04/09/2026
* بچے کی سرپرستی / "گود لینے کا مکمل قانونی طریقہ کار
*1.1 اسلامی قانون اور پاکستانی پوزیشن*
اسلام میں "نسب" کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ بچے کو اس کے حقیقی والدین کے نام سے ہی پکارا جائے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کسی بچے کا نسب تبدیل کر کے اسے مکمل طور پر "اپنی اولاد" قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے پاکستانی قانون بچے کو "گود لینے" کے بجائے "سرپرستی" کا نظام دیتا ہے۔ اس میں بچے کی پرورش، تعلیم، صحت اور جائیداد کا انتظام سرپرست کے سپرد کر دیا جاتا ہے، لیکن بچے کا اصل نسب برقرار رہتا ہے۔
*1.2 متعلقہ قوانین*
پاکستان میں بچے کی سرپرستی سے متعلق بنیادی قوانین یہ ہیں:
1. *Guardians and Wards Act, 1890*: یہ مرکزی قانون ہے۔ اسی کے تحت فیملی کورٹ سرپرست مقرر کرتی ہے۔
2. *West Pakistan Rules under the Guardians and Wards Act, 1958*: اس میں طریقہ کار کی تفصیل ہے۔
3. *Family Courts Act, 1964*: اس کے تحت فیملی کورٹس کو سرپرستی کے مقدمات سننے کا اختیار ہے۔
4. *Muslim Family Laws Ordinance, 1961*: نکاح، طلاق اور بچوں کی تحویل کے حوالے سے۔
5. *The Juvenile Justice System Act, 2018*: اگر بچہ قانون سے متصادم ہو تو اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے۔
6. *Constitution of Pakistan, Article 35*: ریاست بچوں اور ماؤں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔
7. *UN Convention on the Rights of the Child, 1990*: پاکستان نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ اس کا اصول "Best Interest of the Child" پاکستانی عدالتوں میں بھی مانا جاتا ہے۔
*حصہ 2: سرپرستی کی 7 مرحلوں میں مکمل قانونی کارروائی*
*مرحلہ 1: بچے کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا*
یہ سب سے پہلا اور اہم قدم ہے۔ عدالت دیکھے گی کہ بچہ کس کیٹگری میں آتا ہے:
1. *یتیم بچہ*: جس کے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔
2. *لاوارث بچہ*: جو سڑک، ہسپتال یا چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے ملا ہو۔ پولیس رپورٹ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔
3. *بے سہارا بچہ*: جس کے والدین زندہ ہیں لیکن وہ پرورش کرنے کے قابل نہیں۔ اس صورت میں والدین کی تحریری رضامندی نامہ اور بیان حلفی لازمی ہے۔ _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 7_ کے تحت والدین رضامندی دے سکتے ہیں۔
اگر والدین زندہ ہیں اور وہ رضامندی نہیں دیتے تو عدالت صرف اسی صورت میں سرپرستی دے گی جب والدین کو "نااہل" ثابت کر دیا جائے۔
*مرحلہ 2: فیملی / سرپرستی عدالت میں درخواست دائر کرنا*
درخواست _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 10_ کے تحت دائر ہوتی ہے۔
*کہاں دائر ہوگی؟*
اس علاقے کی فیملی کورٹ میں جہاں بچہ رہائش پذیر ہے۔ _Family Courts Act 1964 کی دفعہ 5_ کے تحت سرپرستی کے مقدمات فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار ہیں۔
*درخواست میں کیا لکھنا ہے؟*
درخواست میں واضح طور پر لکھنا ہوگا کہ آپ بچے کی "شخص کا سرپرست" Person Guardian بننا چاہتے ہیں یا "جائیداد کا سرپرست" Property Guardian یا دونوں۔
*مرحلہ 3: ضروری دستاویزات اور معلومات*
عدالت کو مکمل فائل جمع کروانی ہوتی ہے تاکہ وہ فیصلہ کر سکے۔ بنیادی دستاویزات:
*مجوزہ سرپرست کے لیے:*
1. CNIC کی کاپی
2. میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ
3. مالی حیثیت کا ثبوت: بینک اسٹیٹمنٹ، انکم سرٹیفکیٹ، جائیداد کے کاغذات
4. کردار کا سرٹیفکیٹ: پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ
5. رہائش کا ثبوت: بجلی کا بل، کرایہ نامہ
6. 2 گواہوں کے CNIC اور بیانات
*بچے کے لیے:*
1. برتھ سرٹیفکیٹ / نادرا B-Form
2. والدین کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اگر یتیم ہے
3. والدین کا رضامندی نامہ + بیان حلفی اگر زندہ ہیں
4. بچے کی 4 عدد تصاویر
5. اگر بچہ سکول جاتا ہے تو سکول کا سرٹیفکیٹ
*مرحلہ 4: عدالت کی تحقیقات، نوٹس اور رپورٹ*
درخواست دائر ہونے کے بعد _Guardians and Wards Act 1890 کی دفعہ 11_ کے تحت عدالت کارروائی شروع کرتی ہے۔
1. *نوٹس*: عدالت بچے کے والدین، قریبی رشتہ داروں اور موجودہ نگہداشت کنندہ کو نوٹس بھیجتی ہے۔
2. *انکوائری*: جج خود بچے سے چیمبر میں مل سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر بچے کی عمر 7 سال سے زیادہ ہو تو _دفعہ 17_ کے تحت بچے کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
3. *ویلفیئر آفیسر رپورٹ*: عدالت چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے سرپرست کے گھر کی انکوائری رپورٹ منگوا سکتی ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ گھر کا ماحول بچے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
4. *اخبار میں اشتہار*: لاوارث بچے کی صورت میں عدالت اخبار میں اشتہار بھی دے سکتی ہے کہ اگر کوئی حقیقی وارث ہے تو سامنے آئے۔
عدالت کا ہر سوال کا مرکز صرف ایک ہوگا: *"کیا یہ سرپرستی بچے کے بہترین مفاد میں ہے؟"*
*مرحلہ 5: سرپرستی کا عدالتی حکم*
جب عدالت تمام شواہد اور رپورٹس سے مطمئن ہو جائے تو وہ _دفعہ 25_ کے تحت تحریری حکم جاری کرتی ہے۔
اس حکم میں 2 چیزیں ہو سکتی ہیں:
1. *سرپرست برائے ذات Person Guardian*: بچے کی تعلیم، صحت، پرورش کی ذمہ داری۔
2. *سرپرست برائے جائیداد Property Guardian*: اگر بچے کے نام جائیداد یا بینک اکاؤنٹ ہے تو اس کے انتظام کی اجازت۔
عدالت حکم میں شرائط بھی لگا سکتی ہے، جیسے سالانہ رپورٹ پیش کرنا یا بچے کو بیرون ملک نہ لے جانا۔
*مرحلہ 6: سرکاری ریکارڈ کی درستگی - نادرا اور دیگر ادارے*
عدالتی حکم ملنے کے بعد اگلا قدم نادرا ہے۔
1. *نادرا میں اندراج*: عدالتی حکم کے ساتھ نادرا آفس جائیں۔ بچے کے B-Form میں سرپرست کا نام بطور "Guardian" شامل ہو جائے گا۔ بچے کا نام یا والد کا نام تبدیل نہیں ہوگا۔
2. *پاسپورٹ*: پاسپورٹ بنوانے کے لیے عدالتی حکم اور نادرا کا اپڈیٹڈ B-Form درکار ہوگا۔
3. *سکول داخلہ*: سکول میں داخلے کے لیے بھی عدالتی حکم کافی ہے۔
*مرحلہ 7: سرپرست کی قانونی ذمہ داریاں*
سرپرستی ملنا ذمہ داری کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔ _دفعہ 27 سے 39_ تک سرپرست کے فرائض بیان ہوئے ہیں۔
1. *تعلیم اور تربیت*: مناسب تعلیم اور اخلاقی تربیت دینا لازمی ہے۔
2. *صحت اور رہائش*: بچے کی صحت، کھانا، رہائش کا مناسب انتظام۔
3. *جائیداد کا انتظام*: اگر سرپرست برائے جائیداد ہے تو عدالت سے اجازت کے بغیر بچے کی جائیداد فروخت نہیں کر سکتا۔ _دفعہ 29_
4. *عدالت کو جوابدہی*: عدالت کسی بھی وقت سرپرست سے رپورٹ طلب کر سکتی ہے۔ _دفعہ 39_
5. *18 سال کی عمر*: جب بچہ 18 سال کا ہو جائے تو سرپرستی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ _دفعہ 41_
*حصہ 3: اہم قانونی نکات اور غلط فہمیاں*
*3.1 کیا اسٹامپ پیپر کافی ہے؟*
*نہیں۔* بہت سے لوگ 100 روپے کے اسٹامپ پر "گود نامہ" بنا لیتے ہیں۔ قانون کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک فیملی کورٹ کا حکم نہ ہو، آپ بچے کے قانونی سرپرست نہیں ہیں۔
*3.2 کیا بچے کا نسب تبدیل ہو جائے گا؟*
*نہیں۔* _Guardians and Wards Act_ نسب تبدیل نہیں کرتا۔ بچے کے سرکاری کاغذات میں والد کے نام کی جگہ "نامعلوم" یا حقیقی والد کا نام ہی رہے گا۔ سرپرست کا نام صرف "Guardian" کے کالم میں آئے گا۔
*3.3 کیا سرپرست کی جائیداد میں بچے کو وراثت ملے گی؟*
*خودکار طریقے سے نہیں۔* اسلامی قانون وراثت کے تحت سرپرست اور بچے میں خون کا رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے وراثت نہیں ملے گی۔ اگر آپ بچے کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی زندگی میں *ہبہ Gift* کرنا ہوگا یا وصیت لکھنی ہوگی۔ وصیت کل جائیداد کے 1/3 حصے تک ہو سکتی ہے۔
*3.4 بچے کو بیرون ملک لے جانے کا کیا طریقہ ہے؟*
اس کے لیے عدالت سے علیحدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔ _دفعہ 12_ کے تحت عدالت دیکھے گی کہ دوسرے ملک میں بچے کا مفاد محفوظ ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اس ملک کے امیگریشن قوانین بھی پورے کرنا ہوں گے۔ امریکہ، کینیڈا جیسے ممالک کے لیے "Hague Adoption Convention" کے تحت اضافی کارروائی درکار ہوتی ہے، جس میں پاکستان شامل نہیں ہے۔
*3.5 سرپرستی کب ختم ہو سکتی ہے؟*
_دفعہ 39_ کے تحت اگر سرپرست اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے، یا بچے سے زیادتی کرے، تو عدالت کسی بھی وقت سرپرستی ختم کر کے نیا سرپرست مقرر کر سکتی ہے۔
*حصہ 4: سرپرستی کے لیے اہلیت کے معیار*
عدالت سرپرست کا انتخاب کرتے وقت _دفعہ 17_ میں دیے گئے اصول دیکھتی ہے:
1. *بچے کی عمر، جنس اور مذہب*: ترجیح دی جاتی ہے کہ سرپرست اور بچے کا مذہب ایک ہو۔
2. *سرپرست کی عمر اور صحت*: سرپرست جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہو۔
3. *مالی حیثیت*: بچے کی پرورش کے اخراجات اٹھانے کی صلاحیت۔
4. *کردار*: سرپرست کا کردار اچھا ہو اور اس پر کوئی کریمنل کیس نہ ہو۔
5. *بچے کی خواہش*: اگر بچہ 7 سال سے بڑا ہے تو عدالت اس کی رائے بھی لے گی۔
*حصہ 5: عملی مشکلات اور حل*
1. *کیس کتنا وقت لیتا ہے؟* عام طور پر 4 سے 8 ماہ۔ اگر تمام دستاویزات مکمل ہوں اور کوئی اعتراض نہ ہو تو جلدی ہو جاتا ہے۔
2. *وکیل ضروری ہے؟* قانوناً ضروری نہیں، لیکن وکیل کی مدد سے کیس آسان اور جلدی ہوتا ہے۔
3. *فیس کتنی ہے؟* کورٹ فیس بہت معمولی ہے، 100 سے 500 روپے۔ اصل خرچہ وکیل کی فیس اور دستاویزات کا ہے۔
*📌 حتمی بات:*
یاد رکھیں، بچے کی سرپرستی کوئی قانونی فارمیلٹی نہیں بلکہ *اللہ کی دی ہوئی امانت* ہے۔ آپ ایک معصوم کی زندگی سنوارنے کا بیڑا اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے شارٹ کٹ کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔ اس سے نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ بچے کا مستقبل بھی قانونی طور پر محفوظ ہو جائے گا۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں، تو پہلا قدم اٹھائیں۔ کسی اچھے فیملی کورٹ کے وکیل سے مشورہ کریں اور کارروائی شروع کریں۔
Copied