Alwakeel law Associates

Alwakeel law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alwakeel law Associates, Lawyer & Law Firm, Alwakeel law association District Courts Taunsa sharif, Taunsa.

Alwakeel Law Associates
Barrister Mohsin-ur-Rehman Khetran
Advocate Shoaib Buzdar

📍 Taunsa Sharif | Dera Ghazi Khan | Multan Bench
⚖️ Criminal | Civil | Family | Narcotics | Constitutional
📞 0333-0673333 | 0321-6396237
📩 [email protected]

02/06/2026
Evidence
02/06/2026

Evidence

02/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

Adv Shoaib Baloch M Sadiq Mubashir Malghani

02/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

Adv Shoaib Baloch

02/06/2026

قلندرہ اور ایف آئی آر میں یہ فرق ہے کہ ایف آئی آر میں پولیس خود مقدمہ درج کرکے تفتیش کرتی ہے، جبکہ قلندرہ میں پولیس صرف واقعہ کی رپورٹ بنا کر فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیتی ہے۔

قانونی اور پولیس کی اصطلاح میں قلندرہ (Kalandra) دراصل ایک ابتدائی پولیس رپورٹ یا استغاثہ ہوتا ہے جو کسی بھی جرم (خاص طور پر لڑائی جھگڑے یا امن و امان کی خلاف ورزی) کی صورت میں مجسٹریٹ کو پیش کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر درج ذیل 3 طرح کا ہوتا ہے:
1. لڑائی جھگڑا اور امن کا مسئلہ (107/151 CrPC):
جب کسی علاقے میں لڑائی، فساد یا امن عامہ کے خطرے کا اندیشہ ہو۔ اس میں پولیس موقع پر کارروائی کرکے لوگوں کو حراست میں لیتی ہے اور ان سے اچھے رویے یا مچلکے (ضمانت) جمع کروانے کے لیے عدالت میں قلندرہ پیش کرتی ہے۔
2. جھوٹی ایف آئی آر یا بیان دینے پر (Section 182 PPC):
اگر کوئی شخص پولیس کو کسی بے گناہ کے خلاف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی رپورٹ، درخواست یا اطلاع دے، تو اس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 182 کے تحت جھوٹی شکایت کا قلندرہ درج کیا جاتا ہے۔

3-Section 54 Cr.P.C (ضابطہ فوجداری کی دفعہ 54) کے تحت درج کی جانے والی رپورٹ یا کارروائی کو پولیس کی زبان میں "قلندرہ" کہا جاتا ہے。
اس میں پولیس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ بغیر وارنٹ کے مشتبہ شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں اور جس مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے اس کو 24 گھنٹے کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے
Adv Shoaib Baloch

25/05/2026

الوکیل لاء ایسوسی ایٹس تونسہ شریف

25/05/2026

Supreme Court Converts 25-Year R**e Conviction into Five-Year Fornication Sentence
PLD 2026 Supreme Court 187
Criminal Petition No. 90-L of 2019
Hassan Khan v. The State
The Supreme Court of Pakistan, by a majority of 2:1, partially allowed the appeal of the accused and converted his conviction from r**e under Section 376 PPC to fornication under Section 496-B PPC, reducing the sentence from twenty years' rigorous imprisonment to five years' rigorous imprisonment along with a fine.
The prosecution alleged that the complainant, a young unmarried woman, had been subjected to r**e at gunpoint in a nearby forest approximately seven months before the registration of the FIR. The incident allegedly resulted in pregnancy and the subsequent birth of a child. DNA evidence established that the accused could not be excluded as the biological father of the child.
The majority judgment, authored by Mr. Justice Malik Shahzad Ahmad Khan and concurred with by Mr. Justice Aqeel Ahmed Abbasi, observed that the complainant returned home immediately after the alleged occurrence, where her brother and other family members were present, yet remained silent for nearly seven months. The Court held that such prolonged silence cast serious doubt upon the allegation of forcible r**e and rendered the prosecution story unreliable to that extent.
The Court further noted that no physical signs of resistance were found during the medical examination. No torn clothes were produced, no healed marks of violence were observed on the complainant's body, and no alarm or outcry was raised despite the occurrence allegedly taking place near a residential area.
The alleged recovery of a pistol at the instance of the accused was also discarded. The Court held that the weapon had not been used during the occurrence and that its recovery from a residential house without associating independent local witnesses violated Section 103 Cr.P.C., thereby diminishing its evidentiary value.
While the Supreme Court acknowledged the DNA evidence linking the accused to the child, it concluded that the prosecution had failed to establish the element of force necessary for an offence under Section 376 PPC. However, the complainant's testimony, supported by medical evidence, sufficiently proved consensual illicit sexual in*******se between the parties.
Consequently, the Court held that the case fell within the ambit of fornication under Section 496-B PPC rather than r**e under Section 376 PPC. Invoking Section 238(2) Cr.P.C., the Court ruled that where evidence fails to establish a major offence but proves a lesser offence, conviction for the lesser offence is legally permissible.
The Supreme Court was mindful that once the act was characterized as consensual fornication, the complainant herself could theoretically be liable for prosecution under Section 496-B PPC. Nevertheless, since she had neither been challaned by the police nor charged by the Trial Court, and had not been afforded an opportunity to defend herself, no adverse order was passed against her.
Accordingly, the conviction under Section 376 PPC was set aside and substituted with a conviction under Section 496-B PPC. The accused was sentenced to five years' rigorous imprisonment and a fine of Rs.10,000, with a default sentence of two months' simple imprisonment.
Dissenting Opinion of Justice Salahuddin Panhwar
Justice Salahuddin Panhwar respectfully dissented and would have maintained the conviction for r**e.
His Lordship observed that delayed reporting of sexual offences is a well-recognized social reality in Pakistan. Victims often remain silent due to fear, stigma, family pressure, and social repercussions. Considering that the complainant was young, unmarried, orphaned, and allegedly subjected to threats, her delay in reporting the offence could not automatically be construed as evidence of consent.
The learned Judge further held that the absence of physical injuries was not decisive because the accused was allegedly armed with a pistol, and fear of violence may reasonably prevent resistance.
Regarding the DNA evidence, Justice Panhwar disagreed with concerns raised about the preservation of buccal swabs. He explained that forensic practice involves prompt extraction and preservation of DNA, which can remain viable for years. Therefore, a delay of approximately one and a half years between collection and analysis did not undermine the evidentiary value of the DNA report.
Most importantly, the dissenting Judge emphasized that failure to prove r**e does not automatically establish consent. Since consent is an essential ingredient of fornication under Section 496-B PPC, it must be independently and affirmatively established through reliable evidence rather than inferred from assumptions.
Justice Panhwar concluded that converting a r**e conviction into a fornication conviction without independently proving consent was inconsistent with fundamental principles of criminal jurisprudence. Consequently, he declined to interfere with the conviction and sentence awarded by the Trial Court.

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: زنا بالجبر کی سزا تبدیل، بدکاری قرار دے کر پانچ سال قید
PLD 2026 SC 187
حسن خان بنام ریاست

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو کے مقابلے میں ایک کی اکثریت سے ایک اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے ملزم کی دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت زنا بالجبر کی سزا منسوخ کر دی اور مقدمہ کو رضامندی سے ناجائز تعلقات یعنی بدکاری (Fornication) قرار دیتے ہوئے دفعہ 496-B تعزیراتِ پاکستان کے تحت پانچ سال قیدِ بامشقت اور جرمانہ کی سزا سنا دی۔
استغاثہ کے مطابق مدعیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے تقریباً سات ماہ قبل ملزم نے اسے پستول کے زور پر جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حمل ٹھہرا اور بعد ازاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ ڈی این اے رپورٹ سے یہ ثابت ہوا کہ ملزم نومولود بچے کا حیاتیاتی باپ ہونے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے جناب جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے قرار دیا کہ مبینہ وقوعہ کے فوراً بعد مدعیہ اپنے گھر واپس آ گئی تھی جہاں اس کے بھائی اور دیگر اہل خانہ موجود تھے، لیکن اس نے تقریباً سات ماہ تک کسی کو واقعہ سے آگاہ نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق یہ غیر معمولی خاموشی زنا بالجبر کے الزام پر سنجیدہ شکوک پیدا کرتی ہے اور محض تاخیر سے بیان کردہ الزام کو بلا تحقیق قبول نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ طبی معائنہ میں جسم پر مزاحمت یا تشدد کے آثار موجود نہیں تھے، کپڑے بھی بطور شہادت پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی کسی قسم کی چیخ و پکار یا مزاحمت ثابت کی جا سکی۔
مزید برآں، ملزم کی نشاندہی پر پستول کی برآمدگی کو بھی ناقابلِ اعتماد قرار دیا گیا کیونکہ یہ برآمدگی رہائشی مکان سے ہوئی تھی اور دفعہ 103 ضابطۂ فوجداری کے تقاضوں کے برخلاف مقامی گواہوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ جنسی تعلق اور ملزم کی نسبت ڈی این اے شہادت سے ثابت ہوتی ہے، تاہم استغاثہ زنا بالجبر کے لازمی عنصر یعنی جبر و اکراہ کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری جانب مدعیہ کی شہادت اور طبی شہادت رضامندی سے ناجائز تعلقات کے وقوع پذیر ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
لہٰذا عدالت اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ مقدمہ دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت زنا بالجبر کا نہیں بلکہ دفعہ 496-B تعزیراتِ پاکستان کے تحت رضامندی سے بدکاری کا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ اس نتیجہ کی صورت میں مدعیہ بھی نظریاتی طور پر بدکاری کے جرم میں جوابدہ ہو سکتی تھی، تاہم چونکہ اس کے خلاف نہ پولیس نے چالان پیش کیا تھا اور نہ ہی ٹرائل کورٹ نے اس پر فردِ جرم عائد کی تھی، اس لیے اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر سزا دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوتا۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے ملزم کی دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا ختم کرتے ہوئے اسے دفعہ 496-B کے تحت پانچ سال قیدِ بامشقت، دس ہزار روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید دو ماہ سادہ قید کی سزا سنائی۔
اختلافی نوٹ
جناب جسٹس صلاح الدین پنہور نے اکثریتی فیصلہ سے احتراماً اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ زنا بالجبر کے مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ہمیشہ استغاثہ کے لیے مہلک نہیں ہوتی کیونکہ معاشرتی دباؤ، بدنامی کا خوف اور خاندانی ردِعمل متاثرہ خواتین کو طویل عرصہ خاموش رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
فاضل جج نے مزید قرار دیا کہ چونکہ ملزم مبینہ طور پر مسلح تھا، اس لیے جسمانی مزاحمت کے آثار نہ ملنا غیر معمولی بات نہیں۔ اسی طرح ڈی این اے شہادت کے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ محفوظ شدہ ڈی این اے کئی سال تک قابلِ اعتماد رہتا ہے، لہٰذا تقریباً ڈیڑھ سال بعد تجزیہ ہونا اس شہادت کی قانونی حیثیت کو متاثر نہیں کرتا۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کے مطابق صرف اس بنیاد پر کہ زنا بالجبر مکمل طور پر ثابت نہ ہو سکا، رضامندی فرض نہیں کی جا سکتی۔ رضامندی کو آزاد، واضح اور مضبوط شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک جرم کو دفعہ 376 سے دفعہ 496-B میں تبدیل کرنا قانونی اصولوں کے منافی تھا، لہٰذا انہوں نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کی رائے دی۔

25/05/2026

VVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
PLJ 2026 Lahore 363
Section 63 Cr.P.C. is neither enabling nor vesting clause rather at the most can be termed as "clause of result or consequence clause" which functions as "adverbial clause".

Offence under Section: 162 PPC is always committed by private person but tried by Special Judge Anti-Corruption appointed under Pakistan Criminal Law (Amendment) Act, 1958.

By now it is well settled that Magistrate to whom accused is forwarded under Section: 167 Cr.P.C. for the purpose of physical remand, he may, whether he has or has no jurisdiction to try the case authorize from time to time the detention of the accused in such custody as he thinks fit, for a term not exceeding fifteen days in the whole, however, if he has no jurisdiction to try the case or send it for trial, and considered further detention unnecessary, he may order the accused to be forwarded to a Magistrate having such jurisdiction.

Order of Discharge has been passed by learned Duty/ Judicial Magistrate Section-30, District Court Lahore who was neither having jurisdiction to try the case nor send it for trial, therefore, if he considered further detention of the accused unnecessary, he would have ordered the accused to be forwarded to a Magistrate having such jurisdiction instead of discharging him from the case. And while acting as duty Magistrate, having no jurisdiction to try the case or send it for trial, he was not competent to discharge the accused from the case.
W.P. 61369/19
The State etc Vs The Judical Magistrare Section-30 etc

18/05/2026

🔥 کیا پولیس تفتیش میں بے گناہ ہونے والا ملزم قتل کے ٹرائل سے بچ سکتا ہے؟ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ!

:2026 M L D 739 |

Criminal Revision No. 143 of 2025 (Ghulam Hassan Versus The State)

کوٹ کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ (ایڈیشنل سیشن جج، یزمین) کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ تاریخی حکم دیا ہے کہ اگر پولیس کسی ملزم کو اپنی تفتیش میں بے گناہ قرار دے کر چالان کے کالم نمبر 2 میں بھی ڈال دے، تب بھی عدالت اسے ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے طلب کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے قتل (302) اور اقدامِ قتل (324) کے مقدمے میں پولیس کی طرف سے بے گناہ کیے گئے تینوں ملزمان کو فوری طور پر عدالت میں پیش ہو کر ٹرائل کا سامنا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر اور گواہوں کے بیانات کی موجودگی میں ملزمان کو کلین چٹ نہیں دی جا سکتی۔

اہم قانونی نکات

پولیس کی رائے حتمی نہیں: تفتیشی افسر (IO) کی یہ رائے کہ ملزم بے گناہ ہے، عدالت کے لیے ماننا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی یہ عدالت میں بطور شہادت قابلِ قبول ہے۔

کالم نمبر 2 کے ملزمان کی طلبی: ٹرائل کورٹ چالان کے کالم نمبر 2 میں شامل ملزمان کو کسی بھی گواہی یا شہادت کو ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی براہِ راست مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے طلب کر سکتی ہے۔

عدالت جرم کا نوٹس لیتی ہے، ملزم کا نہیں: تحت الضابطہ دفعہ 190 Cr.P.C، عدالت پولیس رپورٹ پر جرم کا نوٹس لیتی ہے، اس لیے وہ ان تمام افراد کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے جو جرم میں ملوث دکھائی دیں۔

دفعہ 161 کے بیانات کی اہمیت: اگر ایف آئی آر اور دفعہ 161 Cr.P.C کے تحت گواہوں کے بیانات میں ملزمان کے نام اور ان کا مبینہ کردار موجود ہو، تو یہ انہیں مقدمے میں طلب کرنے کے لیے کافی اور ٹھوس مواد ہے۔

مستغیث / پٹیشنر کی طرف سے پیش کردہ عدالتی نظائر (Judgements Cited by Petitioner)

درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے درج ذیل اہم ترین فیصلوں کا حوالہ دیا:

2002 SCMR 63 (Safdar Ali v. Zafar Iqbal): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجسٹریٹ پولیس رپورٹ کا پابند نہیں ہے اور وہ ریکارڈ کی اسکروٹنی کے بعد دیگر ملزمان کو بھی طلب کر سکتا ہے۔

1988 SCMR 1428 (Waqar ul Haq v. The State): چالان کے کالم نمبر 2 میں شامل ملزم کو عدالت گواہی ریکارڈ کیے بغیر بھی براہِ راست ٹرائل کے لیے بلا سکتی ہے۔

PLD 2012 SC 179 (Sher Muhammad Unar v. The State): عدالت پولیس کی طرف سے چالان رپورٹ میں دی گئی بے گناہی کی فائنڈنگز کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

PLD 1967 SC 425 (Falak Sher v. The State): مجسٹریٹ تفتیشی افسر کے نتائج سے اختلاف کرتے ہوئے دفعہ 190 کے تحت کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

ملزمان / ڈیفنڈر کے حق میں تفصیلات اور دلائل (Arguments in Favor of Respondent)

ملزمان (طارق محمود، محمد عثمان، اور گوہر جاوید) کے وکلاء اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (DDPP) نے ایڈیشنل سیشن جج کے 25.08.2025 کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ان کا موقف تھا کہ چونکہ تفتیشی افسران نے گہرائی سے تفتیش کے بعد ملزمان کو جائے وقوعہ پر غیر موجود اور بے گناہ پایا تھا، اس لیے ان کے نام کالم نمبر 2 میں شامل کیے گئے۔

ان کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ جب تک عدالت میں باقاعدہ گواہی (Evidence) ریکارڈ نہ ہو جائے اور ملزمان کے خلاف کوئی نیا مواد سامنے نہ آئے، تب تک انہیں محض ایف آئی آر کی بنیاد پر ٹرائل کے لیے طلب کرنا قانون کے خلاف ہے۔ (تاہم، ہائی کورٹ نے ان دلائل کو مسترد کر دیا)۔

سجاد حسین بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی۔

رابطہ نمبر: 03017949065

If you are benefiting from the information provided on our page, please share it with your friends and like the page.

(اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ قانونی معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہِ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔)

ہم اپنی طرف سے مکمل کوشش کرتے ہیں کہ درست معلومات شیئر کی جائیں پھر بھی اگر کوئی قانونی غلطی یا غلط پریپوزیشن اپ کو نظر ائے تو اس کی نشاندہی کمنٹس باکس میں ضرور کیجئے گا اپ کی تجویز اپ کی رائے ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے


16/05/2026

I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

Address

Alwakeel Law Association District Courts Taunsa Sharif
Taunsa
32100

Opening Hours

Monday 07:00 - 16:00
Tuesday 07:00 - 16:00
Wednesday 07:00 - 16:00
Thursday 07:00 - 16:00
Friday 07:00 - 16:00
Saturday 07:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alwakeel law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share