Taleem Talks

2026 SCMR 217سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف کسی گاڑی میں موجود ہونا کسی شخص کو خود بخود م...
05/05/2026

2026 SCMR 217

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف کسی گاڑی میں موجود ہونا کسی شخص کو خود بخود مجرم ثابت نہیں کرتا، خصوصاً جب منشیات خفیہ خانوں سے برآمد ہوئی ہوں اور ملزم کے علم یا شمولیت کا واضح ثبوت موجود نہ ہو۔

اے این ایف حکام نے خفیہ اطلاع پر اسلام آباد کے قریب ایک ٹرک کو روکا۔ ٹرک میں ڈرائیور کے ساتھ اس کا بیٹا بھی موجود تھا۔ تلاشی کے دوران گاڑی کے خفیہ خانوں سے ہیروئن، آئس، افیون اور چرس برآمد ہوئی۔ پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ چونکہ ملزم اپنے والد کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا، اس لیے وہ بھی جرم میں شریک ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:
▪️ فوجداری ذمہ داری ذاتی نوعیت کی ہوتی ہے۔
▪️ صرف باپ بیٹے کا رشتہ جرم کی ذمہ داری منتقل نہیں کرتا۔
▪️ جب تک سازش، معاونت یا علم ثابت نہ ہو، محض موجودگی کافی نہیں۔
▪️ فوجداری قانون میں actus reus اور mens rea یعنی مجرمانہ فعل اور مجرمانہ نیت دونوں ضروری ہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ قانون اجتماعی یا خاندانی ذمہ داری کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جو فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے طریقہ کار، منصفانہ سماعت اور گو...
17/04/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جو فوجداری مقدمات میں ٹرائل کے طریقہ کار، منصفانہ سماعت اور گواہوں کے وقار سے متعلق اہم اصول طے کرتا ہے۔

فوجداری درخواست نمبر 1160 آف 2025 میں عدالت نے یہ معاملہ دیکھا کہ کیا ایک ہی واقعہ سے متعلق متعدد ایف آئی آرز کو یکجا کر کے ایک ہی ٹرائل چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ:
⚖️ مشترکہ ٹرائل لازمی نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
⚖️ “Same transaction” کے تعین کے لیے صرف وقت اور جگہ کافی نہیں، بلکہ مقصد اور عمل کا تسلسل بھی ضروری ہے۔
⚖️ مختلف قوانین (جیسے PPC اور PECA) کے تحت جرائم ہونے کی صورت میں علیحدہ ٹرائل جائز ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس فیصلے کی سب سے اہم بات صرف قانونی نکات نہیں بلکہ عدالتی رویہ اور انسانی وقار ہے:

🛑 جرح (Cross-Examination) کا غلط استعمال ناقابل قبول
عدالت نے کہا کہ غیر ضروری، طویل اور تضحیک آمیز سوالات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جج کا فرض ہے کہ وہ اس عمل کو کنٹرول کرے۔

🪑 گواہوں کے وقار کا تحفظ
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ:
✔️ گواہوں کو بیان دیتے وقت بیٹھنے کی سہولت فراہم کی جائے۔
✔️ کھڑے ہو کر گواہی دینا کوئی قانونی تقاضا نہیں ہے۔

یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 9، 10-A اور 14 کے مطابق ہے، جو جان، منصفانہ ٹرائل اور انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک نہایت اہم آئینی سوال کا حتمی فیصلہ کر دیا ہے:قانون کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا آخری...
24/02/2026

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک نہایت اہم آئینی سوال کا حتمی فیصلہ کر دیا ہے:
قانون کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا آخری اختیار کس کے پاس ہے؟

آرٹیکل 175E(5) کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ وہ کسی بھی عدالت سے، کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکتی ہے، اگر اس میں آئین کی تشریح سے متعلق کوئی اہم سوال موجود ہو۔

یہ اختیار:
• صوابدیدی ہے مگر آئینی دائرے میں منظم ہے
• از خود یا درخواست پر استعمال کیا جا سکتا ہے
• کسی مخصوص نوعیت کے مقدمات تک محدود نہیں
• ٹیکس معاملات سمیت ہر قسم کی کارروائی پر لاگو ہوتا ہے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ موجودہ آئینی نظام کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو قوانین کو آئینی بنیاد پر کالعدم قرار دینے یا ان کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ:
- کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دینے کی درخواست بذاتِ خود ایک اہم آئینی سوال پیدا کرتی ہے۔
- قوانین کو آئینی بنیاد پر منسوخ کرنے کا اختیار اب خصوصی طور پر آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
- ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اختیارات میں اس حوالے سے کمی واقع ہوئی ہے۔
- یہ صرف مقدمات کی منتقلی نہیں بلکہ آئینی اختیارات کی بنیادی تقسیمِ نو ہے۔
- آرٹیکل 175E(5) عدالت کی شناخت اور اس کے آئینی کردار کا تعین کرتا ہے۔

اگر کسی قانون کی آئینی مطابقت کو چیلنج کیا جائے تو حتمی فورم آئینی عدالت ہے، نہ کہ سپریم کورٹ۔

📌 محکمہ کی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتیکیس: ڈاکٹر سرفراز احمد بنام صوبہ سندھ(2025 P L C (C.S.) 1588)ایک سینئر سر...
21/02/2026

📌 محکمہ کی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی

کیس: ڈاکٹر سرفراز احمد بنام صوبہ سندھ
(2025 P L C (C.S.) 1588)

ایک سینئر سرکاری ڈاکٹر کو صرف اس بنیاد پر گریڈ 20 میں ترقی نہیں دی گئی کہ اُن کی دس سالہ ACRs (سالانہ خفیہ رپورٹس) ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں، جبکہ اُن کے جونیئر افسران کو ترقی دے دی گئی۔

عدالت نے اہم اصول طے کیے:
🔹 ACRs تیار کرنا اور محفوظ رکھنا محکمہ کی ذمہ داری ہے، افسر کی نہیں۔
چونکہ ACR خفیہ دستاویز ہوتی ہے اور متعلقہ افسر کو اس تک رسائی نہیں ہوتی، اس لیے اس کی عدم دستیابی کا بوجھ افسر پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

🔹 محکمانہ غفلت کی بنیاد پر ترقی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو 07-07-2011 سے (جس تاریخ کو اس کے جونیئرز کو ترقی ملی) گریڈ 20 میں پروفارما ترقی دی جائے۔

🔹 عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صاف سروس ریکارڈ ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے، مگر صرف زیر التواء کارروائی یا انتظامی کوتاہی کو جواز بنا کر ترقی مستقل طور پر روکی نہیں جا سکتی۔

زمین آپ کے نام منتقل ہے لیکن آپ کو اس کی درست جگہ، حدود یا قبضے کی کیفیت معلوم نہیں؟ پاکستانی قانون ہر مالک کو یہ حق دیت...
11/02/2026

زمین آپ کے نام منتقل ہے لیکن آپ کو اس کی درست جگہ، حدود یا قبضے کی کیفیت معلوم نہیں؟ پاکستانی قانون ہر مالک کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی مکمل قانونی حیثیت معلوم کرے، اس کی نشاندہی کروائے اور ضرورت پڑنے پر عدالت کے ذریعے قبضہ حاصل کرے۔

تفصیلی قانونی طریقۂ کار:

1۔ ملکیت اور ریکارڈ کی مکمل تصدیق
سب سے پہلے متعلقہ پٹواری، تحصیل آفس یا اراضی ریکارڈ سنٹر سے زمین کا مکمل ریکارڈ حاصل کریں، جس میں شامل ہیں:
▪️ فردِ ملکیت (Record of Rights) — موجودہ مالک کی تصدیق کے لیے
▪️ جمعبندی — زمین کی تفصیلی اندراجات اور سابقہ ریکارڈ
▪️ انتقال (Mutation) کی مصدقہ نقل — ملکیت کی منتقلی کا ثبوت
▪️ شجرہ/نقشہ — زمین کی جغرافیائی پوزیشن سمجھنے کے لیے

ان دستاویزات سے خسرہ نمبر، کھتونی نمبر، کل رقبہ، حدود اور زمین کی درست لوکیشن واضح ہو جاتی ہے۔

2۔ سرکاری نشاندہی اور حد بندی (Official Demarcation)
ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کو باضابطہ درخواست دے کر زمین کی سرکاری پیمائش کروائیں۔
▪️ محکمہ مال کا عملہ موقع پر جا کر نقشہ اور ریکارڈ کی مدد سے حدود متعین کرتا ہے۔
▪️ حد بندی کی رپورٹ آئندہ قانونی کارروائی میں اہم ثبوت سمجھی جاتی ہے۔

3۔ قبضے کی زمینی صورتحال کی جانچ
نشاندہی کے بعد واضح ہو جاتا ہے:
▪️ آیا زمین خالی ہے یا کسی شخص کے زیرِ استعمال ہے
▪️ قبضہ مالک کی اجازت سے ہے یا ناجائز
▪️ کسی تیسرے فریق نے تجاوز یا تعمیر تو نہیں کر رکھی

4۔ ناجائز قبضے کی صورت میں ابتدائی قانونی اقدامات
▪️ قابض شخص کو قانونی نوٹس بھیجا جا سکتا ہے
▪️ مقامی انتظامیہ یا پولیس کو درخواست دی جا سکتی ہے (اگر امن و امان کا مسئلہ ہو)
▪️ مصالحت یا ثالثی کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے

5۔ سول عدالت میں قانونی چارہ جوئی
اگر معاملہ حل نہ ہو تو مالک عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ عام طور پر درج ذیل دعوے دائر کیے جاتے ہیں:
▪️ دعویٰ برائے حصولِ قبضہ (Suit for Possession)
▪️ دعویٰ برائے اعلانِ حقِ ملکیت (Suit for Declaration)
▪️ مستقل حکمِ امتناعی (Permanent Injunction) تاکہ مزید مداخلت روکی جا سکے
▪️ ہرجانے کا دعویٰ (Damages)، اگر نقصان ہوا ہو

6۔ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد
عدالت کے حکم کے بعد:
▪️ بیلف کے ذریعے قبضہ دلایا جا سکتا ہے
▪️ پولیس کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے
▪️ سرکاری ریکارڈ میں درست اندراج کروایا جاتا ہے

📜 متعلقہ قوانین:
▪️ Land Revenue Act
▪️ Specific Relief Act, 1877
▪️ Civil Procedure Code, 1908 (CPC)
▪️ Qanun-e-Shahadat Order, 1984

09/02/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجداری درخواستیں نمبر 176-K تا 179-K/2022 میں ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے پولیس مقابلوں کے حوالے سے واضح قانونی حد مقرر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم مشاہدہ:
"ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں اسٹریٹ کرائم، چھینا جھپٹی اور گاڑی چوری کی شکایات تھیں، جس کی بنا پر ملزمان (پولیس اہلکار) یہ سمجھ بیٹھے کہ متوفیٰ ایک مجرم ہے اور فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی گمان پر انہوں نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ تاہم، اگر اس گمان کو درست بھی مان لیا جائے تب بھی ایسے حالات میں فائرنگ کرنا سراسر غیر متناسب (Disproportionate) اور قانونی اختیار سے تجاوز تھا، جس کے نتیجے میں متوفیٰ جاں بحق ہوا۔"

عدالت کے طے کردہ بنیادی اصول:
- محض شبہ فائرنگ کا جواز نہیں بن سکتا۔
- نیک نیتی پر مبنی گمان بھی غیر متناسب طاقت کے استعمال کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔
- پولیس مقابلے میں تناسب، ضرورت اور احتیاط بنیادی قانونی شرائط ہیں۔
- اختیارات سے تجاوز کرنے پر پولیس اہلکار بھی فوجداری ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں۔

عدالتی فیصلہ:
- دفعہ 302(b) PPC کی سزا کو 302(c) PPC میں تبدیل کر دیا گیا۔
- سزائے موت کو 15 سال قید میں بدل دیا گیا۔

PLD 2026 SC 1 — خواتین، ڈومیسائل اور سول سروس پر تاریخی فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈومیسائل، خواتین کے حقوق اور سول س...
07/02/2026

PLD 2026 SC 1 — خواتین، ڈومیسائل اور سول سروس پر تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈومیسائل، خواتین کے حقوق اور سول سروس قانون سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ دیا ہے۔

🔹 اہم قانونی نکات:
▪ شادی کے بعد عورت پر شوہر کا ڈومیسائل لینا لازمی نہیں , یہ عورت کا ذاتی قانونی اختیار ہے۔
▪ خاتون سرکاری ملازمہ کو سروس کے دوران صرف ایک مرتبہ شوہر کا ڈومیسائل اختیار کرنے کی اجازت ہوگی، جب وہ ڈائریکٹ ریکروٹمنٹ کے ذریعے نئی پوسٹ کے لیے اپلائی کرے۔
▪ ایک بار اختیار کیا گیا ڈومیسائل ہمیشہ کے لیے فریز ہو جائے گا، تاکہ سسٹم کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
▪ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 25، 34 اور 35 کے تحت خواتین کے تحفظ، مساوات اور عزت کے اصولوں کو مضبوط کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:
"عدالتِ عظمیٰ صرف تنازعات حل کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ قوم کا آئینی ضمیر ہے۔"

عدالت نے جج صاحبان کو یاد دلایا کہ اصولوں پر ڈٹ جانا ہی اصل انصاف
ہے، نہ کہ وقتی فائدے یا طاقت کی خوشنودی۔

Address

Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taleem Talks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share