MM K law associates & legal Aid Centre

MM K law associates & legal Aid Centre legal service provider .legal advise, legal notice ,litigation in courts

our law firm provide legal services in kpk Rawalpindi & Islamabad courts.we are expertise in civil.family .consumer and criminal law

04/09/2026

* بچے کی سرپرستی / "گود لینے کا مکمل قانونی طریقہ کار

*1.1 اسلامی قانون اور پاکستانی پوزیشن*
اسلام میں "نسب" کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ بچے کو اس کے حقیقی والدین کے نام سے ہی پکارا جائے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کسی بچے کا نسب تبدیل کر کے اسے مکمل طور پر "اپنی اولاد" قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس لیے پاکستانی قانون بچے کو "گود لینے" کے بجائے "سرپرستی" کا نظام دیتا ہے۔ اس میں بچے کی پرورش، تعلیم، صحت اور جائیداد کا انتظام سرپرست کے سپرد کر دیا جاتا ہے، لیکن بچے کا اصل نسب برقرار رہتا ہے۔

*1.2 متعلقہ قوانین*
پاکستان میں بچے کی سرپرستی سے متعلق بنیادی قوانین یہ ہیں:

1. *Guardians and Wards Act, 1890*: یہ مرکزی قانون ہے۔ اسی کے تحت فیملی کورٹ سرپرست مقرر کرتی ہے۔
2. *West Pakistan Rules under the Guardians and Wards Act, 1958*: اس میں طریقہ کار کی تفصیل ہے۔
3. *Family Courts Act, 1964*: اس کے تحت فیملی کورٹس کو سرپرستی کے مقدمات سننے کا اختیار ہے۔
4. *Muslim Family Laws Ordinance, 1961*: نکاح، طلاق اور بچوں کی تحویل کے حوالے سے۔
5. *The Juvenile Justice System Act, 2018*: اگر بچہ قانون سے متصادم ہو تو اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے۔
6. *Constitution of Pakistan, Article 35*: ریاست بچوں اور ماؤں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔
7. *UN Convention on the Rights of the Child, 1990*: پاکستان نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ اس کا اصول "Best Interest of the Child" پاکستانی عدالتوں میں بھی مانا جاتا ہے۔

*حصہ 2: سرپرستی کی 7 مرحلوں میں مکمل قانونی کارروائی*

*مرحلہ 1: بچے کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا*
یہ سب سے پہلا اور اہم قدم ہے۔ عدالت دیکھے گی کہ بچہ کس کیٹگری میں آتا ہے:

1. *یتیم بچہ*: جس کے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔
2. *لاوارث بچہ*: جو سڑک، ہسپتال یا چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے ملا ہو۔ پولیس رپورٹ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔
3. *بے سہارا بچہ*: جس کے والدین زندہ ہیں لیکن وہ پرورش کرنے کے قابل نہیں۔ اس صورت میں والدین کی تحریری رضامندی نامہ اور بیان حلفی لازمی ہے۔ _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 7_ کے تحت والدین رضامندی دے سکتے ہیں۔

اگر والدین زندہ ہیں اور وہ رضامندی نہیں دیتے تو عدالت صرف اسی صورت میں سرپرستی دے گی جب والدین کو "نااہل" ثابت کر دیا جائے۔

*مرحلہ 2: فیملی / سرپرستی عدالت میں درخواست دائر کرنا*
درخواست _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 10_ کے تحت دائر ہوتی ہے۔

*کہاں دائر ہوگی؟*
اس علاقے کی فیملی کورٹ میں جہاں بچہ رہائش پذیر ہے۔ _Family Courts Act 1964 کی دفعہ 5_ کے تحت سرپرستی کے مقدمات فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار ہیں۔

*درخواست میں کیا لکھنا ہے؟*
درخواست میں واضح طور پر لکھنا ہوگا کہ آپ بچے کی "شخص کا سرپرست" Person Guardian بننا چاہتے ہیں یا "جائیداد کا سرپرست" Property Guardian یا دونوں۔

*مرحلہ 3: ضروری دستاویزات اور معلومات*
عدالت کو مکمل فائل جمع کروانی ہوتی ہے تاکہ وہ فیصلہ کر سکے۔ بنیادی دستاویزات:

*مجوزہ سرپرست کے لیے:*
1. CNIC کی کاپی
2. میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ
3. مالی حیثیت کا ثبوت: بینک اسٹیٹمنٹ، انکم سرٹیفکیٹ، جائیداد کے کاغذات
4. کردار کا سرٹیفکیٹ: پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ
5. رہائش کا ثبوت: بجلی کا بل، کرایہ نامہ
6. 2 گواہوں کے CNIC اور بیانات

*بچے کے لیے:*
1. برتھ سرٹیفکیٹ / نادرا B-Form
2. والدین کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اگر یتیم ہے
3. والدین کا رضامندی نامہ + بیان حلفی اگر زندہ ہیں
4. بچے کی 4 عدد تصاویر
5. اگر بچہ سکول جاتا ہے تو سکول کا سرٹیفکیٹ

*مرحلہ 4: عدالت کی تحقیقات، نوٹس اور رپورٹ*
درخواست دائر ہونے کے بعد _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 11_ کے تحت عدالت کارروائی شروع کرتی ہے۔

1. *نوٹس*: عدالت بچے کے والدین، قریبی رشتہ داروں اور موجودہ نگہداشت کنندہ کو نوٹس بھیجتی ہے۔
2. *انکوائری*: جج خود بچے سے چیمبر میں مل سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر بچے کی عمر 7 سال سے زیادہ ہو تو _دفعہ 17_ کے تحت بچے کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
3. *ویلفیئر آفیسر رپورٹ*: عدالت چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے سرپرست کے گھر کی انکوائری رپورٹ منگوا سکتی ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ گھر کا ماحول بچے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
4. *اخبار میں اشتہار*: لاوارث بچے کی صورت میں عدالت اخبار میں اشتہار بھی دے سکتی ہے کہ اگر کوئی حقیقی وارث ہے تو سامنے آئے۔

عدالت کا ہر سوال کا مرکز صرف ایک ہوگا: *"کیا یہ سرپرستی بچے کے بہترین مفاد میں ہے؟"*

*مرحلہ 5: سرپرستی کا عدالتی حکم*
جب عدالت تمام شواہد اور رپورٹس سے مطمئن ہو جائے تو وہ _دفعہ 25_ کے تحت تحریری حکم جاری کرتی ہے۔

اس حکم میں 2 چیزیں ہو سکتی ہیں:
1. *سرپرست برائے ذات Person Guardian*: بچے کی تعلیم، صحت، پرورش کی ذمہ داری۔
2. *سرپرست برائے جائیداد Property Guardian*: اگر بچے کے نام جائیداد یا بینک اکاؤنٹ ہے تو اس کے انتظام کی اجازت۔

عدالت حکم میں شرائط بھی لگا سکتی ہے، جیسے سالانہ رپورٹ پیش کرنا یا بچے کو بیرون ملک نہ لے جانا۔

*مرحلہ 6: سرکاری ریکارڈ کی درستگی - نادرا اور دیگر ادارے*
عدالتی حکم ملنے کے بعد اگلا قدم نادرا ہے۔

1. *نادرا میں اندراج*: عدالتی حکم کے ساتھ نادرا آفس جائیں۔ بچے کے B-Form میں سرپرست کا نام بطور "Guardian" شامل ہو جائے گا۔ بچے کا نام یا والد کا نام تبدیل نہیں ہوگا۔
2. *پاسپورٹ*: پاسپورٹ بنوانے کے لیے عدالتی حکم اور نادرا کا اپڈیٹڈ B-Form درکار ہوگا۔
3. *سکول داخلہ*: سکول میں داخلے کے لیے بھی عدالتی حکم کافی ہے۔

*مرحلہ 7: سرپرست کی قانونی ذمہ داریاں*
سرپرستی ملنا ذمہ داری کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔ _دفعہ 27 سے 39_ تک سرپرست کے فرائض بیان ہوئے ہیں۔

1. *تعلیم اور تربیت*: مناسب تعلیم اور اخلاقی تربیت دینا لازمی ہے۔
2. *صحت اور رہائش*: بچے کی صحت، کھانا، رہائش کا مناسب انتظام۔
3. *جائیداد کا انتظام*: اگر سرپرست برائے جائیداد ہے تو عدالت سے اجازت کے بغیر بچے کی جائیداد فروخت نہیں کر سکتا۔ _دفعہ 29_
4. *عدالت کو جوابدہی*: عدالت کسی بھی وقت سرپرست سے رپورٹ طلب کر سکتی ہے۔ _دفعہ 39_
5. *18 سال کی عمر*: جب بچہ 18 سال کا ہو جائے تو سرپرستی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ _دفعہ 41_

*حصہ 3: اہم قانونی نکات اور غلط فہمیاں*

*3.1 کیا اسٹامپ پیپر کافی ہے؟*
*نہیں۔* بہت سے لوگ 100 روپے کے اسٹامپ پر "گود نامہ" بنا لیتے ہیں۔ قانون کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک فیملی کورٹ کا حکم نہ ہو، آپ بچے کے قانونی سرپرست نہیں ہیں۔

*3.2 کیا بچے کا نسب تبدیل ہو جائے گا؟*
*نہیں۔* _Guardians and Wards Act_ نسب تبدیل نہیں کرتا۔ بچے کے سرکاری کاغذات میں والد کے نام کی جگہ "نامعلوم" یا حقیقی والد کا نام ہی رہے گا۔ سرپرست کا نام صرف "Guardian" کے کالم میں آئے گا۔

*3.3 کیا سرپرست کی جائیداد میں بچے کو وراثت ملے گی؟*
*خودکار طریقے سے نہیں۔* اسلامی قانون وراثت کے تحت سرپرست اور بچے میں خون کا رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے وراثت نہیں ملے گی۔ اگر آپ بچے کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی زندگی میں *ہبہ Gift* کرنا ہوگا یا وصیت لکھنی ہوگی۔ وصیت کل جائیداد کے 1/3 حصے تک ہو سکتی ہے۔

*3.4 بچے کو بیرون ملک لے جانے کا کیا طریقہ ہے؟*
اس کے لیے عدالت سے علیحدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔ _دفعہ 12_ کے تحت عدالت دیکھے گی کہ دوسرے ملک میں بچے کا مفاد محفوظ ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اس ملک کے امیگریشن قوانین بھی پورے کرنا ہوں گے۔ امریکہ، کینیڈا جیسے ممالک کے لیے "Hague Adoption Convention" کے تحت اضافی کارروائی درکار ہوتی ہے، جس میں پاکستان شامل نہیں ہے۔

*3.5 سرپرستی کب ختم ہو سکتی ہے؟*
_دفعہ 39_ کے تحت اگر سرپرست اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے، یا بچے سے زیادتی کرے، تو عدالت کسی بھی وقت سرپرستی ختم کر کے نیا سرپرست مقرر کر سکتی ہے۔

*حصہ 4: سرپرستی کے لیے اہلیت کے معیار*

عدالت سرپرست کا انتخاب کرتے وقت _دفعہ 17_ میں دیے گئے اصول دیکھتی ہے:
1. *بچے کی عمر، جنس اور مذہب*: ترجیح دی جاتی ہے کہ سرپرست اور بچے کا مذہب ایک ہو۔
2. *سرپرست کی عمر اور صحت*: سرپرست جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہو۔
3. *مالی حیثیت*: بچے کی پرورش کے اخراجات اٹھانے کی صلاحیت۔
4. *کردار*: سرپرست کا کردار اچھا ہو اور اس پر کوئی کریمنل کیس نہ ہو۔
5. *بچے کی خواہش*: اگر بچہ 7 سال سے بڑا ہے تو عدالت اس کی رائے بھی لے گی۔

*حصہ 5: عملی مشکلات اور حل*

1. *کیس کتنا وقت لیتا ہے؟* عام طور پر 4 سے 8 ماہ۔ اگر تمام دستاویزات مکمل ہوں اور کوئی اعتراض نہ ہو تو جلدی ہو جاتا ہے۔
2. *وکیل ضروری ہے؟* قانوناً ضروری نہیں، لیکن وکیل کی مدد سے کیس آسان اور جلدی ہوتا ہے۔
3. *فیس کتنی ہے؟* کورٹ فیس بہت معمولی ہے، 100 سے 500 روپے۔ اصل خرچہ وکیل کی فیس اور دستاویزات کا ہے۔

*📌 حتمی بات:*
یاد رکھیں، بچے کی سرپرستی کوئی قانونی فارمیلٹی نہیں بلکہ *اللہ کی دی ہوئی امانت* ہے۔ آپ ایک معصوم کی زندگی سنوارنے کا بیڑا اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے شارٹ کٹ کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔ اس سے نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ بچے کا مستقبل بھی قانونی طور پر محفوظ ہو جائے گا۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں، تو پہلا قدم اٹھائیں۔ کسی اچھے فیملی کورٹ کے وکیل سے مشورہ کریں اور کارروائی شروع کریں۔
Copied

30/08/2026

نابالغان کی ذات، جائیداد اور وراثتی حقوق اور تقرری گارڈین کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کی مفصل ہدایات
VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
Guidelines for observance by all Civil and Revenue Courts while dealing with proceedings affecting the person, property or inheritance rights of minors. These guidelines are intended to reinforce the statutory safeguards contained in the CPC, the Guardians and Wards Act, 1890, and the constitutional duty of the Courts, acting as parens patriae, to protect the rights and interests of minors:

(i) The Court shall, at the earliest stage of the proceedings, ascertain whether any party is a minor and ensure strict compliance with the mandatory provisions of Order ###II, CPC before taking any substantive step.

(ii) A guardian ad litem shall be appointed strictly in accordance with Order ###II, Rule 3, CPC, after satisfying the Court that the proposed guardian has no interest adverse to that of the minor.

(iii) No compromise, admission, concession, relinquishment or consent affecting the rights or property of a minor shall be accepted unless the Court is satisfied, for reasons to be recorded, that it is lawful and demonstrably in the best interests of the minor, and the requirements of Order ###II, Rule 7, CPC have been fully complied with.

(iv) Where the compromise involves the transfer, relinquishment or alienation of a minor's property or inheritance rights, the Court shall also ensure compliance with the Guardians and Wards Act, 1890, and obtain prior permission from the competent Guardian Court wherever required by law

(v) Where a compromise is entered into by or on behalf of an illiterate, parda nasheen or otherwise vulnerable person representing a minor, the Court shall subject the transaction to heightened judicial scrutiny before according its approval

(vi) The Court shall remain vigilant to ensure that no conflict of interest exists between the guardian and the minor and, if necessary, appoint another suitable guardian in accordance with law.

(vii) Proceedings affecting the proprietary or inheritance rights of minors shall not be disposed of in undue haste, and every order affecting such rights shall reflect the Court's independent application of mind to the welfare and best interests of the minor.

(viii) These safeguards are substantive in nature and shall be strictly observed, keeping in view the constitutional guarantees contained in Articles 4, 9, 23, 24, 25(3) and 35 of the Constitution, the doctrine of parens patriae, and the Injunctions of Islam relating to the protection of the property of minors and orphans.

These guidelines are intended to serve as guiding principles for all Civil and Revenue Courts while dealing with proceedings affecting the rights and property of minors. Their faithful observance would not only advance the constitutional mandate of protecting minorsbut would also strengthen public confidence in the administration of justice by ensuring that the rights of those under legal disability receive the highest degree of judicial protection.

C.P.L.A.30-L of 2025
Mst. Bushra Bibi Versus Additional District Judge, Bahawalnagar and others
09-07-2026

05/08/2026

شاملاتِ دیہہ/مشترکہ شاملات کی باقاعدہ تقسیم (Partition) کرنی ہو تو عمومی قانونی طریقہ درج ذیل ہے۔ صوبے کے لحاظ سے قانون اور فورم میں فرق ہو سکتا ہے؛ ذیل کا طریقہ بنیادی طور پر ریونیو قانون کے تحت مشترکہ زرعی/ریونیو زمین کی تقسیم کا عمومی فریم ورک ہے۔

شاملات کی تقسیم — مکمل عمومی طریقہ

1. پہلے ریکارڈ کی حیثیت معلوم کریں
سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ زمین ریونیو ریکارڈ میں کس حیثیت سے درج ہے:
جمعبندی / Record of Rights
کھیوٹ نمبر
کھتونی
خسرہ نمبر
کل رقبہ
ہر شریک کا حصہ
زمین شاملاتِ دیہہ، مشترکہ ملکیت، یا کسی مخصوص مشترکہ مقصد کے لیے درج ہے یا نہیں۔
یہ مرحلہ سب سے اہم ہے کیونکہ ہر شاملاتی زمین لازماً قابلِ تقسیم نہیں ہوتی۔

---

2. شریکِ مالک کا حق اور حصہ دیکھا جائے گا
اگر ریکارڈ میں کئی افراد شریک مالکان ہیں تو ہر شخص کا حصہ (Share) معلوم کیا جائے گا۔

مثلاً:
> کل زمین = 100 کنال
شریک A = 1/2
شریک B = 1/4
شریک C = 1/4
تقسیم میں بنیادی طور پر انہی حصوں کو سامنے رکھا جائے گا۔

3. تقسیم کی درخواست دائر کی جائے گی
جو شریک اپنی علیحدہ زمین چاہتا ہے وہ متعلقہ ریونیو آفیسر کے سامنے تقسیمِ مشترکہ جائیداد کی درخواست دے سکتا ہے۔
پنجاب میں Land Records Authority کے مطابق تقسیم کے لیے درخواست Service Center/متعلقہ Land Record system کے ذریعے بھی شروع کی جا سکتی ہے، جبکہ قانونی partition proceedings متعلقہ ریونیو قانون کے تحت چلتی ہیں۔

اہم: دوسرے شریکوں کی رضامندی ہر صورت میں لازمی نہیں؛ قانونی طریقے کے مطابق انہیں فریق بنا کر نوٹس دیا جاتا ہے۔

---

4. درخواست کے بعد نوٹس

متعلقہ شریک مالکان کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

وہ:
تقسیم پر اعتراض کر سکتے ہیں؛
اپنے حصے پر اعتراض کر سکتے ہیں؛
کسی خاص خسرہ کو اپنے حصے میں دینے کی مخالفت کر سکتے ہیں؛
زمین کی نوعیت یا ملکیت پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں۔

---

5. اگر کوئی شخص فریق بننا چاہے

اگر کوئی ایسا شخص سامنے آئے جس کا مفاد اس زمین میں ہو، تو قانون کے مطابق اسے کارروائی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ بعد میں کسی ایسے شخص کے حق پر اثر نہ پڑے جو کارروائی میں شامل ہی نہ تھا۔

---

6. سب سے اہم مرحلہ: Title کا تنازع
یہاں ایک بہت اہم فرق ہے:
صرف تقسیم کا مسئلہ
مثلاً:

> "میں تسلیم کرتا ہوں کہ A کا 1/4 حصہ ہے، لیکن مجھے زمین کا کون سا حصہ ملے گا؟"

یہ بنیادی طور پر partition dispute ہے۔

لیکن اگر کہا جائے:

> "A مالک ہی نہیں ہے۔"

یا:

> "یہ زمین شاملات نہیں بلکہ میری ذاتی ملکیت ہے۔"

یا:

> "جمعبندی میں درج حصہ غلط ہے۔"

تو معاملہ حقِ ملکیت (Title) کا بن سکتا ہے۔

پنجاب کے Land Revenue Act میں partition proceedings کے دوران title کے سوال کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ موجود ہے؛ قانون میں Revenue Officer کو بعض حالات میں title کا سوال فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ہر title dispute لازماً Civil Court ہی جائے گا؛ پہلے متعلقہ صوبے کے قانون اور متعلقہ Revenue Officer کے اختیار کو دیکھنا ضروری ہے۔

---

7. قابلِ تقسیم اور ناقابلِ تقسیم زمین

شاملات میں بعض زمینیں ایسی ہو سکتی ہیں جنہیں تقسیم کرنا عملی یا قانونی طور پر مناسب نہ ہو۔

مثلاً:

قبرستان

عبادت گاہ

مشترکہ راستہ

پانی کا راستہ

تالاب/کنواں

بعض مشترکہ سہولیات

ایسی زمین جو گاؤں یا مشترکہ مفاد کے لیے مخصوص ہو

ایسی صورت میں زمین کو ہر شریک کے درمیان ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے بجائے مشترکہ استعمال برقرار رکھا جا سکتا ہے، یا قانون کے مطابق اس کے استعمال اور اخراجات/منافع کا طریقہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب Land Revenue Act میں partition سے خارج رکھی گئی بعض property کے استعمال اور co-sharers کے حقوق کے بارے میں بھی provisions موجود ہیں۔

---

8. Partition Scheme / نقشہ

جب حصے اور قابلِ تقسیم زمین واضح ہو جائے تو تقسیم کا عملی نقشہ/اسکیم تیار ہوتی ہے۔

اس میں دیکھا جاتا ہے:

کس شریک کو کون سا رقبہ ملے گا؛

خسرہ نمبر؛

رقبہ؛

زمین کی پوزیشن؛

راستہ؛

پانی کی سہولت؛

موجودہ قبضہ؛

زمین کی نوعیت اور قدر۔

مقصد صرف رقبہ پورا کرنا نہیں بلکہ عملی اور قابلِ استعمال تقسیم کرنا ہوتا ہے۔

---

9. موقع کا معائنہ / پیمائش

ضرورت کے مطابق Revenue/Field staff موقع پر جا کر:

زمین کی پیمائش کرتا ہے؛

حدود دیکھتا ہے؛

خسرہ جات کی نشاندہی کرتا ہے؛

نقشہ تیار کرتا ہے۔

پنجاب کے موجودہ land-record partition process میں field survey اور partition map کی تیاری بھی شامل ہے۔

---

10. Mode of Partition

اس مرحلے پر یہ طے ہوتا ہے کہ کس شریک کو زمین کا کون سا حصہ ملے گا۔

مثلاً:

> A کا حصہ 5 کنال ہے،
B کا حصہ 3 کنال ہے،
C کا حصہ 2 کنال ہے۔

تو مجموعی زمین کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر شخص کو اپنے قانونی حصے کے مطابق الگ holding مل سکے۔

اگر کسی شریک کو کسی خاص جگہ کی زمین دینے سے دوسروں کے حصے یا راستے وغیرہ متاثر ہوں تو اس اعتراض کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

11. Partition پر اعتراض

اگر کسی شریک کو نقشہ یا proposed partition منظور نہ ہو تو وہ مقررہ قانونی طریقے کے مطابق اعتراض داخل کر سکتا ہے۔

مثلاً:

> "مجھے سڑک سے بالکل دور زمین دی گئی ہے۔"
یا:

> "میرے حصے کی زمین میں پہلے سے راستہ موجود ہے۔"

یا:

> "مجھے مقررہ حصے سے کم رقبہ دیا گیا ہے۔"
Revenue Officer اعتراض سن کر مناسب فیصلہ کرتا ہے۔

---

12. Final Order of Partition

تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد حتمی تقسیم کا حکم جاری ہوتا ہے۔

پنجاب Land Revenue Act کے تحت partition مکمل ہونے پر Instrument of Partition تیار کیا جاتا ہے۔

---

13. Instrument of Partition

یہ بہت اہم دستاویز ہے۔

اس میں بنیادی طور پر درج ہوتا ہے:

مشترکہ زمین کی تفصیل؛

خسرہ نمبر؛

رقبہ؛

شریک مالکان؛

تقسیم کے بعد ہر شخص کو ملنے والی زمین؛

تقسیم مؤثر ہونے کی تاریخ۔

Punjab Land Revenue Rules میں Instrument of Partition کے لیے باقاعدہ فارم بھی موجود ہے۔
---

14. قبضہ حاصل کرنا

تقسیم مکمل ہونے کے بعد جس شریک کو جو زمین الاٹ ہوئی ہے، وہ اس پر قانونی قبضہ حاصل کر سکتا ہے۔

پنجاب کے قانون میں partition کے بعد allotted land کی possession کے لیے Revenue Officer سے درخواست کا باقاعدہ mechanism موجود ہے؛ section 146 کے تحت مخصوص مدت کے اندر ایسی درخواست پر instrument of partition کو immovable-property decree کی طرح نافذ کیا جا سکتا ہے۔
---
15. ریونیو ریکارڈ اپ ڈیٹ
آخر میں:
مشترکہ کھیوٹ → الگ حصے/holding

کی صورت میں ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔
پنجاب Land Records Authority بھی partition کے بعد updated land records اور الگ partition entries جاری کرنے کا طریقہ بیان کرتی ہے۔
---
16. اگر تمام شریک باہمی رضامندی سے تقسیم کرنا چاہیں

یہ نسبتاً آسان صورت ہے۔
تمام شریک:

1. اپنی رضامندی سے تقسیم کا نقشہ/اسکیم بنائیں؛

2. متعلقہ Revenue Officer کے سامنے پیش کریں؛

3. Revenue Officer اس کی قانونی حیثیت اور ریکارڈ چیک کرے؛
4. قانون کے مطابق اسے affirm کیا جا سکتا ہے

Punjab Land Revenue Act میں privately effected partition کو Revenue Officer سے affirm کرانے کی باقاعدہ گنجائش موجود ہے۔
---
17. اگر ایک شریک تقسیم پر راضی نہ ہو
صرف یہ کہنا کہ:
> "میں تقسیم نہیں چاہتا"
عام طور پر دوسرے شریک کے قانونی حق کو ختم نہیں کرتا۔

اگر قانونی طور پر زمین partitionable joint holding ہے، تو متعلقہ شریک قانون کے تحت partition proceedings شروع کر سکتا ہے اور مخالف شریک کو notice اور objection کا حق حاصل ہوگا۔
---

18. اپیل / نظرثانی
اگر کسی فریق کو Revenue Officer کے حکم سے اعتراض ہو تو متعلقہ صوبائی قانون کے تحت appeal/review/revision کے remedies دستیاب ہو سکتے ہیں۔

اس لیے partition order کو challenge کرنے کے لیے فوراً یہ دیکھنا ضروری ہے کہ:
حکم کس افسر نے دیا
کس section کے تحت دیا؟
appeal کس افسر کے پاس ہے؟
limitation کتنی ہے؟
stay کی ضرورت ہے یا نہیں؟
---

ایک لائن میں مکمل Flow

Revenue Record → Share Verification → Partition Application → Notices → Objections → Title/Other Issues → Site Inspection → Partition Scheme/Map → Objections → Final Partition Order → Instrument of Partition → Possession → Revenue Record Update
اہم احتیاط اور قانونی نوٹ

شاملات کی قانونی حیثیت اور اس کی تقسیم کا طریقۂ کار ہر صوبے کے متعلقہ قانون اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایک صوبے کا طریقۂ کار دوسرے صوبے پر بعینہٖ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

خصوصاً خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں شاملاتِ دیہہ، تقسیم کے قابل یا ناقابلِ تقسیم زمین، متعلقہ Revenue Officer کے اختیارات، Civil Court کے دائرۂ اختیار اور Appeal/Revision کے طریقۂ کار کے لیے متعلقہ صوبائی قانون کا جائزہ ضروری ہے۔

یہ معلومات عمومی قانونی آگاہی کے لیے فراہم کی گئی ہیں اور کسی مخصوص مقدمے کے لیے حتمی قانونی رائے یا مشورہ نہیں ہیں۔

حتمی رائے کے لیے متعلقہ صوبے کے نافذ العمل قانون، ریونیو ریکارڈ اور کیس کے مخصوص حقائق کو ضرور دیکھا جائے۔

غلطیوں اور حذف و اضافہ (Errors & Omissions) کی صورت میں تصحیح ممکن ہے۔

04/08/2026

اپیل برائے چیئرمین/صدر اور سیکرٹری، پاکستان بار کونسل و کے پی کے بار کونسل
موضوع: کے پی کے بارکے معزز وکلا کی ڈگریوں اور اسناد کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے حوالے سے درخواست/اپیل
بخدمت جناب چیئرمین/صدر اور سیکرٹری صاحب،
پاکستان بار کونسل اور کے پی کے بار کونسل،
السلام علیکم!
اس اپیل کا مقصد قانونی پیشے کے وقار، شفافیت اور اس کے تقدس کو بحال رکھنا ہے۔ وکالت کا پیشہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا سب سے اہم ستون ہے، اور اس پیشے سے وابستہ ہر فرد (وکیل) کی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کا مستند ہونا ناگزیر ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے جعلی یا مشکوک ڈگریوں کے حوالے سے جو خدشات سامنے آئے ہیں، انہوں نے عام سائلین اور خود دی ایماندار قانونی برادری کے دلوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ لہذا، اس اہم نوعیت کے معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اہم مطالبات و تجاویز:
جامع اور شفاف تحقیقات: اسلام آباد بار کونسل کے دائرہ اختیار میں پریکٹس کرنے والے تمام وکلا کی تعلیمی اسناد (میٹرک سے لے کر ایل ایل بی تک) کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور متعلقہ یونیورسٹیوں سے دوبارہ تصدیق اور جانچ پڑتال کروائی جائے।
بلا امتیاز کارروائی: بغیر کسی استثناء کے تمام وکلا کی ڈگریوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے تاکہ اگر کوئی شخص جعلی یا بوگس ڈگری پر پریکٹس کر رہا ہے تو اس کا لائسنس فوری طور پر معطل کیا جا سکے।
ڈیجیٹل پورٹل اور پبلک ویریفیکیشن: بار کونسل کی سطح پر ایک ایسا شفاف اور آن لائن سسٹم فعال کیا جائے جس سے ہر عام شہری اور سائل یہ دیکھ سکے کہ متعلقہ وکیل کی ڈگری تصدیق شدہ اور قانونی ہے۔
جعلی ڈگری مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی: جن افراد کی اسناد جعلی ثابت ہوں، ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ انصاف کے اس مقدس ادارے کو ایسے عناصر سے پاک کیا جا سکے۔
امید ہے کہ پاکستان بار کونسل اور کے پی کے بار کونسل اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں گی اور قانونی پیشے کی عزت و وقار کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات اٹھائیں گی۔
العارض:
محب وطن پاکستانی اور انصاف پسند شہری

🔻وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ..........🔻1-❗️فوت ہونے والے یعنی متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ...
03/08/2026

🔻وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ..........
🔻
1-❗️فوت ہونے والے یعنی متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل سے بنوائے گا۔

2-❗️نادرا سے ایف آر سی سرٹیفکیٹ جاری کروانا ہو گا.

3۔❗️دو عدد بیان حلفی ایک وارثان میں کیسی کا اور ایک متعلقہ گاؤں کے نمبردار کا بیان حلفی میں تمام زندہ وارثان کو ظاہر کرنا ہو گا.

4۔❗️اخبار اشتہار دینا ہو گا.

5۔❗️ڈیتھ سرٹیفکیٹ ،ایف آر سی سرٹیفکیٹ ،بیان حلفی، اخبار اشتہار لے کر متعلقہ پٹواری کے پاس جانا ہو گا پٹواری آپ کے ایف آر سی سرٹیفکیٹ اور دیگر کاغذات کے مطابق شجرہ تیار کر دیے گا۔

6۔❗️شجرہ تیار ہونے کے بعد جناب تحصیلدار کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا ۔ جس میں تحصیلدار کے سامنے کم از کم وارثان میں سے ایک بندے کا حاضر ہونا ضروری ہے ساتھ نمبردار اور ایک پتی دار یعنی گواہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ شجرہ بلکل ٹھیک ہے۔شجرہ کی تصدیق کے بعد جناب تحصیلدار صاحب فیصلہ لیکھے گا جس میں شرعی حصص کے مطابق تمام وارثان کو شرعی حصہ دے گا اور اپنے دستخط کر دے گا.

7۔❗️ پٹواری شجرہ کے مطابق انتقال درج کر دے گا اور تحصیلدار صاحب کے دے ہوے حصص کے مطابق رقبہ تقسیم کر دے گا اور تحصیلدار اس انتقال کو منظور کر دے گا ۔۔
حافظ حماد علی ایڈوکیٹ
Copied

ھزارہ میں گھریلو صارفین کے لیے: سوئی گیس کی فراہمی میں تین روزہ بندش کا شیڈول جاری۔ سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے تین ر...
30/07/2026

ھزارہ میں گھریلو صارفین کے لیے: سوئی گیس کی فراہمی میں تین روزہ بندش کا شیڈول جاری۔
سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے تین روز کیلئے نیا شیڈول جاری

29/07/2026

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری کا مکمل جدید طریقۂ کار

پنجاب میں جائیداد کی خرید و فروخت کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے، اور رجسٹری کے بیشتر مراحل آن لائن انجام دیے جاتے ہیں۔ رجسٹری کا عمومی طریقۂ کار درج ذیل ہے:
فرد برائے بیع (نقلِ اراضی ریکارڈ) کا حصول:
سب سے پہلے اراضی ریکارڈ سنٹر سے فرد برائے بیع (نقلِ اراضی ریکارڈ) حاصل کی جاتی ہے۔ اب فرد کے اجرا کے وقت خریدار کا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر ضروری تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہے، کیونکہ فرد پر بائع کے ساتھ خریدار کی معلومات بھی درج کی جاتی ہیں۔
فائلر/نان فائلر اسٹیٹس کی جانچ:
جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل بائع اور خریدار دونوں کا فائلر یا نان فائلر اسٹیٹس چیک کیا جاتا ہے۔ اگر کسی فریق کو فائلر بننا ہو تو رجسٹری سے پہلے متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔
سٹیمپ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی:
سٹیمپ ڈیوٹی، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر واجب الادا فیسوں کے آن لائن چالان تیار کیے جاتے ہیں، جن کی ادائیگی بینک یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے کی جاتی ہے۔
آن لائن رجسٹری ڈرافٹ کی تیاری:
ہاتھ سے رجسٹری لکھنے کا طریقہ ختم ہو چکا ہے۔ اب PLRA پورٹل پر بائع، خریدار، گواہان، جائیداد کی مکمل تفصیل اور رقم کی ادائیگی سے متعلق تمام معلومات آن لائن درج کر کے رجسٹری کا ڈرافٹ تیار کیا جاتا ہے، جو بعد ازاں سب رجسٹرار کے پورٹل پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔
سائٹ رپورٹ کا حصول:
متعلقہ پٹواری سے موقع کی سائٹ رپورٹ حاصل کی جاتی ہے، جس میں جائیداد کی نوعیت (مکان، پلاٹ یا دیگر)، موقع کی تصدیق اور ڈی سی ریٹ کی جانچ شامل ہوتی ہے۔
سب رجسٹرار کے روبرو پیشی:
رجسٹری کی مکمل فائل کے ساتھ بائع، خریدار اور گواہان سب رجسٹرار کے سامنے حاضر ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرواتے ہیں۔
بائیومیٹرک اور تصاویر:
سب رجسٹرار آفس میں تمام فریقین اور گواہان کی تصاویر لی جاتی ہیں، بائیومیٹرک تصدیق کی جاتی ہے، جبکہ دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔
رجسٹری کی وصولی:
تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عموماً 2 سے 3 دن میں منظور شدہ رجسٹری سب رجسٹرار آفس سے وصول کی جا سکتی ہے۔
بعد از رجسٹری سہولیات:
رجسٹری پاس ہونے کے بعد ضرورت کے مطابق رجسٹری کی نقل، انتقال اور فرد بھی آن لائن یا متعلقہ دفتر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ جدید نظام رجسٹری کے عمل کو زیادہ شفاف، محفوظ، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد بناتا ہے، جس سے جعل سازی کے امکانات کم ہوتے ہیں اور جائیداد کی خرید و فروخت قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل ہوتی ہے۔ :::**
Copied

29/07/2026

ٹیکنالوجی کا مقصد آسانی ہے
لیکن جب پورٹل خود الجھن بن جائے تو لوگ ڈیجیٹل سسٹم سے اعتماد کھو دیتے ہیں۔
*ایف بی آر پورٹل کا موجودہ مسئلہ:*
1. *جلد بازی میں لانچ* - ٹیسٹنگ مکمل کیے بغیر سسٹم لائیو کر دینا
2. *روزانہ تبدیلیاں* - کل والا فیچر آج غائب، آج والا کل ایرر دے
3. *سپورٹ کا فقدان* - کوئی ڈیمو نہیں، کوئی واضح گائیڈ نہیں، ہیلپ لائن پر جواب نہیں
4. *صارف کو ٹیسٹر بنا دینا* - جس کی سزا ٹیکس دہندہ اور پروفیشنلز کو مل رہی ہے

دنیا میں IRS, HMRC, UAE کا FTA پورٹل دیکھیں۔ وہاں پہلے Beta Testing ہوتی ہے، ویڈیوز آتی ہیں، پھر لانچ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں الٹا ہے: پہلے لانچ، پھر "آزمائش"۔

*✔️ مکمل QA کے بعد لانچ* - ورنہ آدھی ریٹرن جمع ہو کر ریجیکٹ ہو رہی ہیں
*✔️ ڈیمو + ویڈیو ٹیوٹوریلز* - ہر فیلڈ کے ساتھ مثال ہونی چاہیے
*✔️ 24/7 ہیلپ لائن + چیٹ سپورٹ* - ڈیڈ لائن کے دن پورٹل کریش ہو تو کون ذمہ دار؟

*ابھی فوری طور پر کیا کیا جا سکتا ہے؟*
1. *Grace Period دیں* - جب تک بگز فکس نہ ہوں لیٹ فائلنگ پر جرمانہ نہ لگے
2. *Issue Tracking Dashboard* - عوام کو بتائیں کونسا بگ کب فکس ہوگا
3. *Tax Professionals کو شامل کریں* - لانچ سے پہلے 500 چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس سے فیڈبیک لیں

ڈیجیٹل پاکستان کا خواب تب ہی پورا ہوگا جب سسٹم "عوام کے لیے" بنے گا، نہ کہ "عوام کو سسٹم کے لیے"۔

امید ہے ایف بی آر یہ آواز سنے گا اور فوری ایکشن لے گا۔

Address

Abbottabad
22020

Telephone

+923135932030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MM K law associates & legal Aid Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MM K law associates & legal Aid Centre:

Shortcuts

Share

Category