونکہ CPC فیملی لاء پر اپلائی نہیں ہوتی مگر پھر بھی جو طریقہ کار CPC میں دیا گیا ہے انصاف کے بہترین حصول کے لیے وہ فیملی لاء میں اختیار کیا جاسکتا ہے۔_
_*2012 MLD 1795*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_فیملی کورٹس ترمیمی ایکٹ 2015 کے تحت خرچہ نان و نفقہ 10 سے 5 فیصد کیا گیا۔ لیکن اس فیصلہ میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوبارہ خرچہ نان و نفقہ 10 فیصد بحال کردیا۔_
_*2016 SCMR 2069*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scope of legal studies in Pakistan.
08/08/2026

Scope of legal studies in Pakistan.

Civil case proceeding steps . ⚖️     Malik Haris Amjid
07/08/2026

Civil case proceeding steps . ⚖️

Malik Haris Amjid

2 لاء سٹوڈنٹس بچوں پر  FIR ۔لہٰذا وہ تمام چھوٹے بھائی جن کا ابھی تک وکالت کا لائسنس نہیں آیا ۔وہ اپنے نام کے ساتھ ایڈووک...
05/08/2026

2 لاء سٹوڈنٹس بچوں پر FIR ۔
لہٰذا وہ تمام چھوٹے بھائی جن کا ابھی تک وکالت کا لائسنس نہیں آیا ۔وہ اپنے نام کے ساتھ ایڈووکیٹ لکھوانا
اور
وکیلوں والی یونیفارم پہننے سے اجتناب کریں ۔
ورنہ یہ نا ہو کہ آپ کا کوئی شریک یا
کوئی دشمن آپ کی اس کمزوری کا فائدہ اُٹھا جائے ۔
اور آپ بھی قانون دان بننے سے پہلے خود ہی قانون کے شکنجے میں جکڑے جائیں.


05/08/2026

Important Sections of CrPC
#, civil judge
Section 2 – Definitions.
Section 6 – Classes of Criminal Courts.
Section 9 – Court of Session.
Section 10 – Subordination of Assistant Sessions Judges.
Section 11 – Courts of Judicial Magistrates.
Section 12 – Chief Judicial Magistrate and Additional Chief Judicial Magistrate, etc.
Section 13 – Special Judicial Magistrates.

Section 30 – Sentence of imprisonment in default of fine.
Section 31 – Sentence in cases of conviction of several offences at one trial.

Section 41 to Section 54 – Arrest of Persons.
Section 56 – Person arrested to be taken before Magistrate or officer in charge of police station.
Section 57 – Person arrested not to be detained more than twenty-four hours.
Section 59 – Discharge of person apprehended.

Section 61 to Section 69 – Summons.
Section 70 to Section 81 – Warrant of arrest.

Section 82 – Proclamation for person absconding.
Section 83 – Attachment of property of person absconding.
Section 84 – Claims and objections to attachment.
Section 85 – Release, sale and restoration of attached property.
Section 86 – Appeal from order rejecting application for restoration of attached property.
Section 87 – Issue of warrant in lieu of, or in addition to, summons.
Section 88 – Power to take bond for appearance.

Section 93 – When search-warrant may be issued.
Section 97 – Search for persons wrongfully confined.

Section 102 – Power of police officer to seize certain property.

Section 106 – Security for keeping the peace on conviction.

Section 107 – Security for keeping the peace in other cases.

Section 108 – Security for good behaviour from persons disseminating seditious matters.

Section 109 – Security for good behaviour from suspected persons.

Section 110 – Security for good behaviour from habitual offenders.

Section 125 to Section 128 – CHAPTER IX, Order for Maintenance of Wives, Children and Parents.
Section 129 – Dispersal of assembly by use of civil force.

Section 130 – Use of armed forces to disperse assembly.

Section 132 – Protection against prosecution for acts done under preceding sections.

Section 133 – Conditional order for removal of nuisance.

Section 144 – Power to issue order in urgent cases of nuisance or apprehended danger.

Section 154 to Section 176 – CHAPTER XII, Information to the Police and their Powers to Investigate.
Section 177 to Section 189 – CHAPTER XIII, Jurisdiction of the Criminal Courts in Inquiries and Trials.

Section 190 – Cognizance of offences by Magistrates.

Section 195 – Prosecution for contempt of lawful authority of public servants, for offences against public justice and for offences relating to documents given in evidence.

Section 196 – Prosecution for offences against the State and for criminal conspiracy to commit such offence.

Section 198 – Prosecution for offences against marriage.

Section 199 – Prosecution for defamation.

Section 200 to Section 203 – CHAPTER XV, Complaints to Magistrates.
Section 204 – Issue of process.

Section 211 to Section 224 – CHAPTER XVII, The Charge.

Section 225 to Section 237 – CHAPTER XVIII, Trial Before a Court of Session.

Section 238 to Section 250 – CHAPTER XIX, Trial of Warrant Cases by Magistrates.

Section 251 to Section 259 – CHAPTER XX, Trial of Summons Cases by Magistrates.

Section 260 – Power to try summarily.

Section 261 – Summary trial by Magistrate of the second class.

Section 262 – Procedure for summary trials.

Section 265A to Section 265L – CHAPTER XXIA, Plea Bargaining.

Section 300 – Person once convicted or acquitted not to be tried for same offence.

Section 304 – Legal aid to accused at State expense in certain cases.

Section 307 – Power to direct tender of pardon.

Section 311 – Power to summon material witness, or examine person present.

Section 313 – Power to examine the accused.

Section 315 – Accused person to be competent witness.

Section 320 – Compounding of offences.

Section 366 – Sentence of death to be submitted by Court of Session for confirmation.

Section 368 – Power of High Court to confirm sentence or annul conviction.

Address

Abbottabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when law knowledge hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share