Molana Ihsan Ullah

Molana Ihsan Ullah Islamic information (Fiqah e Hanfi)

21/11/2025

---

بابُ سوم

آدابُ الحوار فی ضوء القرآن والسنّة

اسلام نے مکالمہ اور گفتگو کو محض سماجی ضرورت نہیں سمجھا، بلکہ اسے اخلاقی، روحانی اور دینی ذمہ داری کا درجہ دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر ایسے اصول و آداب بیان فرمائے ہیں جو ایک مسلمان کی گفتگو کو حکمت، شفقت، عدل، اعتدال، اور حسنِ اخلاق سے مزین کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری سیرت ان آیات کی عملی تفسیر ہے۔ اس باب میں آدابِ گفتگو کے بنیادی قرآنی و نبوی اصول پیش کیے جاتے ہیں۔

---

اوّل: نرمی اور حکمت کا حکم

1. قرآنی اصول: نرمی (اللِّین)

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو سخت ترین منکرِ حق—فرعون—کے پاس بھیجتے ہوئے فرمایا:

> فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا
(طٰہٰ: 44)
“اس سے نرم بات کہنا۔”

نکتۂ تحقیق

– مفسرین (طبری، قرطبی) فرماتے ہیں کہ:
"اللین" سے مراد وہ اسلوب ہے جو دل کو بے چین نہ کرے، سختی نہ پیدا کرے، بلکہ سمجھنے کی راہ کھول دے۔
– یہاں اصل مخاطب فرعون ہے—جس سے بڑا ظالم کوئی نہیں—پھر بھی حکم “نرمی” کا دیا گیا۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

> “ما کان الرِّفقُ في شيء إلا زانه”
جہاں بھی نرمی آتی ہے چیز کو زینت بخش دیتی ہے۔

2. حکمت کا طریقۂ دعوت

قرآن کہتا ہے:

> “ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”
(النحل: 125)

یعنی دعوت کا اصل اصول حکمت، نرمی، اور بہترین انداز ہے۔

تحقیقی نکتہ

– “التي هي أحسن” کا مطلب صرف “اچھی گفتگو” نہیں بلکہ گفتگو میں بہترین ممکنہ اسلوب اختیار کرنا ہے۔
– امام رازی لکھتے ہیں:
"أحسن" کا تقاضا ہے کہ مخاطب کی طبیعت، فہم، مزاج اور مقام کو ملحوظ رکھا جائے۔

---

دوم: عدل و انصاف کا التزام

قرآن کا اصولِ عدل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
(المائدہ: 8)

“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”

تحقیقی نکتہ

– اس آیت کی روشنی میں گفتگو کے وقت عدل واجب ہے، خواہ مخالف کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔
– ابن کثیر فرماتے ہیں:
"العدل مطلوب مع الموافق والمخالف"
یعنی عدل دوست و دشمن دونوں کے ساتھ مطلوب ہے۔

علمی فائدہ

گفتگو میں عدل کا مطلب ہے:

دوسرے کی دلیل کو صحیح طرح سمجھنا

اس کی بات کو بدّل کر پیش نہ کرنا

غلطی ہو تو مقدار کے مطابق نقد کرنا

مخالفت کے باوجود انصاف کو ترک نہ کرنا

---

سوم: حسنِ ظن اور بدگمانی سے اجتناب

قرآن کا حکم

> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ
(الحجرات: 12)

“بہت سے گمانوں سے بچو۔”

تحقیقی توضیح

– گفتگو میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان مخاطب کی نیت، ارادہ یا مقصد بدگمانی سے خود طے کر لے۔
– مفسرین لکھتے ہیں کہ:
"حسنُ الظن یفتح أبواب الفہم، و سوءَ الظن یسدّ طرق القبول"
یعنی حسنِ ظن فہم کے دروازے کھول دیتا ہے جبکہ بدگمانی ہر دروازہ بند کر دیتی ہے۔

علمی اصول

علمی گفتگو میں بدگمانی تین جگہ ممنوع ہے:

1. مخاطب کے ارادے کے بارے میں

2. اس کی بات کی نیت کے بارے میں

3. اس کی علمی غلطیوں کو دشمنی سے تعبیر کرنا

---

چہارم: سننے والے کو پورا سننے کا حق دینا

قرآن کا اصول

> الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ
(الزمر: 18)

“وہ لوگ (سمجھدار ہیں) جو بات کو خوب سنتے ہیں پھر بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔”

تحقیقی نکتہ

– اس آیت میں اللہ نے سننے کو عمل سے پہلے ذکر کیا ہے؛
یعنی علم کا دروازہ “سماع” ہے نہ کہ “کلام”۔
– اہلِ علم ہمیشہ پہلے مخاطب کی پوری بات سن کر پھر جواب دیتے ہیں۔
– امام شافعیؒ فرما تے ہیں:
“ما جادلت أحداً إلا تمنّيت أن يُظهر الله الحقّ على لسانه”
میں چاہتا ہوں کہ حق اس کی زبان سے ظاہر ہو—
یہی سننے کا اعلیٰ ادب ہے۔

عملی اصول

– کلام کو درمیان میں نہ کاٹنا
– سوال یا شبہ کو مکمل ہونے دینا
– مخاطب کی نیت پر فیصلہ نہ کرنا
– غلط فہمی میں جلدی نہ کرنا

---

پنجم: الفاظ کا انتخاب اور لہجے کا ادب

قرآنی اصول

> وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
(البقرۃ: 83)
“لوگوں سے بہترین بات کہو۔”

تحقیقی توضیح

– “حسناً” کا لفظ عام ہے:
دوست، دشمن، عالم، جاہل، چھوٹا، بڑا—سب شامل ہیں۔
– مفسرین کے مطابق اس آیت میں تین بنیادی اصول ہیں:

1. حسن اختیار یعنی اچھے لفظ

2. حسنِ خطاب یعنی اچھا لہجہ

3. حسنِ مقصد یعنی نیت کی پاکیزگی

نبوی اسوہ

نبی ﷺ کی گفتگو کا اسلوب:

نرم

واضح

جامع

مختصر

بے تکلف

مسکراہٹ کے ساتھ

آپ ﷺ نے فرمایا:
“إن من أحبّكم إليّ أحاسنكم أخلاقاً”
اور حسنِ اخلاق کا مرکز گفتگو کا حسن ہے۔

---

ان قرآنی و نبوی اصولوں سے درج ذیل حقیقتیں سامنے آتی ہیں:

1. گفتگو کی اصل روح نرمی، حکمت اور بہترین اسلوب ہے۔

2. عدل و انصاف گفتگو کا فریضہ ہے؛ مخالفت اس کو نہیں بدل سکتی۔

3. حسنِ ظن مکالمے کی بنیاد ہے، بدگمانی علم کو جلا دیتی ہے۔

4. سننا، سمجھنا اور پھر بولنا—یہ قرآنی ترتیب ہے۔

5. بہترین الفاظ، شائستہ لہجہ، اور نرم انداز—ہی اسلامی گفتگو کا معیار ہے۔

اگر گفتگو ان پانچ اصولوں کے تحت ہو تو وہ فتنہ نہیں، ہدایت اور اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے۔

21/11/2025

بابُ ثانی

گفتگو کی بنیاد: نیت و مقصد

مقدمہ

علمی گفتگو اور باہمی مکالمہ کی بنیاد محض الفاظ و تراکیب نہیں، بلکہ وہ باطنی کیفیت ہے جسے شریعتِ مطہرہ میں “نیت” کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک “نیت” پوری گفتگو کی سمت، تاثیر اور نتیجے کا تعین کرتی ہے۔ جس قدر نیت میں اخلاص، للّٰہیت اور حق پسندی ہوگی، اُسی قدر گفتگو بارآور، مؤثر اور مفید ہوگی؛ اور جس قدر نیت میں فساد، شہرت طلبی اور نفس پرستی ہوگی، اُسی قدر گفتگو انتشار، سختی اور بے برکتی کا باعث بنے گی۔

اسی بنا پر ائمہ نے فرمایا:
“الکلامُ على نیة المتکلّم”
یعنی گفتگو کی قیمت اصل میں متکلم کی نیت سے طے ہوتی ہے۔

---

اوّل: نیت کی حقیقت اور اس کا علمی مقام

1. حدیثِ اصول: "إنما الأعمال بالنیات"

ائمہ حدیث نے اس حدیث کو “ثلث الاسلام” قرار دیا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اعمالِ ظاہری و باطنی کا مدار نیت پر ہے۔ گفتگو چونکہ ایک اہم شرعی عمل ہے، اس لئے اس پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔

2. نیت کے اثرات

نیت میں اخلاص ہو تو گفتگو “اصلاح و ہدایت” کا ذریعہ بنتی ہے؛
اور نیت فاسد ہو تو وہی گفتگو “خصومت، عناد اور فتنہ” میں بدل جاتی ہے۔
اس لئے اہلِ اخلاق نے لکھا:
“صلاحُ النیّة یُصلِحُ القول، و فسادُھا یُفسِدُه”
یعنی نیت کی درستی قول کو درست کرتی ہے، اور نیت کا فساد گفتگو کو بگاڑ دیتا ہے۔

---

دوم: گفتگو کے مطلوب اور مشروع مقاصد

1. حق کی تلاش (طلب الحق)

اسلامی مکالمہ کا اولین مقصد حق کی تلاش اور اس کے ظہور میں معاونت ہے۔
اہلِ حق کے نزدیک گفتگو “حق” تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ “غلبہ” حاصل کرنے کا آلہ۔

2. اصلاحِ نفس و اصلاحِ غیر

گفتگو کا دوسرا مقصد باہمی اصلاح، فکری تربیت اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔
متکلم کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ بات ایسے انداز میں کہے کہ سننے والے کے دل میں قبولیت پیدا ہو۔

3. اشکالات کا ازالہ اور حقائق کی توضیح

اہلِ علم کے نزدیک اشکالات اور شبہات کا ازالہ علمی گفتگو کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی لئے قرآنِ کریم نے مختلف اقوام سے خطاب میں “سؤال و جواب” اور “محاجّہ” کے اسالیب اختیار کیے۔

4. علمی تحقیقات کا استحکام

بحث و مباحثہ علمی ذخیرے کو تقویت دیتا ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ نیت میں اخلاص اور مقصد میں “تحقیق” ہو، "تکذیب" نہیں۔

---

سوم: غیر مشروع اور مہلک نیتیں

1. نفس کی تسکین اور غلبۂ قول کی خواہش

یہ علمی گفتگو کی بربادی کی سب سے بڑی جڑ ہے۔
فقہاء نے اسے “جدلِ مذموم” کہا ہے۔
اس نیت سے گفتگو کا مقصد حق نہیں بلکہ “خود کو حق ثابت کرنا” بن جاتا ہے۔

2. شہرت طلبی اور عوامی پذیرائی

جس گفتگو میں نیت لائکس، فالوورز، مقبولیت، یا ہجوم کھینچنے کی ہو، وہ اللہ کی بارگاہ میں مردود ہے؛ چاہے علم و دلائل کی چادر میں لپٹی ہوئی ہو۔

3. دوسروں کی تحقیر یا رسوائی کی نیت

یہ نیت گفتگو کو سب سے زیادہ بے اثر کرتی ہے۔
اہلِ تقویٰ کبھی کسی کی عزت پامال کرنے کے لئے گفتگو نہیں کرتے۔

---

چہارم: نیتِ صالحہ کی علامات

نیت کی درستگی کا ٹھوس معیار یہ ہے کہ گفتگو میں درج ذیل علامات موجود ہوں:

1. حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا

اگر حق مخالف کے قول سے ظاہر ہو جائے تو فوراً رجوع کرنا—
یہ اخلاص کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

2. گفتگو میں وقار اور ادب

مخلص عالم سخت اختلاف کے باوجود مخاطب کی عزت برقرار رکھتا ہے۔

3. غیظ و غضب، حسد اور کینہ سے پاک لہجہ

دل صاف ہو تو گفتگو بھی نرم، متوازن اور مفید ہوتی ہے۔

4. اختصار کے ساتھ تحقیق

غیر ضروری طولِ کلام، فصاحت آرائی، اور لفاظی—
اخلاص کے منافی ہیں۔

---

پنجم: باطل پر غلبہ کی نیت—اخلاقی و علمی تباہی

باطل پر محض “غلبۂ قول” حاصل کرنے کی نیت کئی اخلاقی مہلکات کو جنم دیتی ہے:

1. کبر و عجب

آدمی اپنی بات کو “لا یخطئ” سمجھنے لگتا ہے، اور غلطی ماننے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

2. عناد و لجاج

حق واضح ہونے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی باقی رہتی ہے۔

3. شدتِ لہجہ اور تلخی

غلبہ کی نیت زبان کو تیز تر کر دیتی ہے، جس سے دل ٹوٹتے ہیں اور حق کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔

4. انتشار و فساد

ایسی گفتگو فرقہ واریت، باہمی بدگمانی اور علمی دہشت کے دروازے کھول دیتی ہے۔

5. علم سے برکت کا اٹھ جانا

جب علم نفس کے تابع ہو جائے تو علم نور نہیں رہتا، صرف ہتھیار بن جاتا ہے۔

---

سادس: سیرتِ نبوی ﷺ میں نیتِ صالحہ کے نماذج

1. گفتگو کا مقصد اصلاح، نہ کہ مغلوب یا غالب ہونا

نبی کریم ﷺ نے کبھی محض بحث برائے بحث نہیں فرمائی؛
بلکہ ہر گفتگو حکمت، شفقت اور مقصدیت پر قائم تھی۔

2. مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ نیت

کفار، منافقین اور اہلِ کتاب کے ساتھ بھی گفتگو اصلاح اور دعوتِ خیر کے جذبے پر مبنی تھی۔

3. سوال کرنے والوں کی تکریم

آپ ﷺ سوال کرنے والوں کو حقارت سے نہیں دیکھتے تھے؛
بلکہ ان کے اشکالات کو رفع کرنے میں پوری توجہ دیتے—
یہ خالص نیت کی علامت ہے۔

---

نتیجتاً گفتگو کا تمام حسن، اثر، وزن اور برکت نیت پر موقوف ہے۔
نیت درست ہو تو گفتگو “دعوت” بنتی ہے؛
نیت فاسد ہو تو گفتگو “فتنہ” بن جاتی ہے۔

اہلِ علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی مجالس، بحث و مباحثہ، خطابات اور تحریروں میں سب سے پہلے اپنی نیت کا محاسبہ کریں، اور گفتگو کو اللہ تعالیٰ کی رضا، اصلاحِ خلق اور اعلاءِ حق کے لئے وقف رکھیں۔

12/11/2025

الباب الأول: الحوارُ حقیقتُهُ وأهمیتُهُ فی ضوء القرآن والسنۃ والعقل السلیم

یہ حصہ تحقیقی و علمی اسلوب میں لکھا گیا ہے، تاکہ علماء، طلباء اور محققین سب کے لیے مفید ہو۔
ہر نکتہ دلائل (قرآن، حدیث، اقوالِ سلف) سے مزین ہے۔

تمہید:

اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقل و فطرت سے ہم آہنگ ہے،
اور اس نے انسانی تعلقات کی بنیاد فہم، احترام، اور حکمتِ گفتار پر رکھی ہے۔
“الحوار” (گفتگو و مکالمہ) دراصل اسی انسانی شعور کا مظہر ہے،
جس کے ذریعے انسان علم حاصل کرتا، غلط فہمی دور کرتا، اور حق تک رسائی پاتا ہے۔

اس لیے علماءِ امت نے ہمیشہ گفتگو کو علم کا دروازہ قرار دیا ہے۔
علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں:

> “إنما یُعرفُ الحقُّ بالبیان، ویُتَمیَّزُ بالمناظرة، ویُثبَتُ بالحجة.”
یعنی "حق کو پہچاننے کا ذریعہ بیان ہے، مناظرہ سے اس کی تمییز ہوتی ہے، اور حجت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔"
(إعلام الموقعین 1/59)

1. الحوار کی لغوی و اصطلاحی تعریف

لغوی تعریف:

“الحِوار” عربی میں مادہ “حَوَرَ” سے ہے، جس کے معنی رجوع اور تبادلۂ کلام کے ہیں۔
لسان العرب میں ہے:

> “الحِوارُ هو الرجوع فی الکلام بین اثنین أو أکثر.”
(لسان العرب، مادہ: حور)
یعنی "حوار دو یا زیادہ افراد کے درمیان بار بار بات چیت اور رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔"

اصطلاحی تعریف:

علماء کے نزدیک “الحوار” کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:

> “تبادلُ الآراء والأفکار بین طرفین أو أکثر للوصول إلى الحقّ أو الفهم الأعمق.”
یعنی "دو یا زیادہ افراد کے درمیان رائے اور فکر کا تبادلہ تاکہ حق یا بہتر فہم تک پہنچا جا سکے۔"

پس، گفتگو صرف “کہنے” کا نام نہیں، بلکہ سچائی کی تلاش کا ایک ذریعہ ہے۔

2. الحوار کی حقیقت و روح

اسلامی نقطۂ نظر سے “الحوار” ایک اخلاقی و علمی عمل ہے،
جس کی بنیاد حکمت، نرمی، اور خیر خواہی پر ہے۔

قرآنِ کریم میں جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مخالفین سے گفتگو کی تلقین کی تو ہمیشہ "قولِ لین" اور "حکمت" کا حکم دیا۔

> "ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ"
(النحل: 125)
“اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو۔”

یہ آیت "الحوار الاسلامی" کا جامع اصول ہے:
🔹 گفتگو حکمت پر مبنی ہو،
🔹 دلائل سے مزین ہو،
🔹 اور اخلاقِ حسنہ کے دائرے میں ہو۔

---

3. الحوار کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں

(الف) قرآنِ کریم میں

قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر “الحوار” کے نمونے ملتے ہیں —
جن میں انبیاء علیہم السلام اور اقوام کے درمیان گفتگو کے انداز کو بیان کیا گیا ہے۔

1. حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ سے حوار:

> "یَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِی عَنكَ شَیْئًا"
(مریم: 42)
“اے میرے باپ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، نہ تجھے کچھ نفع دیتی ہیں؟”
یہ حوار ادب، نرمی اور عقل سے لبریز ہے۔

2. حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا حوار (طٰہٰ 43–48):
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> "فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا"
یعنی "نرم بات کہنا۔"
یہ آیت سکھاتی ہے کہ نرمی میں دعوت کی تاثیر چھپی ہے۔

3. حضرت نوحؑ اور قوم کا حوار (ہود: 32–35) — جس میں صبر، استدلال، اور خیر خواہی جھلکتی ہے۔

پس قرآنِ کریم میں “حوار” ایک دعوتی اور علمی فن کے طور پر سامنے آتا ہے۔

(ب) سنتِ نبوی میں۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت میں گفتگو کے آداب کی بےشمار مثالیں ہیں۔
آپ ﷺ نہ صرف گفتگو فرماتے بلکہ مخالفین کو بھی بات کرنے کا پورا موقع دیتے تھے۔

1. جب عتبہ بن ربیعہ نے طویل تقریر کی، تو آپ ﷺ خاموشی سے سنے، پھر فرمایا:

> “اَفَرَغتَ یا اَبا الولید؟”
“اے ابوالولید! کیا تم بات پوری کر چکے ہو؟”
(سیرۃ ابن ہشام، 1/293)
یہ جملہ “ادبِ استماع” (سننے کے آداب) کی اعلیٰ مثال ہے۔

2. نبی ﷺ کا یہ فرمان:

> "إنَّ من أحبِّكم إليَّ أحاسنَكم أخلاقًا، الموطَّؤون أكنافًا، الَّذين يألَفون ويُؤلَفون."
(مسند احمد)
یعنی “میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں، جو نرم مزاج اور ملنسار ہوں۔”

یہی “أحسنُ القول” کی عملی تفسیر ہے۔

4. الحوار کی عقلی و سماجی ضرورت

“الحوار” صرف دینی یا مذہبی ضرورت نہیں، بلکہ انسانی معاشرت کی فطری بنیاد ہے۔
عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ انسان:
🔹 اختلاف کو تصادم نہیں بلکہ تفہیم کا ذریعہ بنائے،
🔹 گفتگو کو ذریعۂ اصلاح بنائے،
🔹 اور رائے کے اظہار میں عدل و حلم کا مظاہرہ کرے۔

امام الغزالیؒ فرماتے ہیں:

> “المراءُ مذموم، والحوارُ المحمود ما کان لإظهار الحقّ لا لإفحام الخصم.”
(احیاء علوم الدین 1/94)
“جھگڑالو مناظرہ مذموم ہے، مگر وہ گفتگو محمود ہے جو حق ظاہر کرنے کے لیے ہو، نہ کہ مقابل کو شرمندہ کرنے کے لیے۔”

خلاصہ و نتیجہ کلام یہ ہوا کہ

اسلام میں “الحوار” کا مقصد جیتنا نہیں، سمجھنا اور سمجھانا ہے۔
یہ عبادت بھی ہے، دعوت بھی، اور علم کا دروازہ بھی۔
قرآن و سنت نے اسے ادب، حلم، اور حکمت کے اصولوں سے مزین کیا۔

لہٰذا مسلمان عالم، داعی اور طالب علم پر لازم ہے کہ وہ اپنی گفتگو کو:
📖 علم کے تابع رکھے،
🌿 اخلاق سے آراستہ کرے،
💬 اور نیت کو خالص رکھے۔

---

> اللّٰهم اجعل حِوارَنا سبیلاً للحقّ، ولسانَنا ناطقًا بالحکمة، وقلوبَنا عامرةً بالرحمة.
“اے اللہ! ہماری گفتگو کو حق کا ذریعہ بنا، ہماری زبان کو حکمت کا ترجمان بنا، اور ہمارے دلوں کو رحمت سے بھر دے۔”

11/11/2025

مقدمہ

(آدابُ الحوار فی ضوء القرآن والسنۃ والعقل السلیم)

الحمدُ للّٰہِ ربِّ العالمین، والصلاۃُ والسلامُ علی سیدِ الأنبیاء والمرسلین، محمدٍ ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، ومن تبعہم بإحسانٍ إلی یوم الدین۔

أما بعد:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و بیان کی نعمت عطا فرمائی، اور اسے دوسروں سے گفتگو و مکالمہ کے ذریعے پہچاننے، سمجھنے اور سکھانے کی صلاحیت دی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"خَلَقَ الإِنسَانَ، عَلَّمَهُ البَيَانَ"
(الرحمٰن: 3-4)
“اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان کرنا سکھایا۔”

یہی “بیان” یعنی کلام و حوار انسانی معاشرت، علم، دعوت، اور تربیت کی بنیاد ہے۔
مگر جب یہی زبان اخلاص، حلم، عدل اور ادب سے خالی ہو جائے تو وہ فساد، انتشار اور نفرت کا سبب بن جاتی ہے۔

اسلام نے ہمیں صرف "کیا کہنا ہے" نہیں سکھایا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ "کیسے کہنا ہے"۔
قرآنِ کریم میں گفتگو کے آداب کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے:

> "وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ"
(بنی اسرائیل: 53)
“اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات وہی کریں جو بہترین ہو۔”

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرعون جیسے ظالم سے گفتگو کے وقت بھی فرمایا:

> "فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ"
(طٰہٰ: 44)
“اور تم اس سے نرم بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔”

یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ اسلامی گفتگو کی بنیاد نرمی، خیر خواہی اور حکمت پر ہے، نہ کہ سختی، ضد اور تحقیر پر۔

---

🌸 الحوار کی ضرورت اور اہمیت

گفتگو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ دلوں کی ملاقات ہے۔
علماء کرام نے لکھا ہے کہ انسان کا کمال اس کے "فکر" اور "بیان" میں ہے۔
امام فخرالدین رازیؒ فرماتے ہیں:

> “الإنسان حیوان ناطق، وکمالُه فی النطقِ الحسن والفکرِ المستقیم.”
یعنی انسان بولنے والا حیوان ہے، اور اس کی فضیلت درست فکر اور عمدہ گفتگو میں ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی امت کو گفتگو میں اعتدال، حسنِ اخلاق اور مقصدیت کی تعلیم دی۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے:

> "من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر فلیقل خیرًا أو لیصمت."
(صحیح بخاری و مسلم)
“جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”

یہ حدیث “آدابُ الحوار” کا مرکزی اصول ہے — یعنی بات صرف

خیر کے لیے ہو، شر کے لیے نہیں۔

انبیائے کرام کا اسلوبِ گفتگو

قرآن کریم میں انبیائے کرام کے متعدد مکالمات کو ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت ابراہیمؑ اور نمرود کا مکالمہ (البقرہ: 258)

حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا مکالمہ (طٰہٰ: 43–44)

حضرت نوحؑ کی اپنی قوم سے گفتگو (ہود: 25–32)

حضرت عیسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے درمیان استدلال (المائدہ: 116)

ان تمام واقعات سے یہ نکتہ اجاگر ہوتا ہے کہ انبیاء کی دعوت علم، صبر، اور حلم پر مبنی تھی۔ انہوں نے سخت ترین مخالفین سے بھی نرمی، منطق، اور ادب کے ساتھ گفتگو کی۔ یہ دراصل "آداب الحوار" کا نبوی اسوہ ہے۔

---

موجودہ زمانے کی ضرورت

آج کا دور “مکالمے” کا ہے — مگر افسوس، گفتگو کا انداز بگڑ چکا ہے۔
علمی بحثیں تحقیر میں بدل گئیں، اختلافِ رائے دشمنی کا رنگ اختیار کر گیا،
اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں اخلاقی نرمی کے بجائے تلخی اور مقابلہ بازی عام ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا نے “آواز” کو عام تو کیا ہے، مگر ادبِ کلام کو کمزور کر دیا ہے۔
اسی پس منظر میں یہ ضروری سمجھا گیا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں “آدابُ الحوار” پر علمی اور تحقیقی گفتگو کی جائے تاکہ
علماء، طلبہ اور دینی کارکنان کو گفتگو میں حکمت، نرمی، عدل اور حلم کا شعور حاصل ہو ۔

علماء و طلبہ کے لیے خصوصی اہمیت

علماء اور طلباء کے لیے گفتگو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ابلاغِ دین اور تفقہ فی الدین کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔
اگر ان کی گفتگو میں حلم، علم، اور عدل جمع ہو جائے تو وہ امت کے لیے روشنی کا مینار بن جاتے ہیں۔
لیکن اگر گفتگو میں غصہ، تحقیر، اور خودنمائی داخل ہو جائے تو علم کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔
اسی لیے ائمہ کرام نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو مناظرہ و مکالمہ کے آداب سکھائے۔

امام شافعیؒ کا قول ہے:

> “میں نے کبھی کسی سے مناظرہ اس نیت سے نہیں کیا کہ میں جیت جاؤں، بلکہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ حق ظاہر ہو، خواہ وہ میری زبان سے ہو یا میرے مخالف کی زبان سے۔”

یہی اخلاصِ نیت اور اخلاقِ گفتگو کا اعلیٰ ترین معیار ہے، جس پر امتِ محمدیہ ﷺ کو قائم ہونا چاہیے۔

اس کتابچہ کا مقصد

1. قرآن و سنت کی روشنی میں گفتگو کے اصول و آداب کو منظم طور پر پیش کرنا۔

2. اہلِ علم، طلبہ، اور مبلغین کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا۔

3. علمی و فکری اختلافات میں اعتدال، حسنِ ظن اور احترامِ رائے کو فروغ دینا۔

4. امت کے افراد کو یہ شعور دینا کہ "آدابُ الحوار" صرف اخلاق نہیں بلکہ دعوت کا حصہ ہیں۔

---

اسلوب و ترتیب

یہ کتابچہ چند منظم ابواب پر مشتمل ہوگا،
جن میں گفتگو کی حقیقت، مقصد، شرائط، آداب، اور معاصر دور کے تقاضوں پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔
ہر باب میں قرآن و حدیث کے نصوص، سلفِ صالحین کے اقوال، اور ائمہ کرام کے ارشادات شامل کیے جائیں گے۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ علمی کاوش قارئین کے لیے باعثِ فہم، باعثِ عمل اور امت میں علم و ادب کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

> اللّٰهم علّمنا ما ینفعنا، وانفعنا بما علّمتنا، وزِدنا علمًا وعملاً وخلقًا.
“اے اللہ! ہمیں وہ علم عطا فرما جو نفع بخش ہو، ہمیں نفع دے اس علم سے جو تُو نے عطا کیا، اور ہمارے علم، عمل اور اخلاق میں برکت دے۔”

11/11/2025

آغازِ سلسلہ: "آدابُ الحوار فی ضوء القرآن والسنۃ"

الحمدُ للّٰہِ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدِ المرسلین محمدٍ ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔

آج گفتگو (الحِوار) کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ گھر سے لیکر سوشل میڈیا تک، ہر شخص اپنی رائے بیان کر رہا ہے،
لیکن افسوس کہ ادب، حلم اور اخلاق کے وہ اصول جو اسلام نے سکھائے تھے، اکثر فراموش ہو چکے ہیں۔
گفتگو (الحِوار) بگڑ کر الزام، غصے اور نفرت میں بدل چکی ہے

اسلام نے گفتگو کو محض زبان کی حرکت نہیں بلکہ نیت، فہم اور دل کی پاکیزگی کا مظہر قرار دیا ہے۔
قرآن و سنت میں بیان کردہ آداب اگر اپنائے جائیں تو اختلاف بھی رحمت بن سکتا ہے اور بات چیت فہم و محبت کا ذریعہ۔

ان شاءاللہ
میں ایک علمی و تحقیقی سلسلہ شروع کر رہا ہوں بعنوان:

"آدابُ الحوار فی ضوء القرآن والسنۃ والعقل السلیم"

اس میں ہم قرآن، حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ، ائمہ و محدثین کے اقوال کی روشنی میں
گفتگو کے علمی و اخلاقی آداب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

یہ سلسلہ علماء، طلباء، اور ہر سنجیدہ قاری کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
آئیے، ہم سب اپنی زبان کو “قولِ حسن” کا علمبردار بنائیں۔

قرآنی پیغام:
“وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”
(بنی اسرائیل: 53)
“اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کریں جو بہترین ہو۔”

پہلا حصہ (مقدمہ) بہت جلد…
اس علمی سفر کا حصہ بنیں — پڑھیں، شیئر کریں، اور آگے پہنچائیں۔

اسلام نے ہمیں بولنا بھی سکھایا ہے — مگر ادب کے ساتھ۔
نئے سلسلے کا آغاز: "آداب الحوار فی ضوء القرآن والسنۃ"
پہلا حصہ بہت جلد…

مفتی زرولی خان صاحب آف طوطالی مداخیلابتدائی تعلیم مولانا قاری شفیع اللہ مرحوم پلوڈھنڈ سلیم خان سے  حاصل کرنے کے بعد ان ہ...
06/02/2025

مفتی زرولی خان صاحب آف طوطالی مداخیل
ابتدائی تعلیم مولانا قاری شفیع اللہ مرحوم پلوڈھنڈ سلیم خان سے حاصل کرنے کے بعد ان ہی کے مشورے پر مزید تعلیم کے لیے چکوال جامعہ حنفیہ گئے وہاں سے واپسی پرسادسہ تک اسباق مدرسہ تعلیم القرآن مانیری الشیخ شاہ زمین رحمہ اللہ سے پڑھیںِ اور دورہ صغرا کیلئے چارسدے کے مشھور دورا صغرا کیلے سفر کیا، ساتھ ساتھ مولانا قاری شفیع اللہ رحمہ اللہ 'جو شیخ القرآن پنجپیر کے اولین شاگردوں میں سے تھے' سے قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھتے,اور پلوڈھنڈ میں ایک مسجد میں امامت اور تدریس بھی کرتے تھے، پھر اساتذہ کے مشورے سے دورہ حدیث شاہ منصور کے شیخین رحمہ اللہ کے ساتھ کیا اور تخصص جامعہ الامام محمد طاہر پنجپیر سے کیا۔
فراعت کے بعد اپنے علاقہ خدوخیل طوطالئ مسجد مداخیل میں امامت ودرس قرآن شروع کیا ۔
ابتدا میں مسئلہ توحید وسنت کے بیان کے خاطر تکلیفیں برداشت کیں اور مبتدعین کے ساتھ مناظرے کئے ۔اکثر مبتدعین درس قرآن کو بند کرنے یا امامت میں روکاوٹیں پیدا کرتے تھے،اللہ کے فضل و کرم سے مفتی زرولی خان صاحب انتہائی جانفشانی سے حالات کا مقابلہ کرتے تھے۔
اسی طرح مفتی صاحب ابتدا سے مدرسہ تعلیم القرآن ڈاگئ میں صدر مدرس اور شیخ الحدیث ہے ۔اور ہر سال رمضان المبارک میں دورہ تفسیر القرآن پڑھاتے ہیں ۔
اور اب علاقہ خدوخیل تحصیل میں اشاعت التوحید والسنہ کے امیر بھی ہے ۔
مولانا توحید اور سنت پر عمل کرنے کی سختی سے کار بند ہے
ابن مولانا احسان اللہ

22/10/2024

سلام کرتے وقت مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانا) کرنا سنت ہے اور حدیث شریف میں مصافحہ کو سلام کی تکمیل قرار دیا گیا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ ان کی دعاؤں کو سنے اور دونوں ہاتھوں کے الگ ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرما دے، البتہ اگر مجلس میں مصافحہ کرنے سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو مصافحہ نہیں کرنا چاہیے ،لہذا اگر محفل میں شریک ہوتے وقت لوگ ہاتھ ملانے سے تنگ ہوتے ہوں تو ہاتھ نہیں ملانا چاہیے، سلام کرناکافی ہے۔

18/10/2024
07/10/2024

بلا تبصرا

Etiquette (Manner's) of the Quran.قرآن کے آداب1.The Quran must be handled only with clean hands, so performing ablution(...
06/10/2024

Etiquette (Manner's) of the Quran.
قرآن کے آداب

1.The Quran must be handled only with clean hands, so performing ablution(wudu) beforehand is essential.
1. قرآن پاک کو صرف صاف ہاتھوں سے ہینڈل کرنا چاہیے، اس لیے پہلے سے وضو کرنا ضروری ہے۔

2.The mouth must be clean for reciting the Holy Quran.
2۔قرآن پاک کی تلاوت کے لیے منہ کا صاف ہونا ضروری ہے۔
3.The place for reciting the Holy Quran must be clean۔
3۔قرآن پاک کی تلاوت کی جگہ صاف ہونی چاہیے۔
4.Put the Quran in an Elevated Position.
4. قرآن کو بلند مقام پر رکھیں۔
5.While reciting or listening to the Qur'an, one should sit with humility and head bowed facing the Qiblah.
5۔قرآن کی تلاوت کرتے یا سنتے وقت عاجزی کے ساتھ بیٹھنا چاہیے اور قبلہ کی طرف سر جھکانا چاہیے۔
6.It is important to recite the Quran slowly.
6۔قرآن کو آہستہ سے پڑھنا ضروری ہے۔
7.Listening to the Qur'an is also mandatory with attention and silence۔
7. قرآن سننا بھی توجہ اور خاموشی کے ساتھ لازم ہے۔
8.Cannot talk to anyone during the recitation of the Qur'an.
8۔قرآن کی تلاوت کے دوران کسی سے بات نہیں کر سکتے۔
9.Laughing, playing in front of the Qur'an and looking at things that disturb your attention are strictly prohibited.
9۔قرآن کے سامنے ہنسنا، کھیلنا اور ایسی چیزوں کو دیکھنا جو آپ کی توجہ میں خلل ڈالتی ہیں سختی سے منع ہیں۔
10.Not to make the Quran a source of livelihood but to teach or read for the pleasure of Allah.
10۔قرآن کو ذریعہ معاش نہیں بنانا، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے پڑھنا یا پڑھانا ہے۔
11.It is important for a student of Quran to avoid arrogance.
11. قرآن کے طالب علم کے لیے تکبر سے بچنا ضروری ہے۔
12.In the Qur'an, deliberation and consideration are also important.
12. قرآن میں غور و فکر بھی ضروری ہے۔
13.It is necessary for a student of Quran that his morals and character should also be Quranic.
13. قرآن کے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اخلاق و کردار بھی قرآنی ہو۔
14.It is also your responsibility to convey what you have learned to others.
14. جو کچھ آپ نے قرآن سے سیکھا،اسے دوسروں تک پہنچانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
15.The first and foremost thing that you should do is to recite Istiaazah and Basmalah before beginning to read the Quran.
15۔پہلا اور سب سے اہم کام جو آپ کو کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ قرآن پڑھنے سے پہلے تعوذ اور بسم اللہ پڑھیں۔
16.Read the Holy Quran in an attractive tone (follow Tajweed).
16. قرآن پاک کو دلکش لہجے میں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے (تجوید کیساتھ)۔

Written: By Zia Ur Rahman Son of Molana IHSAN ULLAH

Address

Al Muteena
Deira Palm
00000

Telephone

+923169644245

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Ihsan Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Molana Ihsan Ullah:

Share

Category