Sharai Panchayat, Arqam Charitable Trust, Mumbra,Thane

  • Home
  • India
  • Thane
  • Sharai Panchayat, Arqam Charitable Trust, Mumbra,Thane

Sharai Panchayat, Arqam Charitable Trust, Mumbra,Thane counselling, Nikah, Talaq, Khula

06/03/2023
02/10/2021

آج ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب شرعی پنچایت آفس تشریف لائے ۔شرعی پنچایت کی خدمات کا جائزہ لیا۔ موصوف کی علمی و فکری تحریروں سے استفادہ کا موقع ملتا رہتا ہے ۔الله تعالیٰ موصوف کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے آمین ۔

آج ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب شرعی پنچایت آفس تشریف لائے ۔شرعی پنچایت کی خدمات کا جائزہ لیا ۔ موصوف کی علمی و فکری تحری...
02/10/2021

آج ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب شرعی پنچایت آفس تشریف لائے ۔شرعی پنچایت کی خدمات کا جائزہ لیا ۔ موصوف کی علمی و فکری تحریروں سے استفادہ کا موقع ملتا رہتا ہے ۔الله تعالیٰ موصوف کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے آمین ۔

05/06/2021

بانجھ پن صرف عورت میں نہیں ہوتا _
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
نکاح کے ایک برس بعد تک اگر اولاد نہ ہو تو گھر اور خاندان میں چے می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں _ اگر کچھ اور وقت گزر جائے تو افرادِ خانہ کھلّم کھلّا اس کا اظہار کرنے لگتے ہیں _ یہ غلط نہیں ہے _ فکر ضرور کرنی چاہیے اور اولاد کی خواہش فطری ہے ، اس کا اظہار ہونا چاہیے _ غلط یہ ہے کہ نگاہیں اور انگلیاں صرف عورت کی طرف اٹھنے لگیں اور اسی کو طعنے دیے جانے لگیں ، حالاں کہ بانجھ پن صرف عورت میں نہیں ہوتا ، مرد میں بھی ہوسکتا ہے _ اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ ولادت میں تاخیر ہو تو شوہر اور بیوی دونوں کو اپنا ٹیسٹ کرانا چاہیے _
فطری طریقۂ تولید یہ ہے کہ مرد اور عورت کے جنسی اتصال ( sexual contact) سے مرد کے نطفہ ( s***m) اور عورت کے بیضہ (O**m) کا امتزاج ہوتا ہے _ نطفہ مرد کے خصیوں (Testies) سے اور بیضہ عورت کے خصیۃ الرحم (Ovaries) سے نکلتا ہے _ دونوں کا امتزاج عورت کے رحم سے متصل عضو 'قاذف' (Fallopian tube) کے باہری تہائی حصے میں ہوتا ہے ، جس سے عمل بارآوری (Fertilization) انجام پاتا ہے _ پھر یہ بار آور بیضہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد رحم میں اتر آتا ہے ، جہاں جنین (Foetus) کی تشکیل ہوتی ہے _
فطری طریقۂ تولید میں کوئی رکاوٹ آجائے تو اسے بانجھ پن کہتے ہیں _ یہ عارضی ہوسکتا ہے اور مستقل بھی _ مرد میں بھی ہوسکتا ہے اور عورت میں بھی _ مرد میں اس کی مثالیں یہ ہیں کہ وہ قوتِ مردمی میں کمی کی وجہ سے ج**ع پر قادر نہ ہو ، یا اس کے نطفے میں حیواناتِ منویہ کا تناسب کم ہو ، یا ان کی حرکت کم زور ہو ، یا نطفے کو خصیوں سے عضو تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں ، یا خصیے بے کار ہوں ، یا اوپر چڑھے ہوئے ہیں _ اسی طرح عورت میں اس کی مثالیں یہ ہیں کہ خصیۃ الرحم میں کسی نقص کے سبب اس سے بیضہ کا اخراج ممکن نہ ہو ، یا قاذفین پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں ، یا مسدود ہوگئے ہوں ، یا عورت پیدائشی طور پر رحم سے محروم ہو ، یا کسی سبب سے اس میں بارآور بیضہ کا استقرار ممکن نہ ہو، وغیرہ _
نکاح کے کچھ عرصہ بعد تک اگر ولادت نہ ہو تو شوہر اور بیوی دونوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور تمام ضروری جانچیں کروالینی چاہییں _ بسا اوقات مرد یا عورت میں کوئی معمولی نقص ہوتا ہے ، جو علاج سے بہ آسانی دور ہوسکتا ہے _ اگر کسی مرض یا نقص کی وجہ سے فطری طریقے پر استقرارِ حمل ممکن نہ ہو تو مصنوعی تدبیر (IVF) اختیار کی جاسکتی ہے ، بس شرط یہ ہے کہ نطفہ شوہر کا ہو ، بیضہ بیوی کا ہو اور حمل کا استقرار بیوی ہی کے رحم میں ہو _
اگر تمام تدابیر کے باوجود زوجین اولاد کی نعمت سے محروم ہوں تو انہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھنی چاہیے اور صبر سے کام لینا چاہیے _ اگر زوجین چاہیں تو اولاد کے بغیر بھی پوری زندگی ہنسی خوشی گزار سکتے ہیں _ اللہ کے پیغمبروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام کی زندگیاں اس سلسلے میں مثالی نمونہ ہیں _ حضرت ابراہیم کے یہاں حضرت سارہ سے جب حضرت اسحاق پیدا ہوئے اس وقت ان کی عمر سو برس تھی _ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے سات آٹھ دہائیوں تک اولاد سے محروم ہونے کے باوجود پُر مسرّت ازدواجی زندگی گزاری _ حضرت زکریا نے جب مریم کا نکاح نہ ہونے کے باوجود ان سے عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ دیکھا تو ان کے دل میں خواہش ہوئی کہ دوسرا معجزہ ان سے بھی صادر ہوسکتا ہے کہ بڑھاپے میں ، جب کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے ، اللہ انہیں اولاد کی نعمت عطا فرمائے _ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے پوری زندگی ایک بانجھ عورت کے ساتھ ہنسی خوشی گزار دی تھی _
اولاد کی خواہش ہر ایک کو ہوتی ہے _ اس بنا پر اگر کوئی عورت بانجھ ہو اور تمام تر علاجی تدابیر کے باوجود اب اس سے اولاد ہونے کی توقع نہ ہو ، دوسری طرف اس کا شوہر یا سسرال والے اولاد کے حصول کے لیے دوسرے نکاح کا ارادہ کررہے ہوں تو عورت کو مصالحت کا مظاہرہ کرنا چاہیے _ قرآن مجید میں ایک موقع اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ" اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا اندیشہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر وہ دونوں ( کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں ۔ صلح بہرحال بہتر ہے _" ( النساء :128) یہ صلح اس بات پر ہوسکتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کے دوسرے نکاح پر رضامند ہوجائے اور شوہر اپنی بیوی کو طلاق نہ دے ، بلکہ اسے بھی بیوی کی حیثیت سے باقی رکھے اور تمام حقوق دے _
اولاد سے محروم جوڑے ایک کام یہ بھی کرسکتے ہیں کہ اپنے خاندان ، متعلق یا کسی دوسرے شخص کے بچے کو گود لے لیں _ اسلام کسی اجنبی بچے کو گود لینے کی اجازت دیتا ہے ، بس اس سے منع کرتا ہے کہ کسی بچے کی نسبت باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی جانب کی جائے _ ( الأحزاب :5) اس طرح وہ کسی بچے کو اپنی کفالت میں لے کر اجر کے مستحق ہوں گے اور اپنی ویران زندگی میں خوشیوں کی بہاریں بھی دیکھ سکیں گے _

05/06/2021

عورتیں تو کھیتی کے مثل ہیں _

" یہ عورت بہت منحوس ہے _ صرف لڑکیاں پیدا کرتی ہے _"
" ہمیں اب اور لڑکیاں نہیں چاہیے _"
" یہ عورت کوئی وارث نہیں دے سکتی _ تم دوسرا نکاح کرلو _"
کسی گھر میں کئی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو عموماً اس طرح کی باتیں کی جانے لگتی ہیں _ گھر کے مرد ، کیا بوڑھے ، کیا جوان ، یہ باتیں کہتے ہیں اور عورتیں بھی ان کی تائید کرتی ہیں ، بلکہ بعض گھرانوں میں عورتیں ہی اس معاملے میں پیش پیش رہتی ہے اور اگر کئی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو وہ بہوؤں کو ہی دوش دیتی ہیں اور اپنے لڑکوں پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ دوسرا نکاح کرلیں ، تاکہ وارث پانے کی ان کی خواہش پوری ہو اور گھر میں لڑکوں کی کلکاریاں گونجیں _
ان لوگوں کو نہیں معلوم کہ لڑکیوں کی پیدائش میں عورت کا کوئی کردار اور اختیار نہیں ہوتا _ انھوں نے اگر قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو اس میں انہیں اس کی دلیل مل جاتی _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ (البقرۃ : 223)
" تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔"
کھیت میں وہی کچھ اگتا ہے جس کا بیج کسان اس میں ڈالتا ہے _ گیہوں بوئے گا تو گیہوں آگے گا ، مٹر یا چنا بوئے گا تو وہ نکلے گا _ یہ ناممکن ہے کہ کسان اپنے کھیت میں ایک چیز بوئے اور امید دوسری پیداوار کی رکھے _
آیتِ بالا میں عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے _ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش میں عورت (بیوی) کا کوئی رول نہیں ہے ، بلکہ اس میں اصل رول مرد (شوہر) کا ہوتا ہے _
میڈیکل سائنس نے بھی اس بات کو قطعی طور پر ثابت کردیا ہے _ جسم انسانی کے تولیدی خلیّات (Cells) میں ایک جوہر پایا جاتا ہے ، جسے کروموزوم کہتے ہیں _ اس کے 23 جوڑے ہوتے ہیں ، جن میں سے ایک جوڑا تعیینِ جنس کے لیے مخصوص ہوتا ہے _ اسے 'سیکس کروموزوم' کہا جاتا ہے _ یہ جوڑا دو طرح کے کروموزومس پر مشتمل ہوتا ہے _ ایک کو X کروموزوم اور دوسرے کو Y کروموزوم کہتے ہیں _ عورت کے بیضہ (O**m) میں سیکس کروموزوم کا جو جوڑا پایا جاتا ہے اس میں دونوں کروموزوم X نوعیت کے ہوتے ہیں ، جب کہ مرد کے نطفے (S***m) میں پایا جانے والا جوڑا X اور Y دو طرح کے کروموزومس پر مشتمل ہوتا ہے _ عورت کے X کروموزوم سے اگر مرد کا X کروموزوم ملتا ہے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس سے مرد کا Y کروموزوم ملتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے _ کن دو کروموزومس کا باہم اتصال ہوگا؟ یہ کوئی نہیں جانتا ، نہ اس میں کسی کے اختیار اور عمل کا دخل ہوتا ہے ، بلکہ یہ صرف تقدیرِ الٰہی پر منحصر ہوتا ہے _
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے _ ایک پتّہ بھی اس کی مشیّت کے بغیر نہیں ہلتا ہے _ کسی عورت سے اولاد ہوگی یا نہیں ، ہوگی تو وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ، کسی عورت سے صرف لڑکے پیدا ہوں گے ، یا صرف لڑکیاں ، یا لڑکے اور لڑکیاں دونوں پیدا ہوں گی ، یہ صرف اللہ کی مشیّت اور اس کی طرف سے طے کی گئی تقدیر پر منحصر ہوتا ہے _ یہ بات قرآن مجید میں صاف الفاظ میں بیان کردی گئی ہے :
لِـلَّـهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ‌ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌ ؕ يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَ ، اَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانًا وَّاِنَاثًا‌ ۚ وَيَجۡعَلُ مَنۡ يَّشَآءُ عَقِيۡمًا‌ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ (الشوریٰ :49_50)
" اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے _ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے _ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے ۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے ۔ "
جب صورتِ حال یہ ہو تو لڑکی کی پیدائش پر عورت کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جائے؟ درست رویّہ یہ ہے کہ لڑکی کی پیدائش پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، کیوں کہ اوّلاً لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو ہزار جتن کے باوجود اولاد سے محروم رہتے ہیں ، ثانیاً لڑکیوں کی صحیح طریقے سے پرورش و پرداخت پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے _

05/06/2021

مصالحت میں بھلائی ہے _
اِدھر کچھ عرصے سے مسلم گھرانوں میں ایک کم زوری کا مشاہدہ ہورہا ہے کہ نوجوان جوڑوں میں ذرا سی مزاج کی ناموافقت ہوئی ، فوراً لڑکی اپنے میکے کا رخ کرتی ہے اور مہینوں شوہر سے رابطہ نہیں رکھتی _ اب شوہرِ نام دار اَڑ جاتے ہیں کہ جیسے زوجۂ محترمہ ناراض ہوکر اپنے والدین کے پاس چلی گئی ہیں اسی طرح خود ہی واپس آجائیں اور بیوی کا اصرار ہوتا ہے کہ شوہر صاحب آئیں ، اپنے رویّے پر معذرت کریں اور منّت سماجت کرکے اسے اپنے ساتھ لے جائیں _ دونوں اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور تنازعہ نہ صرف جوں کا توں قائم رہتا ہے ، بلکہ خلیج بڑھتی چلی جاتی ہے _
کبھی شادی کے ابتدائی دنوں میں بہو اور ساس کے درمیان موافقت باقی نہیں رہتی _ اب لڑکی شوہر سے کہتی ہے کہ میں آپ کی ماں کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، میرے لیے دوسرے گھر کا انتظام کیجیے اور شوہر کہتا ہے کہ میں اپنی ماں کو اپنے سے الگ نہیں کرسکتا ، انھوں نے مجھے پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے ، اب وہ میرے سہارے اور تعاون کی محتاج ہیں _ بیوی اپنی بات منوانے کے لیے میکے چلی جاتی ہے اور شوہر کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو نہیں چھوڑ سکتا ، اس لیے وہ بیوی کو منانے کی کوشش نہیں کرتا _ اس طرح دوریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں ، جو بسا اوقات علیٰحدگی اور طلاق پر منتج ہوتی ہیں _
زوجین کے درمیان ناموافقت کی اور بھی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں _ وہ کبھی اس صورت حال سے دوچار ہوں تو انہیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان 'مثالی' (Perfect) نہیں ہے _ لاکھوں میں کوئی ایک جوڑا ہوسکتا ہے جس کے درمیان ہر معاملے میں صد فی صد موافقت پائی جاتی ہو _ زندگی تو درحقیقت ایڈجسٹمنٹ کا نام ہے _ بڑے خوش قسمت ہیں وہ جوڑے جو اپنے درمیان چھوٹے بڑے اختلافات کے باوجود ساتھ رہ کر ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں اور افرادِ خاندان : ماں ، باپ ، ساس ، سسر ، بچوں اور دیگر رشتے داروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں _ اور بڑے قابلِ رحم ہوتے ہیں وہ جوڑے جو معمولی اختلاف کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، چنانچہ خود بھی زندگی بھر پریشان رہتے ہیں اور اپنے قریبی عزیزوں کو بھی پریشانی میں مبتلا رکھتے ہیں _
دو انسانوں میں صد فی صد موافقت ہو ہی نہیں سکتی _ جب ماں باپ اور بھائی بہن میں کامل موافقت اور ہم آہنگی نہیں ہوتی تو زوجین کے درمیان کیوں کر ہوسکتی ہے ، جو الگ الگ ماحول سے آتے ہیں اور الگ الگ مزاج رکھتے ہیں _
جب اختلافات سر ابھارنے لگیں تو فریقین کا کیا رویّہ ہونا چاہیے؟ اس سلسلے میں قرآن مجید نے بہت خوب صورت بات کہی ہے اور بہت عمدہ حل کی طرف رہ نمائی کی ہے _ اختلافات کی صورت میں کئی رویّے ممکن ہیں : اختلافات کو علی حالہ باقی رکھا جائے ، ان میں اور تیزی لائی جائے ، ہر فریق اپنی بات پر اَڑا رہے ، اپنے کو حق پر اور دوسرے کو غلط کار سمجھے ، اپنی بات منوانے کی کوشش کرے اور دوسرے کی ایک نہ سنے ، یا مصالحت پر آمادہ ہوجائے _ قرآن مجید میں آخری رویّے کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۤ اَنۡ يُّصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحًا‌ ؕ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ‌ ؕ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ‌ ؕ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا (النساء :128)
" اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں ۔ صلح بہرحال بہتر ہے ۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں _ لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ کو تمہارے اس طرزِ عمل کی خوب خبر ہے _"
اس آیت میں کئی اہم باتیں کہی گئی ہیں :
پہلی بات یہ کہ ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے _ عورت کو ہر حال میں اسے پیشِ نظر رکھنا چاہیے _ شوہر سے اختلافات ہونے لگیں تو عورت کے سامنے دو آپشنز ہیں : اس سے علیٰحدگی حاصل کرلے ، یا اس کے ساتھ رہے _ اس آیت میں دوسرے آپشن کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے _
دوسری بات یہ کہ اس آیت میں ایک زرّیں اصول بیان کیا گیا ہے _" صلح بہر حال بہتر ہے _" یہ اصول یوں تو زندگی کے ہر معاملے میں اختیار کرنا پسندیدہ ہے ، لیکن ازدواجی زندگی میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے _ ذرا ذرا سی بات پر روٹھ جانا ، گھر بیٹھ رہنا اور تمام تعلقات یک سر منقطع کرلینا پسندیدہ رویّہ نہیں ہے ، بلکہ اختلافات چاہے جتنے شدید ہوں ، مصالحت کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کوشش کی جائے تو کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکلے گی _
تیسری بات یہ کہ " نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں _" یہ انسانی فطرت کا بیان ہے _ اس میں ایک اہم نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے _ ہر شخص اپنے مفادات کو عزیز رکھتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے ، چاہے اس کے مقابل میں اس کا کوئی عزیز ہی ہو ، اس لیے اگر سامنے کے فریق سے ایثار اور محبت کا مظاہرہ نہ ہو تو دل برداشتہ نہیں ہوتا چاہیے ، بلکہ اسے انسانی فطرت پر محمول کرکے نظر انداز کرنا چاہیے _
چوتھی بات یہ کہ تنازعات کی صورت میں احسان کی روش اختیار کرنی چاہیے اور ہر کام اللہ سے ڈر کر کرنا چاہیے _ یہ خطاب اصلاً مردوں سے ہے کہ وہ برتر پوزیشن رکھتے ہیں ، اس لیے انہیں عورتوں کو دبانے اور ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے _
پانچویں بات یہ کہ مصالحت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی ایک فریق کی تمام باتیں قبول کر لی جائیں اور دوسرے فریق کی ایک بات بھی نہ مانی جائے _ یہ ممکن ہے ، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے _ مصالحت میں ہر فریق کو کچھ پیچھے ہٹنا ہوتا ہے اور اپنے کچھ مطالبات سے دست بردار ہوتا پڑتا ہے _
کاش نئی نسل ، خاص طور پر ان لڑکیوں کو جن کی کچھ عرصہ قبل شادی ہوئی ہے اور ان کی ازدواجی زندگی میں کدورت پیدا ہونے لگی ہے ، اس بات کا شعور ہو اور وہ اَنا کی قید سے خود کو آزاد رکھنے کی کوشش کریں _

05/06/2021

بے نکاحی عورت _ کٹی پتنگ
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
میدان میں بہت سے نوجوان پتنگ اڑا رہے تھے _ پورا آسمان پتنگوں سے بھرا ہوا تھا : رنگ برنگی ، چھوٹی بڑی ، چاند تارا والی ، دُم دار اور بھی کئی طرح کی _ ماہر پتنگ بازوں کی اونچی اُڑان تھی اور نو سکھیا تھوڑی بلندی پر اُڑا رہے تھے _ ہر ایک کی پتنگ ایک ڈور کے ذریعے اس کے ہاتھ میں تھی _ اس طرح وہ اسے اِدھر اُدھر نچا رہا تھا اور اوپر نیچے کررہا تھا _ جتنے اُڑانے والے تھے ان سے زیادہ تماشا دیکھنے والے _ اتنے میں ایک پتنگ کٹ گئی _ بس پھر کیا تھا؟ تمام تماشائی اس کے پیچھے لگ گئے _ پتنگ نیچے آتی گئی _ یہاں تک جب وہ بالکل قریب آگئی تو سب اس کی طرف لپکے _ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس پتنگ کے چیتھڑے اُڑ گئے _
بے نکاحی عورت کا حال بھی کٹی پتنگ جیسا ہوتا ہے _ جب تک وہ نکاح کی ڈور سے بندھی ہوتی ہے ، دوسروں کے تصرف سے محفوظ رہتی ہے _ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے _ لیکن نکاح کی ڈور ٹوٹتے ہی دوسرے اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اسے اپنے قبضے اور تصرّف میں لینے کے حربے سوچنے لگتے ہیں _
سنا ہے کہ پڑوسی ملک کی ایک دوشیزہ نے ، جو مختلف اسباب سے شہرت کے دوش پر اُڑ رہی ہے ، یہاں تک کہ اسے نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا ہے ، نکاح کے سلسلے میں ایک بڑی نامعقول بات کہی ہے _ اس نے کہا ہے : " ‏مجھے اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے؟"
نسلِ انسانی کے تسلسل کے لیے مرد اور عورت کا جنسی تعلق ضروری ہے _ یہ تعلق اگر قانون کے دائرے میں اور معاہدہ کے ذریعے ہو تو اسے 'نکاح' کہا جاتا ہے اور اگر یوں ہی ہو تو اسے Live in relationship کا نام دیا گیا ہے _ دنیا کے بیش تر سماجوں نے نکاح کو ضروری قرار دیا ہے، جب کہ اِدھر کچھ عرصے سے عالمی سطح پر لیو اِن ریلیشن شپ کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے _ مذکورہ دوشیزہ کا یہ بیان اُسی عالمی ایجنڈا کا حصہ ہے _
مرد و عورت کا جنسی تعلق قائم کرنا یا تو وقتی طور پر لذّت حاصل کرنے کے لیے ہوگا یا اولاد کے حصول کے لیے _ پہلی صورت میں یہ سماج اور تمدّن سے بغاوت ہے _ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر مرد اور ہر عورت آزاد ہے _ وہ جس طرح چاہیں اپنی جنسی خواہش پوری کریں _ جو مرد اور عورت محض لذّت کوشی کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں وہ انسانی فطرت سے بغاوت کرتے ہیں ، سماج کو دھوکہ دیتے ہیں اور تمدّن کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہیں _ اگر اس کی کھلی چھوٹ ہوتی تو روئے زمین پر انسانی آبادی کب کی ختم ہوچکی ہوتی _
اگر جنسی تعلق اولاد کے حصول کے لیے ہو تو وہ عورت بہت بڑی بے وقوف ہے جو مرد کو اپنی ذات سے لذّت حاصل کرنے دے ، پھر اس کے بعد کے تمام مراحل تنہا برداشت کرے ، مرد کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو _ دورانِ حمل اسے کوئی پریشانی ہو تو اسے تنہا جھیلے ، معاش کے ذرائع خود تلاش کرے ، وضعِ حمل کی تکلیف میں اسے کوئی سہارا دینے والا نہ ہو اور پیدائش کے بعد بچے کی پرورش خود کرے ، مرد کی اسے کچھ مدد حاصل نہ ہو _
اسلام خاندان کی تشکیل کے لیے نکاح کو لازم قرار دیتا ہے _ اس کے نزدیک زوجین کا جنسی تعلق ناپائیدار تعلق نہیں ہوتا _ وہ اسے بہت زیادہ استحکام بخشتا ہے _ مردوں (یعنی شوہروں) کو عورتوں( یعنی بیویوں) کا 'قوّام' بنایا گیا ہے _ (النساء :34) قوّام کے معنیٰ ہیں : محافظ ، نگراں ، ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے والا _ مسلمان شوہر اپنی بیوی سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں رہتا ، بلکہ نکاح کے بعد آئندہ زندگی کے ہر لمحے میں اسے تحفّظ فراہم کرتا ہے اور اس کی چھوٹی بڑی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے _ اس کی سرپرستی میں عورت فکرِ معاش سے بے پروا ہوتی ہے اور شوہر پر اس کی اور بچوں کی کفالت لازم ہوتی ہے _ شوہر عورت کا 'باڈی گارڈ' ہوتا ہے ، جو اسے سیکورٹی فراہم کرتا ہے _ آج کل سیکورٹی کے نام پر بہت پیسے خرچ کیے جاتے ہیں _ گارڈ بھاری فیس لے کر صرف اپنے فرض نبھاتا ہے ، جس کو سیکورٹی دیتا ہے اس سے محبت نہیں کرنے لگتا ہے _ اسلام عورت کو شوہر کی شکل میں مفت سیکورٹی فراہم کرتا ہے ، اسے ایسا باڈی گارڈ فراہم کرتا ہے جو صرف اس کی سیکورٹی کے فرائض نہیں ادا کرتا ، بلکہ اس سے محبت بھی کرتا ہے اور اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے _
کتنی بے وقوف ہیں وہ عورتیں جو نکاح کے ادارہ کے خلاف بولتی ہیں ، اسے کم زور کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے مقابلے میں صرف پارٹنر بن کر زندگی گزارنے کی وکالت کرتی ہیں _
اسی طرح کتنی نادان ہیں وہ عورتیں جو نکاح ہوجانے کے بعد معمولی معمولی باتوں پر شوہروں سے روٹھ جاتی ہیں ، ان سے الگ تھلگ رہنے لگتی ہیں اور تنازع اتنا بڑھالیتی ہیں کہ بالآخر بات علیٰحدگی (طلاق یا خلع) تک جا پہنچتی ہے _
انہیں جان لینا چاہیے کہ نکاح ایک سائبان ہے ، جس میں عورت کو سکون ملتا ہے _ ایک سیکورٹی ہے ، جس سے اسے تحفظ حاصل ہوتا ہے _ ایک سرپرستی ہے ، جس میں رہ کر وہ اطمینان و سکون سے نسلِ انسانی کی پرورش کا کام انجام دیتی ہے _

05/06/2021

جہیز نہیں ، وراثت
ایک آدمی نماز نہیں پڑھتا _ ہم اسے بے دین سمجھتے ہیں _ ایک آدمی صحت مند ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھتا _ ہم اس پر نگاہِ غلط ڈالتے ہیں _ ایک آدمی مال دار ہونے کے باوجود زکوٰۃ نہیں ادا کرتا _ ہم اسے اللہ کا نافرمان قرار دیتے ہیں _ ایک آدمی صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتا _ ہم اسے سچّا مسلمان نہیں سمجھتے _ لیکن ایک آدمی اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد اور مملوکہ چیزوں پر قابض رہتا ہے اور اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتا ہے ، اس کے باوجود ہم اسے سچّا پکّا مسلمان سمجھتے ہیں _
وراثت کی تقسیم مسلمانوں پر اسی طرح فرض ہے ، جس طرح نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج _ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کے صرف اصولی احکام قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ، ان کی تفصیلات و جزئیات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پیش کی ہیں اور وہ احادیث میں مذکور ہیں ، لیکن تقسیمِ وراثت ایسا فرض ہے جس کی بیش تر تفصیلات خود اللہ تعالی نے قرآن میں بیان کردی ہیں _
اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ "مالِ وراثت چاہے جتنا زیادہ ہو ، چاہے جتنا کم ، لیکن اسے بہر حال تقسیم ہونا چاہیے اور اس میں جس طرح مردوں کا حصہ لگتا ہے اسی طرح عورتوں کا بھی حصہ لگنا چاہیے _"(النساء:7)
احکامِ وراثت کی جزئیات بیان کرنے سے پہلے قرآن نے تنبیہ کی ہے کہ" جو لوگ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں ، حقیقت میں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں _ ایسے لوگوں کو ضرور جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا _" (النساء:10)
اور احکامِ وراثت بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے : "یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں _ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ، اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کام یابی ہے _ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے _ (النساء:14)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں لڑکیوں کو وراثت میں جو کچھ ملنے والا ہوتا ہے وہ انھیں پہلے ہی جہیز کی شکل میں دے دیا جاتا ہے _ یہ بات درست نہیں _ جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہے _ اس کا لین دین پسندیدہ نہیں _ اس کو بڑھاوا دینے والے ایک نا مطلوب عمل کو رواج دینے کے قصور وار ہیں ، جب کہ تقسیمِ وراثت کا قرآن میں صریح الفاظ میں بہ تاکید حکم دیا گیا ہے ، اسے فرض قرار دیا گیا ہے اور اسے اللہ کی مقرر کردہ حد کہا گیا ہے _ اس لیے جو لوگ مالِ وراثت پر خود قبضہ کر لیتے ہیں اور دوسروں کو ، خاص طور پر اپنی بہنوں اور دوسری رشتے دار عورتوں کو محروم رکھتے ہیں ، وہ بڑے گناہ گار ہیں _ وہ چاہے جتنے پکّے نمازی اور حاجی ہوں، چاہے جتنی پابندی سے روزہ رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہوں ، لیکن اللہ کی نظر میں وہ سخت مبغوض ہیں _
جہیز دینے والے اور وراثت سے مستحقین کو محروم رکھنے والے دوہرے جرم کا ارتکاب کرنے والے ہیں : ایک نا مطلوب عمل کو رواج دینے کا جرم اور دوسرے تاکیدی فرض پر عمل نہ کرنے کا جرم _ اس لیے مسلم سماج کی سلامتی اسی میں ہے کہ جہیز کے لین دین کی حوصلہ شکنی کی جائے اور لوگوں کو تقسیمِ وراثت پر آمادہ کیا جائے _

05/06/2021

بہترین نکاح
ایک لڑکی اللہ کے رسول ص کے پاس آکر کہتی ہے :میرا نکاح کرادیجیے_ اس مجلس میں ایک نوجوان تیار ہوجاتا ہے_ آپ ص پوچھتے ہیں: تمھارے پاس مہر میں دینے کے لیے کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: کچھ نہیں_ آپ فرماتے ہیں: کچھ قرآن یاد ہے؟ جاؤ، وہی یاد کرادو_نکاح ہو گیا، مہر ادا ہو گیا_
آج اگر کسی نوجوان کے پاس جوڑے کے پچیس ہزار اور مہر کے پچاس ہزار نہ ہوں تو وہ پیغام ہی نہ دے؟؟کسی لڑکی کے سرپرست کے پاس جہیز کے پانچ لاکھ اور باراتیوں کی خاطر مدارات کے لاکھ دو لاکھ نہ ہوں تو وہ اس کے نکاح کو سوچے بھی نہ_
اللہ کے رسول ص نے فرمایا ہے :بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ میں انجام پائے_
کیا ہم اس ہدایت نبوی پر عمل پیرا ہیں؟

05/06/2021

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

امام اعظم ابوحنیفہؒ کا علماء و فقہاء میں ایک وقیع خطاب

معجم المصنفین میں ہے:
" امام ابوحنیفہؒ کوفہ کی جامع مسجد کی ایک مجلس میں بیٹھے، آپ کے اردگرد ایک ہزار شاگردوں کا مجمع تھا، جن میں سے چالیس آدمی ایسے تھےجو اجتہاد کے مرتبے تک پہنچ چکے تھے، پس امام نے ان کو اپنے قریب ہونے کا حکم دیا اور بلند آواز سے ان سے خطاب کیا"
امام صاحبؒ نے فرمایا:
" تم لوگ میرے دل کی مسرتوں کا سرمایہ ہو اور میرے غم واندوہ کے ازالہ کی ضمانت۔ میں تم لوگوں کیلیے فقہ کی زَین کَس کر تیار کرچکا ہوں، تمہارے لیے اس کے منہ پر لگام بھی چڑھا چکا ہوں۔ اب تم جس وقت چاہو، اس پر سوار ہو سکتے ہو۔ میں نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ لوگ تمہارے ایک ایک لفظ کی تلاش کریں گے۔ میں نے تمہارے لئے گردنوں کو جھکا دیا ہے"
پھر ان خاص چالیس حضرات کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:
" اب وقت آگیا ہے کہ آپ میری مدد کریں۔ آپ میں سے ہر فرد عہدۂ قضاء کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دس حضرات تو ایسے ہیں کہ صرف قاضی ہی نہیں بلکہ قضاۃ کی تربیت اور ٹریننگ کا کام کرسکتے ہیں۔
میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور جس علم کے آپ حاملین ہیں اس کی عظمت و جلالت کا احساس دلاتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس علم کو محکومی کی ذلت سے بچائے رکھنا، تم میں سے اگرکوئی قضا کا عہدہ قبول کرنے پر مجبور ہوا تو یاد رکھیں کہ اپنے فیصلوں میں اگرکسی کمزوری کا ارتکاب کریں گے، خواہ وہ خلق خدا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو، ایسے قاضی کا فیصلہ جائز نہیں ہوگا، اس کی ملازمت حلال نہ ہوگی، نہ اس کی تنخواہ پاک قرار پائے گی۔
قضا کا عہدہ اسی وقت تک صحیح اور درست رہتا ہے جب تک قاضی کا ظاہر و باطن ایک ہو؛ اسی قضا کی تنخواہ حلال ہے۔
اگرتم میں سے کسی کو قضا کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی تو میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مخلوق خدا کے اور اپنے درمیان کوئی رکاوٹ،چوکیدار،حاجب، دربان حائل نہ ہونے دے۔ پانچوں وقت کی نماز شہر کی جامع مسجد میں ادا کرے۔ ہرنماز کے وقت اعلان کرائے کہ کسی شخص کو کوئی ضرورت پیش کرنی ہو تو پیش کرے۔ عشاء کی نماز کے بعد خصوصیت سے تین بار بلند آواز سے اس اعلان کا اعادہ کرائے اور اس کے بعد گھر جائے۔
اگربیماری وغیرہ کے باعث قضا کا کام نہ کرسکا ہو تو اتنے دن کا حساب کرکے تنخواہ کٹوادے، اگر مسلمانوں کا امیر مخلوقِ خدا میں سے کسی کے ساتھ زیادتی کرے تو امیر سے قریب ترین قاضی کا فرض ہوگا کہ اس سے باز پرُس کرے۔"

(سہ ماہی بحث و نظر، جلد۱،شمارہ ۲۔ اپریل ۹۸ء تا دسمبر ۹۹ء)

Address

First Floor, Masjid E Arqam, Near Mumbra English School, Amrut Nagar
Thane
400612

Telephone

022-24444974

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharai Panchayat, Arqam Charitable Trust, Mumbra,Thane posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share